محبت سے ان کی مدد کریں جو دلچسپی دکھاتے ہیں
۱ جب فلپسؔ شاگرد نے یہوؔواہ کے فرشتے سے ایک حبشی کے پاس جانے کی ہدایت پائی جس نے خدا کے سچے کلام میں مخلص دلچسپی دکھائی تو اس نے جو کچھ وہ پڑھ رہا تھا اسکو سمجھنے میں اسکی مدد کرنے کیلئے محبت سے پیشکش کی۔ (اعمال ۸:۲۶-۳۹) کیا ہم دلچسپی دکھانے والوں کی مدد کرنے کیلئے خاص کوشش کرتے ہیں؟ ہمیں کرنی چاہئے، اسلئے کہ ہماری الہٰی تفویض میں شاگرد بنانا شامل ہے۔ (متی ۲۸:۱۹، ۲۰) انکی مدد کرنے کیلئے ہم کیا کر سکتے ہیں؟
۲ ہر ہفتے واپسی ملاقاتیں کرنے کے لئے وقت مختص کریں۔ ان سے ملاقات کرنے کا بندوبست کریں جنہوں نے دلچسپی دکھائی، اور آپکی پہلی ملاقات پر جو صحیفائی باتچیت شروع ہوئی تھی اسکا ازسرِنو آغاز کرنے کی کوشش کریں۔ بائبل مطالعہ شروع کرنے کا نصبالعین ذہن میں رکھیں۔ مینارنگہبانی اور جاگو! کے تازہترین شماروں کو پیش کرنے کیلئے باقاعدگی سے واپس جائیں۔ جب حقیقی دلچسپی پائی جاتی ہے تو آپ زرِسالانہ کی بابت پیشکش کر سکتے ہیں۔
۳ اگر آپ نے اپنی پہلی ملاقات پر بائبل کی قدروقیمت پر باتچیت کی تھی تو آپ شاید ”دلیل دینا“ کتاب (انگریزی) کے صفحہ ۶۶ سے ایک مشورے کو استعمال کر تے ہو ئے گفتگو کا ازسرِنو آغاز کریں اور کچھ اسطرح کہیں:
▪ ”بعض محسوس کرتے ہیں کہ بائبل کی نصیحت ہماری جدید دنیا کیلئے کارآمد نہیں ہے۔ آپ اسکی بابت کیسا محسوس کرتے ہیں؟ [جواب دینے دیں۔] کیا آپ متفق نہیں ہونگے کہ درست نصیحت فراہم کرنے والی کتاب جو ہمیں خوشحال خاندانی زندگی حاصل کرنے کے قابل بنا سکتی ہے کارآمد ہے؟ [تبصرہ کرنے دیں۔] خاندانی زندگی سے متعلق نظریات اور دستورات بدل گئے ہیں، اور جو نتائج ہم آجکل دیکھتے ہیں اچھے نہیں ہیں۔ لیکن جو کچھ بائبل کہتی ہے اسکا اطلاق کرنے والے خاندان بنیادی طور پر مستحکم اور خوشحال ہیں۔“ کلسیوں ۳:۱۸-۲۱ پڑھیں۔ ٹریکٹ جس وجہ سے آپ بائبل پر بھروسہ کر سکتے ہیں پیش کریں، اور وضاحت کریں کہ ہم بائبل مطالعے کا مُفت پروگرام پیش کرتے ہیں۔
۴ آپ مُردوں کی حالت کی بابت اس طریقے سے باتچیت شروع کر سکتے ہیں:
▪ ”مُردوں کی حالت کی بابت بہت باتچیت ہوتی رہی ہے۔ آپ کے خیال میں جب ہم مرتے ہیں تو کیا واقع ہوتا ہے؟ [جواب دینے دیں۔] زیادہتر مذاہب تعلیم دیتے ہیں کہ ہم کسی اور شکل میں زندہ رہنا جاری رکھتے ہیں۔ اس معاملے کی بابت جو کچھ بائبل کہتی ہے بہتیروں کو اسے معلوم کرکے حیرانی ہوئی ہے۔ [پڑھیں واعظ ۹:۵۔] جبکہ مُردوں کا کوئی شعوری وجود نہیں ہوتا، تو بھی انہیں فراموش نہیں کیا گیا ہے۔ خدا نے انہیں اپنی بادشاہت کی حکمرانی کے تحت پھر سے زندگی دینے کا وعدہ کیا ہے۔“ اکتوبر ۱۵، ۱۹۹۴، کے مینارنگہبانی (انگریزی) یا لِو فار ایوَر کتاب کے صفحہ ۱۶۲ پر توجہ دلائیں، اور صحائف اور تصاویر پر باتچیت کریں۔ بائبل مطالعہ شروع کرنے کے نظریے کیساتھ ایک اور واپسی ملاقات کا بندوبست کریں۔
۵ اگر آپ قوموں کے مابین لڑائی کے متعلق مسیحی نظریے کی بابت مزید وضاحت کرنا چاہتے ہیں تو آپ شاید کچھ اسطرح کہنا چاہیں:
▪ ”بعض یقین رکھتے ہیں کہ جھگڑوں کو حل کرنے کا واحد طریقہ لڑائی کرنا ہے۔ آپ اسکی بابت کیا سمجھتے ہیں؟ [جواب دینے دیں۔] بائبل ظاہر کرتی ہے کہ خدا چاہتا ہے کہ لوگ امن سے اکٹھے ملکر رہیں۔ [پڑھیں رومیوں ۱۲:۱۷، ۱۸۔] خدا کی بادشاہت کی حکمرانی کے تحت یہ ایک عالمگیر حقیقت بن جائیگی۔“ کیا خدا واقعی ہماری پرواہ کرتا ہے؟ (انگریزی) بروشر کے ۲۵-۲۶ صفحات کا حوالہ دیں۔ نیز دیکھیں بروشر ”دیکھو! میں سب چیزوں کو نیا بنا دیتا ہوں،“ پیراگراف ۴۹، ۵۰، نیز دیکھیں اشتہار ”یہوؔواہ کے گواہ کیا مانتے ہیں؟“ صفحات ۶،۵۔ اسکی وضاحت کرنے کیلئے واپس آنے کی پیشکش کریں کہ یسوؔع نے ہمیں ’تیری [خدا کی] مرضی جیسے آسمان پر پوری ہوتی ہے زمین پر بھی ہو‘ دعا کرنا کیوں سکھائی۔—متی ۶:۱۰۔
۶ حبشی خوجے نے کسی کی ہدایت کے بغیر سمجھ لینے کیلئے اپنی نااہلی کو تسلیم کیا۔ (اعمال ۸:۳۱) فلپسؔ نے محبت سے اسے مدد فراہم کی جسکی اسے ضرورت تھی۔ ہم بھی اسی طریقے سے دوسروں کی مدد کرنے سے ان کیلئے اپنی حقیقی محبت دکھا سکتے ہیں۔