کیا آپ یہ کر سکتے ہیں؟
۱ ”کیا کریں؟“ آپ پوچھتے ہیں۔ امثال ۳:۲۷ جواب دیتی ہے: ”بھلائی کے حقدار سے اسے دریغ نہ کرنا جب [”ایسا کرنا،“ NW] تیرے مقدور میں ہو۔“ کیا اپنی کارگزاریوں کو وسیع کرنا اور امدادی یا باقاعدہ پائنیر خدمت میں حصہ لینا ”[آپ کے] مقدور میں“ ہے؟ کیا آپ یہ کر سکتے ہیں؟
۲ ۱۹۹۳ ائیر بک میں یہ پڑھنا کتنی حوصلہافزا بات تھی کہ پاکستان میں ۴۳ پائنیروں کی اوسط تھی، ۷ پبلشروں کے پیچھے ۱ پائنیر کا تناسب۔ یہ پبلشروں کی ۱۴ فیصد تعداد ہے جس نے اپنے حالات کو جانچا اور یہ پایا کہ وہ خدمتگزاری میں اور زیادہ کام کر سکتے ہیں۔
۳ امدادی پائنیرنگ دوسروں کے ساتھ بھلائی کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ گزشتہ سال ۲۴ امدادی پائنیروں کی انتہائی تعداد ۲۴ تھی۔ یہ بہت عمدہ ہے۔ بہتیرے پبلشر اکثر اوقات سارا سال امدادی پائنیر خدمت کرنے کے طریقے تلاش کر رہے ہیں۔
۴ اس بات کا تعین کرنے کیلئے کہ آیا آپ ”یہ کر“ سکتے ہیں یا نہیں، پہلے آپ کو اپنی دلی خواہش پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ (متی ۲۲:۳۷-۳۹) اعمال ۲۰:۳۵ کہتی ہے: ”دینا لینے سے مبارک ہے۔“ بلاشبہ، وہ جو دل سے فیاضی کیساتھ روحانی مدد دیتے ہیں وہ صحیح خواہش رکھتے ہیں۔ ایک کامیاب پبلشر یا پائنیر بننے کیلئے ایسی خواہش لازمی ہے۔
۵ دوسری بات، اپنے موجودہ حالات پر غور کریں۔ کیا آپ کلوقتی طور پر کام کرنے کیلئے اپنے روزمرہ کے معاملات میں ردوبدل کر سکتے ہیں؟ ہر کوئی نہیں کر سکتا۔ لیکن دعائیہ ذاتی تجزیے کے بعد، ہر سال ہزاروں ”ایسا کرنے“ کی راہ ڈھونڈ لیتے ہیں۔ (کلسیوں ۴:۵، w۷۷ ص۔ ۷۰۱) مثال کے طور پر، بعض خاندان امدادی پائنیر خدمت کرنے کی غرض سے خاندان کے کچھ یا تمام افراد کیلئے خاص مہینوں کا انتخاب کرتے ہیں۔ دیگر خاندان اپنے افراد میں سے ایک کی باقاعدہ پائنیر کے طور پر کفالت کرتے ہیں۔ کیا آپ کے خاندان نے ان امکانات پر غوروخوض کیا ہے؟—دیکھیں امثال ۱۱:۲۵۔
۶ خواہ آپ پبلشر کے طور پر خدمت کریں یا بطور ایک پائنیر کے، سچائی کو جاننے میں دوسروں کی مدد کرنا ہی وہ کام ہے جو حقیقی اطمینان بخشتا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ سچی شادمانی دوسروں کے ساتھ بھلائی کرنے سے آتی ہے، خاص طور پر اگر ایسا کرنا ”[آپ کے] مقدور میں ہو۔“