یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م19 فروری ص.‏ 31
  • کیا آپ کو معلوم ہے؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • کیا آپ کو معلوم ہے؟‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—2019ء
  • ملتا جلتا مواد
  • ایک دوسرے کے ساتھ جمع ہونے سے باز نہ آئیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2002ء
  • کفرنحوم میں یسوع مسیح کے معجزے
    یسوع مسیح—‏راستہ، سچائی اور زندگی
  • پہلی صدی کے یہودی خوشخبری سنتے ہیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2005ء
مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—2019ء
م19 فروری ص.‏ 31

کیا آپ کو معلوم ہے؟‏

شہر گاملہ میں واقع پہلی صدی عیسوی کی یہودیوں کی ایک عبادت‌گاہ

پہلی صدی عیسوی میں یہودیوں کی ایک عبادت‌گاہ:‏ یہ خاکہ یہودیوں کی ایک عبادت‌گاہ کا ہے جو شہر گاملہ میں واقع تھی۔ یہ شہر گلیل کی جھیل کے شمال مشرق میں تقریباً 10 کلومیٹر (‏6 میل)‏ کے فاصلے پر تھا۔ اِس خاکے میں دِکھایا گیا ہے کہ قدیم زمانے میں یہودیوں کی عبادت‌گاہ لگ بھگ کیسی ہوتی تھی۔‏

یہودیوں کی عبادت‌گاہ کی تاریخ کیا ہے؟‏

یونانی زبان میں یہودیوں کی عبادت‌گاہ کے لیے جو لفظ اِستعمال ہوا ہے، اُس کا مطلب ”‏مجلس“‏ یا ”‏اِکٹھے جمع ہونا“‏ ہے۔ یہ نام بالکل مناسب ہے کیونکہ قدیم زمانے سے ہی یہودی لوگ اِن عبادت‌گاہوں میں تعلیم پانے اور عبادت کرنے کے لیے جمع ہوتے آئے ہیں۔ حالانکہ عبرانی صحیفوں میں یہودیوں کی عبادت‌گاہوں کا واضح ذکر نہیں ملتا لیکن یونانی صحیفوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ پہلی صدی عیسوی سے پہلے بھی یہ عبادت‌گاہیں موجود تھیں۔‏

زیادہ‌تر عالموں کا ماننا ہے کہ یہودیوں کی سب سے پہلی عبادت‌گاہیں اُس وقت بنائی گئیں جب یہودی بابل میں غلام تھے۔ ‏”‏اِنسائیکلوپیڈیا جوڈیکا“‏ میں لکھا ہے:‏ ”‏اسیر یہودی ہیکل سے دُور ایک انجان ملک میں تھے اور اپنی پریشانیوں میں تسلی حاصل کرنا چاہتے تھے۔ اِس لیے وہ وقتاًفوقتاً غالباً سبت کے دن جمع ہوتے تھے اور صحیفے پڑھتے تھے۔“‏ ایسا لگتا ہے کہ بابل کی غلامی سے رِہا ہونے کے بعد بھی یہودی جمع ہو کر دُعا اور صحیفوں کی تلاوت کرتے رہے اور وہ جہاں بھی رہنے لگے، اُنہوں نے وہاں اپنی عبادت‌گاہیں بنائیں۔‏

پہلی صدی عیسوی تک یہ عبادت‌گاہیں اُن یہودیوں کی مذہبی اور سماجی زندگی کا مرکز بن چُکی تھیں جو بحیرۂ‌روم کے گرد، پورے مشرقِ‌وسطیٰ اور اِسرائیل میں رہتے تھے۔ یروشلیم کی ایک یونیورسٹی کے پروفیسر لی لوین نے یہودیوں کی عبادت‌گاہ کے بارے میں کہا:‏ ”‏یہ جگہ مطالعہ کرنے، مُقدس کھانے کھانے، عدالتی کارروائیاں کرنے، عطیات کے لیے اِجتماعی رقم جمع کرنے اور سیاسی اور سماجی اِجلاس منعقد کرنے کے لیے اِستعمال کی جاتی تھی۔“‏ پروفیسر لی نے مزید کہا:‏ ”‏بِلاشُبہ یہاں پر انجام دی جانے والی سب سے اہم سرگرمیاں مذہبی سرگرمیاں تھیں۔“‏ لہٰذا اِس میں حیرانی کی بات نہیں کہ یسوع اکثر یہودیوں کی عبادت‌گاہوں میں جاتے تھے۔ (‏مر 1:‏21؛‏ 6:‏2؛‏ لُو 4:‏16‏)‏ وہاں وہ لوگوں کو تعلیم دیتے اور اُن کی حوصلہ‌افزائی کرتے۔ مسیحی کلیسیا قائم ہونے کے بعد پولُس رسول نے یہودیوں کی عبادت‌گاہوں میں بہت تبلیغ کی۔ جو لوگ خدا کے قریب جانا چاہتے تھے، وہ اِن عبادت‌گاہوں میں ضرور جاتے تھے۔ اِسی لیے پولُس کسی شہر میں داخل ہونے کے بعد عموماً سب سے پہلے عبادت‌گاہ جاتے تھے اور وہاں تبلیغ کرتے تھے۔—‏اعما 17:‏1، 2؛‏ 18:‏4‏۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں