یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م16 نومبر ص.‏ 21-‏25
  • اُنہیں تاریکی سے بلا‌یا گیا

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • اُنہیں تاریکی سے بلا‌یا گیا
  • مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—2016ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • شہر بابل میں یہودیوں کی زندگی
  • کیا سچے مسیحیوں نے بھی اسیری کا زمانہ دیکھا؟‏
  • سچے مسیحی بابلِ‌عظیم کی اسیری میں کب آئے؟‏
  • روحانی تاریکی میں روشنی کی کچھ کِرنیں
  • وہ بابلِ‌عظیم کی گِرفت سے آزاد ہو گئے
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—2016ء
  • قارئین کے سوال
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—2016ء
مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—2016ء
م16 نومبر ص.‏ 21-‏25
پہلی صدی عیسوی میں ایک کلیسیا میں بائبل پڑھی جا رہی ہے جبکہ دو آدمی اِس پر اِعتراض کر رہے ہیں۔‏

اُنہیں تاریکی سے بلا‌یا گیا

‏”‏[‏یہوواہ]‏ نے آپ کو تاریکی سے اپنی شان‌دار روشنی میں بلایا ہے۔“‏‏—‏1-‏پطر 2:‏9‏۔‏

گیت:‏ 43،‏ 28

آپ کیا جواب دیں گے؟‏

  • یہ کیوں کہا جا سکتا ہے کہ خدا کے بندے دوسری صدی عیسوی میں بابلِ‌عظیم کے قبضے میں آ گئے؟‏

  • پندرہویں صدی عیسوی میں لوگوں پر بابلِ‌عظیم کی گِرفت کیوں ڈھیلی پڑنے لگی؟‏

  • اُنیسویں صدی عیسوی میں مسح‌شُدہ مسیحیوں نے بائبل کی تعلیمات کو جاننے کے لیے کیا کوششیں کیں؟‏

1.‏ بادشاہ نبوکدنضر نے یہودیوں اور یروشلیم کے ساتھ کیا کِیا؟‏

سن 607 قبل‌ازمسیح میں بادشاہ نبوکدنضر دوم نے اپنی فوج کے ساتھ یروشلیم پر حملہ کِیا۔ اِس موقعے پر جو خون‌ریزی ہوئی، اِس کے بارے میں بائبل میں یہ لکھا ہے:‏ ”‏[‏نبوکدنضر]‏ نے اُن کے مقدِس کے گھر میں اُن کے جوانوں کو تلوار سے قتل کِیا اور اُس نے کیا جوان مرد کیا کنواری کیا بڈھا یا عمررسیدہ کسی پر ترس نہ کھایا۔ .‏ .‏ .‏ [‏نبوکدنضر]‏ نے خدا کے گھر کو جلا دیا اور یرؔوشلیم کی فصیل ڈھا دی اور اُس کے تمام محل آگ سے جلا دئے اور اُس کے سب قیمتی ظروف کو برباد کِیا۔“‏—‏2-‏توا 36:‏17،‏ 19‏۔‏

2.‏ خدا کے نبیوں نے یہودیوں کو کس بات سے آگاہ کِیا؟ اور اُنہوں نے کیا پیش‌گوئی کی؟‏

2 یہودیوں کو یروشلیم کی تباہی پر حیران نہیں ہونا چاہیے تھا کیونکہ خدا کے نبی کئی سالوں سے اُن کو آگاہ کر رہے تھے کہ اگر وہ شریعت کی خلاف‌ورزی کرنے سے باز نہیں آئیں گے تو اُنہیں بابلیوں کے حوالے کر دیا جائے گا۔ نبیوں نے پیش‌گوئی کی کہ بابلی بہت سے یہودیوں کو تلوار سے مار ڈالیں گے اور جو زندہ بچیں گے، اُنہیں اسیر کر کے شہر بابل لے جایا جائے گا۔ (‏یرم 15:‏2‏)‏ شہر بابل میں یہودیوں کی زندگی کیسی تھی؟ یہودیوں کی طرح کیا سچے مسیحیوں کو بھی اسیری کا زمانہ دیکھنا پڑا؟ اگر ایسا ہے تو سچے مسیحی کب اسیری میں گئے؟‏

شہر بابل میں یہودیوں کی زندگی

3.‏ بابل میں یہودیوں کی زندگی اُس زندگی سے کیسے فرق تھی جو اُن کے باپ‌دادا نے مصر میں گزاری تھی؟‏

3 خدا کے نبیوں کی پیش‌گوئیاں پوری ہوئیں۔ یہوواہ خدا نے یرمیاہ نبی کے ذریعے اسیر یہودیوں کو ہدایت دی کہ وہ اپنی نئی صورتحال کو قبول کریں۔ خدا نے کہا:‏ ”‏تُم [‏بابل میں]‏ گھر بناؤ اور اُن میں بسو اور باغ لگاؤ اور اُن کا پھل کھاؤ۔ اور اُس شہر کی خیر مناؤ جس میں مَیں نے تُم کو اسیر کروا کر بھیجا ہے اور اُس کے لئے [‏یہوواہ]‏ سے دُعا کرو کیونکہ اُس کی سلامتی میں تمہاری سلامتی ہوگی۔“‏ (‏یرم 29:‏5،‏ 7‏)‏ جن یہودیوں نے اِس ہدایت پر عمل کِیا، اُن کی زندگی میں سُکھ چین تھا۔ بابلیوں نے یہودیوں کو کسی حد تک اپنے معاملات خود چلانے کی اِجازت دی اور اُنہیں ملک میں اِدھر اُدھر سفر کرنے کی بھی اِجازت تھی۔ قدیم زمانے میں شہر بابل کاروباری اور تجارتی مرکز تھا۔ کچھ ایسی دستاویزات دریافت ہوئی ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ یہودیوں نے وہاں خریدوفروخت کرنے کا فن سیکھا اور بہت سے یہودی ہنرمند کاریگر بن گئے۔ کچھ یہودی تو دولت‌مند بھی ہو گئے۔ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہودی بابل میں جو زندگی گزار رہے تھے، وہ اُس زندگی سے بالکل فرق تھی جو اُن کے باپ‌دادا نے صدیوں پہلے مصر میں غلاموں کے طور پر گزاری تھی۔‏‏—‏خروج 2:‏23-‏25 کو پڑھیں۔‏

4.‏ (‏الف)‏ خدا سے برگشتہ یہودیوں کے علاوہ اَور کن کو سزا بھگتنی پڑی؟ (‏ب)‏ یہودی بابل میں رہ کر شریعت کے تمام حکموں پر عمل کیوں نہیں کر پا رہے تھے؟‏

4 شہر بابل میں یہودیوں کی ضروریات تو پوری ہو رہی تھیں لیکن وہ کس حد تک اپنے خدا کی عبادت کر پا رہے تھے؟ سچ تو یہ ہے کہ یہوواہ کی ہیکل، قربان‌گاہ سمیت تباہ ہو چُکی تھی اور کاہن منظم طریقے سے اپنی ذمے‌داریاں انجام نہیں دے پا رہے تھے۔ بابل میں صرف ایسے یہودی اسیر نہیں تھے جو یہوواہ خدا سے برگشتہ ہو گئے تھے بلکہ ایسے بھی جو اُس کے وفادار تھے۔ اِنہیں بھی باقی یہودیوں کے ساتھ سزا بھگتنی پڑی۔ اِس کے باوجود اِنہوں نے خدا کی شریعت پر عمل کرنے کی پوری کوشش کی۔ مثال کے طور پر دانی‌ایل، سدرک، میسک اور عبدنجو نے ایسے کھانے کھانے سے اِنکار کر دیا جو یہودیوں کے لیے ناپاک تھے۔ اِس کے علاوہ ہم جانتے ہیں کہ دانی‌ایل باقاعدگی سے خدا سے دُعا کِیا کرتے تھے۔ (‏دان 1:‏8؛‏ 6:‏10‏)‏ مگر بُت‌پرست بابلیوں کے ملک میں شریعت کے تمام حکموں پر عمل کرنا ممکن نہیں تھا۔‏

5.‏ یہوواہ خدا نے اپنی قوم سے کیا وعدہ کِیا تھا؟ اور یہ بات اِنسانی نقطۂ‌نظر سے کیوں ناممکن لگتی تھی؟‏

5 کیا یہودی یہ اُمید رکھ سکتے تھے کہ وہ پھر کبھی شریعت کے عین مطابق خدا کی عبادت کر سکیں گے؟ اُس وقت تو یہ ناممکن ہی لگتا تھا کیونکہ بابلی اپنے اسیروں کو کبھی رِہا نہیں کرتے تھے۔ لیکن یہوواہ خدا نے وعدہ کِیا تھا کہ اُس کی قوم اپنے ملک واپس لوٹے گی اور بالکل ایسا ہی ہوا۔ یہوواہ اپنے وعدوں کو ہمیشہ پورا کرتا ہے۔—‏یسع 55:‏11‏۔‏

کیا سچے مسیحیوں نے بھی اسیری کا زمانہ دیکھا؟‏

6، 7.‏ سچے مسیحیوں کی اسیری کے سلسلے میں ہمیں وضاحت میں تبدیلی لانے کی ضرورت کیوں ہے؟‏

6 یہودیوں کی طرح کیا سچے مسیحیوں نے بھی اسیری کا زمانہ دیکھا؟ بہت سالوں تک اِس رسالے میں بتایا گیا کہ جدید زمانے میں خدا کے خادم 1918ء میں بابلِ‌عظیم کے قبضے میں آئے اور 1919ء میں آزاد ہو گئے۔ لیکن کچھ وجوہات کی بِنا پر اِس وضاحت میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ اِس مضمون میں اور اگلے مضمون میں اِن وجوہات پر بات کی جائے گی۔‏

7 بائبل میں تمام جھوٹے مذاہب کو مجموعی طور پر بابلِ‌عظیم کہا گیا ہے۔ کیا سچے مسیحی واقعی 1918ء میں بابلِ‌عظیم کے قبضے میں آئے؟ اگر ایسا ہوتا تو اِس کا مطلب ہوتا کہ وہ اُس وقت کسی نہ کسی طور پر جھوٹے مذہب کی غلامی میں آئے۔ لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ پہلی عالمی جنگ سے پہلے کی دہائیوں میں مسح‌شُدہ مسیحی بابلِ‌عظیم کی گِرفت سے آزاد ہو رہے تھے۔ یہ سچ ہے کہ پہلی عالمی جنگ کے دوران اُن پر اذیت ڈھائی گئی لیکن عموماً اُنہیں بابلِ‌عظیم نے نہیں بلکہ حکومتوں نے اذیت کا نشانہ بنایا۔ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہوواہ کے خادم 1918ء میں بابلِ‌عظیم کی گِرفت میں نہیں آئے۔‏

سچے مسیحی بابلِ‌عظیم کی اسیری میں کب آئے؟‏

8.‏ مسیحی آہستہ آہستہ خدا سے برگشتہ کیسے ہو گئے؟ (‏اِس مضمون کی پہلی تصویر کو دیکھیں۔)‏

8 عیدِپنتِکُست 33ء کے موقعے پر ہزاروں یہودی اور ایسے لوگ جنہوں نے یہودی مذہب اپنایا تھا، پاک روح سے مسح ہوئے۔ یہ مسیحی ’‏ایک چُنی ہوئی نسل، کاہنوں کی شاہی جماعت، ایک مُقدس اُمت اور ایک ایسی قوم بنے جو خدا کی خاص ملکیت ہے۔‘‏ ‏(‏1-‏پطرس 2:‏9، 10 کو پڑھیں۔)‏ جب تک رسول زندہ تھے، اُنہوں نے خدا کی کلیسیاؤں کا خیال رکھا۔ لیکن اُن کی موت کے بعد ایسے آدمی اُٹھے جنہوں نے ’‏سچائی کو توڑ مروڑ کر پیش کِیا تاکہ شاگردوں کو اپنے پیچھے لگا لیں۔‘‏ (‏اعما 20:‏30؛‏ 2-‏تھس 2:‏6-‏8‏)‏ اِن میں سے بہت سے آدمی کلیسیا میں بزرگوں کے طور پر ذمے‌داریاں رکھتے تھے۔ بعد میں اِن میں سے کچھ بزرگوں کو بشپ کا لقب دیا جانے لگا اور یوں آہستہ آہستہ پادریوں کا طبقہ وجود میں آیا۔ اُنہوں نے یسوع مسیح کی اِس ہدایت کو نظرانداز کِیا کہ ”‏آپ سب بھائی ہیں۔“‏ (‏متی 23:‏8‏)‏ کلیسیا میں اثرورسوخ والے آدمی تھے جنہیں ارسطو اور افلاطون کے فلسفوں سے بڑا لگاؤ تھا۔ یہ آدمی خدا کے کلام میں پائی جانے والی سچائی سکھانے کی بجائے جھوٹے عقیدوں کی تعلیم دینے لگے۔‏

9.‏ جھوٹے مسیحی مذہب کو رومی حکومت کا تعاون کیسے ملا اور اِس کا کیا نتیجہ نکلا؟‏

9 سن 313ء میں رومی شہنشاہ قسطنطین نے اِس جھوٹے مسیحی مذہب کو قانونی حیثیت دی۔ اُس وقت سے چرچ اور حکومت نے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا شروع کر دیا۔ مثال کے طور پر شہنشاہ قسطنطین مجلسِ‌نقایہ میں شریک تھے جہاں یہ طے پایا گیا کہ یسوع مسیح خدا کا درجہ رکھتے ہیں۔ جب آریوس نامی ایک پادری نے اِس فیصلے کی مذمت کی تو شہنشاہ قسطنطین نے اُسے ملک بدر کر دیا۔ کچھ عرصے بعد شہنشاہ تھیوڈوسیس اوّل کے دَورِحکومت میں (‏379ء-‏395ء)‏ کیتھولک چرچ کو رومی سلطنت کا سرکاری مذہب قرار دیا گیا۔ تاریخ‌دانوں کا کہنا ہے کہ بُت‌پرست رومی معاشرہ چوتھی صدی عیسوی میں مسیحی بن گیا۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ اُس وقت تک مسیحی مذہب بابلِ‌عظیم کا ایک حصہ بن چُکا تھا۔ البتہ چند مسح‌شُدہ مسیحی خدا کے معیاروں کے مطابق اُس کی عبادت کرنے کی پوری کوشش کر رہے تھے۔ لیکن اِن گندم جیسے مسیحیوں کی آواز کو دبایا گیا۔ ‏(‏متی 13:‏24، 25،‏ 37-‏39 کو پڑھیں۔)‏ اب وہ واقعی بابلِ‌عظیم کی گِرفت میں آ چُکے تھے۔‏

10.‏ مسیحی دَور کی پہلی صدیوں میں لوگ چرچ کے عقیدوں اور بائبل کی تعلیمات میں فرق کیوں کر سکے؟‏

10 بائبل یونانی اور لاطینی زبان میں دستیاب تھی اور مسیحی دَور کی پہلی صدیوں میں لوگ یہ زبانیں سمجھتے تھے۔ لہٰذا وہ بائبل کو پڑھ سکتے تھے اور اِس میں بتائی گئی تعلیمات کا موازنہ چرچ کے عقیدوں سے کر سکتے تھے۔ جب اُنہوں نے دیکھا کہ چرچ کے عقیدوں اور بائبل کی تعلیمات میں زمین آسمان کا فرق ہے تو اُن میں سے کچھ نے اِن عقیدوں کو ماننے سے اِنکار کر دیا۔ لیکن اِن عقیدوں کے خلاف آواز اُٹھانا بہت ہی خطرناک، یہاں تک کہ جان‌لیوا تھا۔‏

11.‏ چرچ نے بائبل کو عام لوگوں کی پہنچ سے باہر کیسے کر دیا؟‏

11 وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کی زبان بدل گئی اِس لیے وہ یونانی اور لاطینی زبان نہیں سمجھتے تھے۔ مگر چرچ نے اِس بات کی اِجازت نہیں دی کہ بائبل کا اُن زبانوں میں ترجمہ کِیا جائے جو عام بولی جاتی تھیں۔ اِس کے نتیجے میں صرف پادری طبقہ اور کچھ پڑھے لکھے لوگ بائبل کو پڑھ سکتے تھے حالانکہ بہت سے پادری بھی اچھی طرح سے پڑھ لکھ نہیں سکتے تھے۔ جو شخص چرچ کے عقیدوں کے خلاف آواز اُٹھانے کی جُرأت کرتا، اُسے کڑی سے کڑی سزا دی جاتی۔ اِس ماحول میں مسح‌شُدہ مسیحی ایک دوسرے کے ساتھ جمع نہیں ہو سکتے تھے اور اگر وہ جمع ہوتے بھی تھے تو چھپ چھپ کر۔ ”‏کاہنوں کی شاہی جماعت“‏ منظم طریقے سے اپنی ذمے‌داریاں انجام نہیں دے پا رہی تھی، بالکل جیسے بابل میں اسیر کاہن بھی اپنی ذمے‌داریاں پوری نہیں کر پائے۔ سچے مسیحی واقعی بابلِ‌عظیم کی مٹھی میں بند تھے!‏

روحانی تاریکی میں روشنی کی کچھ کِرنیں

12، 13.‏ کن دو باتوں کی وجہ سے لوگوں پر بابلِ‌عظیم کی گِرفت ڈھیلی پڑنے لگی؟‏

12 سچے مسیحیوں کو لگا ہوگا کہ ایسا وقت کبھی نہیں آئے گا جب وہ پھر سے سچائی کے مطابق کھلم‌کُھلا خدا کی عبادت کر سکیں گے۔ لیکن دو ایسی باتیں ہوئیں جن کی وجہ سے روحانی تاریکی میں روشنی کی کچھ کِرنیں دِکھائی دینے لگیں۔ سب سے پہلی بات یہ تھی کہ پندرہویں صدی میں چھپائی کی ایک ایسی مشین ایجاد ہوئی جس سے کتابیں بنانا آسان اور سستا ہو گیا۔ اِس سے پہلے بائبل کی نقلیں ہاتھ سے بنائی جاتی تھیں اور یہ بڑی نایاب اور مہنگی تھیں۔ ایک ہنرمند نقل‌نویس کو ہاتھ سے بائبل کی ایک نقل بنانے میں دس مہینے لگتے تھے جبکہ چھپائی کی مشین سے ایک ہی دن میں 1300 صفحے چھاپے جا سکتے تھے۔ اِس کے علاوہ ہاتھ سے بنائی گئی نقلوں کے لیے چمڑے سے بنے نفیس ورق اِستعمال کیے جاتے تھے جو بہت ہی مہنگے تھے جبکہ چھپائی کی مشین میں کاغذ اِستعمال کِیا جاتا تھا جو قدراً سستا تھا۔‏

بائبل کا ترجمہ اور چھپائی کی جا رہی ہے۔‏

چھپائی کی مشین کی ایجاد اور ترجمہ‌نگاروں کے کام کی وجہ سے روحانی تاریکی میں سچائی کی کِرنیں چمکنے لگیں۔ (‏پیراگراف 12 اور 13 کو دیکھیں۔)‏

13 دوسری بات یہ تھی کہ سولہویں صدی کے شروع میں کچھ دلیر آدمی بائبل کا ترجمہ عام‌فہم زبانوں میں کرنے لگے۔ اِن ترجمہ‌نگاروں نے اپنی جان پر کھیل کر یہ کام کِیا۔ چرچ کو سخت دھچکا لگا۔ پادریوں کا خیال تھا کہ عام لوگوں کے ہاتھ میں بائبل کسی خطرناک ہتھیار سے کم نہیں۔ وہ جانتے تھے کہ چرچ کے بہت سے عقیدوں کا بائبل سے دُور دُور تک کوئی تعلق نہیں کیونکہ یہ عقیدے ارسطو اور افلاطون کے فلسفوں پر مبنی تھے جو یسوع مسیح کے زمانے کے صدیوں پہلے زندہ تھے۔ جوں‌جوں بائبلیں دستیاب ہونے لگیں، لوگ اِنہیں پڑھنے لگے۔ پھر وہ سوال پوچھنے لگے۔ وہ پوچھتے کہ ”‏بائبل میں برزخ کا ذکر کہاں ہے؟ اِس میں کہاں لکھا ہے کہ مُردوں کے لیے پیسے دے کر ماس ادا کرایا جائے؟ اِس میں پوپ اور کارڈینل کا ذکر کہاں ہے؟“‏ چرچ کے پیشوا آگ‌بگولا ہو گئے۔ اُن کو یہ بات سخت ناگوار گزری کہ عام لوگ پادریوں کی باتوں پر سوال اُٹھانے کی جُرأت کر رہے ہیں۔ لہٰذا اُنہوں نے لوگوں کا مُنہ بند کرنے کے لیے مہم چلائی۔ جن آدمیوں اور عورتوں نے چرچ کے عقیدوں کے خلاف آواز اُٹھائی، اُن کو کڑی سزائیں سنائی گئیں۔ چرچ لوگوں کو سزائے‌موت سناتا اور حکومت اُن کو سزائے‌موت دیتی۔ اِس مہم کا مقصد یہ تھا کہ لوگ بائبل کو پڑھنا اور چرچ کے عقیدوں پر سوال اُٹھانا بند کر دیں۔ اور یہ مہم کافی حد تک کامیاب بھی رہی۔ البتہ کچھ ایسے دلیر لوگ تھے جنہوں نے بابلِ‌عظیم کے آگے سر جھکانے سے اِنکار کر دیا۔ اُنہیں خدا کے کلام میں بتائی گئی سچائی کا چسکا لگ گیا تھا اور وہ اِسے کسی بھی صورت چھوڑنے کو تیار نہیں تھے۔ لوہا گرم تھا اور جھوٹے مذاہب سے نجات حاصل کرنے کا وقت قریب تھا۔‏

14.‏ (‏الف)‏ اُنیسویں صدی کی آخری دہائیوں میں بائبل کی سچائیوں کا مطالعہ کرنا آسان کیوں ہو گیا؟ (‏ب)‏ بھائی رسل نے بائبل کی سچائیوں کو جاننے اور اِن کو فروغ دینے کے لیے کیا کوششیں کیں؟‏

14 بہت سے لوگ ایسے ملکوں میں جا بسے جہاں چرچ کا پلڑا بھاری نہیں تھا تاکہ وہ کسی روک‌ٹوک کے بغیر بائبل کو پڑھ سکیں اور اِس پر بات‌چیت کر سکیں۔ ریاستہائے متحدہ امریکہ ایک ایسا ہی ملک تھا۔ وہاں اُنیسویں صدی کی آخری دہائیوں میں چارلس ٹیز رسل اور اُن کے ساتھی مل کر گہرائی سے بائبل کا مطالعہ کرنے لگے۔ شروع شروع میں تو بھائی رسل سچے مذہب کی کھوج میں تھے۔ اِس لیے اُنہوں نے بہت سے مسیحی اور غیرمسیحی مذاہب کے عقیدوں کا موازنہ بائبل کی تعلیمات سے کِیا۔ لیکن جلد ہی اُنہوں نے دیکھا کہ اِن میں سے کوئی بھی مذہب مکمل طور پر بائبل کی تعلیمات کے مطابق نہیں چل رہا تھا۔ ایک بار بھائی رسل نے مقامی چرچوں کے پادریوں سے ملاقات بھی کی۔ بھائی رسل کا خیال تھا کہ اگر وہ اِن پادریوں کو اُن سچائیوں کے بارے میں بتائیں گے جو اُنہوں نے بائبل سے دریافت کی ہیں تو وہ اِنہیں قبول کر لیں گے اور اپنے چرچوں میں اِن کی تعلیم دیں گے۔ لیکن اِن پادریوں کو بھائی رسل کی باتوں میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ آخرکار بائبل سٹوڈنٹس کو یہ حقیقت تسلیم کرنی پڑی کہ سچے مسیحیوں اور جھوٹے مسیحیوں کا کوئی میل نہیں۔‏‏—‏2-‏کُرنتھیوں 6:‏14 کو پڑھیں۔‏

15.‏ (‏الف)‏ سچے مسیحی بابلِ‌عظیم کی گِرفت میں کب آئے؟ (‏ب)‏ اگلے مضمون میں کن سوالوں کے جواب دیے جائیں گے؟‏

15 ابھی تک ہم نے دیکھا ہے کہ سچے مسیحی رسولوں کی موت کے بعد بابلِ‌عظیم کی گِرفت میں آ گئے۔ لیکن ابھی کچھ اَور سوالوں کے جواب باقی ہیں، مثلاً اِس بات کے اَور کیا ثبوت ہیں کہ مسح‌شُدہ مسیحی 1914ء سے پہلے کی دہائیوں میں بابلِ‌عظیم کی گِرفت سے آزاد ہو رہے تھے؟ کیا یہ سچ ہے کہ پہلی عالمی جنگ کے دوران مُنادی کے کام میں سچے مسیحیوں کا جوش ٹھنڈا پڑ گیا تھا اور اِس لیے یہوواہ خدا اُن سے ناراض تھا؟ اِسی عرصے کے دوران کیا خدا اپنے بندوں سے اِس لیے ناراض ہوا کیونکہ کچھ بھائی غیرجانب‌دار نہیں رہے تھے؟ اور سچے مسیحی جھوٹے مذاہب کی گِرفت سے کب آزاد ہوئے؟ اِن سوالوں کے جواب اگلے مضمون میں دیے جائیں گے۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں