آپبیتی
مجھے اپنی روحانی میراث کی بدولت ڈھیروں خوشیاں ملیں
آدھی رات کا وقت تھا اور ہم تیز بہاؤ والے دریا نائیجر کے کنارے کھڑے تھے جو تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر (تقریباً 1 میل) چوڑا تھا۔ اُس وقت نائیجیریا میں خانہجنگی عروج پر تھی اِس لیے دریا کو پار کرنا جانلیوا ثابت ہو سکتا تھا۔ پھر بھی ہم نے یہ خطرہ مول لیا اور ایسا ایک بار نہیں بلکہ کئی بار کِیا۔ لیکن مَیں اِس صورتحال میں کیسے پڑ گیا؟ یہ بتانے سے پہلے آئیں، مَیں آپ کو اُس وقت کے بارے میں بتاؤں جب مَیں ابھی پیدا نہیں ہوا تھا۔
میرے ابو کا نام جان ملز تھا۔ اُنہوں نے 1913ء میں شہر نیو یارک میں بپتسمہ لیا جب اُن کی عمر 25 سال تھی۔ بھائی چارلس رسل نے اُن کے بپتسمہ کی تقریر کی۔ اِس کے تھوڑے عرصے بعد ابو جزیرہ ٹرینیڈاڈ چلے گئے جہاں اُنہوں نے کانسٹینس فارمر نامی ایک بائبل سٹوڈنٹ سے شادی کی جو بڑے جوش سے خدا کی خدمت کر رہی تھیں۔ ابو نے اپنے دوست ولیم براؤن کے ساتھ مل کر لوگوں کو ”فوٹو ڈرامہ آف کریئیشن“ دِکھانے میں مدد کی۔ وہ دونوں 1923ء تک یہ کام کرتے رہے جس کے بعد بھائی ولیم اور اُن کی اہلیہ کو مغربی افریقہ بھیج دیا گیا۔ ابو اور امی جو آسمان پر زندگی حاصل کرنے کی اُمید رکھتے تھے، ٹرینیڈاڈ میں خدمت کرتے رہے۔
ایک اچھی بنیاد
ہم نو بہن بھائی تھے۔ میرے والدین نے میرے سب سے بڑے بھائی کا نام بھائی رتھرفورڈ کے نام پر رکھا جو اُس وقت ”واچٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی“ کے صدر تھے۔ پھر جب 30 دسمبر 1922ء کو مَیں پیدا ہوا تو میرا نام بھائی کلاٹن وُڈورتھ کے نام پر رکھا گیا جو ”دی گولڈن ایج“ (جسے اب ”جاگو!“ کے نام سے شائع کِیا جاتا ہے) کے ایڈیٹر تھے۔ ہمارے والدین نے ہم سب کو بنیادی تعلیم دِلوائی مگر اُنہوں نے خاص طور پر ہمارا دھیان خدا کی خدمت کے حوالے سے منصوبے بنانے کی طرف رکھا۔ امی بڑی مہارت سے دوسروں کو صحیفوں سے دلیلیں دے کر قائل کر لیتی تھیں۔ ابو کو ہمیں بائبل کی کہانیاں سنانا بہت پسند تھا اور ایسا کرتے وقت وہ جو اِشارے کرتے تھے، وہ کہانی میں جان ڈال دیتے تھے۔
امی ابو کی کوششیں رنگ لائیں۔ ہم پانچ بھائیوں میں سے تین نے گلئیڈ سکول سے تربیت حاصل کی۔ ہماری تین بہنیں جزیرہ ٹرینیڈاڈ اور جزیرہ ٹوباگو میں بہت سالوں تک پہلکار کے طور پر خدمت کرتی رہیں۔ ہمارے والدین نے ہماری اچھی تربیت کی اور ہمارے لیے عمدہ مثال قائم کی۔ اِس وجہ سے ہم ایسے پودوں کی طرح بن گئے ”جو [یہوواہ] کے گھر میں لگائے گئے“ ہوں۔ امی ابو کی طرف سے ملنے والی حوصلہافزائی کی بدولت ہم لگن سے ”خدا کی بارگاہوں میں“ خدمت کرنے کے قابل ہوئے۔—زبور 92:13۔
بہن بھائی عموماً ہمارے گھر مُنادی کے کام کے لیے جمع ہوتے تھے۔ جو پہلکار ہمارے گھر آتے تھے، وہ اکثر کینیڈا سے تعلق رکھنے والے مشنری بھائی جارج ینگ کے بارے میں بات کرتے تھے جنہوں نے ٹرینیڈاڈ کا دورہ کِیا تھا۔ امی ابو بڑی خوشی سے بھائی ولیم لوگوں کے بارے میں بات کرتے تھے جنہوں نے اُن کے ساتھ خدمت کی تھی اور جو اب مغربی افریقہ میں تھے۔ ایسی باتچیت کی وجہ سے مجھے یہ ترغیب ملی کہ مَیں مُنادی کے کام میں حصہ لینا شروع کروں۔ اُس وقت میری عمر دس سال تھی۔
یہوواہ کی خدمت میں گزرے اِبتدائی سال
اُس وقت ہمارے رسالوں میں بڑی بےباکی سے جھوٹے مذاہب، لالچی کاروباری نظام اور بددیانت حکومتوں کا پردہ فاش کِیا جاتا تھا۔ اِس وجہ سے 1936ء میں پادریوں نے ٹرینیڈاڈ کے گورنر کو اُکسایا کہ وہ ہماری تمام مطبوعات پر پابندی لگا دے۔ ہم نے اپنی مطبوعات چھپا دیں اور اِنہیں تب تک اِستعمال کرتے رہے جب تک یہ ختم نہیں ہو گئیں۔ ہم اِشتہاری بورڈ پہن کر سڑکوں پر پیدل یا سائیکلوں پر چلتے اور پرچے تقسیم کرتے۔ شہر ٹوناپونا میں کچھ بہن بھائیوں کے پاس لاؤڈسپیکر والی گاڑی تھی۔ ہم اُن کے ساتھ ٹرینیڈاڈ کے دُوردراز علاقوں تک مُنادی کرنے گئے۔ ہمیں یہ سب کام کرنے میں بہت مزہ آتا تھا۔ خدا کے بندوں کے ساتھ وقت گزارنے کا مجھ پر بڑا اچھا اثر ہوا اور مَیں نے 16 سال کی عمر میں بپتسمہ لے لیا۔
ٹوناپونا کے بہن بھائی جن کے پاس لاؤڈسپیکر والی گاڑی تھی
اپنے والدین کی طرف سے ملنے والی روحانی میراث اور کمعمری میں بہن بھائیوں کے ساتھ کی گئی خدمت کی بدولت میرے دل میں مشنری بننے کی خواہش پیدا ہوئی۔ یہ خواہش اُس وقت بھی زندہ تھی جب مَیں 1944ء میں جزیرہ اروبا گیا اور بھائی ایڈمنڈ کمانگس کے ساتھ مل کر خدمت کرنے لگا۔ 1945ء میں وہاں یادگاری تقریب پر 10 نئے لوگ حاضر ہوئے اور ہمیں یہ دیکھ کر بڑی خوشی ہوئی۔ اگلے سال اروبا میں پہلی کلیسیا قائم ہوئی۔
اورِس کے ساتھ خدمت کرنے سے میری خوشی بڑھ گئی۔
اِس کے تھوڑے ہی عرصے بعد مَیں نے اپنے ساتھ کام کرنے والی ایک خاتون کو گواہی دی جس کا نام اورِس ولیمز تھا۔ اورِس نے اپنے اُن عقیدوں کا دِفاع کرنے کی بڑی کوشش کی جو اُنہیں سکھائے گئے تھے۔ لیکن پھر اُنہوں نے بائبل کورس کِیا اور اِس دوران اُنہوں نے سیکھا کہ خدا کے کلام کی صحیح تعلیم کیا ہے۔ 5 جنوری 1947ء کو اورِس نے بپتسمہ لیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ ہمیں ایک دوسرے سے پیار ہو گیا اور پھر ہم نے شادی کر لی۔ اورِس نے نومبر 1950ء میں پہلکار کے طور پر خدمت شروع کی۔ اُن کے ساتھ مل کر خدمت کرنے سے میری خوشی اَور بھی زیادہ ہو گئی۔
نائیجیریا میں خدمت سے ملنے والی خوشیاں
سن 1955ء میں ہمیں گلئیڈ سکول سے تربیت حاصل کرنے کی دعوت دی گئی۔ اِس سکول پر جانے کے لیے مَیں نے اور اورِس نے اپنی ملازمت سے اِستعفیٰ دے دیا، اپنے گھر اور دوسری چیزیں بیچ دیں اور پھر اروبا کو خیرباد کہہ دیا۔ 29 جولائی 1956ء کو ہم نے گلئیڈ سکول کی 27ویں کلاس سے گریجویشن کی سندیں حاصل کیں اور اِس کے بعد ہمیں نائیجیریا بھیج دیا گیا۔
سن 1957ء میں نائیجیریا کے شہر لاگوس میں بیتایل کے ارکان کے ساتھ
بیتے سالوں کو یاد کرتے ہوئے اورِس نے کہا: ”یہوواہ کی روح آپ کو اُن مشکلات کا سامنا کرنے کے قابل بنا سکتی ہے جو مشنری کے طور پر خدمت کرتے ہوئے آپ کی راہ میں آتی ہیں۔ میرے شوہر تو مشنری بننا چاہتے تھے لیکن مَیں نہیں۔ مَیں چاہتی تھی کہ ہمارا گھر ہو، بچے ہوں۔ مگر پھر جب مجھے احساس ہوا کہ خوشخبری کی مُنادی کرنا کتنا ضروری ہے تو مَیں نے اپنی سوچ بدل لی۔ گلئیڈ سے گریجویشن کرنے تک مَیں مشنری کے طور پر مُنادی کرنے کے لیے پوری طرح تیار تھی۔ جب ہم بحری جہاز پر چڑھے تو بھائی ناتھن نار کے ساتھ کام کرنے والے بھائی ورتھ تھارنٹن نے ہمیں کہا: ”خدا آپ کو صحیح سلامت آپ کی منزل تک پہنچائے۔“ پھر اُنہوں نے ہمیں بتایا کہ ہم بیتایل میں خدمت کریں گے۔ مَیں نے ایک آہ بھری اور سوچا: ”نہیں۔“ لیکن مَیں نے بہت جلد خود کو بیتایل کے معمول کے مطابق ڈھال لیا۔ مجھے بیتایل میں خدمت کرنا بہت اچھا لگنے لگا اور وہاں مَیں نے فرق فرق شعبوں میں کام کِیا۔ مجھے سب سے زیادہ ریسیپشن پر کام کرنے میں مزہ آیا۔ مجھے لوگوں سے پیار ہے اور ریسیپشن پر کام کرتے ہوئے مجھے نائیجیریا کے بہن بھائیوں سے ملنے کا موقع ملتا تھا۔ جب بہن بھائی بیتایل آتے تو اکثر وہ بہت تھکے ہوتے، اُنہیں بھوک اور پیاس لگی ہوتی اور اُن کے کپڑے دھول مٹی سے بھرے ہوتے۔ مجھے اُن بہن بھائیوں کی خاطرتواضع کا بندوبست کرنا بہت اچھا لگتا تھا۔ میرے لیے یہ سب یہوواہ کی خدمت کا حصہ تھا جس سے مجھے بہت خوشی ملی۔“ اورِس کی یہ بات واقعی سچ ہے کیونکہ ہمیں جو بھی ذمےداری دی گئی، اُس سے ہمیں ڈھیروں خوشیاں ملیں۔
سن 1961ء میں ایک بار ہمارا خاندان ٹرینیڈاڈ میں اِکٹھا تھا اور بھائی ولیم بھی وہاں موجود تھے۔ اُنہوں نے افریقہ میں اپنے کچھ تجربوں کا ذکر کِیا۔ پھر مَیں نے بتایا کہ نائیجیریا میں مُنادی کا کام کیسے آگے بڑھ رہا ہے۔ بھائی ولیم نے شفقت سے اپنے بازو میرے گِرد لپیٹے اور ابو سے کہا: ”جان، تمہیں تو افریقہ جانے کا موقع نہیں ملا لیکن وُڈورتھ کو مل گیا۔“ جواب میں ابو نے مجھ سے کہا: ”لگے رہو، بیٹا۔“ اُن تجربہکار اشخاص سے ملی حوصلہافزائی کی بدولت میرا یہ عزم اَور پکا ہوا کہ مَیں اچھی طرح مُنادی کروں گا۔
بھائی ولیم براؤن اور اُن کی اہلیہ بہن انٹونیا نے ہماری بڑی حوصلہافزائی کی۔
سن 1962ء میں مجھے گلئیڈ سکول کی 37ویں کلاس سے 10 مہینے کے لیے مزید تربیت حاصل کرنے کا موقع ملا۔ بھائی وِلفرڈ گوچ نے جو کہ اُس وقت نائیجیریا کی برانچ کے نگہبان تھے، گلئیڈ سکول کی 38ویں کلاس سے تربیت پائی جس کے بعد اُنہیں اِنگلینڈ بھیج دیا گیا۔ پھر نائیجیریا برانچ کی نگرانی کی ذمےداری میرے سپرد آ گئی۔ بھائی ولیم کی مثال پر عمل کرتے ہوئے مَیں ملک کے فرق فرق علاقوں میں بہن بھائیوں سے ملنے گیا اور اُنہیں اچھی طرح جاننے کی کوشش کی۔ یوں نائیجیریا کے بہن بھائیوں کے لیے میری محبت بڑھی۔ اُن کے پاس ترقییافتہ ملکوں کے لوگوں جیسی آسائشیں تو نہیں تھیں لیکن اُن کی خوشی اور اِطمینان کو دیکھ کر صاف نظر آتا تھا کہ بامقصد زندگی کا اِنحصار مالی وسائل پر نہیں ہوتا۔ اُن کے حالات کے پیشِنظر یہ قابلِتعریف بات تھی کہ وہ اِجلاسوں میں صاف ستھرے لباس پہن کر اور مہذب انداز میں آتے تھے۔ اِجتماعات پر جانے کے لیے اُن میں سے بہت سے ٹرکوں اور مقامی بسوں میں سفر کرتے۔ اُن بسوں پر اکثر دلچسپ فقرے لکھے ہوتے، مثلاً ”قطرے قطرے سے دریا بنتا ہے۔“
یہ فقرہ واقعی سچ ہے۔ نائیجیریا میں خدمت کرنے والے بہت سے بہن بھائیوں نے محنت سے کام کِیا تھا اور ہم نے بھی اِس کام میں اپنا حصہ ڈالا۔ اِس مجموعی محنت کا نتیجہ یہ نکلا کہ 1974ء میں نائیجیریا، ریاستہائےمتحدہ کے بعد وہ پہلا ملک بنا جہاں مبشروں کی تعداد 1 لاکھ تک تھی۔ مُنادی کے کام میں واقعی بڑی ترقی ہو رہی تھی۔
سن 1967ء سے 1970ء کے دوران ملک میں خانہجنگی چلتی رہی۔ دریائےنائیجر کی دوسری طرف باغی فوج کا قبضہ تھا اور وہاں رہنے والے ہمارے بہن بھائیوں کا کئی مہینوں تک برانچ سے رابطہ نہیں ہوا۔ ہمیں کچھ بھی کر کے اُن تک روحانی کھانا لے جانا تھا۔ جیسا کہ مَیں نے شروع میں ذکر کِیا تھا، ہم نے دُعا کر کے اور یہوواہ پر بھروسا رکھ کے کئی بار دریا پار کِیا۔
مجھے وہ خطرناک سفر اچھی طرح یاد ہیں جب ہم دریائےنائیجر کو پار کِیا کرتے تھے۔ ہمارے راستے میں ایسے فوجی آتے جو اکثر کسی شخص کو دیکھتے ہی گولی مار دیتے۔ ہمیں دیگر خطرات بھی لاحق ہوتے جیسے کہ بیمار ہونے کا خطرہ۔ سرکاری فوجی ہمیں شک کی نظر سے دیکھتے اِس لیے اُن کے پاس سے گزرنا کافی مشکل ہوتا۔ مگر زیادہ خوفناک بات اُس علاقے سے گزرنا تھا جہاں باغی فوج کا قبضہ تھا۔ ایک مرتبہ مَیں شہر اسابا سے ایک چھوٹی کشتی میں دریائےنائیجر پار کر کے شہر اونتشا پہنچا۔ وہ رات کا وقت تھا اور دریا کا بہاؤ بہت تیز تھا۔ پھر مَیں شہر انوگو گیا تاکہ وہاں کے بزرگوں کی حوصلہافزائی کر سکوں۔ ایک بار مَیں شہر آبا کے بزرگوں کی ہمت بندھانے کے لیے بھی گیا جہاں رات کے وقت بتی جلانے پر پابندی تھی۔ ایک دن جب شہر پورٹ ہارکوٹ میں ہمارا اِجلاس چل رہا تھا تو ہمیں پتہ چلا کہ حکومتی فوجیں باغی فوج کو شکست دے کر شہر میں داخل ہونے والی ہیں۔ اِس وجہ سے ہمیں فوراً دُعا کے ساتھ اپنا اِجلاس ختم کرنا پڑا۔
وہ اِجلاس واقعی اہم تھے کیونکہ اُن کے ذریعے ہمارے پیارے بہن بھائیوں کا یہ یقین مضبوط ہوا کہ یہوواہ کو اُن کی فکر ہے اور اُنہیں یہ ضروری ہدایت ملی کہ وہ غیرجانبدار اور متحد رہیں۔ نائیجیریا کے بہن بھائی اُس خوفناک دَور میں ثابتقدم رہے۔ اُنہوں نے اپنے اِتحاد کو برقرار رکھا اور وہ محبت ظاہر کی جو قبائلی نفرتوں کو ختم کر دیتی ہے۔ یہ میرے لیے اعزاز کی بات تھی کہ مَیں آزمائش کی اُس گھڑی میں اُن کے ساتھ کھڑا تھا۔
سن 1969ء میں نیو یارک کے یانکی سٹیڈیم میں ایک بینالاقوامی اِجتماع منعقد ہوا جس کا عنوان تھا: ”زمین پر امن۔“ بھائی ملٹن ہینشل اِس اِجتماع کے چیئرمین تھے اور مَیں اُن کا مددگار تھا۔ مَیں نے اُن سے بہت کچھ سیکھا اور اِس کا فائدہ مجھے اُس وقت ہوا جب اگلے سال ہم نے نائیجیریا کے شہر لاگوس میں بینالاقوامی اِجتماع منعقد کِیا۔ یہ اِجتماع خانہجنگی ختم ہونے کے تھوڑے ہی عرصے بعد ہوا اور بےشک اِس کی کامیابی کے پیچھے یہوواہ کا ہاتھ تھا۔ اُس اِجتماع پر 17 زبانوں میں تقریروں کا ترجمہ کِیا گیا جو کہ اُس وقت ایک ریکارڈ تھا۔ وہاں حاضر ہونے والوں کی تعداد 1 لاکھ 21 ہزار 128 تھی۔ اُس اِجتماع پر بھائی ناتھن نار، بھائی ملٹن ہینشل اور ریاستہائےمتحدہ اور اِنگلینڈ سے تعلق رکھنے والے دیگر بہن بھائی بھی آئے۔ اُس اِجتماع پر 3775 لوگوں نے بپتسمہ لیا اور یہ اُن موقعوں میں سے ایک تھا جب عیدِپنتِکُست کے بعد اِتنے زیادہ بپتسمے ہوئے۔ اُس اِجتماع کی تیاری کا وقت شاید میری زندگی کا سب سے مصروف وقت تھا۔ نائیجیریا میں مبشروں کی تعداد میں جو اِضافہ ہوا تھا، وہ واقعی حیرتانگیز تھا۔
سن 1970ء کے بینالاقوامی اِجتماع میں 1 لاکھ 21 ہزار 128 لوگ آئے اور 17 زبانوں میں تقریروں کا ترجمہ کِیا گیا جن میں ایبو بھی شامل تھی۔
ہم نے 30 سال سے زیادہ عرصہ نائیجیریا میں خدمت کی۔ اِس دوران مَیں نے سفری نگہبان کے طور پر کام کِیا اور مغربی افریقہ کے مختلف ملکوں کی برانچوں کا دورہ بھی کِیا۔ اُن ملکوں میں خدمت کرنے والے مشنری اِس بات کے لیے بہت شکرگزار تھے کہ اُنہیں ذاتی توجہ اور حوصلہافزائی ملی ہے۔ مَیں بےحد خوش تھا کہ مجھے اُنہیں یہ یقین دِلانے کا موقع ملا کہ ہم اُن کی محنت کی قدر کرتے ہیں۔ اِس سے مَیں نے سیکھا کہ جب ہم لوگوں کے لیے ذاتی طور پر فکرمندی ظاہر کرتے ہیں تو اُنہیں یہ ترغیب ملتی ہے کہ وہ یہوواہ کی خدمت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور اُس کی تنظیم کے اِتحاد کو مضبوط کریں۔
یہ یہوواہ کی ہی مدد تھی جس کی بدولت ہم خانہجنگی اور بیماری کی وجہ سے آنے والی مشکلات کا سامنا کر پائے۔ یہوواہ ہمیشہ ہمارے ساتھ رہا۔ اورِس نے کہا:
”ہم دونوں کو کئی بار ملیریا ہوا۔ ایک دفعہ تو وُڈورتھ ملیریا کی وجہ سے اِتنے بیمار ہو گئے کہ اُنہیں بےہوشی کی حالت میں ہسپتال لے جانا پڑا۔ مجھ سے کہا گیا کہ وہ شاید نہیں بچیں گے لیکن شکر ہے کہ وہ بچ گئے۔ جب اُنہیں ہوش آیا تو اُنہوں نے اُس نرس سے جو اُن کی دیکھبھال کر رہا تھا، خدا کی بادشاہت کے بارے میں بات کی۔ بعد میں مَیں اور وُڈورتھ اُس نرس سے ملنے گئے تاکہ بائبل میں اُس کی دلچسپی بڑھا سکیں۔ اُس نے سچائی کو قبول کر لیا اور وہ بعد میں شہر آبا کی ایک کلیسیا میں بزرگ بن گیا۔ مَیں نے بھی بہت سے لوگوں، یہاں تک کہ کٹر مسلمانوں کی یہوواہ کے خادم بننے میں مدد کی۔ اِس کے علاوہ ہمیں نائیجیریا کے لوگوں کو جاننے اور اُن کی ثقافت، رواجوں اور زبان سے واقف ہونے سے بہت خوشی ملی۔“
اِس سے ہم نے یہ سیکھا کہ کسی دوسرے ملک میں اپنی ذمےداری کو خوشی اور کامیابی سے انجام دینے کے لیے ضروری ہے کہ ہم بہن بھائیوں سے محبت کریں پھر چاہے اُن کی ثقافت ہماری ثقافت سے کتنی ہی فرق کیوں نہ ہو۔
نئی ذمےداریاں
سن 1987ء میں ہمیں کیریبیئن کے خوبصورت جزیرے سینٹ لوسیا میں مشنریوں کے طور پر بھیجا گیا۔ بےشک وہاں کا ماحول بہت خوشگوار تھا لیکن یہ نئی ذمےداری کچھ نئی مشکلات بھی لائی۔ افریقہ میں ایک آدمی کئی عورتوں سے شادی کرتا تھا جبکہ سینٹ لوسیا میں مرد اور عورت شادی کیے بغیر ہی ساتھ رہتے تھے۔ خدا کے کلام کی طاقت سے بہت سے بائبل کورس کرنے والوں نے اپنے اندر تبدیلیاں کیں۔
مَیں نے اور اورِس نے زندگی کے 68 حسین سال ساتھ گزارے۔
بڑھتی عمر کے ساتھ ہماری طاقت کم ہوتی گئی۔ اِس لیے گورننگ باڈی نے ہمارے لیے شفقت دِکھاتے ہوئے 2005ء میں ہمیں شہر نیو یارک کے علاقے بروکلن میں مرکزی دفتر منتقل کر دیا۔ مَیں ہر روز اورِس کے لیے یہوواہ کا شکر ادا کرتا ہوں۔ اُنہوں نے 2015ء میں موت کے ہاتھوں شکست کھائی۔ اُن کے بچھڑنے کا غم میرے لیے بیان سے باہر ہے۔ وہ ایک بہت اچھی ساتھی تھیں اور مجھ سے بہت پیار کرتی تھیں۔ مَیں بھی اُنہیں بہت چاہتا تھا۔ ہم نے زندگی کی 68 بہاریں ساتھ دیکھیں۔ ہم نے سیکھا کہ ازدواجی زندگی اور کلیسیا میں خوشی حاصل کرنے کا نسخہ یہ ہے کہ سربراہی کا احترام کِیا جائے، دل سے معاف کِیا جائے، خاکسار رہا جائے اور روح کا پھل ظاہر کِیا جائے۔
ہم جب بھی مایوس یا بےحوصلہ ہوئے، ہم نے یہوواہ سے درخواست کی کہ وہ اپنی خدمت کو جاری رکھنے میں ہماری مدد کرے۔ ہم نے تنظیم کی ہر ہدایت پر عمل کرنے کی کوشش کی۔ ہم نے دیکھا کہ گزرتے وقت کے ساتھ تنظیم میں بہتری آتی گئی۔ اور بےشک بہتری کا یہ سلسلہ آگے بھی جاری رہے گا۔—یسع 60:17؛ 2-کُر 13:11۔
یہوواہ نے ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو میں میرے والدین اور دوسرے بہن بھائیوں کے کام پر اِتنی برکت ڈالی کہ حالیہ رپورٹ کے مطابق وہاں 9892 مبشر ہیں۔ اروبا میں بہت سے بہن بھائیوں نے وہاں کی پہلی کلیسیا کو مضبوط کرنے کے لیے محنت کی جس کا مَیں بھی حصہ تھا۔ اب اُس جزیرے میں 14 کلیسیائیں ہیں جو تیزی سے ترقی کر رہی ہیں۔ اگر نائیجیریا کی بات کروں تو وہاں مبشروں کی تعداد 3 لاکھ 81 ہزار 398 تک جا پہنچی ہے۔ اور جزیرہ سینٹ لوسیا میں 783 لوگ بادشاہت کا پیغام سنا رہے ہیں۔
اب میری عمر 90 سال سے زیادہ ہے۔ جن لوگوں کو ایک پودے کی طرح یہوواہ کے گھر میں لگایا جاتا ہے، اُن کے متعلق زبور 92:14 میں لکھا ہے: ”وہ بڑھاپے میں بھی برومند ہوں گے۔ وہ تروتازہ اور سرسبز رہیں گے۔“ مَیں اِس زندگی کے لیے یہوواہ کا بےحد شکرگزار ہوں جو مَیں نے اُس کی خدمت میں گزاری ہے۔ مجھے جو بیشقیمت روحانی میراث ملی، اُس کے ذریعے مَیں اِس قابل ہوا کہ دلوجان سے یہوواہ کی خدمت کر سکوں۔ یہوواہ کی مہربانی کی بدولت مَیں ”[اپنے] خدا کی بارگاہوں میں“ خوشی اور کامیابی حاصل کر پایا ہوں۔—زبور 92:13۔