یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م14 15/‏9 ص.‏ 23-‏27
  • آخری دُشمن موت کو نیست کر دیا جائے گا

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • آخری دُشمن موت کو نیست کر دیا جائے گا
  • مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے—2014ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • ہمیشہ تک زندہ رہنے کا موقع
  • اِنسان موت کے شکنجے میں کیسے پھنس گئے؟‏
  • گُناہ اور موت کو نیست کِیا جائے گا
  • خدا نے پہلا آدمی اور پہلی عورت بنائی
    پاک کلام سے آپ کے لیے خاص سبق
  • یسوع بچاتا ہے—‏کیسے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2001ء
  • اِنسانوں کے لیے خدا کا مقصد ضرور پورا ہوگا!‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—2017ء
  • ہم پہلے انسانی جوڑے سے سبق سیکھ سکتے ہیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2000ء
مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے—2014ء
م14 15/‏9 ص.‏ 23-‏27
آدم اور حوا اپنے بیٹے ہابل کی لاش پر ماتم کر رہے ہیں۔‏

آخری دُشمن موت کو نیست کر دیا جائے گا

‏”‏سب سے پچھلا [‏”‏آخری،“‏ نیو اُردو بائبل ورشن‏]‏ دُشمن جو نیست کِیا جائے گا وہ موت ہے۔“‏—‏1-‏کر 15:‏26‏۔‏

آپ اِن سوالوں کے کیا جواب دیں گے؟‏

  • یہوواہ خدا نے آدم کو کیا حکم دیا؟ اور اِسے ماننا اِتنا اہم کیوں تھا؟‏

  • اِنسان موت کے شکنجے میں کیسے پھنس گئے؟‏

  • آخری دُشمن یعنی موت کو کب نیست کِیا جائے گا؟‏

1، 2.‏ (‏الف)‏ آدم اور حوا کی زندگی کیسی تھی؟ (‏ب)‏ اِس مضمون میں ہم کن سوالوں پر غور کریں گے؟‏

جب آدم اور حوا کو بنایا گیا تو اُن کا کوئی دُشمن نہیں تھا۔ وہ بالکل بے‌عیب تھے اور ایک خوب‌صورت باغ میں رہتے تھے۔ وہ ایک بیٹے اور بیٹی کے طور پر اپنے آسمانی باپ کی قربت میں رہتے تھے۔ (‏پید 2:‏7-‏9؛‏ لو 3:‏38‏)‏ خدا نے اُنہیں ایسا کام سونپا جس سے ظاہر ہوا کہ وہ ہمیشہ تک زندہ رہ سکتے تھے۔ ‏(‏پیدایش 1:‏28 کو پڑھیں۔)‏ ”‏زمین کو معمورومحکوم“‏ تو ایک عرصے کے دوران کِیا جا سکتا تھا مگر ’‏کُل جانوروں پر اِختیار رکھنے‘‏ کا کام ہمیشہ تک جاری رہنا تھا۔ اُس وقت چونکہ موت کا کوئی وجود نہیں تھا اِس لیے آدم کا یہ اِختیار ہمیشہ قائم رہ سکتا تھا۔‏

2 تو پھر آج‌کل حالات اِتنے فرق کیوں ہیں؟ آج‌کل اِنسان کی خوشیوں کے  دُشمن بہت سارے ہیں جن میں سب سے بڑا دُشمن موت ہے۔ یہ سارے دُشمن کیسے پیدا ہو  گئے؟ اور  خدا  اِنہیں  مات کیسے دے گا؟ اِن سوالوں کے جواب بائبل سے ملتے ہیں۔ آئیں، اِن پر غور کریں۔‏

ہمیشہ تک زندہ رہنے کا موقع

3، 4.‏ (‏الف)‏ خدا نے آدم اور حوا کو کیا حکم دیا؟ (‏ب)‏ اِس حکم کو ماننا اِتنا اہم کیوں تھا؟‏

3 آدم اور حوا ہمیشہ تک زندہ تو رہ سکتے تھے مگر وہ غیرفانی نہیں تھے۔ اُنہیں زندہ رہنے کے لیے سانس، نیند، خوراک اور پانی کی ضرورت تھی۔ لیکن سب سے اہم بات یہ تھی کہ وہ اپنے خالق کی قربت میں رہیں۔ (‏است 8:‏3)‏ ہمیشہ زندہ رہنے اور زندگی سے لطف اُٹھانے کے لیے ضروری تھا کہ وہ خدا کی رہنمائی کو قبول کرتے۔ یہوواہ خدا نے یہ بات حوا کو بنانے سے بھی پہلے آدم کو صاف‌صاف بتا دی تھی۔ اُس نے آدم کو حکم دیا تھا:‏ ”‏تُو باغ کے ہر درخت کا پھل بے‌روک‌ٹوک کھا سکتا ہے۔ لیکن نیک‌وبد کی پہچان کے درخت کا کبھی نہ کھانا کیونکہ جس روز تُو نے اُس میں سے کھایا تُو مرا۔“‏—‏پید 2:‏16، 17‏۔‏

4 ’‏نیک‌وبد کی پہچان کا درخت‘‏ اِس بات کی طرف  اِشارہ کرتا ہے کہ صرف یہوواہ خدا ہی اچھائی اور بُرائی کا معیار قائم کرنے کا حق رکھتا ہے۔ چونکہ خدا نے آدم کو اپنی صورت پر بنایا اور اُنہیں ضمیر عطا کِیا اِس لیے اُن میں صحیح اور غلط میں اِمتیاز کرنے کی صلاحیت موجود تھی۔ لیکن اُس درخت کو دیکھ کر اُن کے ذہن میں یہ بات تازہ ہو جاتی تھی کہ اُنہیں ہمیشہ خدا کی رہنمائی کی ضرورت ہے۔ اِس درخت کا پھل کھانے سے وہ ظاہر کرتے کہ وہ اپنے لیے خود معیار قائم کرنا چاہتے ہیں۔ خدا نے اُنہیں پہلے سے بتا دیا تھا کہ اگر وہ اُس کا حکم توڑیں گے تو انجام کیا ہوگا۔ اُن کی نافرمانی نہ صرف اُن کے لیے بلکہ اُن کی ہونے والی اولاد کے لیے بھی شدید نقصان کا باعث بنی۔‏

اِنسان موت کے شکنجے میں کیسے پھنس گئے؟‏

5.‏ آدم اور حوا نے خدا کی نافرمانی کیوں کی؟‏

5 جب خدا حوا کو بنا کر آدم کے پاس لایا تو آدم نے حوا کو خدا کے حکم کے بارے میں بتایا۔ حوا اِس حکم کو اچھی طرح جان گئی تھیں۔ اِس لیے جب ایک سانپ کے ذریعے شیطان نے اُن سے بات کی تو اُنہوں نے اِس حکم کو دُہرایا۔ (‏پید 3:‏1-‏3‏)‏ شیطان میں یہ خواہش پلنے لگی کہ اُس کے پاس بھی خدا جیسا اِختیار ہو اور اُسے کسی کے سامنے جواب دینا نہ پڑے۔ (‏یعقوب 1:‏14، 15 پر غور کریں۔)‏ اپنے اِس گھٹیا مقصد کو پورا کرنے کے لیے اُس نے خدا پر اِلزام لگایا کہ وہ جھوٹا ہے۔ اُس نے حوا کو یقین دِلایا کہ اگر وہ اپنے فیصلے خود کریں گی تو وہ مریں گی نہیں بلکہ خدا کی مانند بن جائیں گی۔ (‏پید 3:‏4، 5‏)‏ حوا نے اُس کی بات کو مان لیا، پھل کھانے سے اُنہوں نے ظاہر کِیا کہ وہ اپنی زندگی اپنی مرضی سے گزارنا چاہتی ہیں۔ پھر اُنہوں نے اِس نافرمانی میں آدم کو بھی شامل کر لیا۔ (‏پید 3:‏6،‏ 17‏)‏ آدم جانتے تھے کہ شیطان نے جھوٹ بولا ہے پھر بھی اُنہوں نے ”‏اپنی بیوی کی بات مانی۔“‏ ‏(‏1-‏تیمتھیس 2:‏14 کو پڑھیں۔)‏ شیطان نے حوا کو یہ تاثر دیا کہ وہ اُن کا دوست ہے لیکن حقیقت میں وہ ایک بے‌رحم دُشمن تھا۔ وہ  جانتا تھا کہ اُس کے جھوٹ کے بڑے بھیانک نتائج نکلیں گے۔‏

6، 7.‏ یہوواہ خدا نے باغِ‌عدن میں پیدا ہونے والی صورتحال کو کیسے نپٹایا؟‏

6 آدم اور حوا نے خودغرضی کا ثبوت  دیتے  ہوئے  خدا  کے خلاف بغاوت کی جس نے اُنہیں زندگی اور دیگر نعمتیں عطا کی تھیں۔ یہوواہ خدا یقیناً یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا۔ (‏1-‏توا 28:‏9؛‏ امثال 15:‏3 کو پڑھیں۔‏‏)‏ مگر اُس نے آدم، حوا اور شیطان کو بغاوت کرنے سے نہیں روکا۔ ایک باپ کے طور پر اُسے اِن تینوں کی نافرمانی سے بہت دُکھ ہوا ہوگا۔ (‏پیدایش 6:‏6 پر غور کریں۔)‏ لیکن ایک منصف کے طور پر اُسے اِنہیں سزا دینی پڑی۔ وہ آدم اور حوا کو پہلے ہی بتا چُکا تھا کہ اگر وہ اُس کی نافرمانی کریں گے تو اُنہیں سزا ملے گی۔‏

7 یہوواہ خدا نے آدم کو آگاہ کِیا تھا کہ  ”‏جس  روز  تُو  نے [‏نیک‌وبد کی پہچان کے درخت کا پھل]‏ کھایا تُو مرا۔“‏ آدم کو شاید لگا ہو کہ یہ ”‏روز“‏ یعنی دن 24 گھنٹے کا ہوگا۔ اِس لیے خدا کا  حکم توڑنے کے بعد اُنہوں نے سوچا ہوگا کہ یہوواہ خدا سورج  ڈوبنے سے پہلے کوئی کارروائی کرے گا۔ پھر  یہوواہ  خدا نے ”‏ٹھنڈے وقت“‏ اُن دونوں سے بات کی۔ (‏پید 3:‏8‏)‏ پہلے اُس نے اُن دونوں کی بات سنی۔ (‏پید 3:‏9-‏13‏)‏ پھر اُن کے بیانات کی بِنا پر اُن کا فیصلہ کِیا۔ (‏پید 3:‏14-‏19‏)‏ اگر وہ اُن کو اُسی وقت ہلاک کر دیتا تو آدم، حوا اور اُن کی اولاد کے لیے اُس کا مقصد وہیں ختم ہو جاتا۔ (‏یسع 55:‏11‏)‏ حالانکہ خدا نے آدم اور حوا کو موت کی سزا سنائی اور اُن پر گُناہ کا اثر بھی فوراً ہونے لگا پھر بھی اُس نے اُنہیں اولاد پیدا کرنے کا موقع دیا جن کے فائدے کے لیے وہ کچھ خاص بندوبست کرنے والا تھا۔ خدا کی نظر میں آدم اور حوا اُسی دن مر گئے تھے جس دن اُنہوں نے گُناہ کِیا تھا۔ خدا کے نزدیک ایک ”‏دن“‏ ہزار سال کے برابر ہے اور آدم اور حوا ہزار سال کے اندراندر ہی مر گئے تھے۔—‏2-‏پطر 3:‏8‏۔‏

8، 9.‏ آدم اور حوا کے گُناہ کا اُن کی اولاد پر کیا اثر ہوا؟ (‏اِس مضمون کی پہلی تصویر کو دیکھیں۔)‏

8 کیا آدم اور حوا کی بغاوت کا اثر اُن کی اولاد پر بھی ہوا؟ جی‌ہاں۔ رومیوں 5:‏12 میں لکھا ہے:‏ ”‏ایک آدمی کے سبب سے گُناہ دُنیا میں آیا اور گُناہ کے سبب سے موت آئی اور یوں موت سب آدمیوں میں پھیل گئی اِس لئے کہ سب نے گُناہ کِیا۔“‏ سب سے پہلے خدا کا وفادار بندہ ہابل موت کی آغوش میں گیا۔ (‏پید 4:‏8‏)‏ پھر آدم کی ساری اولاد بڑھاپے اور موت کا شکار ہوتی گئی۔ کیا اُنہیں موت کے علاوہ گُناہ بھی ورثے میں ملا؟ پولُس رسول نے اِس سلسلے میں کہا:‏ ”‏ایک ہی شخص کی نافرمانی سے بہت سے لوگ گُناہ‌گار ٹھہرے۔“‏ (‏روم 5:‏19‏)‏ یوں گُناہ اور موت اِنسانوں کے سنگدل دُشمن بن گئے جن سے پیچھا چھڑانا اُن کے بس کی بات نہیں۔ ہم اُس عمل کو پوری طرح نہیں سمجھتے جس کے ذریعے گُناہ اور موت آدم کی اولاد میں منتقل ہوا۔ مگر یہ بات بالکل صاف ہے کہ ایسا ہوا اور اِس کے نتائج ہمارے سامنے ہیں۔‏

9 بائبل میں گُناہ اور موت کا حوالہ ایک ’‏پردے‘‏  اور  ”‏نقاب“‏ کے طور پر دیا گیا ہے جو ”‏تمام لوگوں پر پڑا ہے اور .‏ .‏ .‏ سب قوموں پر لٹک رہا ہے۔“‏ (‏یسع 25:‏7‏)‏ یہ پردہ تمام اِنسانوں کا دم  گھونٹتا ہے۔ لہٰذا ”‏آؔدم میں سب مرتے ہیں۔“‏ (‏1-‏کر 15:‏22‏)‏ اب شاید آپ کے ذہن میں بھی وہی سوال آ رہا ہو جو پولُس رسول نے اُٹھایا تھا۔ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏اِس موت کے بدن سے مجھے  کون چھڑائے گا؟“‏ کیا کوئی ایسا کر سکتا ہے؟—‏aروم 7:‏24‏۔‏

گُناہ اور موت کو نیست کِیا جائے گا

10.‏ (‏الف)‏ کون‌سی آیتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہوواہ خدا موت کو ختم کرے گا؟ (‏ب)‏ اِن آیتوں سے ہم یہوواہ خدا اور اُس کے بیٹے کے بارے میں کیا سیکھتے ہیں؟‏

10 یہوواہ خدا پولُس کو موت کے چنگل سے چھڑا سکتا تھا۔ ’‏پردے‘‏ کا ذکر کرنے کے فوراً بعد یسعیاہ نے لکھا کہ خدا  ”‏موت کو ہمیشہ کے لئے نابود کرے گا اور [‏یہوواہ]‏ خدا سب کے چہروں سے آنسو پونچھ ڈالے گا۔“‏ (‏یسع 25:‏8‏)‏ جس طرح ایک باپ اپنے بچوں کی تکلیف کو دُور کرکے اُن کی آنکھوں سے آنسو پونچھتا ہے اُسی طرح یہوواہ خدا بھی اِنسانوں کو موت کے شکنجے سے چھڑانا چاہتا ہے۔ اِس کام میں اُس کا ساتھ یسوع مسیح دے رہے ہیں۔ پہلا کرنتھیوں 15:‏22 میں لکھا ہے:‏ ”‏جیسے آؔدم میں سب مرتے ہیں ویسے ہی مسیح میں سب زندہ کئے جائیں گے۔“‏ پولُس رسول نے بھی یہ سوال پوچھنے کے بعد کہ ”‏مجھے کون چھڑائے گا“‏ کہا:‏ ”‏[‏مَیں]‏ اپنے خداوند یسوؔع مسیح کے وسیلہ سے خدا کا شکر کرتا ہوں۔“‏ (‏روم 7:‏25‏)‏ یہوواہ خدا نے آدم اور حوا کو بڑی محبت سے بنایا تھا اور ظاہری بات ہے کہ اُن کی بغاوت کے بعد بھی اُس کی محبت ٹھنڈی نہیں پڑی تھی۔ اور یسوع مسیح جنہوں نے آدم اور حوا کو بنانے میں یہوواہ خدا کے ساتھ کام کِیا تھا، اُن کی خوشنودی بھی اِنسانوں کے ساتھ رہی۔ (‏امثا 8:‏30، 31‏)‏ لیکن سوال یہ تھا کہ اِنسانوں کو گُناہ اور موت سے رِہائی کیسے دِلائی جائے گی؟‏

11.‏ یہوواہ خدا نے اِنسانوں کو موت سے چھڑانے کے لیے کیا اِنتظام کِیا؟‏

11 اِنسان صرف اِس لیے نہیں مرتے کہ اُنہوں نے گُناہ کو ورثے میں پایا ہے بلکہ اِس لیے بھی کہ خدا نے آدم کو موت کی سزا سنائی تھی۔ (‏روم 5:‏12،‏ 16‏)‏ پولُس رسول نے کہا:‏ ”‏ایک گُناہ کے سبب سے وہ فیصلہ ہوا جس کا نتیجہ سب آدمیوں کی سزا کا حکم تھا۔“‏ (‏روم 5:‏18‏)‏ یہوواہ خدا نے کیا کِیا تاکہ وہ اپنے معیاروں کو توڑے بغیر اِنسانوں کو موت کی سزا سے چھڑا لے؟ اِس کا جواب ہمیں یسوع مسیح کی اِس بات سے ملتا ہے:‏ ”‏اِبنِ‌آدم اِس لئے .‏ .‏ .‏ آیا کہ .‏ .‏ .‏ اپنی جان بہتیروں کے بدلے فدیہ میں دے۔“‏ (‏متی 20:‏28‏)‏ یہوواہ خدا کا پہلوٹھا بیٹا ایک بے‌عیب اِنسان کے طور پر زمین پر آیا اور اپنی جان دے کر اِنسانوں کا ”‏فدیہ“‏ ادا کِیا۔ یسوع مسیح کی قربانی خدا کے معیاروں پر کیسے پوری اُتری؟—‏1-‏تیم 2:‏5، 6‏۔‏

12.‏ یسوع مسیح کی قربانی خدا کے معیاروں پر کیسے پوری اُتری؟‏

12 یہوواہ خدا کا مقصد یہ تھا کہ زمین  آدم  کی  بے‌عیب اولاد سے بھر جائے۔ لیکن آدم نے گُناہ کِیا۔ یسوع مسیح ایک بے‌عیب اِنسان تھے اِس لیے وہ آدم کی طرح ہمیشہ تک زندہ رہ سکتے تھے۔ لیکن اُنہوں نے اپنی جان قربان کر دی تاکہ زمین اور اِنسانوں کے لیے خدا کا مقصد پورا ہو۔ یوں اُنہوں نے خدا اور اِنسانوں کے لیے گہری محبت کا ثبوت دیا۔ آدم نے ایک بے‌عیب زندگی کھوئی تھی اور اِسی کے بدلے یسوع مسیح نے اپنی بے‌عیب زندگی کو قربان کِیا۔ اِس طرح اُن کی قربانی خدا کے معیاروں پر پوری اُتری۔ بعد میں یہوواہ خدا نے اُنہیں ایک روحانی بدن میں زندہ کر دیا۔ (‏1-‏پطر 3:‏18‏)‏ یہوواہ خدا اُن کی قربانی کو قبول کرنے کے بعد اِنسانوں کو وہ سب کچھ لوٹا سکتا تھا جو آدم نے کھو دیا تھا۔ یوں ایک لحاظ سے یسوع مسیح نے آدم کی جگہ لے لی۔ پولُس رسول نے اِس سلسلے میں لکھا:‏ ”‏پہلا آدمی یعنی آدؔم زندہ نفس بنا، آخری آدؔم زندگی بخشنے والی روح بنا۔“‏—‏1-‏کر 15:‏45‏، نیو اُردو بائبل ورشن۔‏

ہابل مُردوں میں سے جی اُٹھا

ہابل سب سے پہلے اِنسان تھے جو موت کا شکار ہوئے، اُنہیں مسیح کے فدیے کی بِنا پر زندہ کِیا جائے گا۔ (‏پیراگراف 13 کو دیکھیں۔)‏

13.‏ ”‏آخری آدؔم“‏ اُن اِنسانوں کے لیے کیا کرے گا جو مر چکے ہیں؟‏

13 آخرکار وہ وقت آئے گا جب ”‏آخری آدؔم“‏ اِنسانوں کو ”‏زندگی بخشنے والی روح“‏ ثابت ہوگا۔ اِن اِنسانوں میں بہت سے وہ لوگ بھی شامل ہوں گے جو مر چکے ہیں۔ اُنہیں زمین پر زندہ کر دیا جائے گا۔—‏یوح 5:‏28، 29‏۔‏

14.‏ اِنسانوں کو گُناہ کے اثرات سے پاک کرنے کے لیے یہوواہ خدا نے کیا بندوبست کِیا ہے؟‏

14 اِنسانوں کو گُناہ کے چنگل سے کیسے چھڑایا جائے گا؟ اِس کے لیے یہوواہ خدا نے ایک بادشاہت قائم کی ہے جو ”‏آخری آدؔم“‏ یعنی یسوع مسیح اور اُن کے ساتھیوں پر مشتمل ہے۔ اُن کے ساتھیوں کو اِنسانوں میں سے چنا گیا ہے۔ ‏(‏مکاشفہ 5:‏9‏، 10کو پڑھیں۔)‏ چونکہ اُن کے ساتھی خود بھی کسی وقت میں گُناہ کے تابع تھے اِس لیے وہ اپنی رعایا کے احساسات کو اچھی طرح سمجھ پائیں گے۔ ایک ہزار سال کے دوران یسوع مسیح اور اُن کے ساتھی زمین پر رہنے والے اِنسانوں کو گُناہ کے اثرات سے پاک کریں گے کیونکہ اِنسان خود سے گُناہ پر غالب نہیں آ سکتے۔—‏مکا 20:‏6‏۔‏

15، 16.‏ (‏الف)‏ آخری دُشمن کیا ہے؟ اور اِسے کب نیست کِیا جائے گا؟ (‏ب)‏ پہلا کرنتھیوں 15:‏28 کے مطابق یسوع مسیح کیا کریں گے؟‏

15 آدم کی بغاوت کی وجہ سے اِنسانوں کے جو دُشمن وجود میں آئے تھے، اُن کو ہزار سالہ حکمرانی کے آخر تک کچل دیا جائے گا۔ پولُس رسول نے لکھا:‏ ”‏جیسے آؔدم میں سب مرتے ہیں ویسے ہی مسیح میں سب زندہ کئے جائیں گے۔ لیکن ہر ایک اپنی‌اپنی باری سے۔ پہلا پھل مسیح۔ پھر مسیح کے آنے پر اُس کے لوگ [‏یعنی اُن کے ساتھی حکمران]‏۔ اِس کے بعد آخرت ہوگی۔ اُس وقت وہ ساری حکومت اور سارا اِختیار اور قدرت نیست کرکے بادشاہی کو خدا یعنی باپ کے حوالہ کر دے گا۔ کیونکہ جب تک کہ وہ سب دشمنوں کو اپنے پاؤں تلے نہ لے آئے اُس کو بادشاہی کرنا ضرور ہے۔ سب سے پچھلا [‏”‏آخری،“‏ نیو اُردو بائبل ورشن‏]‏ دُشمن جو نیست کِیا جائے گا وہ موت ہے۔“‏ (‏1-‏کر 15:‏22-‏26‏)‏ آخرکار اِنسان موت کے قبضے سے چُھوٹ جائیں گے جو اُنہیں آدم سے ورثے میں ملی ہے۔ تمام اِنسانوں کو اپنی لپیٹ میں لینے والا ”‏پردہ“‏ ہمیشہ کے لیے ہٹ جائے گا۔—‏یسع 25:‏7، 8‏۔‏

16 پولُس رسول نے ہزار سالہ حکمرانی کے متعلق اپنی بات کو یوں ختم کِیا:‏ ”‏جب سب کچھ اُس کے تابع ہو جائے گا تو بیٹا خود اُس کے تابع ہو جائے گا جس نے سب چیزیں اُس کے تابع کر دیں تاکہ سب میں خدا ہی سب کچھ ہو۔“‏ (‏1-‏کر 15:‏28‏)‏ تب تک یسوع مسیح کی حکمرانی کا مقصد پورا ہو چُکا ہوگا۔ اِس لیے وہ بڑی خوشی سے سارا اِختیار یہوواہ خدا کو واپس کر دیں گے تاکہ وہ بے‌عیب اِنسانوں پر ابد تک حکومت کرے۔‏

17.‏ شیطان کا کیا حشر ہوگا؟‏

17 شیطان کا حال کیا ہوگا جو اِنسانوں کی ساری تکلیفوں اور پریشانیوں کی جڑ ہے؟ اِس کا جواب ہمیں مکاشفہ 20:‏7-‏15 میں ملتا ہے۔ جب تمام اِنسان بے‌عیب ہو جائیں گے تو اُن کا ایک آخری اِمتحان لیا جائے گا۔ اُس وقت شیطان کو اُنہیں گمراہ کرنے کی اِجازت دی جائے گی۔ پھر شیطان کو اور اُس کے پیچھے چلنے والوں کو ہمیشہ کے لیے ہلاک کر دیا جائے گا۔ بائبل میں اِسے ”‏دوسری موت“‏ کہا گیا ہے۔ (‏مکا 21:‏8‏)‏ جن پر یہ موت آئے گی، وہ دوبارہ کبھی زندہ نہیں ہوں گے۔ اِس لیے اِس موت کو ”‏نیست“‏ نہیں کِیا جائے گا۔ لیکن ”‏دوسری موت“‏ اُن اِنسانوں کی دُشمن نہیں جو یہوواہ خدا کی خدمت کرتے ہیں اور اُس سے محبت کرتے ہیں۔‏

18.‏ آدم کو جو کام دیا گیا تھا، اُسے کیسے انجام تک پہنچایا جائے گا؟‏

18 آخری اِمتحان کے بعد اِنسان مکمل طور پر گُناہ سے پاک ہو جائیں گے اور ہمیشہ کی زندگی کے لائق ٹھہریں گے۔ تب اُن کا کوئی دُشمن نہیں ہوگا۔ ”‏زمین کو معمورومحکوم“‏ کرنے کا جو کام آدم کو دیا گیا تھا، وہ اُن کے بغیر ہی انجام دیا جائے گا۔ زمین اُن کی اولاد سے بھری ہوگی۔ اُس وقت اِنسان زمین کی اور اِس پر موجود جان‌داروں کی خوشی سے نگرانی کریں گے۔ ہمیں اِس بات کی دل سے قدر کرنی چاہیے کہ یہوواہ خدا نے آخری دُشمن یعنی موت کو نیست کرنے کا اِتنا اچھا بندوبست کِیا ہے۔‏

a سائنس‌دان بڑھاپے اور موت کے اسباب کو جاننے کی  کوشش  میں ہیں۔ اِس سلسلے میں ہماری کتاب انسائٹ آن دی سکرپچرز میں لکھا ہے:‏ ”‏سائنس‌دان اِس حقیقت کو نظرانداز کرتے ہیں کہ خالق نے ہی آدم اور حوا کو موت کی سزا سنائی تھی۔ اِس لیے وہ یہ بات بھی سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اِنسانوں میں موت کا عمل کیسے شروع ہوا۔“‏—‏جِلد 2، صفحہ 247۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں