ذاتی مطالعہ—ایک غور طلب معاملہ
۱ کونسے معاملات ہماری گہری فکر کا سبب بنتے ہیں؟ ہمیں یہوؔواہ کیساتھ ایک قریبی رشتہ تعمیر کرنے اور قائم رکھنے کی بابت گہری فکر رکھنی چاہئے۔ ذاتی مطالعہ ایسی قربت پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ آجکل، ہم میں سے چند ایک ہی کے ایسے حالات ہیں جو سوچبچار اور ذاتی مطالعے میں زیادہ لمبا وقت صرف کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ تاہم، اگر ہم باقاعدگی سے خدا کا کلام نہیں پڑھتے تو ہم اس حد تک کمزور ہو سکتے ہیں کہ دنیا کی روح اور اسکی جسمانی خواہشات کی مزاحمت کرنے کے لئے طاقت ہی نہ رکھ سکیں۔
۲ کلام کے لئے شدید آرزو پیدا کریں: جب ہم نے پہلےپہل خدا کے مقاصد کی بابت سیکھا تھا تو غالباً ہمیں زیادہ علم حاصل کرنے کا اشتیاق تھا۔ تاہم، ایک عرصہ گزرنے کے بعد، ہو سکتا ہے کہ روحانی خوراک کے لئے ہماری بھوک کم ہو گئی ہو۔ روحانی خوراک کے لئے ”شدید آرزو پیدا کرنے“ کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ (۱-پطرس ۲:۲، اینڈبلیو) ہم ایسی شدید آرزو کس طرح پیدا کر سکتے ہیں؟
۳ پسندیدہ کھانے کی خوشبو خوشگوار یادوں کے باعث اشتہا کو بڑھائے گی۔ ذاتی مطالعے کے مختصر اوقات روحانی طور پر اسی طریقے سے ہم پر اثر ڈال سکتے ہیں۔ چند مزےدار روحانی لقموں سے لطف اٹھانا گہری سچائیوں کے لئے ہماری اشتہا کو بڑھا سکتا ہے۔ وہ تسکین جو سیکھنے سے آتی ہے یہوؔواہ کے کلام میں گہری تحقیق کرنے کے لئے ہماری حوصلہافزائی کر سکتی ہے۔
۴ ایسا معمول بنائیں جو آپ کیلئے زیادہ کارگر ہو: بعض ذاتی مطالعہ کرنے کے لئے کوئی ساری شام مختص کر دیتے ہیں، جبکہ دیگر مطالعے کے مختصر اور متعدد اوقات کو ترجیح دیتے ہیں۔ اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ آپ صبح کے اوائلی گھنٹوں میں بہتر توجہ دے سکتے ہیں تو آپ ناشتے سے پہلے کچھ مطالعہ کرنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ اگر آپ شام کے وقت زیادہ چوکس ہیں تو آپ رات سونے سے پہلے اپنا مطالعہ کرنے کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ معاملہ خواہ کچھ بھی ہو، اہم بات باقاعدہ ہونا اور اس معمول پر کاربند رہنا ہے جو آپ کی ضروریات کے لئے زیادہ موزوں ہے۔
۵ جب اور زیادہ مطالعہ کرنے کے لئے ہماری حوصلہافزائی کی جاتی ہے تو شاید ہم اس بات پر فوراً توجہ دِلائیں کہ ہم پہلے ہی مکمل جدوَل رکھتے ہیں۔ تاہم، یہ اندازہ لگانے کے لئے ہم سب کو دیانتدار ہونے کی ضرورت ہے کہ ہم اپنے وقت کو کیسے صرف کرتے ہیں۔ کیا ہر روز بہت سے گھنٹے ٹیلیویژن پروگرام دیکھنے میں ضائع ہو جاتے ہیں؟ کیا ہم بعض ذاتی مفادات کو قربان کرنے کے لئے رضامند ہیں؟ جس طرح سے ہم اپنا وقت استعمال کرتے ہیں اس کا حقیقتپسندانہ جائزہ غالباً روزانہ کے ایسے اوقات ظاہر کر دے گا جنہیں زیادہ نفعبخش طریقے سے ذاتی مطالعہ کے دوران استعمال کیا جا سکتا ہے۔—افسیوں ۵:۱۵، ۱۶۔
۶ خدا کے کلام کا مطالعہ ہماری غیرمنقسم توجہ کا مستحق ہے۔ اسی دوران کچھ اور کرنے کی کوشش کرنا فوائد کو کم کر دیتا ہے۔ اگر ہم مطالعہ کرتے وقت کھانے، ریڈیو سننے، یا ٹیلیویژن دیکھنے کا رحجان رکھتے ہیں تو غالباً جو کچھ ہم سیکھ رہے ہیں اس میں منہمک نہیں ہوں گے۔ (۱-تیمتھیس ۴:۱۵) پس انتشارِخیال سے پیچھا چھڑانے کی ضرورت ہے۔—دیکھیں اسکول گائیڈ بُک، صفحات ۳۳-۳۴۔
۷ روزانہ مطالعہ اور بائبل مشورت کا اطلاق اہم ہے کیونکہ اس طریقے سے ہم یہوؔواہ سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ چھپے ہوئے صفحے سے معلومات حاصل کرنے اور اپنے دل تک لے جانے کو اپنا نصبالعین بنائیں۔ ہر موقع سے فائدہ اُٹھائیں، خواہ پڑھنے، نظرثانی کرنے، یا روحانی چیزوں پر سوچبچار کرنے کے لئے یہ کتنے ہی مختصر کیوں نہ ہوں۔—استثنا ۶:۶-۸؛ کلسیوں ۱:۹، ۱۰۔