یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • خدم 3/‏94 ص.‏ 5-‏7
  • ‏”‏سب قوموں کی عداوت کے نشانے“‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • ‏”‏سب قوموں کی عداوت کے نشانے“‏
  • ہماری بادشاہتی خدمتگزاری ۱۹۹۴
  • ملتا جلتا مواد
  • وہ بِلاوجہ نفرت کا نشانہ بنے
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2004ء
  • خدا کے خلاف لڑنے والے غالب نہ آئینگے!‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2000ء
  • محبت، نفرت کو برداشت کرنے کے قابل بناتی ہے
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2021ء
  • اذیت سہنے کے باوجود خوش
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2004ء
مزید
ہماری بادشاہتی خدمتگزاری ۱۹۹۴
خدم 3/‏94 ص.‏ 5-‏7

‏”‏سب قوموں کی عداوت کے نشانے“‏

۱ حالیہ سالوں میں پوری دنیا میں یہوواہ کے لوگوں کے تجربہ میں آنے والی شاندار برکات کی بابت ہیجان‌خیز رپورٹیں سنکر ہم سب خوش ہوئے ہیں۔ ملاوی میں ۲۶ سالوں کے ظالمانہ استبداد کے بعد کام کو قانونی طور پر جائز قرار دئے جانے سے ہماری آنکھوں میں خوشی کے آنسو بھر آئے تھے۔ جب ہم نے مشرقی یورپ میں بیدین کمیونزم کے زوال کو دیکھا جو کہ حقیقت میں اسکے ظالمانہ جوئے سے ہمارے ہزاروں بھائیوں کے آزاد ہونے پر منتج ہوا تو ہم نے سکون کا سانس لیا۔ جب پرستش کیلئے ہماری آزادی کی قانونی حیثیت کو یونان میں چیلنج کیا گیا تھا تو ہم نے تشویشناک فکرمندی سے دیکھا، ہم نے بڑا فخر محسوس کیا تھا جب ہم نے یورپ میں انسانی حقوق کی سب سے بڑی عدالت میں زبردست فتح حاصل کی۔ ہم سوسائٹی کی برانچوں کی بڑے پیمانے پر توسیع کی بابت رپورٹیں سنکر خوش ہوئے ہیں جس نے سچائی کے متلاشیوں کیلئے بھاری مقدار میں لٹریچر کی اشاعت کو ممکن بنایا ہے۔ جب ہم نے سنا کہ یوکرین، کی‌ایو میں کنونشن پر ۷،۴۰۰ سے زیادہ نے بپتسمہ لیا تھا تو ہم حیران ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ جی‌ہاں، بادشاہتی کام میں ان ڈرامائی ترقیوں نے ہماری خوشی کو دوبالا کیا ہے!‏

۲ حالانکہ ہمارے خوش ہونے کی وجہ بڑی ہے تو بھی ہمیں حد سے زیادہ نازاں ہونے سے بچنا چاہئے۔ موافق رپورٹوں کا سلسلہ ہمارے لئے یہ نتیجہ اخذ کرنے کا سبب بن سکتا ہے کہ خوشخبری کی مخالفت دم توڑ رہی ہے اور یہ کہ یہوواہ کے لوگ تمام دنیا میں مقبولیت حاصل کر رہے ہیں۔ ایسی سوچ فریب دینے والی ہو سکتی ہے۔ اگرچہ ہم نے بعض اطمینان‌بخش فتوحات حاصل کی ہیں اور بعض ممالک میں خوشخبری کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو کم کرنے میں کسی حد تک کامیابی حاصل کی ہے، تو بھی ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ دنیا کے ساتھ ہمارا بنیادی رشتہ لاتبدیل رہتا ہے۔ یسوع کے پیروکاروں کے طور پر، ہم ”‏دنیا کا حصہ نہیں“‏ ہیں۔ ایسی صورت میں ہمارا ”‏سب قوموں کی عداوت کے نشانے“‏ بننا یقینی بات ہے۔ (‏یوحنا ۱۵:‏۱۹،‏ متی ۲۴:‏۹‏)‏ جبتک یہ نظام باقی ہے اس بنیادی اصول کو کوئی چیز بدل نہیں ڈالے گی کہ ”‏جتنے مسیح یسوع میں دینداری کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتے ہیں وہ سب ستائے جائینگے۔“‏—‏۲-‏تیمتھیس ۳:‏۱۲‏۔‏

۳ تاریخ اس آگاہی کی صداقت کی تصدیق کرتی ہے۔ حالانکہ مسیحیت کے بانی، یسوع نے طاقتور حاکموں اور انکے محکوموں کے سامنے شاندار شہادت پیش کی تو بھی اس کے ساتھ روزانہ بدسلوکی ہوئی اور وہ قتل کئے جانے کے مسلسل خطرے میں تھا۔ اگرچہ اسکے رسولوں نے شاگرد بننے کیلئے بہتیروں کی مدد کی، مسیحی یونانی صحائف کی تحریر میں حصہ لیا، اور روح کی معجزانہ بخششیں ظاہر کیں، تو بھی ان سے اسی طرح نفرت اور بدسلوکی کی گئی تھی۔ اپنے اچھے چال‌چلن اور پڑوسی کیلئے محبت کے باوجود، اکثریت نے تمام مسیحیوں کو قابل‌نفرت ”‏فرقہ“‏ خیال کیا تھا جسکی ”‏ہر جگہ مخالفت میں بولا جاتا“‏ تھا۔ (‏اعمال ۲۸:‏۲۲‏، این‌ڈبلیو)‏ حالانکہ آجکل عالمگیر مسیحی کلیسیا کو یہوواہ نے اسکی مرضی کو پورا کرنے کیلئے ایک شاندار طریقے سے استعمال کیا ہے، تو بھی اس شریر نظام کا ہر عنصر لگاتار اسکی مخالفت اور بدنامی کرتا رہا ہے۔ اس مخالفت کے ختم ہونے کی توقع کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔‏

۴ پہلی صدی میں، شیطان نے یسوع کے شاگردوں کو مختلف طریقوں سے ستایا تھا۔ نفرت رکھنے والے مخالفین نے صاف جھوٹ بولے جنہوں نے ان کو غلط طریقے سے پیش کیا۔ (‏اعمال ۱۴:‏۲‏)‏ انکو دھمکانے کی کوشش میں کینہ‌پرور خطرے موجود تھے۔ (‏اعمال ۴:‏۱۷، ۱۸‏)‏ غصہ‌ور ہجوموں نے انکو چپ کرانے کی کوشش کی۔ (‏اعمال ۱۹:‏۲۹-‏۳۴‏)‏ انہیں کسی جائز وجہ کے بغیر قید میں ڈالا گیا تھا۔ (‏اعمال ۱۲:‏۴، ۵‏)‏ اذیت دینے والے اکثر جسمانی تشدد پر اتر آتے تھے۔ (‏اعمال ۱۴:‏۱۹‏)‏ بعض معاملات میں بیگناہ اشخاص کو جان بوجھکر قتل کر دیا جاتا تھا۔ (‏اعمال ۷:‏۵۴-‏۶۰‏)‏ پولس رسول نے درحقیقت ذاتی طور پر ان تمام اقسام کی بدسلوکیوں کو برداشت کیا۔ (‏۲-‏کرنتھیوں ۱۱:‏۲۳-‏۲۷‏)‏ مخالفین منادی کے کام میں مخل ہونے اور ان وفادار کارکنوں کو تکلیف پہنچانے کیلئے کسی بھی موقع سے فوراً فائدہ اٹھاتے تھے۔‏

۵ آجکل شیطان ویسے ہی ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے۔ ہمیں ایک گمراہ فرقے یا مسلک کے طور پر غلط طریقے سے پیش کرتے ہوئے صاف جھوٹ بولے گئے ہیں۔ بعض ممالک میں، حکام نے ہمارے لٹریچر کو انتشار پھیلانے والا کہا ہے اور اس پر پابندی لگا دی ہے۔ خون کے تقدس کیلئے ہمارے احترام کا کھلم‌کھلا تمسخر اڑایا گیا ہے اور اسے چیلنج کیا گیا ہے۔ ۱۹۴۰ کے دہے میں، غصہ‌ور ہجوموں نے جھنڈے کی سلامی کے مسئلے پر مشتعل ہو کر ہمارے بھائیوں پر حملہ کیا، ضربیں پہنچائیں، اور انکی جائداد کو تباہ کر دیا۔ ہزاروں کو غیرجانبداری کے مسئلے پر جیل بھیجا گیا ہے۔ ایک سیاسی پارٹی کی عامرانہ حکومت والے ممالک میں ہمارے بھائیوں پر تخریبی ہونے کا جھوٹا الزام لگایا ہے، جو سینکڑوں کو ظالمانہ طریقے سے قیدخانوں اور قیدی کیمپوں میں اذیت دینے اور ہلاک کرنے پر منتج ہوا ہے۔ دباؤ سخت رہا ہے، جو واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ ہم بغیر کسی جائز وجہ کے عداوت کے نشانے ہیں۔—‏دیکھیں پروکلیمرز، باب ۲۹۔‏

۶ مستقبل کیا تھامے ہوئے ہے؟ اگرچہ یہوواہ کے لوگ دنیا کے بعض حصوں میں شاید وقتاً فوقتاً دباؤ سے چھٹکارا پانے کا موقع حاصل کریں، تو بھی مجموعی صورتحال ویسی ہی رہتی ہے۔ ابلیس ۱۹۱۴ میں اپنی ذلت پر مسلسل غصے میں ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اسکا وقت تھوڑا ہے۔ جیسے جیسے بڑی مصیبت نزدیک آتی ہے اسکے قہر میں شدت آنا یقینی ہے۔ وہ پورے طور پر تخت‌نشین بادشاہ مسیح یسوع کے خلاف لڑائی کرنے پر تلا ہوا ہے، اور وہ آخری دم تک لڑنے کیلئے اٹل ہے۔ وہ اور اسکے شیاطین زمین پر صرف یہوواہ کے لوگوں ہی کے خلاف اپنا قہر اگل سکتے ہیں، جو وفاداری سے ”‏خدا کے حکموں پر عمل [‏کرتے ہیں]‏ اور یسوع کی گواہی دینے پر قائم [‏ہیں]‏۔“‏—‏مکاشفہ ۱۲:‏۱۲،‏ ۱۷‏۔‏

۷ پس جب ہم مستقبل پر نگاہ کرتے ہیں تو جس چیز کی توقع ہے اسکے لئے ہمیں حقیقت‌پسند ہونے کی ضرورت ہے۔ یہ سوچنے کی کوئی وجہ نہیں کہ ابلیس اپنی عداوت کو ترک کر دے گا یا چھوڑ دیگا۔ ہمارے لئے عداوت جو اس نے اس دنیا کے ذہن میں ڈال دی ہے کسی بھی وقت اور کسی بھی جگہ پر بھڑک سکتی ہے۔ بہت سے ممالک میں منادی کرنے کی ہماری آزادی طویل جدوجہد کے بعد حاصل ہوئی ہے۔ وہ آزادی بہت جلد ختم ہونے والی ہو سکتی ہے، جو صرف کسی موجودہ رحمدل حاکم یا ناپسندیدہ آئین کی بدولت قائم ہے۔ ڈرامائی انقلابات اچانک برپا ہو سکتے ہیں جو بنیادی انسانی حقوق کو درہم‌برہم کرنے والی اور بلا‌وجہ بدسلوکیوں کا باعث بن سکتے ہیں۔‏

۸ موجودہ خوشحالی اور آزادی جس سے ہم بعض ممالک میں استفادہ کرتے ہیں یکایک ختم ہو سکتی ہیں، اور ہمارے بھائیوں کو ویسی ہی بدسلوکیوں کے تحت لا سکتی ہیں جن کا انہوں نے ماضی میں دکھ اٹھایا۔ ہم یہ سوچتے ہوئے خود کو سردمہری یا بے‌پروائی کے انداز میں ذرا سکون پانے کی اجازت دینے کی جرأت نہیں کر سکتے کہ ہمارے دشمن مغلوب ہو چکے ہیں۔ اس دنیا کی نفرت شاید ہمیشہ پوری طرح ظاہر نہ ہو، لیکن یہ شدید رہتی ہے۔ خدا کے کلام کی ہر بات ظاہر کرتی ہے کہ جیسے خاتمہ قریب آتا ہے دنیا کی مخالفت کم ہونے کی بجائے شدت اختیار کریگی۔ پس ہمیں خود کو ”‏سانپوں کی مانند ہوشیار اور کبوتروں کی مانند بے‌آزار“‏ ظاہر کرتے ہوئے چوکس رہنے کی ضرورت ہے۔ (‏متی ۱۰:‏۱۶‏)‏ ہمیں یہ سمجھ لینا چاہئے کہ ہم آخر تک ”‏جانفشانی“‏ کرنی پڑے گی، اور برداشت ہماری بقا کی کنجی ہے۔—‏یہوداہ ۳،‏ متی ۲۴:‏۱۳‏۔‏

۹ دنیا کے جس حصے میں ہم رہتے ہیں، ہو سکتا ہے کہ وہاں منادی کا کام مخالفوں کی طرف سے کسی بھی نمایاں رکاوٹ کے بغیر ترقی پا رہا ہو۔ یہ بات سنگین فکرمندی کی کوئی بھی وجہ برپا ہونے کی بابت ہمیں بے‌یقینی کی حالت میں ڈال سکتی ہے۔ تاہم، چوکس رہنے کی ضرورت ہے۔ حالات تیزی سے بدل سکتے ہیں۔ آگاہی کے بغیر، مخالفین کسی مسئلے سے ناجائز فائدہ اٹھا سکتے اور اسے ہمارے خلاف استعمال کر سکتے ہیں۔ برگشتہ لوگ ہمیشہ شکایت کیلئے کسی وجہ کی تلاش میں رہتے ہیں۔ غصہ‌ور پادری جو ہمارے کام کی وجہ سے خطرہ محسوس کرتے ہیں ہمیں علانیہ برابھلا کہہ سکتے ہیں۔ ایک کنگڈم ہال تعمیر کرنے کیلئے ہمارے منصوبے شاید ہمارے علاقے میں ایسا جھگڑا پیدا کریں جو پورے گردونواح کے لوگوں کو پریشان کر دے۔ اشتعال‌انگیز بیانات شائع ہو سکتے ہیں جو ہماری نیکنامی پر دھبہ لگا سکتے ہیں۔ ممتاز مقامی شخصیات جان‌بوجھکر ہمیں غلط طریقے سے پیش کر سکتی ہیں، تاکہ جب ہم اپنے منادی کے کام میں اپنے پڑوسیوں کے پاس جائیں تو یہ ان کی طرف سے مخالفت کرنے کا سبب بنتا بنے۔ ہمارے اپنے گھرانے کے عزیز بھی آزردہ ہو سکتے اور ہمیں اذیت دے سکتے ہیں۔ پس یہ سمجھتے ہوئے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے کہ دنیا کی دشمنی پوری طرح قائم ہے، اور یہ کسی بھی وقت منظرعام پر آ سکتی ہے۔‏

۱۰ اسے ہم پر کیسے اثرانداز ہونا چاہئے؟ یہ سب مناسب طور پر مستقبل کیلئے ہماری سوچ اور نقطہ‌نظر پر اثرانداز ہوتا ہے۔ کس طریقے سے؟ کیا اسے ہمیں اس چیز کی بابت پریشان، خوفزدہ کرنا چاہئے جسکی شاید ہمیں برداشت کرنا پڑے؟ کیا ہمیں اپنے منادی کے کام میں سست پڑ جانا چاہئے کیونکہ بعض ہمارے علاقے میں اس کام کی وجہ سے شاید پریشان ہوتے ہیں؟ جب ناجائز طور پر ہماری بدنامی کی جاتی ہے تو کیا بے‌چین ہونے کی کوئی معقول وجہ ہے؟ کیا یہ ناگزیر ہے کہ سخت سلوک یہوواہ کی خدمت کرنے میں ہماری خوشی کو ہم سے چھین لیگا؟ کیا انجام کے متعلق کوئی بے‌یقینی ہے؟ نہیں، ہرگز نہیں!‏ کیوں نہیں؟‏

۱۱ ہمیں اس حقیقت کو کبھی نظرانداز نہیں کرنا چاہئے کہ جس پیغام کی منادی ہم کرتے ہیں، ہم اسکے موجد نہیں، بلکہ یہوواہ ہے۔ (‏یرمیاہ ۱:‏۹‏)‏ ہم پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ اس نصیحت پر کان لگائیں:‏ ”‏اس کا نام پکارو۔ لوگوں کے درمیان اسکے کاموں کو مشہور کرو .‏.‏.‏ ساری زمین پر۔“‏ (‏یسعیاہ ۱۲:‏۴، ۵‏، این‌ڈبلیو)‏ اس نے اپنے لوگوں کے ساتھ بدسلوکی کو ایک خاص مقصد، یعنی، ”‏اپنے نام کو ساری دنیا میں مشہور کرنے،“‏ کیلئے گوارا کیا ہے۔ (‏خروج ۹:‏۱۶)‏ ہم ایک ایسا کام کر رہے ہیں جسکا حکم یہوواہ نے دیا ہے، اور وہی ہے جو ہمیں دلیری کیساتھ کلام کرنے کا حوصلہ دیتا ہے۔ (‏اعمال ۴:‏۲۹-‏۳۱‏)‏ یہ نہایت ہی اہم، فائدہ‌مند، اور ضروری کام ہے جو اس فرسودہ نظام کے آخری ایام میں کیا جا سکتا ہے۔‏

۱۲ یہ علم ہمیں شیطان اور اس دنیا کی کھلی مخالفت میں ثابت‌قدم رہنے کا حوصلہ دیتا ہے۔ (‏۱-‏پطرس ۵:‏۸، ۹‏)‏ یہ جاننا کہ یہوواہ ہمارے ساتھ ہے ہمیں اپنے ستانے والوں کے سامنے خوف کی کسی بھی وجہ کو دور کرنے کیلئے ”‏مضبوط اور حوصلہ[‏مند]‏“‏ بناتا ہے۔ (‏استثنا ۳۱:‏۶،‏ عبرانیوں ۱۳:‏ ۶‏)‏ جب ہمیں مخالفوں کی طرف سے خطرہ ہو تو حالانکہ ہم ہمیشہ موقع‌شناس، معقول، اور دوراندیش ہونے کی کوشش کرینگے، تو بھی جب ہماری پرستش کو للکارا جائے گا تو ہم یہ بالکل واضح کر دینگے کہ ہم ”‏آدمیوں کے حکم کی نسبت خدا کا حکم [‏ماننے]‏“‏ کیلئے مصمم ارادہ رکھتے ہیں۔ (‏اعمال ۵:‏۲۹‏)‏ جب اپنے دفاع میں بولنے کیلئے معقول موقع موجود ہوگا تو ہم ایسا کرینگے۔ (‏۱-‏پطرس ۳:‏۱۵‏)‏ تاہم، ہم سنگدل مخالفین کے ساتھ تکرار کرنے میں اپنے وقت کو ضائع نہیں کرینگے جو صرف ہماری ساکھ مٹانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اسلئے جب وہ ہمیں بدنام کرتے یا ہم پر جھوٹ‌موٹ الزام لگاتے ہیں تو ناراض ہونے یا بدلہ لینے کی کوشش کرنے کی بجائے، ہم انہیں بالکل ”‏چھوڑ [‏دینگے]‏۔“‏—‏متی ۱۵:‏۱۴‏۔‏

۱۳ آزمائشوں میں ہماری برداشت یہوواہ کو پسند ہے۔ (‏۱-‏پطرس ۲:‏۱۹‏)‏ ہمیں اس پسندیدگی کیلئے کیا قیمت ادا کرنی چاہئے؟ چونکہ ہم سے عداوت اور مخالفت رکھی جاتی ہے اسلئے کیا ہمیں خود کو بغیر خوشی کے خدمت کرنے کیلئے راضی بہ‌رضا ہو جانا چاہئے؟ ہرگز نہیں!‏ یہوواہ ہماری فرمانبرداری کا ”‏خوشی اور اطمینان“‏ کیساتھ اجر دینے کا وعدہ کرتا ہے۔ (‏رومیوں ۱۵:‏۱۳‏)‏ شدید تکلیف کے باوجود بھی یسوع ”‏اس خوشی کیلئے“‏ مسرور رہا ”‏جو اسکی نظروں کے سامنے تھی۔“‏ (‏عبرانیوں ۱۲:‏۲‏)‏ ہماری بابت بھی یہ سچ ہے۔ کیونکہ ہماری برداشت کا اجر اتنا بڑا ہے اسلئے ہم سنگین آزمائشوں کا دکھ اٹھانے کے باوجود ”‏خوشی [‏کرنے]‏ اور نہایت شادمان [‏ہونے]‏“‏ کی تحریک پاتے ہیں۔ (‏متی ۵:‏۱۱، ۱۲‏)‏ سخت تکلیف کے اوقات میں بھی، یہ خوشی، بذات‌خود، بادشاہتی پیغام کی حمایت میں یہوواہ کی عزت اور تمجید کرنے کی ایک وجہ ہے۔‏

۱۴ آخری انجام کی بابت کیا کوئی بے‌یقینی پائی جاتی ہے جو ہمیں پریشان یا مذبذب ہونے کی وجہ دیتی ہے؟ نہیں، یہوواہ کی تنظیم اور شیطان کی دنیا کے مابین مخالفت کے انجام کا فیصلہ بہت پہلے کر دیا گیا تھا۔ (‏۱-‏یوحنا ۲:‏۱۵-‏۱۷‏)‏ مخالفت کی شدت یا وسعت سے قطع‌نظر، یہوواہ ہمیں فتح بخشیگا۔ (‏یسعیاہ ۵۴:‏۱۷،‏ رومیوں ۸:‏۳۱،‏ ۳۷‏)‏ اگرچہ پوری طرح سے ہمارا امتحان لیا جاتا ہے تو بھی ہمیں انعام حاصل کرنے سے کوئی چیز روک نہیں سکتی۔ ہمارے پاس کسی ”‏بات کی فکر [‏کرنے]‏“‏ کی کوئی وجہ نہیں ہے کیونکہ یہوواہ نے ہماری درخواستوں کے جواب میں ہمیں اطمینان بخشا ہے۔—‏فلپیوں ۴:‏۶، ۷‏۔‏

۱۵ پس ہر مرتبہ جب ہم اپنے بھائیوں کی بابت اذیت سے بچائے جانے یا ایسے علاقوں میں جہاں پر ماضی میں ان پر پابندی عائد کر دی گئی تھی، منادی کرنے کی آزادی دئے جانے کی بابت رپورٹیں سنتے ہیں تو ہم یہوواہ کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ ہم خوش ہوتے ہیں جب بدلنے والے حالات ہزاروں خلوصدل لوگوں کو بادشاہتی پیغام سے واقف ہونے کیلئے نئے مواقع فراہم کرتے ہیں۔ ہم واقعی شکرگزار ہوتے ہیں جب یہوواہ ہمیں کینہ‌پرور مخالفوں کے ساتھ مقابلوں میں فتح بخشنے کا انتخاب کرتا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ جس بھی طریقے سے ضروری ہو وہ ہمارے کام کو برکت اور اقبالمندی بخشیگا تاکہ سچی پرستش کے اپنے گھر کو سربلند کرے اور تمام قوموں سے ”‏مرغوب“‏ لوگوں کو داخل ہونے کا موقع دے۔—‏حجی ۲:‏۷،‏ یسعیاہ ۲:‏۲-‏۴‏۔‏

۱۶ اسکے ساتھ ساتھ، ہم پوری طرح باخبر ہیں کہ ہمارا دشمن، شیطان بڑی قوت والا ہے، اور وہ آخری وقت تک زوردار طریقے سے ہماری مخالفت کریگا۔ اسکے حملے کھلم‌کھلا اور شدید ہو سکتے ہیں، یا پھر خفیہ اور مکارانہ ہو سکتے ہیں۔ اذیت اچانک ایسے علاقوں میں بھی بھڑک سکتی ہے جہاں پر ہم نے ماضی میں صرف امن ہی دیکھا ہے۔ شریر مخالفین ہمیں ناجائز طور پر دبانے کیلئے اپنی کوششوں میں بیرحم اور کینہ‌پرور ہو سکتے ہیں۔ وقت آنے پر ایسے سب لوگوں پر واضح ہو جائیگا کہ وہ ”‏خدا سے بھی لڑنے والے“‏ ہیں اور وہ انہیں نیست کر دیگا۔ (‏اعمال ۵:‏۳۸، ۳۹،‏ ۲-‏تھسلنیکیوں ۱:‏۶-‏۹‏)‏ اسی اثنا میں، اس سے قطع‌نظر کہ ہمیں کیا کچھ برداشت کرنا پڑتا ہے، ہم وفاداری سے یہوواہ کی خدمت کرنے اور بادشاہتی پیغام کی منادی کرنے میں ثابت‌قدم رہنے کیلئے اٹل ہیں۔ یہ علم رکھتے ہوئے کہ ”‏مقبول ٹھہرنے پر ہم زندگی کا تاج حاصل کرینگے،“‏ ہم اس سطح‌زمین پر نہایت ہی خوش لوگ ہیں۔—‏یعقوب ۱:‏۱۲‏، این‌ڈبلیو۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں