یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م14 15/‏6 ص.‏ 8-‏11
  • طلاق‌یافتہ مسیحی آپ اُن کی مدد کیسے کر سکتے ہیں؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • طلاق‌یافتہ مسیحی آپ اُن کی مدد کیسے کر سکتے ہیں؟‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے—2014ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • شدید جذبات کا طوفان
  • نئی صورتحال سے نپٹنے کی جدوجہد
  • احساسِ‌تنہائی کا مقابلہ
  • طلاق کی تلخ فصل کاٹنا
    جاگو!‏—‏1992ء
  • طلاق کا دھماکہ
    جاگو!‏—‏1992ء
مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے—2014ء
م14 15/‏6 ص.‏ 8-‏11

طلاق‌یافتہ مسیحی—‏آپ اُن کی مدد کیسے کر سکتے ہیں؟‏

ایک عورت جو طلاق‌یافتہ مسیحی بہن کو تسلی دے رہی ہے۔‏

بِلاشُبہ آپ کسی ایسے شخص کو جانتے ہوں گے جس کی طلاق ہوئی ہے۔ یہ اِس لیے ہے کیونکہ آج‌کل طلاق بہت عام ہو گئی ہے۔ مثال کے طور پر پولینڈ میں جن لوگوں کی عمر 30 سال ہے اور جن کی شادی کو 3 سے 6 سال ہو گئے ہیں، اُن میں طلاق کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ لیکن طلاق صرف اِسی عمر کے لوگوں میں عام نہیں ہے۔‏

خاندانی زندگی پر تحقیق کرنے والے ایک ہسپانوی اِدارے کے مطابق ”‏اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ [‏یورپ میں]‏ شادی‌شُدہ لوگوں کی آدھی تعداد کی کبھی نہ کبھی طلاق ہو جائے گی۔“‏ دوسرے ترقی‌یافتہ ممالک میں بھی ایسی ہی صورتحال پائی جاتی ہے۔‏

شدید جذبات کا طوفان

طلاق لینے والے شخص پر کیا گزرتی ہے؟ ایک ماہر جو مشرقی یورپ میں شادی‌شُدہ جوڑوں کی مدد کرتی ہیں، وہ کہتی ہیں:‏ ”‏طلاق اُن مسائل کو محض قانونی شکل دیتی ہے جو پہلے سے پیدا ہوئے ہیں۔ اِس سے پہلے جوڑے کا رشتہ بگڑ جاتا ہے اور نوبت علیٰحدگی تک پہنچ جاتی ہے۔ یہ صورتحال بڑے دُکھ کا باعث بنتی ہے۔“‏ وہ یہ بھی کہتی ہیں:‏ ”‏یوں اُن کی زندگی میں شدید جذبات کا طوفان آ جاتا ہے، مثلاً غصہ، پچھتاوا، مایوسی، اُداسی اور شرمندگی۔“‏ اِس صورتحال میں کبھی‌کبھار خودکُشی کرنے کے خیال بھی آ سکتے ہیں۔ یہ ماہر آگے کہتی ہیں:‏ ”‏جب عدالت میں طلاق کو قانونی شکل دی جاتی ہے تو اگلا مرحلہ شروع ہو جاتا ہے۔ طلاق‌یافتہ شخص کھوکھلے‌پن اور احساسِ‌تنہائی کا شکار ہو کر یہ سوچنے لگتا ہے کہ اب مَیں آگے کیا کروں گا؟ میری زندگی کا کیا مقصد ہے؟“‏

چند سال پہلے اِیوا نامی بہن کی طلاق ہوئی۔ اُنہوں نے بتایا:‏ ”‏جب میرے پڑوسی اور ساتھ کام کرنے والے مجھے طلاق‌یافتہ عورت کہتے تھے تو شروع میں مجھے بہت شرمندگی محسوس ہوتی تھی۔ مجھے اپنے حالات کی وجہ سے بہت غصہ بھی آتا تھا۔ مجھے اکیلے اپنے دو بچوں کی پرورش کرنی پڑی اور مجھے ماں اور باپ دونوں کا کردار ادا کرنا پڑا۔“‏a جب آدم کی طلاق ہوئی تو وہ 12 سال سے بزرگ کے طور پر خدمت کر رہے تھے۔ وہ کہتے ہیں:‏ ”‏مَیں اپنی نظروں میں بہت گِر چُکا ہوں۔ اِس لیے کبھی‌کبھار مجھے بہت غصہ آ جاتا ہے اور میرا دل چاہتا ہے کہ دوسروں سے الگ رہوں۔“‏

نئی صورتحال سے نپٹنے کی جدوجہد

کچھ طلاق‌یافتہ اشخاص کو اپنی صورتحال سے نپٹنا اِس لیے مشکل لگتا ہے کیونکہ وہ اپنے مستقبل کے لیے پریشان رہتے ہیں۔ کبھی‌کبھار ایسی پریشانی کئی سالوں تک اُن کا پیچھا نہیں چھوڑتی۔ اُن کو شاید لگے کہ دوسروں کو اُن کی فکر نہیں ہے۔ ایک کالم‌نگار جو طلاق‌یافتہ لوگوں کی زندگی کے بارے میں لکھتی ہے، وہ کہتی ہے:‏ ‏”‏اب اُن کو ایسے کام کرنے پڑتے ہیں جن کے وہ عادی نہیں ہیں اور اُنہیں اپنے مسئلوں سے خود نپٹنا پڑتا ہے۔“‏

سٹانیس‌لو بتاتے ہیں:‏ ”‏ہماری طلاق کے بعد میری بیوی مجھے ہماری بیٹیوں سے ملنے نہیں دیتی تھی۔ اِس لیے مجھے لگتا تھا کہ کسی کو میری فکر نہیں ہے اور شاید یہوواہ خدا نے بھی مجھے چھوڑ دیا ہے۔ مَیں زندگی سے اُکتا گیا تھا۔ لیکن کچھ عرصے کے بعد مجھے ہوش آیا کہ میری سوچ کتنی غلط ہے۔“‏ وانڈا نامی ایک طلاق‌یافتہ بہن کو بھی اپنے مستقبل کی فکر ستاتی تھی۔ وہ بتاتی ہیں:‏ ”‏مجھے یقین تھا کہ کچھ عرصے کے بعد لوگ، یہاں تک کہ کلیسیا کے بہن‌بھائی بھی میری اور میرے بچوں کی مدد کرنا بند کر دیں گے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ بہن‌بھائیوں نے کبھی ہمارا ساتھ نہیں چھوڑا۔ اُن کی مدد سے مَیں اپنے بچوں کی اچھی تربیت کر پائی اور آج وہ یہوواہ کی عبادت کر رہے ہیں۔“‏

اِن بیانات سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ طلاق ایک شخص کے جذبات پر کتنا گہرا اثر ڈالتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ یہ سوچنے لگے کہ اُس کی کوئی قدر نہیں ہے اور وہ اِس لائق نہیں ہے کہ اُس میں دلچسپی لی جائے۔ شاید اُسے لگے کہ سب اُس کے خلاف ہیں۔ اِس لیے شاید وہ یہ سمجھے کہ کلیسیا میں محبت اور ہمدردی کا جذبہ نہیں ہے۔ لیکن سٹانیس‌لو اور وانڈا کے تجربے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اکثر طلاق‌یافتہ شخص کو یہ احساس ہو جاتا ہے کہ کلیسیا کے بہن‌بھائیوں کو اُس کی فکر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کلیسیا کے بہن‌بھائی مدد ضرور کرتے ہیں، چاہے شروع میں ایک شخص کو اِس بات کا احساس ہو یا نہ ہو۔‏

احساسِ‌تنہائی کا مقابلہ

یاد رکھیں کہ ہماری سب کوششوں کے باوجود طلاق‌یافتہ بہن‌بھائی وقتاًفوقتاً احساسِ‌تنہائی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ خاص طور پر طلاق‌یافتہ بہنوں کو شاید لگے کہ اُن کا کوئی دوست نہیں ہے۔ الیشا بتاتی ہیں:‏ ”‏میری طلاق کو آٹھ سال ہو چکے ہیں۔ لیکن ابھی بھی مجھے کبھی‌کبھار ایسا لگتا ہے کہ مَیں کسی کام کی نہیں ہوں۔ ایسے اوقات میں مَیں اکیلی رہنا چاہتی ہوں اور مجھے اپنی حالت پر بہت رونا آتا ہے۔“‏

بہت سے طلاق‌یافتہ لوگوں میں ایسے احساسات پیدا ہوتے ہیں۔ لیکن بائبل میں ہمیں یہ نصیحت کی گئی ہے کہ ہم خود کو دوسروں سے الگ نہ رکھیں۔ اگر ہم اِس نصیحت پر عمل نہیں کرتے تو شاید ہم ”‏ہر معقول بات“‏ کو رد کرنے لگیں۔ (‏امثا 18:‏1‏)‏ جو شخص تنہا محسوس کرتا ہے، اُسے یہ سمجھنا چاہیے کہ معقول بات یہ ہے کہ وہ باربار کسی مخالف جنس کے پاس مشورے لینے یا تسلی حاصل کرنے کے لیے نہ جائے۔ یوں وہ نامناسب جذبات پیدا کرنے سے بچا رہے گا۔‏

طلاق‌یافتہ بہن‌بھائیوں کو شاید طرح‌طرح کے جذبات سے نپٹنا پڑے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ مستقبل کے لیے پریشان ہوں، تنہائی محسوس کریں اور خود کو بے‌کار سمجھیں۔ لیکن ہمیں سمجھنا چاہیے کہ ایسے جذبات غیرمعمولی نہیں ہیں اور اِن پر قابو پانے میں وقت لگتا ہے۔ اِس لیے ہمیں یہوواہ خدا کی مثال پر عمل کرتے ہوئے ایسے بہن‌بھائیوں کا سہارا بننا چاہیے۔ (‏زبور 55:‏22؛‏ 1-‏پطر 5:‏6، 7‏)‏ یقیناً ایسے بہن‌بھائی ہماری مدد کی بڑی قدر کرتے ہیں۔ واقعی اُنہیں کلیسیا میں سچے دوست مل جائیں گے۔—‏امثا 17:‏17؛‏ 18:‏24‏۔‏

a کچھ نام فرضی ہیں۔‏

خدا کا نظریہ

یہوواہ خدا کے بندے شادی کے بندھن کا بڑا احترام کرتے ہیں۔ یہ اِس لیے ہے کیونکہ ہم اِس معاملے میں خدا کا نظریہ اپناتے ہیں۔ مثال کے طور پر ملاکی 2:‏16 میں خدا نے کہا:‏ ”‏مَیں طلاق سے بیزار ہوں۔“‏ پاک کلام کے مطابق اپنے جیون‌ساتھی سے طلاق لینا صرف اُس صورت میں جائز ہے جب اُس نے جنسی بدکاری کی ہے۔ اِس لیے اگر کوئی شخص کسی اَور وجہ سے طلاق لینے کا سوچے، شاید اِس لیے کہ وہ کسی اَور سے شادی کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے تو یہ بڑی غلط بات ہوگی۔—‏پید 2:‏22-‏24؛‏ است 5:‏21؛‏ متی 19:‏4-‏6،‏ 9‏۔‏

لیکن اگر کسی کی طلاق ہو جاتی ہے، شاید جیون‌ساتھی کی بے‌وفائی کی وجہ سے تو کلیسیا کے بہن‌بھائی ایسے شخص کا سہارا بنتے ہیں۔ یہوواہ خدا کی طرح سچے مسیحی ایسے ”‏صادقوں“‏ کی مدد کو آتے ہیں جو وقتی طور پر ’‏شکستہ‌دل‘‏ ہو گئے ہیں۔—‏زبور 34:‏15،‏ 18؛‏ یسع 41:‏10‏۔‏

مدد کرنے کے کچھ طریقے

کیا آپ ایسے بھائی یا بہن کا سہارا بن سکتے ہیں جس کی طلاق ہوئی ہے؟ آپ اُس کی مدد کیسے کر سکتے ہیں تاکہ وہ اپنے جذبات پر قابو پا سکے؟ بائبل کے چند اصولوں پر غور کریں اور دیکھیں کہ کچھ مسیحیوں نے ایسے بہن‌بھائیوں کی مدد کیسے کی ہے۔‏

دھیان سے سنیں اور سمجھ‌داری سے کام لیں۔ (‏امثا 16:‏20،‏ 23‏)‏

یہ سمجھنے والی بات ہے کہ طلاق کے بعد ایک شخص دوسروں کو ساری تفصیل نہیں بتانا چاہتا کہ اُس کی طلاق کیوں ہوئی۔ اور اگر اِس معاملے پر بات کرنے سے اُسے غصہ آ جائے تو اُس کا دُکھ کم نہیں ہوگا۔ (‏امثا 12:‏25؛‏ روم 12:‏15‏)‏ آدم جن کا پہلے ذکر کِیا گیا ہے، اُن کو میکال کی طرف سے مدد ملی۔ میکال سمجھتے ہیں کہ طلاق‌یافتہ شخص کی بات دھیان سے سننے اور اُسے تسلی دینے کے لیے ضروری نہیں کہ آپ کو ہر تفصیل کا پتہ ہو۔ وہ کہتے ہیں:‏ ”‏مَیں نے آدم کو سمجھایا کہ جب وہ دُکھ کے عالم میں ہوتا ہے تو مجھے ایسی باتیں نہ بتائے جن پر وہ بعد میں پچھتائے۔“‏ میکال نے آدم پر ظاہر کِیا کہ وہ اُن کی ہر بات جاننا نہیں چاہتے۔ پھر بھی اُنہوں نے دھیان سے آدم کی بات سنی اور یوں اُن کے سچے دوست ثابت ہوئے۔ طلاق‌یافتہ بہن‌بھائیوں کو تسلی دینے کے بہت سے موقعے ہیں۔ مثال کے طور پر آپ اِجلاس سے پہلے یا اِس کے بعد اُن سے پوچھ سکتے ہیں:‏ ”‏آپ کیسے ہیں؟ مَیں سمجھ سکتا ہوں کہ آپ بڑے مشکل وقت سے گزر رہے ہیں۔ لیکن اگر آپ کو کسی بھی مدد کی ضرورت ہو تو مَیں حاضر ہوں۔“‏

طلاق‌یافتہ شخص کی ضروریات سے باخبر رہیں۔ (‏فل 2:‏4‏)‏

میروسلو بتاتے ہیں:‏ ”‏مَیں اور میری بیوی ایک طلاق‌یافتہ بہن کی مدد کرنے کے لیے وقت نکالتے تھے۔ مثال کے طور پر ہم نے اُس کے گھر کا تالا ٹھیک کِیا اور اُسے ڈاکٹر کے پاس لے کر گئے۔“‏ یہ کام شاید بہت معمولی لگیں لیکن اِن سے اُس بہن کی بڑی مدد ہوئی۔ وقت گزرنے کے ساتھ‌ساتھ وہ اپنی صورتحال سے نپٹ پائی۔ یہاں تک کہ وہ بعد میں پہل‌کار بن گئی اور اُس کی 11 سالہ بیٹی نے بپتسمہ لے لیا۔‏

ایک شوہر اور بیوی طلاق‌یافتہ بہن کی مدد کر رہے ہیں۔‏

طلاق‌یافتہ شخص کو یقین دِلائیں کہ یہوواہ خدا کو اُس کی فکر ہے۔‏

اگر کوئی بھائی یا بہن احساسِ‌کمتری کا شکار ہو گیا ہے تو آپ اُسے یقین دِلا سکتے ہیں کہ یہوواہ خدا اپنے ہر خادم کی قدر کرتا ہے۔ اُس کی نظر میں ہماری قدر ”‏بہت سی چڑیوں سے زیادہ ہے۔“‏ وہ ہم میں سے ہر ایک کو بیش‌قیمت خیال کرتا ہے۔ (‏متی 10:‏29-‏31‏)‏ یہوواہ خدا ”‏دلوں کو .‏ .‏ .‏ پرکھتا ہے“‏ اور اِس لیے وہ طلاق‌یافتہ لوگوں کے احساسات کو سمجھ سکتا ہے۔ وہ اپنے وفادار بندوں کو کبھی نہیں چھوڑے گا۔ (‏امثا 17:‏3؛‏ زبور 145:‏18؛‏ عبر 13:‏5‏)‏ جب آپ کسی طلاق‌یافتہ شخص سے ملنے جاتے ہیں تو اُسے یقین دِلائیں کہ یہوواہ خدا اُس محبت کی قدر کرتا ہے جو وہ اُس کے نام کے لیے ظاہر کرتا ہے۔—‏فل 2:‏29‏۔‏

طلاق‌یافتہ شخص کی حوصلہ‌افزائی کریں کہ وہ کلیسیا کے قریب رہے۔‏

جب دُکھ، مایوسی اور پریشانی جیسے جذبات ایک شخص پر حاوی ہوتے ہیں تو شاید اِجلاسوں میں جانے کو اُس کا دل نہ چاہے۔ لیکن اِجلاسوں میں جانے سے ہی اُسے حوصلہ اور طاقت ملتی ہے اور اُس کی ”‏روحانی ترقی“‏ ہوتی ہے۔ (‏1-‏کر 14:‏26؛‏ زبور 122:‏1‏)‏ اِس لیے بزرگوں کو اُس کی حوصلہ‌افزائی کرنی چاہیے کہ وہ اِجلاسوں میں آتا رہے۔ وانڈا جن کا پہلے ذکر ہوا ہے، کہتی ہیں:‏ ”‏بزرگوں نے ہمارے لیے جو کچھ کِیا، ہم اُسے کبھی بُھلا نہیں سکتے۔“‏

طلاق‌یافتہ شخص کی حوصلہ‌افزائی کریں کہ وہ دُعا کرنے، مطالعہ کرنے اور سوچ‌بچار کرنے سے خدا کے نزدیک رہے۔ (‏یعقو 4:‏8‏)‏

اُسے یہ یاد دِلائیں کہ حالانکہ یہوواہ خدا قادرِمطلق ہے اور آسمان پر رہتا ہے پھر بھی وہ اُس شخص پر نگاہ کرتا ہے جو ”‏غریب اور شکستہ‌دل ہے اور [‏اُس کے]‏ کلام سے کانپ جاتا ہے۔“‏ اُسے بتائیں کہ دُعا اور مطالعے کے ذریعے خدا کے قریب جانے سے اُسے کتنے فائدے ہوں گے۔—‏یسع 66:‏2‏۔‏

طلاق‌یافتہ شخص کے ساتھ مُنادی کا کام کرنے یا اِجلاسوں کی تیاری کرنے کا بندوبست بنائیں۔‏

دو بھائی جو مل کر مُنادی کا کام کر رہے ہیں۔‏

اِس سے اُس کا اِعتماد بڑھ جائے گا اور یوں وہ بہتر طور پر اپنی نئی صورتحال کا سامنا کر سکے گا۔ مارٹا نے ایک بہن کی مدد کی جو اپنی طلاق کے بعد بالکل ٹوٹ چکی تھی۔ وہ کہتی ہیں:‏ ”‏ہم باقاعدگی سے مل کر مُنادی کا کام کرتے ہیں۔ جب ہم مُنادی کے کام کے سلسلے میں اپنے اِرادوں کو پورا کرتے ہیں تو ہمیں بہت خوشی ملتی ہے۔ کبھی‌کبھار ہم مل کر اِجلاسوں کی تیاری کرتے ہیں اور اُس کے بعد مل کر کھانا پکاتے ہیں۔“‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں