اب وقت ہے
۱ جب پولس رسول نے کرنتھیوں کے نام اپنا دوسرا خط لکھا تو اس نے انہیں یاد دلایا کہ انہوں نے یروشلیم میں اپنے ساتھی ایمانداروں کی خاطر ایک اچھا امدادی کام کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ تاہم، ایک سال گزر چکا تھا، اور انہوں نے ابھی تک وہ کام مکمل نہیں کیا تھا جسے شروع کیا گیا تھا۔ پس اس نے انہیں تاکید کی: ”اب اس کام کو پورا بھی کرو تاکہ جیسے تم ارادہ کرنے میں مستعد تھے ویسے ہی مقدور کے موافق تکمیل بھی کرو۔“—۲-کرنتھیوں ۸:۱۱۔
۲ کبھی نہ کبھی، ہم سب نے اپنے لئے نشانے قائم کئے ہیں۔ شاید ہم نے میدانی خدمتگزاری میں اپنے حصے کو بڑھانے، اپنے بھائیوں کو بہتر طور پر جاننے، خدمت کے کسی استحقاق کے لائق ٹھہرنے، یا کسی کمزوری پر قابو پانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اگرچہ ہم نے نیک ارادوں کے ساتھ آغاز کیا ہو، لیکن شاید ہم نے اپنے ارادے کو پورا کرنے کے لئے بھرپور کوشش نہ کی ہو۔ اس سے پیشتر کہ ہمیں احساس ہو، ہماری طرف سے کوئی ترقی کئے بغیر ہفتے، مہینے، یا سال بھی گزر سکتے ہیں۔ کیا یہ ہو سکتا ہے کہ ہمیں اپنے اوپر ”اس کام کو پورا بھی کرو“ کی نصیحت کا اطلاق کرنے کی ضرورت ہو جسے ہم نے شروع کیا؟
۳ اپنے نشانے حاصل کرنا: ذاتی ارادہ کرنا آسان ہے لیکن اس ارادے کو پورا کرنا مشکل ہے۔ التوا کسی بھی ترقی کی راہ میں حائل ہو سکتا ہے۔ ہمیں مُصمم ارادہ کرنے کی ضرورت ہے اور پھر بِلاتاخیر آگے بڑھنے کا عزم کریں۔ ذاتی نظمونسق لازمی ہے۔ کام کو مکمل کرنے کے لئے وقت کا مختص کرنا اور یہ یقین کرنا ضروری ہے کہ وقت اسی مقصد کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔ ایک قطعی حد مقرر کرنا اچھا خیال ہے اور پھر اس پر پورا اُترنے کا یقین کر لینے کے لئے خودانضباطی کو عمل میں لائیں۔
۴ جب ہم اپنے ارادوں کو پورا کرنا مشکل پاتے ہیں تو یہ استدلال کرنا آسان ہوتا ہے: ’میں اسے بعد میں کر لوں گا۔‘ لیکن ہم نہیں جانتے کہ مستقبل میں کیا ہوگا۔ امثال ۲۷:۱ بیان کرتی ہے: ”کل کی بابت گھمنڈ نہ کر کیونکہ تُو نہیں جانتا کہ ایک ہی دن میں کیا ہوگا۔“ یعقوب شاگرد نے مستقبل کی بابت حد سے زیادہ پُراعتماد ہونے کے خلاف آگاہ کیا کیونکہ ”[تُم] جانتے نہیں کہ کل کیا ہوگا۔ . . . پس جو کوئی بھلائی کرنا جانتا ہے اور نہیں کرتا اس کے لئے یہ گناہ ہے۔“—یعقوب ۴:۱۳-۱۷۔
۵ اتنے زیادہ انتشارِ خیال اور دوسروں کی طرف سے کئے گئے تقاضوں کے ساتھ، ہمارے ارادے آسانی سے مبہم ہو سکتے ہیں۔ انہیں اپنے ذہنوں میں تازہ رکھنے کے لئے ایک ہوشمند کوشش کی ضرورت ہے۔ معاملے کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھنا مفید ہے۔ دوسرے اقربا کو ہمیں یاد کرانے اور حوصلہافزائی دینے کے لئے کہنے سے فرق پڑ سکتا ہے۔ اپنے کیلنڈر پر نشان لگا لینا اپنی ترقی کو جانچنے کے لئے یاددہانی کے طور پر کام دیگا۔ ضرور ہے کہ ایک شخص نے ”جس قدر اپنے دل میں ٹھہرایا ہے اسی قدر دینے“ کے لئے وہ اپنے ذہن کو تیار رکھے۔—۲-کرنتھیوں ۹:۷۔
۶ نومبر کا مہینہ ہمیں اپنے نشانوں پر پوری توجہ مرتکز کرنے کے لئے ایک عمدہ موقع فراہم کرتا ہے۔ ہم مینارِنگہبانی اور جاگو! کی کاپیاں پیش کر رہے ہونگے۔ جہاں کہیں حقیقی دلچسپی پائی جاتی ہے وہاں ان دو رسالوں کے زرِسالانہ پیش کئے جا سکتے ہیں۔ کیا ہم کوئی معقول نشانے قائم کر سکتے ہیں جنہیں حاصل کیا جائے؟ اپنے رسالوں کی تقسیم کو بڑھانے کی کوشش کرنے کی بابت کیا ہے؟ زیادہ واپسی ملاقاتیں کرنے اور ایک نیا بائبل مطالعہ شروع کرنے کا فیصلہ کرنا بہتیروں کے لئے معقول نشانے ہو سکتے ہیں۔
۷ چونکہ یہ ”دنیا . . . مٹتی جاتی [ہے]“ اسلئے جو کچھ ضروری ہے اسے بعد کے وقت میں کرنے کے لئے رکھ چھوڑنا دانشمندی نہیں ہے۔ (۱-یوحنا ۲:۱۷) یہوؔواہ کی خدمت میں خاص استحقاقات اور برکات اب ہمارے لئے ممکنالحصول ہیں۔ یہ ہم پر منحصر ہے کہ ان سے فائدہ اٹھائیں۔