سرِورق کا موضوع | خدا کی بادشاہت سے آپ کو کیا فائدے ہوں گے؟
خدا کی بادشاہت یسوع کی نظر میں اِتنی اہم کیوں تھی؟
جب یسوع مسیح زمین پر خدا کی خدمت کر رہے تھے تو اُنہوں نے بہت سے موضوعات پر بات کی۔ مثال کے طور پر اُنہوں نے اپنے پیروکاروں کو سکھایا کہ اُنہیں کیسے دُعا کرنی چاہیے، وہ خدا کو کیسے خوش کر سکتے ہیں اور سچی خوشی کیسے حاصل کر سکتے ہیں۔ (متی 6:5-13؛ مرقس 12:17؛ لُوقا 11:28) لیکن جس موضوع پر یسوع کو بات کرنا سب سے زیادہ اچھا لگتا تھا، وہ خدا کی بادشاہت تھا اور اِسی موضوع پر اُنہوں نے سب سے زیادہ بات کی۔—لُوقا 6:45۔
یسوع مسیح کی زندگی میں ”خدا کی بادشاہت کی خوشخبری کی مُنادی“ کرنا سب سے زیادہ اہمیت رکھتا تھا۔ (لُوقا 8:1) اُنہوں نے ملک اِسرائیل میں زیادہ سے زیادہ لوگوں تک بادشاہت کا پیغام پہنچانے کے لیے سینکڑوں میل پیدل سفر کِیا۔ پاک کلام کی چار اِنجیلوں میں یسوع مسیح کی تبلیغ کے بارے میں بتایا گیا ہے جن میں 100 سے زیادہ بار خدا کی بادشاہت کا ذکر ملتا ہے اور زیادہتر وقت یسوع مسیح نے ہی بادشاہت کا ذکر کِیا۔ اِنجیلوں میں تو بادشاہت کے بارے میں بس یسوع کی کچھ ہی باتیں لکھی ہیں۔ اُنہوں نے اِس سے کہیں زیادہ بار اِس بارے میں بات کی تھی۔—یوحنا 21:25۔
یسوع مسیح کے نزدیک خدا کی بادشاہت اِتنی اہمیت کیوں رکھتی تھی؟ اِس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ یسوع یہ جانتے تھے کہ خدا نے اُنہیں اِس بادشاہت کے بادشاہ کے طور پر چُنا ہے۔ (یسعیاہ 9:6؛ لُوقا 22:28-30) لیکن یسوع مسیح کی نظر میں اِختیار حاصل کرنا یا اپنی بڑائی چاہنا اہم نہیں تھا۔ (متی 11:29؛ مرقس 10:17، 18) اُنہوں نے اپنے فائدے کے لیے خدا کی بادشاہت کا چرچا نہیں کِیا۔ دراصل یسوع مسیح اِس لیے خدا کی بادشاہت کو اِتنی زیادہ اہمیت دیتے تھے کیونکہ وہ یہ جانتے تھے کہ یہ اُن کے آسمانی باپ اور اُن کے شاگردوں کے لیے کیا کچھ انجام دے گی جن سے وہ بہت محبت کرتے ہیں۔a
خدا کی بادشاہت یسوع کے آسمانی باپ کے لیے کیا کچھ انجام دے گی؟
یسوع مسیح کو اپنے آسمانی باپ سے بےحد محبت ہے۔ (امثال 8:30؛ یوحنا 14:31) وہ اپنے باپ کی خوبیوں کو دل سے سراہتے ہیں جیسے کہ اُس کی محبت، رحم اور اِنصاف کی خوبیوں کو۔ (اِستثنا 32:4؛ یسعیاہ 49:15؛ 1-یوحنا 4:8) ظاہری بات ہے کہ یسوع مسیح کو اُس وقت بہت بُرا لگتا ہوگا جب اُن کے باپ کے بارے میں جھوٹ پھیلائے جاتے ہیں، مثلاً یہ جھوٹ کہ خدا کو اِنسانوں پر آنے والی مصیبتوں کی کوئی پرواہ نہیں اور یہ کہ خدا تو چاہتا ہی یہ ہے کہ ہم پر مصیبتیں آئیں۔ یہ بھی ایک وجہ تھی کہ یسوع بادشاہت کی خوشخبری سنانے کی اِتنی شدید خواہش رکھتے تھے۔ وہ یہ جانتے تھے کہ وقت آنے پر بادشاہت اُن کے باپ کے نام پر لگے داغ کو مٹا دے گی۔ (متی 4:23؛ 6:9، 10) آئیں، دیکھیں کہ خدا کی بادشاہت ایسا کیسے کرے گی۔
خدا اپنی بادشاہت کے ذریعے بڑی بڑی تبدیلیاں کرے گا جن سے تمام اِنسانوں کو بہت فائدہ ہوگا۔ وہ اپنے بندوں کی آنکھوں سے ”سارے آنسو پونچھ دے گا۔“ یہوواہ خدا اُن چیزوں کو ہی ختم کر دے گا جن کی وجہ سے ہماری آنکھوں میں آنسو آتے ہیں۔ اُس کے کلام میں لکھا ہے: ”نہ موت رہے گی، نہ ماتم، نہ رونا، نہ درد۔“ (مکاشفہ 21:3، 4) اپنی بادشاہت کے ذریعے خدا تمام مصیبتوں کا نامونشان مٹا دے گا۔b
لہٰذا اِس میں تعجب کی کوئی بات نہیں کہ یسوع مسیح لوگوں کو خدا کی بادشاہت کے بارے میں بتانے کی اِتنی شدید خواہش رکھتے تھے۔ وہ یہ جانتے تھے کہ اِس بادشاہت کے ذریعے یہ ظاہر ہو جائے گا کہ اُن کا آسمانی باپ کتنا طاقتور اور رحمدل ہے۔ (یعقوب 5:11) وہ یہ بھی جانتے تھے کہ خدا کی بادشاہت سے اُن لوگوں کو کتنا فائدہ ہوگا جن سے وہ محبت کرتے ہیں۔
خدا کی بادشاہت وفادار اِنسانوں کے لیے کیا کرے گی؟
زمین پر آنے سے بہت پہلے یسوع مسیح اپنے باپ کے ساتھ آسمان پر رہتے تھے۔ اُن کے آسمانی باپ نے اُن کے ذریعے کائنات کی سب چیزوں کو بنایا جیسے کہ بےشمار ستاروں اور کہکشاؤں کو، ہماری زمین کو اور اِس پر موجود جانوروں کو۔ (کُلسّیوں 1:15، 16) یسوع مسیح نے خدا کے ساتھ مل کر جو بھی چیزیں بنائیں، اُن میں سے وہ اِنسانوں کی تخلیق پر سب سے زیادہ خوش ہوئے۔—امثال 8:31۔
جب یسوع مسیح زمین پر خدا کی خدمت کر رہے تھے تو اِنسانوں کے لیے اُن کی محبت صاف نظر آئی۔ اپنی خدمت کے آغاز میں ہی اُنہوں نے یہ ظاہر کِیا کہ وہ ”غریبوں کو خوشخبری“ سنانے کے لیے آئے ہیں۔ (لُوقا 4:18) لیکن یسوع مسیح نے صرف باتیں ہی نہیں کیں۔ اُنہوں نے بار بار اپنے کاموں سے یہ ظاہر کِیا کہ وہ اِنسانوں سے بہت محبت کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر جب لوگوں کی بِھیڑ یسوع کی تعلیمات سننے کے لیے اُن کے پاس آئی تو ”یسوع کو اُن پر ترس آیا اور اُنہوں نے اُن لوگوں کو ٹھیک کر دیا جو بیمار تھے۔“ (متی 14:14) اور ایک مرتبہ ایک ایسا آدمی یسوع کے پاس آیا جو بڑی ہی دردناک بیماری میں مبتلا تھا۔ اُس نے یسوع سے اِلتجا کی: ”مالک! اگر آپ چاہیں تو مجھے ٹھیک کر سکتے ہیں۔“ یہ سُن کر یسوع کو اُس پر پیار آیا۔ اُنہوں نے اُسے چُھو کر بڑے پیار سے کہا: ” مَیں آپ کو ٹھیک کرنا چاہتا ہوں۔ تندرست ہو جائیں۔“ (لُوقا 5:12، 13) اِس کے علاوہ جب یسوع نے یہ دیکھا کہ اُن کی دوست مریم اپنے بھائی لعزر کی موت پر کتنا رو رہی ہیں تو”اُنہوں نے دل ہی دل میں گہری آہ بھری اور بہت پریشان ہو گئے“ اور اُن کی ”آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔“ (یوحنا 11:32-36) اِس کے بعد اُنہوں نے ایک ایسا کام کِیا جس کا کسی نے سوچا بھی نہیں تھا۔ اُنہوں نے لعزر کو زندہ کر دیا حالانکہ اُنہیں فوت ہوئے چار دن ہو گئے تھے۔—یوحنا 11:38-44۔
بےشک یسوع مسیح یہ جانتے تھے کہ جن لوگوں کو اُنہوں نے شفا دی ہے، وہ دوبارہ بیمار ہو جائیں گے اور جن لوگوں کو اُنہوں نے مُردوں میں سے زندہ کِیا ہے، وہ دوبارہ فوت ہو جائیں گے۔ لیکن یسوع مسیح یہ بھی جانتے تھے کہ خدا کی بادشاہت اِن مسئلوں کا نامونشان مٹا دے گی۔ اِسی لیے یسوع نے صرف معجزے ہی نہیں کیے بلکہ اُنہوں نے بڑے جوش سے دوسروں کو ”بادشاہت کی خوشخبری کی مُنادی“ بھی کی۔ (متی 9:35) اُن کے معجزوں سے یہ ظاہر ہوا کہ بہت جلد خدا کی بادشاہت پوری زمین پر کیا کچھ کرے گی۔ آئیں، دیکھیں کہ اُس وقت بائبل میں بتائے گئے کون سے وعدے پورے ہوں گے۔
ہر طرح کی بیماری ختم ہو جائے گی
”اُس وقت اندھوں کی آنکھیں وا کی جائیں گی اور بہروں کے کان کھولے جائیں گے۔ تب لنگڑے ہِرن کی مانند چوکڑیاں بھریں گے اور گونگے کی زبان گائے گی۔“ اِس کے علاوہ تب ”کوئی نہ کہے گا کہ مَیں بیمار ہوں۔“—یسعیاہ 33:24؛ 35:5، 6۔
موت کا نامونشان مٹ جائے گا
”صادق زمین کے وارث ہوں گے اور اُس میں ہمیشہ بسے رہیں گے۔“—زبور 37:29۔
”وہ موت کو ہمیشہ کے لئے نابود کرے گا اور [یہوواہ] خدا سب کے چہروں سے آنسو پونچھ ڈالے گا۔“—یسعیاہ 25:8۔
مُردوں کو زندہ کِیا جائے گا
”سب لوگ جو قبروں میں ہیں، اُس کی آواز سنیں گے اور نکل آئیں گے۔“—یوحنا 5:28، 29۔
”خدا نیکوں اور بدوں دونوں کو زندہ کرے گا۔“—اعمال 24:15۔
کوئی بھی بےگھر اور بےروزگار نہیں رہے گا
”وہ گھر بنائیں گے اور اُن میں بسیں گے۔ وہ تاکستان لگائیں گے اور اُن کے میوے کھائیں گے۔ نہ کہ وہ بنائیں اور دوسرا بسے۔ وہ لگائیں اور دوسرا کھائے کیونکہ ... میرے برگزیدے اپنے ہاتھوں کے کام سے مُدتوں تک فائدہ اُٹھائیں گے۔“—یسعیاہ 65:21، 22۔
جنگیں ختم ہو جائیں گی
”وہ زمین کی اِنتہا تک جنگ موقوف کراتا ہے۔“—زبور 46:9۔
”قوم قوم پر تلوار نہ چلائے گی اور وہ پھر کبھی جنگ کرنا نہ سیکھیں گے۔“—یسعیاہ 2:4۔
خوراک کی قلت نہیں ہو گی
”زمین نے اپنی پیداوار دے دی۔ خدا یعنی ہمارا خدا ہم کو برکت دے گا۔“—زبور 67:6۔
”زمین میں پہاڑوں کی چوٹیوں پر اناج کی اِفراط ہوگی۔“—زبور 72:16۔
غربت کا نامونشان نہیں رہے گا
”مسکین سدا بھولے بسرے نہ رہیں گے۔ نہ غریبوں کی اُمید ہمیشہ کے لئے ٹوٹے گی۔“—زبور 9:18۔
”وہ محتاج کو جب وہ فریاد کرے اور غریب کو جس کا کوئی مددگار نہیں چھڑائے گا۔ وہ غریب اور محتاج پر ترس کھائے گا۔ اور محتاجوں کی جان کو بچائے گا۔“—زبور 72:12، 13۔
جب ہم اِن وعدوں پر غور کرتے ہیں تو ہم دیکھ سکتے ہیں کہ یسوع کی نظر میں خدا کی بادشاہت اِتنی اہمیت کیوں رکھتی تھی۔ جب یسوع مسیح زمین پر تھے تو وہ اُن لوگوں کو بڑے شوق سے خدا کی بادشاہت کے بارے میں بتاتے تھے جو اِس کے بارے میں جاننا چاہتے تھے کیونکہ وہ یہ جانتے تھے کہ خدا کی بادشاہت اُن تمام مسئلوں کو حل کر دے گی جن کا آج ہم سامنا کر رہے ہیں۔
بائبل میں خدا کی بادشاہت کے بارے میں جو وعدے کیے گئے ہیں، کیا اُنہوں نے آپ کے دل کو چُھو لیا ہے؟ اگر ایسا ہے تو آپ اِس بادشاہت کے بارے میں اَور کیسے جان سکتے ہیں؟ اور آپ کیا کر سکتے ہیں تاکہ آپ اُن برکتوں سے فائدہ حاصل کر سکیں جو اِس بادشاہت کے ذریعے آپ کو ملیں گی؟
a اِس مضمون میں یسوع مسیح کے احساسات کو حال کے جملوں میں بیان کِیا گیا ہے کیونکہ وہ ابھی آسمان پر زندہ ہیں۔ اور اِس بات میں کوئی شک نہیں کہ آسمان پر واپس جانے کے بعد بھی خدا کی بادشاہت اُنہیں بہت عزیز ہے۔—لُوقا 24:51۔
b اِس بارے میں مزید جاننے کے لیے کہ خدا وقتی طور پر اِنسانوں کو دُکھ تکلیفیں کیوں سہنے دے رہا ہے، کتاب ”پاک کلام کی تعلیم حاصل کریں“ کے باب نمبر 11 کو دیکھیں۔ یہ کتاب یہوواہ کے گواہوں نے شائع کی ہے۔ یہ ویبسائٹ www.jw.org پر بھی دستیاب ہے۔