غلطی پر مبنی مہربانی سے بچیں
۱ یہوواہ کے لوگ اپنے مہربانہ اور فیاضانہ جذبے کیلئے مشہور ہیں۔ جب ہم اس ہمسایہپرور سامری کی نقل کرتے ہیں جسکی بابت یسوع نے اپنی رقتانگیز تمثیل میں بتایا تو یہ اکثر بذاتخود مادی طریقے سے ظاہر ہو جاتا ہے۔ (لوقا ۱۰:۲۹-۳۷) تاہم، بعض جو مادی امداد کے مستحق نہیں شاید وہ ہماری مہربانی سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں۔ لہذا، دوسروں کیلئے ہماری محبت کو ”علم اور ہر طرح کی تمیز کیساتھ“ متوازن ہونا چاہئے۔—فلپیوں ۱:۹۔
۲ کلیسیا کے اندر: مثال کے طور پر، شاید کوئی یہ کہے کہ وہ بیروزگار ہے یا پھر امداد حاصل کرنے کیلئے دوسری وجوہات پیش کرے۔ بعض اوقات یہ اشخاص سرگرمی سے روزگار تلاش نہیں کر رہے ہوتے بلکہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ دوسرے ان کیلئے ضروریاتزندگی فراہم کریں۔ ایسوں کی بابت پولس رسول نے حکم دیا تھا: ”جسے محنت کرنا منظور نہ ہو وہ کھانے بھی نہ پائے۔“—۲-تھسلنیکیوں ۳:۱۰۔
۳ ”وقت اور حادثہ“ ہم سب آ پڑتا ہے، پس اگر ہم مادی طور پر حاجتمند ہیں یعنی ”ہمارے روز کی روٹی“ کی کمی ہے تو ہمیں اسکی بابت حد سے زیادہ پریشان نہیں ہونا چاہئے اسلئے کہ یہوواہ انکی ضروریات کو پورا کرتا ہے جو اس سے محبت رکھتے ہیں اور اسکی مرضی پوری کر رہے ہیں۔ (واعظ ۹:۱۱، متی ۶:۱۱، ۳۱، ۳۲) ایک ضرورتمند شخص شاید بزرگوں میں سے ایک کیساتھ گفتگو کرنے کو مفید پائے۔ بزرگ شاید حکومت کے ایسے پروگراموں سے واقف ہوں جو امداد فراہم کرنے کیلئے ترتیب دئے گئے ہیں اور شاید ایسی حالت میں ہوں کہ کاغذی کارروائی کو مکمل کرنے یا ایسے پروگراموں کے تقاضوں کو سمجھنے میں مدد دے سکیں۔ بہرصورت، بزرگ مدد کی درخواست کرنے والے ہر شخص کے حالات کا اندازہ لگا سکتے اور یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ کیا کیا جا سکتا ہے۔—مقابلہ کریں ۱-تیمتھیس ۵:۳-۱۶۔
۴ چلتے پھرتے دھوکےباز: سوسائٹی کو پےدرپے ایسی رپورٹیں ملتی رہتی ہیں کہ کلیسیاؤں میں چلتے پھرتے دھوکابازوں نے بعض کی رقم اور مادی چیزیں ہتھیا لی ہیں۔ اس سے ہمیں حیران نہیں ہونا چاہئے، چونکہ صحائف آگاہ کرتے ہیں کہ ”برے اور دھوکےباز آدمی فریب دیتے اور فریب کھاتے ہوئے بگڑتے چلے جائینگے۔“ (۲-تیمتھیس ۳:۱۳) اکثر یہ دھوکاباز دعوی کرتے ہیں کہ وہ بےیارومددگار ہیں اور یہ کہ انہیں واپس گھر پہنچنے کیلئے سواری اور کھانا حاصل کرنے کیلئے پیسے درکار ہیں۔ اگرچہ وہ شاید سچے دکھائی دیں، اکثر حالتوں میں وہ قطعی یہوواہ کے گواہ نہیں ہوتے لیکن محض اسکا بہانہ کر رہے ہوتے ہیں۔
۵ اگر کوئی اجنبی مدد کی درخواست کرتا ہے تو یہ دانشمندی ہوگی کہ کلیسیا کے کسی بزرگ سے مشورہ کیا جائے، جو کہ یہ فیصلہ کرنے میں راہنمائی کر سکتا ہے کہ آیا یہ شخص ہمارا بھائی ہے۔ اس شخص کی ساکھ کی توثیق کرنے کیلئے عموماً اس شخص کی کلیسیا کے کسی بزرگ سے ٹیلیفون پر رابطہ قائم کیا جانا چاہئے۔ مخلص بھائی اور بہنیں جو غیرمتوقع طور پر خود کو مشکل میں پاتے ہیں اس بات کا لحاظ رکھینگے کہ اس قسم کی تفتیش سب متعلقہ اشخاص کے تحفظ کیلئے کی جا رہی ہے۔ دوسری طرف، اس طرح کی تفتیش سے دھوکےباز سامنے آ جائینگے۔ ان سب کیلئے غیرمناسب طور پر بدگمان ہونے کی ضرورت نہیں جنہیں ہم نہیں جانتے، لیکن ہمیں بدکار دھوکےبازوں سے ہوشیار رہنا چاہئے۔
۶ عقلمند بادشاہ سلیمان نے نصیحت کی: ”بھلائی کے حقدار سے اسے دریغ نہ کرنا جب تیرے مقدرو میں ہو۔“ (امثال ۳:۲۷) اپنے دانشمندانہ امتیاز سے، ہم غلطی پر مبنی مہربانی سے بچتے ہوئے رحم کرنا جاری رکھ سکتے ہیں۔