سوالی بکس
کلیسیا کو قراردادیں پیش کرتے وقت کونسا طریقکار اختیار کرنا چاہیے؟
قرارداد کی ضرورت اس وقت پیش آتی ہے جب اہم معاملات جیسے کہ جائداد خریدنے، کنگڈم ہال کو تعمیر کرنے یا اسے ازسرنو بنانے، سوسائٹی کو خصوصی عطیات بھیجنے، یا سفری نگہبان کے اخراجات ادا کرنے سے متعلق فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔ عموماً یہ نہایت اچھا ہوتا ہے کہ ہر مرتبہ جب کلیسیا کے فنڈ استعمال کئے جائیں تو منظوری کیلئے قرارداد پیش کی جائے۔
شاید اہم منصوبوں یا کارگزاریوں کیساتھ منسلک براہراست خصوصی ضروریات سے متعلق معاملات کو اس سے مستثنی رکھا جائے۔ مثال کے طور پر، کلیسیا شاید کبھی یہ قرارداد پیش کرے کہ وہ منادی کے عالمگیر کام کیلئے سوسائٹی کو ہر ماہ کچھ مخصوص رقم کا عطیہ دے۔ نیز، کنگڈم ہال کو چلانے کیلئے معمول کے مطابق اخراجات جیسے کہ ضروری خدمات اور صفائی کے سامان کیلئے قرارداد کی ضرورت نہیں۔
جب کوئی ضرورت نظر آئے تو بزرگوں کی جماعت کو معاملے پر تفصیلی بحث کرنی چاہئے۔ اگر اکثریت اس بات سے متفق ہے کہ کچھ کرنے کی ضرورت ہے تو پھر بزرگوں میں سے ایک، شاید کلیسیا کی خدمتی کمیٹی کے ایک ممبر، کو خدمتی اجلاس پر پیش کرنے کیلئے تحریری قرارداد تیار کرنی چاہئے۔
چیئرمین کے فرائض انجام دینے والے بزرگ کو چاہئے کہ مختصراً لیکن صاف طور پر اس کی موجودہ ضرورت کی اور اسے پورا کرنے کیلئے بزرگوں کی جماعت جو سفارش کرتی ہے اسکی وضاحت کرے۔ اسکے بعد کلیسیا کو متعلقہ سوالات پوچھنے کا موقع دیا جاتا ہے۔ اگر معاملہ پیچیدہ ہے تو یہ نہایت اچھا ہوگا کہ سب کو اسکی بابت سوچنے کا وقت دینے کیلئے رائےشماری کو اگلے خدمتی اجلاس تک ملتوی کر دیا جائے۔ حقیقی رائےشماری ہاتھ اٹھا کر کی جاتی ہے۔
قرارداد پر رائےشماری صرف کلیسیا کے مخصوصشدہ اور بپتسمہیافتہ ممبروں تک ہی محدود ہوتی ہے تاوقتیکہ قانونی تقاضے اس کے برعکس ہدایت نہ کریں، جیسے کہ کارپوریشن کے معاملات یا کنگڈم ہال کیلئے قرضوں وغیرہ کی صورت میں ہو سکتا ہے۔ دوسری کلیسیاؤں سے آنے والے لوگوں کیلئے اس میں شرکت کرنا مناسب نہ ہوگا۔
قرارداد منظور کئے جانے کے بعد، اس پر تاریخ ڈالی جانی چاہئے، دستخط کئے جانے چاہئیں اور پھر اسے کلیسیائی فائل میں لگا دیا جانا چاہئے۔