اس خدمتی سال کے دوران ہم کیا سرانجام دیں گے؟
۱ ستمبر ۱ سے شروع ہونے والے ۱۹۹۴ کے خدمتی سال کے کیساتھ، یہوواہ کے لوگ ہوتے ہوئے ہم سب کیلئے اب یہ موزوں وقت ہے کہ اس چیز کو اپنے ذہنوں میں واضح طور پر قائم کریں جو ہم بطور افراد کے اور بطور ایک تنظیم کے اس نئے خدمتی سال کے دوران سرانجام دینے کے خواہاں ہیں۔
۲ روحانی طور پر بڑھتے رہیں: اگر ہم سچائی سے نئے رفاقت رکھنے والے ہیں تو ہمیں ایمان میں مضبوط بننے کی خواہش کرنی چاہئے۔ (عبرانیوں ۶:۱-۳) اگر ہم پہلے ہی سے روحانی طور پر مضبوط ہیں تو نہ صرف ہمیں نئے اشخاص اور دیگر لوگوں کی مدد کرنا چاہئے بلکہ ہمیں اپنی ذاتی روحانیت پر بھی ضرور توجہ دینی چاہئے، کبھی بھی یہ محسوس نہ کرتے ہوئے کہ ہمارے پاس مسیحی زندگی بسر کرنے میں تمام ضروری بائبل علم اور تجربہ ہے۔ کیا ہم روزانہ کی آیت پر غور کرتے، تھیوکریٹک منسٹری اسکول کے جدول میں دئے گئے بائبل پڑھائی کے پروگرام کو برقرار رکھتے، اور کلیسیائی کتابی مطالعہ اور مینارنگہبانی کے مطالعہ کی تیاری کرتے ہیں؟ ہم سب کا کم سے کم یہ نشانہ تو ہونا چاہئے۔ اگر ہمیں اس شریر نظامالعمل کی تباہی سے بچنا اور خدا کی نئی دنیا میں محفوظ ہو کر جانا ہے تو ہمیں روحانی طور پر بڑھتے رہنا چاہئے۔—مقابلہ کریں فلپیوں ۳:۱۲-۱۶۔
۳ روحانی طور پر پاک رہیں: پورے طور پر یہوواہ کے حضور قابلقبول ہونے کیلئے، ہمیں ”ہر طرح کی جسمانی اور روحانی آلودگی سے پاک“ ہونا چاہئے۔ (۲-کرنتھیوں ۷:۱) جب ہم پاک ہو جاتے ہیں تو ہم دوبارہ اس شریر پرانی دنیا کی ”دلدل میں لوٹنے“ کی کیوں خواہش کریں گے؟ (مقابلہ کریں ۲-پطرس ۲:۲۲۔) ہمیں روحانی طور پر مضبوط اور پاک رہنے کا عزممصمم کرنا چاہئے۔ پھر ہم شیطان کے برے منصوبوں اور ان میں پھنس کر نقصان اٹھانے یعنی گناہ میں پڑنے اور یہوواہ کی خوشنودی سے دور جانے سے ناواقف نہیں رہیں گے۔—۲-کرنتھیوں ۲:۱۱۔
۴ دانشمندانہ مشورے پر دھیان دیں: امثال ۱۵:۲۲ نمایاں کرتی ہے: ”صلاحکاروں کی کثرت سے [ارادے] قیام پاتے ہیں۔“ تاہم، یاد کریں، کہ وہ آدمی جس نے یہ الفاظ کہے یعنی سلیمان نے بعد میں ”اپنی بیویوں کو دوسرے معبودوں کی پیروی کی طرف اپنے دل کو مائل“ کرنے کی اجازت دے دی کیونکہ وہ اجنبی بیویوں کو نہ لینے کے خدا کے مشورے پر دھیان دینے میں ناکام ہو گیا تھا۔ (۱-سلاطین ۱۱:۱-۴) پس جبتک ہم ذاتی طور پر دانشمندانہ مشورے پر دھیان نہیں دیتے، ہم کیسے یہوواہ کی خدمت میں مؤثر ہونے کی توقع کر سکتے یا تقلید کئے جانے کے لائق نمونہ قائم کر سکتے ہیں؟ (۱-تیمتھیس ۴:۱۵) بائبل کی مشورت اپنے دل کی حفاظت کرنے میں ہمیں مدد دیگی۔ (امثال ۴:۲۳) اس چیز سے پیار کرنا جس سے یہوواہ پیار کرتا ہے، اس چیز سے نفرت کرنا جس سے وہ نفرت کرتا ہے، مستقل طور پر اسکی راہنمائی کے طالب ہونا اور وہ کرنا جو اسے خوش کرتا ہے یقینی حفاظت ہیں۔—امثال ۸:۱۳، یوحنا ۸:۲۹، عبرانیوں ۱:۹۔
۵ یہوواہ کیلئے ہماری پرستش کوئی میکانکی چیز نہیں، یعنی دنیا کے دعویدار مسیحیوں کی طرح کی خدائیعقیدت کی وضع نہیں بلکہ خدا کے کلام میں پائی جانے والی سچائی کی مطابقت میں جوشوولولہ والی، سرگرم، اور زندہ ہے۔—یوحنا ۴:۲۳، ۲۴۔
۶ خدا کی مرضی پوری کرنے کیلئے ہمارا عزممصمم شاید ہر روز آزمایا جائے۔ ہمیں اس علم سے مستحکم ہونا چاہئے کہ ہمارے ”[”سارے،“ NW] بھائی جو دنیا میں ہیں“ ایسی ہی آزمائشوں کا سامنا کرتے ہیں اور یہ کہ یہوواہ ہی ہے جو ہمیں مضبوط کرے گا۔ (۱-پطرس ۵:۹، ۱۰) یوں ہم ۱۹۹۴ کے خدمتی سال کے دوران اپنی خدمتگزاری پوری طرح سرانجام دینے کے قابل ہونگے۔—۲-تیمتھیس ۴:۵۔