یہوواہ کے گواہ ہونے کا مطلب کیا ہے؟
”[یہوواہ] فرماتا ہے تُم میرے گواہ ہو۔“—یسع 43:10۔
1، 2. (الف) گواہ ہونے کا کیا مطلب ہے؟ (ب) اِس دُنیا کے ذرائعابلاغ نے لوگوں کو کس بات کی خبر نہیں دی؟ (ج) یہوواہ خدا کو اِس دُنیا کے ذرائعابلاغ کی ضرورت کیوں نہیں ہے؟
گواہ ہونے کا کیا مطلب ہے؟ ایک لغت کے مطابق ”گواہ ایسا شخص ہوتا ہے جو کسی واقعے کو دیکھتا ہے اور پھر اِس کے بارے میں بتاتا ہے۔“ جنوبی افریقہ کے ایک شہر میں 160 سال سے ایک اخبار شائع ہو رہا ہے جس کا نام دی ویٹنس (یعنی گواہ) ہے۔ یہ نام موزوں ہے کیونکہ اخبار کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ یہ لوگوں کو دُنیا میں ہونے والے واقعات کی درست خبر دے۔ اخبار دی ویٹنس کے بانی نے وعدہ کِیا تھا کہ اُس کے اخبار میں ”ہمیشہ سچ بتایا جائے گا اور سچ کے سوا کچھ نہیں۔“
2 افسوس کی بات ہے کہ خبروں اور اخباروں میں اِنسانی تاریخ کے سب سے اہم حقائق کو اکثر یا تو نظرانداز کِیا گیا ہے یا پھر توڑمروڑ کر پیش کِیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر اخباروں میں اور ٹیلیویژن پر اِس بارے میں کچھ نہیں بتایا جاتا کہ یہوواہ کون ہے۔ لیکن خدا نے حزقیایل نبی کے ذریعے لکھوایا: ”قومیں جانیں گی کہ مَیں [یہوواہ] . . . ہوں۔“ (حز 39:7) کائنات کے اعلیٰ حکمران کو لوگوں کو اپنی ذات سے واقف کرانے کے لیے اِس دُنیا کے ذرائعابلاغ کی ضرورت نہیں ہے۔ اُس کے تقریباً 80 لاکھ گواہ ہیں جو سب قوموں کے لوگوں کو بتاتے ہیں کہ خدا ماضی میں اِنسانوں کے ساتھ کیسے پیش آیا اور اب اُن کے لیے کیا کر رہا ہے۔ یہ گواہ اِس بات کا بھی اِعلان کرتے ہیں کہ خدا مستقبل میں اِنسانوں کو کونسی برکتیں دے گا۔ اگر ہم گواہی دینے کے اِس کام کو اپنی زندگی میں پہلا مقام دیتے ہیں تو ہم اُس نام پر پورے اُتر رہے ہوں گے جو خدا نے ہمیں یسعیاہ 43:10 کے مطابق دیا ہے: ”تُم میرے گواہ ہو اور میرا خادم بھی جسے مَیں نے برگزیدہ کِیا۔“
3، 4. (الف) بائبل سٹوڈنٹس نے ایک نیا نام کب اپنایا؟ اور اُنہوں نے اِس نام کے بارے میں کیسا محسوس کِیا؟ (اِس مضمون کی پہلی تصویر کو دیکھیں۔) (ب) اِس مضمون میں ہم کن سوالوں پر غور کریں گے؟
3 یہوواہ کے نام سے کہلانا ایک بہت بڑا اعزاز ہے کیونکہ وہ ”ازلی بادشاہ“ ہے۔ اُس نے اپنے نام یہوواہ کے بارے میں کہا: ”ابد تک میرا یہی نام ہے اور سب نسلوں میں اِسی سے میرا ذکر ہوگا۔“ (1-تیم 1:17؛ خر 3:15؛ واعظ 2:16 پر غور کریں۔) سن 1931ء میں بائبل سٹوڈنٹس نے نام یہوواہ کے گواہ اپنایا۔ اِس کے بعد مینارِنگہبانی میں بہت سے خط شائع ہوئے جن میں بہنبھائیوں نے بتایا کہ وہ اِس نام کے بارے میں کیسا محسوس کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر کینیڈا کی ایک کلیسیا نے لکھا: ”یہ بات سُن کر ہمارے دل خوشی سے بھر گئے کہ اب سے ہم یہوواہ کے گواہ کہلائیں گے۔ ہمارا پکا اِرادہ ہے کہ ہم اِس نام کے لائق ٹھہریں گے۔“
4 آپ کیسے ظاہر کر سکتے ہیں کہ آپ خدا کے نام سے کہلانے کے اعزاز کی قدر کرتے ہیں؟ کیا آپ اِس بات کی وضاحت کر سکتے ہیں کہ خدا نے قدیم زمانے میں اور آجکل اپنے بندوں کو گواہ کیوں کہا؟
قدیم زمانے میں خدا کے گواہ
5، 6. (الف) اِسرائیلی والدین کو کس طرح یہوواہ کے بارے میں گواہی دینی تھی؟ (ب) اِسرائیلی والدین کو اَور کیا کرنے کا حکم دیا گیا؟ اور مسیحی والدین اِس سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
5 یسعیاہ نبی کے زمانے میں بنیاِسرائیل اِنفرادی طور پر یہوواہ کے ”گواہ“ تھے مگر خدا نے پوری قوم کو اپنا ”خادم“ کہا۔ (یسع 43:10) یہوواہ کے بارے میں گواہی دینے کا ایک طریقہ یہ تھا کہ وہ اپنے بچوں کو بتائیں کہ خدا نے اُن کے باپدادا کے لیے کیاکیا کِیا۔ مثال کے طور پر جب بنیاِسرائیل کو ہر سال عیدِفسح منانے کی ہدایت دی گئی تو اُن سے کہا گیا: ”جب تمہاری اولاد تُم سے پوچھے کہ اِس عبادت سے تمہارا مقصد کیا ہے؟ تو تُم یہ کہنا کہ یہ [یہوواہ] کی فسح کی قربانی ہے جو مصرؔ میں مصریوں کو مارتے وقت بنیاِسرائیل کے گھروں کو چھوڑ گیا اور یوں ہمارے گھروں کو بچا لیا۔“ (خر 12:26، 27) وہ اپنے بچوں کو شاید یہ بھی بتاتے ہوں کہ جب موسیٰ نے فرعون سے اِجازت مانگی کہ بنیاِسرائیل یہوواہ کی عبادت کرنے کے لیے بیابان میں جائیں تو فرعون نے کہا: ”[یہوواہ] کون ہے کہ مَیں اُس کی بات کو مان کر بنیاِسرائیل کو جانے دوں؟“ (خر 5:2) اِس کے علاوہ بنیاِسرائیل نے اپنے بچوں کو یہ بھی بتایا ہوگا کہ جب مصر پر دس آفتیں آئیں اور بنیاِسرائیل بحرِقلزم پر مصری فوج سے بچ گئے تو واضح ہو گیا کہ یہوواہ کون ہے۔ وہ کائنات کی سب سے طاقتور ہستی ہے۔ اِن سب واقعات کو دیکھ کر بنیاِسرائیل اِس بات کے بھی گواہ بنے کہ یہوواہ سچا خدا ہے اور ہمیشہ اپنے وعدوں کو پورا کرتا ہے۔
6 جن اِسرائیلیوں نے اِس بات کی قدر کی کہ وہ خدا کے نام سے وابستہ ہیں، اُنہوں نے نہ صرف اپنے بچوں کو یہوواہ کے حیرتانگیز کاموں کے بارے میں بتایا ہوگا بلکہ اُن پردیسیوں کو بھی جو اُن کے غلام بنے۔ بنیاِسرائیل کو یہ حکم بھی دیا گیا تھا کہ وہ اپنے بچوں کو خدا کے معیاروں کے بارے میں سکھائیں۔ یہوواہ خدا نے اُن سے کہا: ”تُم پاک ہو کیونکہ مَیں جو [یہوواہ] تمہارا خدا ہوں پاک ہوں۔“ (احبا 19:2؛ است 6:6، 7) آجکل بھی مسیحی والدین کو اپنے بچوں کی اِس طرح تربیت کرنی چاہیے کہ وہ اپنا چالچلن پاک رکھیں اور یوں یہوواہ کے نام کی بڑائی کریں۔—امثال 1:8؛ افسیوں 6:4 کو پڑھیں۔
جب ہم اپنے بچوں کو یہوواہ خدا کے بارے میں تعلیم دیتے ہیں تو یہوواہ کے نام کی بڑائی ہوتی ہے۔ (پیراگراف 5 اور 6 کو دیکھیں۔)
7. (الف) جب بنیاِسرائیل خدا کے وفادار تھے تو دوسری قوموں پر اِس کا کیا اثر ہوا؟ (ب) خدا کے نام سے کہلانے والوں پر کیا ذمےداری آتی ہے؟
7 جب تک بنیاِسرائیل خدا کے وفادار رہے، وہ اُس کے نام کی بڑائی کرتے رہے۔ اُنہیں یہ بتایا گیا تھا کہ ”دُنیا کی سب قومیں یہ دیکھ کر کہ تُو [یہوواہ] کے نام سے کہلاتا ہے تجھ سے ڈر جائیں گی۔“ (است 28:10) لیکن افسوس کی بات ہے کہ بنیاِسرائیل کی تاریخ بڑی حد تک نافرمانی کی داستان ہے۔ وہ باربار بُتوں کی عبادت کرنے پر اُتر آتے تھے۔ وہ اُن کنعانی دیوتاؤں کی طرح جن کی وہ پوجا کرتے تھے، ظالم بن گئے، وہ اپنے بچوں کو قربان کرنے لگے اور غریبوں پر ظلم کرنے لگے۔ ہم اِس سے کیا سبق سیکھ سکتے ہیں؟ ہمیں کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ ہم اُس خدا کے نام سے کہلاتے ہیں جو پاک ہے۔ اِس لیے ہمیں بھی پاک رہنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
”دیکھو مَیں ایک نیا کام کروں گا“
8. (الف) یہوواہ خدا نے یسعیاہ نبی کو کیا حکم دیا؟ (ب) یہ جان کر کہ لوگ اُن کے پیغام کو قبول نہیں کریں گے، یسعیاہ نبی نے کیسا ردِعمل ظاہر کِیا؟
8 یسعیاہ کی کتاب میں یہوواہ خدا نے پیشگوئی کی کہ وہ بنیاِسرائیل کو حیرتانگیز طریقے سے غلامی سے چھڑائے گا۔ (یسع 43:19) اِس کتاب کے پہلے چھ ابواب میں بنیاِسرائیل کو اِس بات سے آگاہ کِیا گیا کہ یروشلیم اور اُس کے آسپاس کے شہروں پر کونسی مصیبت آنی والی ہے۔ یہوواہ خدا جو اِنسان کے دل کو پرکھتا ہے، وہ جانتا تھا کہ زیادہتر اِسرائیلی اِس آگاہی کو نظرانداز کریں گے۔ پھر بھی اُس نے یسعیاہ نبی کو حکم دیا کہ وہ اُنہیں آگاہی دیتے رہیں۔ یسعیاہ اپنی قوم کی ہٹدھرمی کی وجہ سے بہت پریشان تھے اور وہ جاننا چاہتے تھے کہ یہ لوگ کب تک بُرے کام کرتے رہیں گے۔ خدا نے اُنہیں جواب دیا: ”جب تک بستیاں ویران نہ ہوں اور کوئی بسنے والا نہ رہے اور گھر بےچراغ نہ ہوں اور زمین سراسر اُجاڑ نہ ہو جائے۔“—یسعیاہ 6:8-11 کو پڑھیں۔
9. (الف) یروشلیم کے بارے میں یسعیاہ نبی کی پیشگوئی کب پوری ہوئی؟ (ب) آجکل ہمیں کس آگاہی پر دھیان دینا چاہیے؟
9 جب یسعیاہ نبی کو آگاہی دینے کا کام سونپا گیا تو اُس وقت عُزیاہ بادشاہ کی حکمرانی کا آخری سال چل رہا تھا یعنی یہ 778 قبلازمسیح کا سال تھا۔ یسعیاہ نے 46 سال تک نبوّت کا کام کِیا۔ اِس کا مطلب ہے کہ وہ 732 قبلازمسیح تک نبوّت کرتے رہے جب حِزقیاہ بادشاہ ملک یہوداہ پر حکمرانی کر رہے تھے۔ اِس کے 125 سال بعد یعنی 607 قبلازمسیح میں یروشلیم تباہ ہوا۔ لہٰذا خدا نے اپنی قوم کو بہت عرصہ پہلے ہی خبردار کر دیا تھا کہ اُن کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ ہمارے زمانے میں بھی خدا لوگوں کو کافی عرصے سے بتا رہا ہے کہ اِس دُنیا کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ مینارِنگہبانی 135 سال سے شائع ہو رہا ہے اور اِس کے پہلے شمارے سے ہی لوگوں کو آگاہ کِیا جا رہا ہے کہ شیطان کی دُنیا جلد ختم ہونے والی ہے اور اُس کی جگہ یسوع مسیح کی ہزار سالہ حکمرانی قائم ہوگی۔—مکا 20:1-3، 6۔
10، 11. یہودیوں نے یسعیاہ نبی کی پیشگوئی کو کیسے پورے ہوتے دیکھا؟
10 جن یہودیوں نے خود کو بابل کی فوج کے حوالے کر دیا، وہ یروشلیم کی تباہی میں زندہ بچ گئے اور اُن کو شہر بابل لے جایا گیا۔ (یرم 27:11، 12) اِس کے 70 سال بعد خدا کے بندوں نے اِس پیشگوئی کو پورا ہوتے ہوئے دیکھا کہ ”[یہوواہ] تمہارا نجات دینے والا اِؔسرائیل کا قدوس یوں فرماتا ہے کہ تمہاری خاطر مَیں نے بابلؔ پر خروج کرایا اور مَیں اُن سب کو فراریوں کی حالت میں . . . لے آؤں گا۔“—یسع 43:14۔
11 یہ پیشگوئی اکتوبر 539 قبلازمسیح میں پوری ہوئی۔ ایک رات بابل کا بادشاہ اور اُس کے اُمرا ایک جشن منا رہے تھے جس کے دوران وہ یروشلیم کی ہیکل سے لائے ہوئے ظروف میں مے پی رہے تھے اور اپنے دیوتاؤں کی ستائش کر رہے تھے۔ لیکن اِسی رات مادی اور فارسی فوج نے بابل پر قبضہ کر لیا۔ سن 538 یا 537 قبلازمسیح میں شاہِفارس خورس نے یہودیوں کو حکم دیا کہ وہ یروشلیم واپس لوٹ جائیں اور ہیکل کو دوبارہ تعمیر کریں۔ یسعیاہ نے اِن سب باتوں کی پیشگوئی کی تھی اور اُنہوں نے یہوواہ خدا کے اِس وعدے کا بھی ذکر کِیا تھا کہ وہ یروشلیم واپس لوٹنے والوں کی ضروریات کو پورا کرے گا اور اُن کی حفاظت کرے گا۔ خدا نے اِن کے بارے میں کہا: ”مَیں نے اِن لوگوں کو اپنے لئے بنایا تاکہ وہ میری حمد کریں۔“ (یسع 43:21؛ 44:26-28) جب اِن یہودیوں نے واپس آ کر ہیکل کی تعمیر کی تو وہ اِس بات کے گواہ بنے کہ صرف یہوواہ ہی سچا خدا ہے اور وہ ہمیشہ اپنے وعدوں کو پورا کرتا ہے۔
12، 13. (الف) جب یروشلیم میں دوبارہ یہوواہ خدا کی عبادت کی جانے لگی تو بنیاِسرائیل کے ساتھ اَور کن لوگوں کو خدا کی عبادت کرنے کا موقع ملا؟ (ب) یسوع مسیح کی ’اَور بھی بھیڑوں‘ سے کیا توقع کی جاتی ہے؟ اور اُنہیں مستقبل میں کس کو گواہی دینے کا موقع ملے گا؟
12 واپس لوٹنے والوں میں ہزاروں ایسے لوگ بھی شامل تھے جو پیدائشی طور پر اِسرائیلی نہیں تھے۔ اور بعد میں غیرقوموں میں سے بھی بہت سے لوگوں نے یہودی مذہب اپنا لیا۔ (عز 2:58، 64، 65؛ آستر 8:17) آجکل ’خدا کا اِسرائیل‘ ممسوح مسیحیوں پر مشتمل ہے۔ لیکن یسوع مسیح کی ’اَور بھی بھیڑوں‘ کی ایک ”بڑی بِھیڑ“ اُن کے ساتھ مل کر خدا کی عبادت کرتی ہے۔ (مکا 7:9، 10؛ یوح 10:16؛ گل 6:16) بڑی بِھیڑ کو بھی یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ یہوواہ کے گواہ کہلائیں۔
13 یسوع مسیح کی ہزار سالہ حکمرانی کے دوران بڑی بِھیڑ کو یہ اعزاز حاصل ہوگا کہ وہ جی اُٹھنے والوں کو بتائے کہ شیطان کی دُنیا کے آخری زمانے میں یہوواہ کے گواہوں کی زندگی کیسی تھی۔ لیکن یہ اعزاز ہمیں صرف اُس صورت میں ملے گا اگر ہم اپنے نام یہوواہ کے گواہ پر پورا اُتریں گے اور پاک رہنے کی کوشش کریں گے۔ البتہ ہماری تمام کوششوں کے باوجود ہم سے غلطیاں ہوں گی۔ اِس لیے ہمیں ہر روز اپنی خطاؤں کے لیے معافی مانگنی چاہیے۔ یوں ہم اِس بات کے لیے قدر ظاہر کریں گے کہ خدا نے ہمیں اپنے پاک نام سے کہلانے کا شاندار شرف عطا کِیا ہے۔—1-یوحنا 1:8، 9 کو پڑھیں۔
خدا کے نام کا مطلب
14. یہوواہ کے نام کا مطلب کیا ہے؟
14 آئیں، ذرا خدا کے نام کے مطلب پر غور کریں تاکہ ہم اُس کے پاک نام سے کہلانے کے اعزاز کے لیے اپنی قدر بڑھا سکیں۔ نام یہوواہ ایک عبرانی لفظ سے نکلا ہے جس کا مطلب ”بننا“ ہے اور جس میں عمل بھی شامل ہے۔ لہٰذا یہوواہ کا لفظی مطلب ہے: ”وہ بناتا ہے۔“ یہ نام بہت ہی مناسب ہے کیونکہ یہوواہ نے کائنات اور اِس کی ہر چیز کو بنایا ہے۔ اِس کے علاوہ وہ اپنے وعدوں کو حقیقت بناتا ہے۔ وہ اپنی مرضی کو ہر صورت میں پورا کرتا ہے، چاہے شیطان یا کوئی اَور دُشمن اُسے روکنے کی کتنی ہی کوشش کیوں نہ کرے۔
15. یہوواہ خدا نے اپنے نام کی جو وضاحت کی، ہم اِس سے اُس کے بارے میں کیا سیکھتے ہیں؟ (بکس ”ایک خاص نام“ کو دیکھیں۔)
15 جب یہوواہ خدا نے موسیٰ کو حکم دیا کہ وہ بنیاِسرائیل کو مصر کی غلامی سے چھڑائیں تو اُس نے اپنے نام کے مطلب کے بارے میں ایک اَور تفصیل بتائی۔ اُس نے اپنے نام کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: ”مَیں جو ہوں سو مَیں ہوں [یا ”مَیں جو بننا چاہتا ہوں، وہ بنوں گا،“ نیو ورلڈ ٹرانسلیشن]۔“ پھر اُس نے موسیٰ سے کہا: ”سو تُو بنیاِسرائیل سے یوں کہنا کہ مَیں جو ہوں [یا ”مَیں جو بنوں گا“] نے مجھے تمہارے پاس بھیجا ہے۔“ (خر 3:14) لہٰذا یہوواہ اپنی مرضی کو پورا کرنے کے لیے جو بھی ضروری ہو، بنتا ہے۔ مثال کے طور پر وہ بنیاِسرائیل کی ضرورت کے مطابق اُن کا چھڑانے والا، محافظ، رہنما اور پروردگار بنا۔
خدا کے نام سے کہلانے کا اعزاز
16، 17. (الف) ہم کیسے ظاہر کر سکتے ہیں کہ ہم خدا کے نام سے کہلانے کے اعزاز کی قدر کرتے ہیں؟ (ب) اگلے مضمون میں ہم کس سوال پر بات کریں گے؟
16 ہمارے زمانے میں بھی یہوواہ خدا ہماری ضروریات کا خیال رکھتا ہے اور یوں اپنے نام کے مطلب پر پورا اُترتا ہے۔ لیکن وہ اپنے مقصد کو انجام تک پہنچانے کے لیے نہ صرف خود وہ سب کچھ بنتا ہے جو ضروری ہے بلکہ وہ اپنے بندوں کو بھی اِس لائق بناتا ہے کہ وہ اُس کے مقصد کو فروغ دیں۔ اِس بات پر سوچبچار کرنے سے ہمیں یہ ترغیب ملتی ہے کہ ہم ہر اُس کردار کو اچھی طرح سے نبھائیں جو وہ ہمیں دیتا ہے۔ کورے نامی ایک 84 سالہ بھائی جو ناروے میں رہتے ہیں اور 70 سال سے یہوواہ خدا کی خدمت کر رہے ہیں، وہ کہتے ہیں: ”مَیں ازلی بادشاہ یہوواہ کی خدمت کرنا اور اُس کے نام سے کہلانا بڑی عزت کی بات سمجھتا ہوں۔ دوسروں کو بائبل کی سچائیاں بتانا واقعی ایک بڑا شرف ہے۔ جب لوگ کوئی نئی بات سمجھ کر خوش ہوتے ہیں تو مجھے بھی بڑی خوشی ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر جب مَیں دوسروں کو بتاتا ہوں کہ یسوع مسیح کی قربانی سے ہمیں کتنے فائدے ہوتے ہیں اور اِس کے ذریعے ہمیں ایک خوشگوار نئی دُنیا میں ہمیشہ کی زندگی مل سکتی ہے تو مجھے بہت اِطمینان ملتا ہے۔“
17 سچ ہے کہ بہت سے علاقوں میں ایسے لوگوں کو ڈھونڈنا مشکل ہوتا جا رہا ہے جو خدا کے بارے میں سیکھنا چاہتے ہیں۔ لیکن جب کوئی شخص بادشاہت کا پیغام سنتا ہے اور آپ اُسے خدا کے نام کے بارے میں بتا سکتے ہیں تو بھائی کورے کی طرح آپ کو بھی ضرور خوشی ملتی ہے۔ مگر ہم یہوواہ کے گواہ ہونے کے ساتھساتھ یسوع مسیح کے گواہ کیسے ہو سکتے ہیں؟ اگلے مضمون میں اِس سوال پر بات کی جائے گی۔