جبتک ہم واپس نہیں جاتے تو وہ کیونکر سنیں گے؟
۱ ”بغیر منادی کرنے والے کے کیونکر سنیں؟“ (رومیوں ۱۰:۱۴) واقعی، جبتک ہم مؤثر واپسی ملاقاتیں نہیں کرتے، تو وہ سچائی کے مفہوم کو کیسے سمجھیں گے؟ کسی بھی ملاقات پر جہاں ہم صاحبخانہ سے بادشاہتی پیغام کی بابت باتچیت کرنے کے قابل ہوئے تھے وہ واپسی ملاقات کی مستحق ہے۔ اس مہینے ہم نے جو بھی بروشر چھوڑا تھا اس میں سے اضافی صحیفائی خیالات کے ساتھ اپنی ابتدائی باتچیت پر بات کو بڑھانے کے قابل ہو سکتے ہیں، اور یہ کامیابی کیساتھ بائبل مطالعہ تک لے جانے کا باعث ہو سکتا ہے۔
۲ جب آپ بروشر ”کیا خدا واقعی ہماری پرواہ کرتا ہے؟“ (انگریزی) چھوڑنے کے بعد واپس جائیں تو شاید اس طرح کی باتچیت موثر ہو سکتی ہے:
”میری پچھلی ملاقات پر، ہم نے اس سوال پر باتچیت کی تھی کہ کیا خدا واقعی ہماری پرواہ کرتا ہے؟ آپ کے خیال میں کیا خدا ہماری اتنی پرواہ کرتا ہے کہ دکھ اور تشدد کا خاتمہ لائے؟ [صاحبخانہ کے جواب دینے کے بعد، صفحہ ۲۲ پیراگراف ۱۷ پر جائیں، اور باتچیت جاری رکھیں۔] خدا نے اس بدکار دنیا کو نیک لوگوں سے آباد ایک نئی دنیا میں بدل دینے کا وعدہ فرمایا ہے جو صلح سے رہنے کے قابل ہونگے۔ [پڑھیں زبور ۳۷:۱۱۔] آپ اور میں بھی اس نئی دنیا میں زندگی کا لطف اٹھا سکتے ہیں اگر ہم بائبل پر ایمان رکھتے اور اس کی مشورت کا اطلاق کرتے ہیں۔“ بائبل کے مطالعے کے ذریعے لوگوں کی مدد کرنے کیلئے اپنے پروگرام کی وضاحت کریں۔
۳ جب آپ ”دیکھو! میں سب چیزوں کو نیا بنا رہا رہوں،“ بروشر کو چھوڑنے کے بعد واپسی ملاقات کرتے ہیں تو آپ سرورق کی تصویر دکھانے سے اور پھر سوال پوچھنے سے آغاز کر سکتے ہیں:
”آپ کے خیال میں کامل دنیا میں رہنا کیسا لگے گا؟ [صاحبخانہ کے تبصرے حاصل کریں۔] جو کچھ آپ اس تصویر میں دیکھتے ہیں کیا وہ محض خامخیالی نہیں ہے، یہ بائبل میں بیانکردہ یقینی وعدوں پر مبنی ہے۔ [پڑھیں مکاشفہ ۲۱:۴ اور زبور ۳۷:۱۱، ۲۹۔] میں وضاحت کرنا پسند کروں گا کہ کیسے آپ اور آپ کا خاندان اس برکت سے استفادہ کر سکتا ہے۔“ اگر صاحبخانہ دلچسپی ظاہر کرتا ہے تو باتچیت جاری رکھیں اور بائبل مطالعہ کی پیشکش کریں۔
۴ جب ہم سچائی کی تلاش کرنے والے مخلص لوگوں کو پاتے ہیں تو ہم ان کی مدد کرنے کیلئے واپس جانے سے اپنی حقیقی محبت کو ظاہر کرتے ہیں تاکہ جو کچھ انہوں نے سنا ہے اس پر عمل کریں۔ ہمارے سپرد کی گئی مقدس سچائیوں کو ہم اپنی اور اپنے سننے والوں کی ابدی برکت کیلئے استعمال کرتے ہیں۔—۱-تیمتھیس ۴:۱۶۔