خدا کی بادشاہی کا آپ کے لئے جو مطلب ہو سکتا ہے
یسوع مسیح نے اپنے پیروکاروں کو دعا کرنا سکھایا: ”تیری بادشاہی آ ئے۔“ (متی ۶:۱۰) جو یسوع کے پیروکار ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں انہوں نے کتنی بار ان الفاظ سے خدا کو مخاطب کیا!
تاہم، یسوع نے اپنے شاگردوں کو خدا کی بادشاہی کے لئے دعا کرنے سے زیادہ کچھ سکھایا۔ اس نے بادشاہی کو اپنی منادی کے کام کا ایک بنیادی مضمون بنایا۔ درحقیقت، دی انسائیکلوپیڈیا بریٹینیکا کہتا ہے کہ خدا کی بادشاہی کو ”عمومی طور پر یسوع کی تعلیم کا مرکزی موضوع سمجھا جاتا ہے۔“
جب مسیح کے پیروکار اس بادشاہی کیلئے دعا کرتے ہیں تو وہ درحقیقت کس چیز کیلئے دعا کر رہے ہوتے ہیں؟ خدا کی بادشاہی کا آپ کیلئے اور ان کیلئے کیا مطلب ہو سکتا ہے؟ اور یسوع نے اسے کیسا خیال کیا؟
بادشاہی کی بابت یسوع کا نظریہ
یسوع نے اکثر خود کو ”ابنآدم“ کہا۔ (متی ۱۰:۲۳، ۱۱:۱۹، ۱۶:۲۸، ۲۰:۱۸، ۲۸) یہ ہمیں ”ایک آدمزاد“ کی بابت دانیایل نبی کے حوالے کی یاددہانی کراتا ہے۔ مستقبل میں ایک آسمانی واقع کی بابت ، دانیایل نے کہا: ”میں نے رات کو رویا میں دیکھا اور کیا دیکھتا ہوں کہ ایک شخص آدمزاد کی مانند آسمان کے بادلوں کے ساتھ آیا اور قدیمالایام تک پہنچا۔ وہ اسے اس کے حضور لائے اور سلطنت اور حشمت اور مملکت اسے دی گئی تاکہ سب لوگ اور امتیں اور اہللغت اس کی خدمتگزاری کریں۔“ دانیایل ۷:۱۳، ۱۴۔
اس وقت کی بابت گفتگو کرتے ہوئے جب وہ یہ حکمرانی حاصل کریگا، یسوع نے اپنے رسولوں کو بتایا: ”جب ابنآدم اپنے جلال کے تخت پر بیٹھیگا تو تم بھی جو میرے پیچھے ہو لئے ہو بارہ تختوں پر بیٹھو گے۔“ یسوع نے یہ بھی کہا: ”جب ابنآدم اپنے جلال میں آئے گا . . . سب قومیں اس کے سامنے جمع کی جائیں گی اور وہ ایک کو دوسرے سے جدا کرے گا جیسے چرواہا بھیڑوں کو بکریوں سے جدا کرتا ہے۔ . . . اور یہ [ناراست] ہمیشہ کی سزا پائیں گے مگر راستباز ہمیشہ کی زندگی۔“ متی ۱۹:۲۸، ۲۵:۳۱، ۳۲، ۴۶۔
تختوں اور تمام قومی گروہوں کی بابت یہ حوالہجات نشاندہی کرتے ہیں کہ بادشاہی ایک حکومت ہے جس میں یسوع اور اس کے بعض پیروکار انسانوں پر حکمرانی کرینگے۔ اس حکومت کے پاس یہ اختیار ہو گا کہ ناراستوں کو موت کی نیند سلا دے۔ تاہم، بادشاہتی حکمرانی کے تحت، وہ جو راستباز ثابت ہونگے وہ خدا سے حیات ابدی کی بخشش حاصل کرینگے۔
تو پھر واضح ہے کہ خدا کی بادشاہی خدا کی قائمکردہ ایک آسمانی حکومت ہے۔ بادشاہی چرچ نہیں ہے، اور صحائف اس کی بابت دنیاوی نظریہ رکھنے کی اجازت نہیں دیتے۔ مزیدبرآں، ایک خداداد حکومت محض ایک شخص کے دل ہی میں رہنے والی کوئی چیز نہیں ہو سکتی۔ چونکہ خدا کی بادشاہی ایک حکومت ہے، اسلئے جب ہم مسیحیت کو قبول کرتے ہیں تو یہ کوئی ایسی چیز نہیں بن جاتی جو کہ ہمارے دل ہی میں ہو۔ لیکن کیوں بعض یہ سوچتے ہیں کہ بادشاہی ایک ایسی حالت ہے جس کا تعلق دل کیساتھ ہے؟
بادشاہی ہمارے اندر؟
بعض اسلئے یہ محسوس کرتے ہیں کہ بادشاہی ہمارے دل میں ہے کیونکہ لوقا ۱۷:۲۱ کو کچھ مترجموں نے اسی طرح بیان کیا ہے۔ نیو انٹرنیشنل ورشن کے مطابق، یسوع نے وہاں کہا: ”خدا کی بادشاہی تمہارے اندر ہے۔“
اس سلسلے میں دی انٹرپریٹرز ڈکشنری آف دی بائبل بیان کرتی ہے: ”اگرچہ اکثر اوقات یسوع کے ”تصوف“ یا ”باطن“ کا حوالہ دیا جاتا ہے، یہ تشریح خاص طور پر اسی گذشتہ ترجمہ پر انحصار کرتی ہے، یعنی ”تمہارے درمیان،“ . . . جہاں پر کہ بدقسمتی سے ”تمہارے“ کو جدید دور کے واحد کے معنی میں سمجھا جاتا ہے، جبکہ ”تمہارے“ جمع ہے (کیونکہ یسوع فریسیوں سے مخاطب ہے آیت ۲۰) . . . یہ نظریہ کہ خدا کی بادشاہی دماغ کی ایک اندرونی حالت، یا شخصی نجات ہے، اس آیت کے سیاقوسباق کی نفی کرتا ہے، اور اس نظریے کی پیشکش کے سلسلے میں تمام کے تمام (نئے عہدنامے) کی بھی۔“
نیو انٹرنیشنل ورشن میں لوقا ۱۷:۲۱ پر کا فٹ نوٹ یہ ظاہر کرتا ہے کہ یسوع کے الفاظ کو یوں بیان کیا جا سکتا ہے: ”خدا کی بادشاہی تمہارے درمیان ہے“۔ دوسرے بائبل ترجمے یوں پڑھے جاتے ہیں: ”خدا کی بادشاہی تمہارے درمیان ہے“ یا ”تمہارے بیچ ہے۔“ (دی نیو انگلش بائبل، دی جیروسلم بائبل، ریوائزڈ سٹینڈرڈ ورشن) نیو ورلڈ ٹرانسلیشن آف دی ہولی سکرپچرز کے مطابق ، یسوع نے کہا: ”خدا کی بادشاہی تمہارے درمیان ہے۔“ یسوع کا یہ مطلب نہیں تھا کہ بادشاہی ان مغرور فریسیوں کے دلوں میں تھی جن سے وہ مخاطب ہو رہا تھا۔ بلکہ طویلالانتظار مسیحا اور نامزد بادشاہ کے طور پر یسوع ان کے درمیان تھا۔ لیکن ابھی خدا کی بادشاہی کے آنے میں کچھ وقت باقی تھا۔
جب یہ آئیگی
یسوع مسیح کے کچھ پیروکار اس کیساتھ آسمانی مسیحائی بادشاہی میں بطور ساتھی حکمرانوں کے منتخب کئے گئے ہیں۔ یسوع کی طرح، وہ خدا کیلئے وفاداری کی حالت میں مرتے ہیں اور آسمان میں روحانی زندگی میں قیامت پاتے ہیں۔ (۱-پطرس ۳:۱۸) تعداد میں مقابلتاً کم ہوتے ہوئے، وہ ۱۴۴،۰۰۰ بادشاہ اور کاہن ہونگے جو کہ انسانوں میں سے خرید لئے گئے ہیں۔ (مکاشفہ ۱۴:۱-۴، ۲۰:۶) یسوع کے ساتھی حکمرانوں میں اس کے وفادار رسول بھی شامل ہیں۔ لوقا ۱۲:۳۲۔
ایک موقع پر اپنے شاگردوں سے کلام کرتے ہوئے، یسوع نے یہ وعدہ کیا: ”میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جو یہاں کھڑے ہیں ان میں بعض ایسے ہیں کہ جبتک ابنآدم کو اسکی بادشاہی میں آتے نہ دیکھ لیں موت کا مزہ ہرگز نہ چکھینگے۔“ (متی ۱۶:۲۸) دلچسپی کی بات ہے کہ اگلی ہی آیت اس کی نشاندہی کرتی ہے کہ یسوع کا وعدہ چند ہی دنوں بعد پورا ہو گیا تھا۔ اس وقت وہ اپنے شاگردوں میں سے تین کو اس پہاڑی پر لے گیا جہاں ان کے سامنے اسکی صورت بدل گئی، اور یوں انہوں نے بادشاہی جلال میں اس کی بابت رویا دیکھی۔ (متی ۱۷:۱۔۹) لیکن اس وقت بادشاہی قائم نہیں ہوئی تھی۔ وہ کب قائم ہوگی؟
یسوع کی ایک تمثیل یہ ظاہر کرتی ہے کہ وہ مسیحائی بادشاہ کے طور پر فوراً ہی تخت نشین نہیں ہو جائیگا۔ لوقا ۱۹:۱۱-۱۵، میں ہم پڑھتے ہیں: ”اس نے ایک تمثیل کہی اس لئے کہ یروشلم نزدیک تھا اور وہ گمان کرتے تھے کہ خدا کی بادشاہی ابھی ظاہر ہوا چاہتی ہے۔ پس اس نے کہا: ”ایک امیر آدمی دور دراز ملک کو چلا تاکہ بادشاہی حاصل کرکے پھر آئے۔ اس نے اپنے نوکروں میں سے دس کو بلا کر انہیں دس اشرفیاں دیں اور ان سے کہا کہ ”میرے واپس آنے تک لین دین کرنا۔“ . . . جب وہ بادشاہی حاصل کرکے پھر آیا تو ایسا ہوا کہ ان نوکروں کو بلا بھیجا جنکو روپیہ دیا تھا۔ تاکہ معلوم کرے کہ انہوں نے لین دین سے کیا کیا کمایا۔““
ان دنوں میں اسرائیل سے روم تک سفر کرنے میں اور پھر اس شہر میں ٹھہر کر بادشاہی اختیار حاصل کرنے، اور پھر اپنے ملک میں ایک بادشاہ کے طور پر واپس آنے میں ایک شخص کو کافی وقت لگتا تھا۔ یسوع وہ ”امیر آدمی“ تھا۔ وہ آسمان میں اپنے باپ ہی سے ایک بادشاہ کے طور پر اختیار حاصل کرے گا لیکن وہ فوراً ہی مسیحائی بادشاہ کے طور پر تخت نشین نہیں کر دیا جائے گا۔ اس سے پہلے کہ وہ بادشاہ کے طور پر واپس آئے، کافی عرصہ تک بادشاہی کی خوشخبری کا اعلان کرتے رہنے سے اس کے پیروکار لین دین کا کام کریں گے۔
جس طرح بادشاہی آتی ہے
جب محبانخدا اس کی بادشاہی کے آنے کیلئے دعا کرتے ہیں تو وہ اس سے کس چیز کی درخواست کر رہے ہوتے ہیں؟ درحقیقت وہ اس چیز کے لئے منت کرتے ہیں کہ آسمانی بادشاہی اس انسانساختہ حکومتی نظاموں کو ختم کرنے کیلئے حتمی قدم اٹھائے جو حقیقی امن اور خوشحالی لانے کے اپنے وعدے کو پورا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اس تکمیل کی نشاندہی کرتے ہوئے، دانیایل نے لکھا: ”اور ان بادشاہوں کے ایام میں آسمان کا خدا ایک سلطنت برپا کریگا جو تاابد نیست نہ ہوگی اور اسکی حکومت کسی دوسری قوم کے حوالہ نہ کی جائیگی بلکہ وہ ان تمام مملکتوں کو ٹکڑے ٹکڑے اور نیست کریگی اور وہی ابد تک قائم رہیگی۔“ (دانیایل ۲:۴۴) یہ کب واقع ہوگا؟
یسوع نے پہلے ہی سے یہ بتا دیا تھا کہ یہ ان ہی لوگوں کی نسل کے ایام میں ہوگا جو کہ انسانی معاملات میں غیرمعمولی انقلاب کے شاہد ہوں گے۔ اپنی ”موجودگی“ کی بابت یسوع نے ایک مرکب ”نشان“ دیا جس میں بینظیر جنگیں، زلزلے، کال، اور وباؤں جیسی نئی صورت حالات شامل ہیں جیہاں، اور خدا کی بادشاہی کی عالمگیر منادی بھی۔ متی، ۲۴، ۲۵ باب، مرقس، باب ۱۳، لوقا، باب ۲۱۔
یسوع کی پیشنگوئی میں وہ واقعات بھی شامل ہیں جو اب رونما ہو رہے ہیں ہماری اس بیسویں صدی میں۔ لہذا، اب زیادہ دیر نہیں جب خدا کی بادشاہی بنی آدم کے لئے شاندار برکات لائے گی۔ آپ ان میں شامل ہو سکتے ہیں جو اس بادشاہتی حکمرانی کی برکات سے لطفاندوز ہوتے ہیں۔ لیکن خدا کی بادشاہی کا آپکے لئے اور آپ کے عزیزوں کے لئے کیا مطلب ہو سکتا ہے؟
بادشاہتی حکمرانی کی برکات
خوشحالی ساری زمین پر عام ہوگی۔ ”ایک نئے آسمان“ آسمانی بادشاہی کے تحت ”ایک نئی زمین“ ہوگییعنی بادشاہی کی وفادار رعایا کا ایک عالمی معاشرہ۔ ”خدا خود ان کے کیساتھ ہوگا،“ رسول یوحنا نے لکھا۔ ”اور وہ ان کی آنکھوں کے سب آنسو پونچھ دیگا۔“ تب خوشحالی کے علاوہ کسی اور چیز کے ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہوگی، کیونکہ ”اسکے بعد نہ ماتم رہیگا نہ آہونالہ نہ درد۔“ مکاشفہ ۲۱:۱-۴۔
موت باقی نہ رہیگی۔ غم کی یہ افسوسناک وجہ بھی اس کے بعد ہمارے عزیزوں اور دوستوں کو ہم سے جدا نہ کریگی۔ ”سب سے پچھلا دشمن جو نیست کیا جائیگا وہ موت ہے۔“ (۱-کرنتھیوں ۱۵:۲۶) اس وقت خوشی کا کیا ہی عالم ہوگا جب جنازوں کی جگہ ان کی قیامت لے لیگی جو خدا کو یاد ہیں! یوحنا ۵:۲۸، ۲۹۔
خوشگوار صحت بیماری اور کمزوری کی جگہ لے لیگی۔ اس کے بعد کبھی بھی ہسپتالوں کے بستر جسمانی اور ذہنی طور پر بیمار لوگوں سے کبھی نہیں بھرینگے۔ عظیم طبیب، یسوع مسیح، ”قوموں کی شفا کے لئے“ اپنے فدیہ کی قربانی کی قیمت کو استعمال کریگا۔ (مکاشفہ ۲۲:۱، ۲، متی ۲۰:۲۸، ۱-یوحنا ۲:۱، ۲) وہ شفائیں جو اس نے اس وقت دیں جب وہ زمین پر تھا وہ تو محض اس کا ایک عکس ہی تھیں جو کچھ کہ وہ بادشاہی کے وسیلے کریگا۔ مقابلہ کریں یسعیاہ ۳۳:۲۴، متی ۱۴:۱۴۔
خوراک کی افراط ہوگی۔ جیسا کہ زبور نویس نے کہا، ”زمین میں پہاڑوں کی چوٹیوں پر اناج کی افراط ہوگی۔“ (زبور ۷۲:۱۶) اس میں، یسعیاہ کی پیشنگوئی یوں اضافہ کرتی ہے: ”[فوجوں کا یہوواہ] اس پہاڑ پر سب قوموں کے لئے فربہ چیزوں سے ایک ضیافت تیار کریگا بلکہ ایک ضیافت تلچھٹ پر سے نتھری ہوئی مے سے۔ ہاں فربہ چیزوں سے جو پرمغز ہوں اور مے سے جو تلچھٹ پر سے خوب نتھری ہو۔“ (یسعیاہ ۲۵:۶) یقیناً، کال پھر کبھی بادشاہتی حکمرانی کے تحت رہنے والوں کو اپنا شکار نہیں بنائیگا۔
ساری زمین فروس بن جائیگی۔ یوں تائب بدکار سے کیا ہوا یسوع کا یہ وعدہ پورا ہو جائیگا: ”تو میرے ساتھ فردوس میں ہوگا۔“ (لوقا ۲۳:۴۳) آپ بھی اس زمین پر ہمیشہ کی زندگی سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں، ایک ایسی زمین پر جو بدکاری سے پاک کر دی گئی ہو اور باغ نما، خوبصورت کرہءزمین میں بدل دی گئی ہو۔ یوحنا ۱۷:۳۔
یہ شاندار امکانات تمام فرمانبردار بنیآدم کے سامنے رکھے گئے ہیں۔ یہوواہ کا الہامی کلام، بائبل، یہ بابرکت یقیندہانیاں فراہم کرتا ہے۔ اور خدا کی بادشاہی آپ کے لئے جو مطلب رکھ سکتی ہے وہ سب یہی کچھ ہے۔ (۴ ۳/۱۵ w۹۲)
[تصویر]
جو کچھ یسوع نے خدا کی بادشاہی کی بابت کہا کیا آپ اس کا یقین کرتے ہیں؟