اجلاس پر حاضری—ایک سنجیدہ ذمہداری
۱ آپ اجلاس پر حاضری کو کتنی سنجیدگی سے لیتے ہیں؟ یہ ایک غورطلب سوال ہے، کیا یہ ایسا نہیں ہے؟ بلاشبہ ہم میں سے زیادہتر یہ محسوس کرتے ہیں کہ ہم اجلاسوں کی قدر کرتے ہیں۔ تاہم، رپورٹیں ظاہر کرتی ہیں کہ بہت سی کلیسیاؤں میں اجلاسوں کی حاضری میں حال ہی میں کمی واقع ہوئی ہے۔ کیا وجہ ہو سکتی ہے؟ کیا ہم میں سے بعض غیرضروری دنیاوی ملازمت، تھکن، گھر کے کام، کسی ہلکی سی جسمانی علالت، یا تھوڑی بہت موسم کی خرابی کو باقاعدگی کے ساتھ اجلاسوں پر حاضر ہونے کی اپنی ذمہداری میں خللانداز ہونے کی اجازت دیتے ہیں؟ (استثنا ۳۱:۱۲) چونکہ یہ صحیفائی تقاضا ہے، اسلئے ہم میں سے ہر ایک کو چاہیے کہ اس سوال پر دعائیہ غوروفکر کرے کہ میں اجلاس پر حاضری کو کتنا سنجیدہ سمجھتا ہوں؟
۲ ہمارے بعض بھائی گردآلود سڑکوں کے کنارے گھنٹوں چلتے ہیں اور مگرمچھوں سے بھرے ہوئے دریاؤں کو پار کرتے ہیں تاکہ اجلاسوں پر حاضر ہو سکیں۔ شاید آپکی اپنی کلیسیا میں، ایسے وفادار اشخاص ہوں جو صحت کے شدید مسائل، جسمانی معذوریوں، اپنی ملازمت کی جگہ پر کچل دینے والے کام کے دباؤ، یا سکول میں محنتطلب تفویضات کے باوجود ”جدا نہ“ [”کبھیغیرحاضر نہیں،“ این ڈبلیو] ہوتے۔ (لوقا ۲:۳۷) وہ حاضر ہونے کیلئے کیوں کوشش کرتے ہیں؟ اسلئے کہ وہ جانتے ہیں کہ وہ دباؤ سے بھری اس دنیا کے مسائل کا مقابلہ اپنی ذاتی قوت سے نہیں کر سکتے۔ انہیں اس قوت پر تکیہ کرنا چاہیے جو خدا فراہم کرتا ہے۔—۲-کرنتھیوں ۱۲:۹، ۱۰۔
۳ آجکل ہم قدیمی مسیحیوں کے ذریعے قائمکردہ نمونے پر چلتے ہیں، جو دعا کرنے، تجربے سنانے، اور خدا کے کلام کا مطالعہ کرنے کیلئے باقاعدگی سے جمع ہوتے تھے۔ (اعمال ۴:۲۳-۳۰، ۱۱:۴-۱۸، کلسیوں ۴:۱۶) ہم بائبل پیشینگوئی اور عقیدے، نیز خدائی چالچلن اور مسیحی اخلاقیات، کیساتھ ساتھ صحیفائی اصولوں کے محتاط اطلاق کے ذریعے اب اپنی زندگیوں کو بہتر بنانے کیلئے بروقت ہدایت حاصل کرتے ہیں۔ (۱-تیمتھیس ۴:۸) اسکے علاوہ، ہماری اپنی امید کی یاد کو تازہ کیا جاتا ہے کہ ایک دن مسائل اور تکلیف کا خاتمہ ہو جائیگا۔ یہ نہایت اہم بات ہے کہ اس امید کو زندہ رکھا جائے۔—عبرانیوں ۶:۱۹۔
۴ آپکا خاندان اجلاس پر حاضری کو کتنا سنجیدہ سمجھتا ہے؟ کیا یہ آپکے جدول کا اتنا ہی ضروری حصہ ہے جتنا کہ کھانے کا وقت یا دنیاوی کام؟ اجلاس والے دنوں پر، کیا آپ خود کو اس بات پر سوچبچار کرتے پاتے ہیں کہ آیا حاضر ہوں یا نہ ہوں، یا کیا اپنے بھائیوں کے ساتھ باقاعدہ رفاقت آپکے گھرانے میں پسند کا معاملہ نہیں ہے؟ بہتیرے پبلشروں کو اپنے مخصوصشدہ والدین کا نمونہ یاد ہے جب وہ پرورش پا رہے تھے۔ ایک بزرگ اشتیاق سے یاد کرتا ہے کہ ”ابا جان کے متعلق ایک بات یہ تھی کہ وہ ہمیشہ اپنی تسلی کر لیتے کہ خاندان اجلاسوں پر گیا ہے۔ اگر کوئی بیمار ہوتا تھا، تو ہم میں ایک اسکے ساتھ ٹھہرتا، لیکن باقی اجلاس پر جاتے تھے!“
۵ ہماری بادشاہتی خدمتگزاری کے آئندہ شماروں میں، ہم ہر کلیسیائی اجلاس کی قدروقیمت پر ان روحانی فراہمیوں کیلئے قدر بڑھانے کی خاطر مدد کرنے کے پیشنظر باتچیت کرینگے۔ اگر اجلاسوں پر آپکی حاضری زیادہ باقاعدہ ہو سکے تو ہمیں یقین ہے کہ یہ مضامین سمجھنے کیلئے آپ کی مدد کرینگے کہ کس چیز سے آپ محروم ہیں۔ ان میں اجلاس منعقد کرانے والوں کیلئے مفید یاددہانیاں، اور ہم سب کیلئے ایسی تجاویز شامل ہونگی جنکا ہم اجلاس کی تیاری کرتے اور ان میں حصہ لیتے وقت اطلاق کر سکتے ہیں۔ کیوں نہ خاندان کے طور پر بیٹھیں اور اجلاسوں پر حاضری کے اپنے طورطریقے پر دعائیہ غوروفکر کریں؟ اسکے بعد اپنے جدول میں کوئی ضروری ردوبدل کریں۔ اجلاس پر باقاعدہ حاضری ہماری تھیوکریٹک تعلیم کا ایک نہایت اہم حصہ ہے اور اسے یقیناً بہت سنجیدہ سمجھنا چاہیے۔