انہیں اسکے پیروکار بننے کی تاکید کریں
۱ پولسؔ نے ۱-کرنتھیوں ۳:۶ میں لکھا: ”میں نے درخت لگایا اور اپلوؔس نے پانی دیا مگر بڑھایا خدا نے۔“ پولسؔ نے اپنے بھائیوں کو مسیح کی سرداری کے تحت متحد ہو کر کام کرنے کی ضرورت محسوس کرنے میں مدد دینے کے لئے اس دلیل کو استعمال کِیا۔ اس طرح سے اس نے انہیں اُس اہم کردار کی قدر کرنے میں بھی مدد دی جو وہ درخت لگانے اور پانی دینے کے اہم کام میں ادا کرتے ہیں۔
۲ زندگی بچانے کے اس کام کو اسی زمانے میں اختتامپذیر ہونا ہے۔ مخصوصشُدہ مسیحیوں کے طور پر، ہم پر دوسروں کو یسوؔع کے پیروکار بننے میں مدد دینے کی سنجیدہ ذمہداری آتی ہے۔ (اعمال ۱۳:۴۸) آپ اس دلچسپی پر دوبارہ رابطہ کیسے قائم کرینگے جسے آپ دی گریٹسٹ مین ہو ایور لِوڈ کتاب کو استعمال کرتے ہوئے اُبھارنے کے قابل ہوئے تھے؟
۳ اگر آپ ایک ایسے شخص سے ملاقات کرنے کیلئے واپس جا رہے ہیں جس نے کتاب قبول کی تھی تو آپ کہہ سکتے ہیں:
▪ ”جب ہم نے پچھلی مرتبہ باتچیت کی تو ہم نے گفتگو کی تھی کہ یسوؔع مسیح ایک انسان کے طور پر کیسا تھا۔ مجھے آپ کے پاس دی گریٹسٹ مین ہو ایور لِوڈ کتاب چھوڑ کر بہت خوشی ہوئی تھی۔ یسوؔع کی تعلیم کی بابت اور اس کی شخصیت کی بابت کس چیز نے آپ کو بہت زیادہ متاثر کِیا ہے؟“ جواب دینے دیں۔ باب ۱۱۳ پر کھولیں اور یسوؔع کے فروتنی کے پُرشکوہ نمونے پر گفتگو کریں۔ یہ ظاہر کرنے کے لئے کہ یسوؔع کے فروتن رویے کی بابت پولسؔ رسول کا کیسا نظریہ تھا فلپیوں ۲:۸ پڑھیں۔ اس کے بعد آپ وضاحت کر سکتے ہیں کہ بائبل کے باقاعدہ مطالعے کے ذریعے اور زیادہ کیسے سیکھا جا سکتا ہے۔
۴ شاید آپ اس تعارف کو ترجیح دیں:
▪ ”ہم نے اُن کاموں کی بابت گفتگو کی تھی جو یسوؔع نے اس وقت کئے جب وہ زمین پر تھا جو ظاہر کرتے ہیں کہ وہ واقعی ہماری پرواہ کرتا ہے۔ آپ کے خیال میں وہ انہیں نجات دینے کے لئے انجامکار کیا کریگا جنہوں نے بہت زیادہ تکلیف اٹھائی ہے؟“ جواب دینے دیں۔ باب ۱۳۳ پر کھولیں اور پانچویں پیراگراف کے تبصرہجات پر نظرثانی کریں۔ اگلے صفحے کی تصویر پر جائیں اور وضاحت کریں کہ اس وقت کیسا لگے گا جب خدا کی مرضی زمین پر اسی طرح پوری ہوتی ہے جیسے آسمان پر ہوتی ہے۔ زیادہ سیکھنے سے حاصل ہونے والے فوائد کی نشاندہی کریں۔
۵ اگر شروع میں کتاب پیش کرنے کیلئے دکھائی گئی دلچسپی ناکافی تھی تو شاید آپ اپنی گفتگو کا آغاز اس طرح کر سکتے ہیں:
▪ ”میرے خیال میں ہم دونوں متفق ہیں کہ آجکل بہتیرے لوگ اپنی زندگیوں کو کسی ایسے شخص کی مانند بناتے ہیں جسے وہ اپنے تقلیدی کردار کے طور پر خیال کرتے ہیں۔ یسوؔع مسیح بہترین تقلیدی کردار ہے جسکی کوئی پیروی کر سکتا ہے۔ میں آپکو ایک نہایت اہم سبق میں شریک کرنا چاہونگا جو میں نے یسوؔع کے ذریعے قائمکردہ نمونے کا مطالعہ کرنے سے سیکھا ہے۔ [گریٹسٹ مین کتاب کے باب ۴۰ پر کھولیں اور رحم کی بابت یسوؔع کے مہربانہ سبق پر توجہ مرکوز کرائیں۔] اس نے مجھے پُرزور طریقے سے یہ یاد کرایا کہ مجھے دوسروں کے ساتھ اس خوبی کو ظاہر کرنے کی کسقدر ضرورت ہے۔“ پڑھیں متی ۵:۷۔ اگر اب زیادہ دلچسپی دکھائی دیتی ہے تو کتاب یا بروشر ڈز گاڈ رئیلی کیئر اباؤٹ اَس؟ پیش کریں۔
۶ یا شاید آپ اس براہِراست رسائی کو آزمانا چاہیں:
▪ ”پچھلی مرتبہ میں یہاں تھا تو ہم نے یسوؔع کی بابت علم حاصل کرنے کی اہمیت پر گفتگو کی تھی۔ یوحنا ۱۷:۳ کہتی ہے کہ ایسا علم حاصل کرنے کا مطلب ’ہمیشہ کی زندگی‘ ہے۔ ہم یہ کیسے کر سکتے ہیں؟“ جواب دینے دیں۔ اپنے بائبل مطالعہ کرانے کے انتظام کی وضاحت کرتے ہوئے، اور کیسے اس سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے، بات کو جاری رکھیں۔
۷ پولسؔ کہتا ہے کہ کٹائی میں کام کرنے والا ”اپنا اجر اپنی محنت کے موافق پائیگا۔“ (۱-کرنتھیوں ۳:۸) اگر ہم دوسروں کو یسوؔع کے پیروکار بننے میں مدد دینے کے لئے جانفشانی سے کام کرتے ہیں تو یقیناً ہمارا اجر بڑا ہوگا۔