حاصلکردہ دلچسپی پر توجہ دیں
۱ جب ہم اپنے رسالے اور دیگر تھیوکریٹک اشاعتیں تقسیم کرتے ہیں تو ہم اس پیغام کو پھیلا رہے ہوتے ہیں جس کا یسوع نے اعلان کیا۔ لہذا ہم کو ہر اس شخص سے واپسی ملاقات کرنے کی خاص کوشش کرنی چاہئے جو دلچسپی دکھاتا ہے۔
۲ اگر آپ نے اویک! میں ایک خاص عنوان کو نمایاں کیا ہے جو صاحبخانہ کی دلچسپی کا باعث ہوا تو آپ واپسی پر اپنی باتچیت کو ایک کلیدی صحیفے اور شاید ایک یا دو پیراگراف پر مرکوز کرتے ہوئے، عنوان میں سے اضافی نکات کو فروغ کو دیں۔ اگر مسلسل دلچسپی پائی جاتی ہے تو اس بات کو نمایاں کریں کہ اویک! سارے خاندان کیلئے فائدے لاتا ہے۔ ہر شمارہ مختلف موضوعات پر بات کرتا ہے، جیسے کہ ماحول، ذاتی اصلاح، آجکل کی مشکلات کیساتھ نپٹنا، اور ایسے سوالات جو نوجوان لوگوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ جب خالص دلچسپی دکھائی جاتی ہے تو صاحبخانہ کو بتائیں دیں کہ اویک! سالانہ چندے پر دستیاب ہے اور یہ کہ چھ مہینوں کے عرصہ میں وہ ۱۲ شمارے حاصل کر سکتا ہے۔
۳ کیا ہو اگر صاحبخانہ حالیہ اویک! کے شمارے کے مضامین میں سے کسی میں دلچسپی نہ رکھتا ہو؟ بجائے اسکے کہ باتچیت کو ختم کر دیا جائے، آپ شاید ریزننگ بک کے صفحہ ۲۰۶ کی معلومات کو استعمال کرنے سے صاحبخانہ کو یہوواہ کے گواہوں کے کام کی بابت واضح کرنے کے موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیں۔
۴ اگر آپ نے پچھلی دفعہ ۲-تیمتھیس ۳:۱-۵ کو استعمال کرنے اور رسالے کے صفحہ ۲ کی معلومات کو نمایاں کرنے سے ”مینارنگہبانی“ کے ایک شمارے کو پیش کیا تھا تو واپس جاتے وقت آپ کچھ اس طرح کہہ سکتے ہیں:
”اپنی گزشتہ باتچیت میں، ہم نے آجکل دنیا میں ہمارے اردگرد جو کچھ واقع ہو رہا ہے اسکے مطلب پر باتچیت کی تھی۔ یوں لگتا ہے کہ بہتیرے لوگ بظاہر خدا اور زندگی بسر کرنے کیلئے اسکے معیاروں میں جو بائبل میں پیش کئے گئے ہیں ان میں انکی دلچسپی ختم ہو گئی ہے۔ جیسا کہ ۲-تیمتھیس ۳:۱-۵ کے صحیفہ میں بیان کیا گیا ہے اس بات نے ایک دوسرے کی جانب لوگوں کے رحجان کو متاثر کیا ہے۔ کیا آپ کے خیال میں مستقبل میں بہتر حالتوں کی امید کرنے کی ٹھوس بنیاد ہے؟“ تبصرے کی اجازت دینے کے بعد، آپ ۲-پطرس ۳:۱۳ پر توجہ مبذول کرا سکتے ہیں۔ پھر ریزننگ بک کے صفحات ۲۲۷-۲۳۳ کو کھولیں اور جو کچھ بادشاہت نوعانسانی کیلئے کریگی اس کو نمایاں کریں۔
۵ واپسی ملاقات پر، آپ یہ بھانپ سکتے ہیں کہ صاحبخانہ یہ محسوس کرتے ہوئے اپنے مذہب پر باتچیت کرنے میں غیرآمادہ ہے کہ یہ بہت ہی ذاتی معاملہ ہے۔ آپ اس سے کچھ ملتی جلتی بات کہہ سکتے ہیں:
”سفر اور رابطے میں ہمہوقت تیزی کی وجہ سے ایسی دنیا میں جو چھوٹی سے چھوٹی ہوتی جا رہی ہے اتنے سارے مذاہب کیساتھ، مختلف عقائد کا اثر عالمگیر پیمانے پر محسوس کیا جاتا ہے، خواہ ہم اسے پسند کریں یا نہ کریں۔ اسلئے ایک دوسرے کے نکتۂنظر کو سمجھنا مختلف عقائد کے لوگوں کے درمیان زیادہ پرمطلب رابطے کا باعث بن سکتا ہے۔ یہ اس نفرت کو بھی دور کر سکتا ہے جس کی بنیاد مذہبی عقائد ہیں۔ آپ کا کیا خیال ہے؟“ تبصرہ کی اجازت دینے کے بعد، صاحبخانہ کی توجہ مینکائینڈز سرچ فار گاڈ کتاب کے مضامین کی فہرست پر مبذول کرائیں۔
۶ آئیں وہ تمام جو سچائی میں دلچسپی دکھاتے ہیں ان کے پاس واپس جانے کی ہر ممکن کوشش کریں اور اس راہ پر ان کی مدد کریں جو ہمیشہ کی زندگی کا باعث ہے۔—یوحنا ۴:۲۳، ۲۴۔