الہٰی تعلیم زوردار اثر رکھتی ہے
۱ الہی ہستی یعنی ہمارے خالق، یہوواہ خدا کی طرف سے تعلیم حاصل کرکے ہم کسقدر متشرف ہیں! (زبور ۵۰:۱، یسعیاہ ۳۰:۲۰ب) آجکل تمام قوموں میں سے، انبوہ اس سے تعلیم پانے کیلئے سچی پرستش کے اسکے پہاڑ کا رخ کر رہے ہیں۔ (میکاہ ۴:۲) دیگر لاکھوں لوگ اسکولوں میں اندراج کراتے ہیں جو کہ انسانی سوچ اور دنیاوی حکمت کو سرفراز کرتے ہیں۔ لیکن وہ حکمت جو یہوواہ اور اسکے تحریری کلام کو نظرانداز کرتی ہے وہ خدا کی نگاہ میں بیوقوفی ہے، اور جو اسکی راہنمائی میں چلتے ہیں احمق بنتے ہیں۔—زبور ۱۴:۱، ۱-کرنتھیوں ۱:۲۵۔
۲ اس سال اپنی ڈسٹرکٹ کنونشن پر، ہم ایک منفرد طریقے سے الہی تعلیم کی طاقت کا تجربہ کریں گے۔ عنوان ”الہی تعلیم“ سارے پروگرام میں سرایت کرتا ہے۔ ہم دیکھیں گے کہ خدا کا کلام اپنی روح کیساتھ ملکر ہمیں ایک عالمگیر برادری میں متحد کرتا، ہماری شخصیتوں کو تشکیل دیتا، شیاطین کی تعلیمات سے ہمیں محفوظ رکھتا، اور بہتر خادم بننے کیلئے ہماری تربیت کرتا ہے۔ آپ ذاتی طور پر کیسے الہی تعلیم سے فائدہ اٹھا رہے ہیں؟
۳ مسیحی زندگی بسر کرنے پر اثر: الہی تعلیم ہمارے ضمائر کو ڈھالنے میں مدد کرتی ہے۔ ہر کوئی ضمیر کیساتھ پیدا ہوتا ہے، لیکن راستبازی کی راہ میں اور ایسی خدمت میں جو یہوواہ کو خوش کرتی ہے اسکے ہماری رہبری کرنے کیلئے، اسکی تربیت کرنا ضرور ہے۔ (زبور ۱۹:۷، ۸، رومیوں ۲:۱۵) دنیا کے لوگوں نے خدا کے کلام کے مطابق اپنی سوچ کو نہیں ڈھالا ہے، اور اس وجہ سے وہ پریشان اور کیا درست ہے اور کیا غلط ہے کی بابت شک میں ہیں۔ اخلاق اور اصولاخلاقیات کے مسائل پر طویل مباحثے بھڑک اٹھتے ہیں کیونکہ ہر کوئی جو کچھ اسکے خیال میں درست ہے اسکو کرنے پر اصرار کرتا ہے۔ اکثریت اپنی ذاتی طرز زندگی کی روش کا فیصلہ کرنے کیلئے مکمل آزادی چاہتی ہے۔ وہ سچی حکمت کے واحد منبع پر دھیان دینے سے انکار کرتے ہیں۔ (زبور ۱۱۱:۱۰، یرمیاہ ۸:۹، دانیایل ۲:۲۱) لیکن الہی تعلیم نے ہمارے لئے ایسے مسائل حل کر دئے ہیں، اور ہم خدا کے گھرانے کے طور پر متحد رہتے ہیں کیونکہ ہم اس سے تعلیم پاتے ہیں۔ اپنی خدمتگزاری میں مصروف رہتے ہوئے، ہم نیک ضمیر کیساتھ پراعتماد ہو کر مستقبل کا سامنا کرتے ہیں۔
۴ الہی تعلیم ”ہر ایک تعلیم کے جھوکے“ کی مزاحمت کرنے میں ہماری مدد کرتی ہے۔ (افسیوں ۴:۱۴) ہم فیلسوفی کے مطالعہ کے گرویدہ نہیں ہوئے ہیں، جو لوگوں کو نکتہچین اور شکی بنا دیتا، حقخودارادیت کی حوصلہافزائی کرتا، اور اخلاقی پستی کا باعث بنتا ہے۔ ہم یہوواہ سے تعلیم پانے سے خوش ہیں، اور یوں ہم غم اور درددل سے بچتے ہیں جس کا تجربہ بہتیروں کو ہوا ہے۔ یہوواہ کے آئین اور یاددہانیاں ”ہمارے پیچھے ایک آواز کی مانند“ ہیں جو کہتی ہے: ”راہ یہی ہے اس پر چل۔“—یسعیاہ ۳۰:۲۱۔
۵ ہمارے اجلاس اور خدمتگزاری: ہم عبرانیوں ۱۰:۲۳-۲۵ کو خدا کی طرف سے ایک حکم کے طور پر خیال کرتے ہیں۔ کلیسیائی اجلاسوں پر، ہم یہوواہ سے تعلیم پاتے ہیں۔ کیا اجلاس پر ہمیشہ حاضر ہونا ہمارا دستور ہے، یا کیا ہم اجلاس پر حاضری کو کم اہم خیال کرتے ہیں؟ یاد رکھیں، باہم جمع ہونا ہماری پرستش کا حصہ ہے۔ اسے اختیاری نہیں سمجھا جانا چاہئے۔ ہم روحانی خوراک کے پروگرام کے کسی بھی حصہ کو کھونے کا مقدور نہیں رکھ سکتے جو یہوواہ نے ہمارے لئے تیار کیا ہے۔
۶ موسی نے خدا سے دعا کی: ”ہمکو اپنے دن گننا سکھا۔ ایسا کہ ہم دانا دل حاصل کریں۔“ (زبور ۹۰:۱۲) کیا ہماری بھی یہی دعا ہے؟ کیا ہم ہر قیمتی دن کی قدر کرتے ہیں؟ اگر ہم کرتے ہیں تو پھر ہم اپنے عظیم معلم، یہوواہ خدا کے جلال کیلئے ہر دن کو سودمند طریقے سے صرف کرتے ہوئے ”دانا دل حاصل کریں“ گے۔ الہی تعلیم ایسا کرنے کیلئے ہماری مدد کریگی۔