یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م14 15/‏6 ص.‏ 7
  • قارئین کے سوال

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • قارئین کے سوال
  • مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے—2014ء
  • ملتا جلتا مواد
  • اُمیدِقیامت میں قدرت ہے
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2000ء
  • ‏”‏مُردے کیسے زندہ ہوں گے؟“‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2020ء
  • ‏”‏موت کو ختم کر دیا جائیگا“‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1998ء
مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے—2014ء
م14 15/‏6 ص.‏ 7
لوگ فردوس میں جی اُٹھنے والوں کا اِستقبال کر رہے ہیں۔‏

قارئین کے سوال

کیا مسیحیوں کے لیے اپنے مُردوں کی لاشیں جلانا جائز ہے؟‏

پاک صحیفوں میں مُردوں کی لاشیں جلانے سے منع نہیں کیا گیا۔‏

بائبل میں کچھ ایسے موقعوں کے بارے میں بتایا گیا جب لاشوں کو یا مُردوں کی ہڈیوں کو جلایا گیا تھا۔ (‏یشو 7:‏25؛‏ 2-‏توا 34:‏4، 5‏)‏ یہ شاید اِس لیے کِیا گیا کیونکہ اُن لوگوں کو دفنانے کے لائق نہیں سمجھا جاتا تھا۔ لیکن کسی لاش کو جلانے کی صرف یہی وجہ نہیں ہوتی تھی۔‏

یہ بات اُس واقعے سے ظاہر ہوتی ہے جو ساؤل اور اُن کے تین بیٹوں کی موت کے بعد ہوا۔ وہ فلستیوں سے لڑتے وقت ہلاک ہو گئے۔ ساؤل کے بیٹوں میں یونتن بھی شامل تھے جو داؤد کے اچھے دوست اور وفادار حمایتی تھے۔ جب یبیس میں رہنے والے کچھ اِسرائیلیوں کو اِن چاروں کی موت کا پتہ چلا تو اُنہوں نے اُن کی لاشیں اُٹھائیں، اُن کو جلا دیا اور اُن کی ہڈیوں کو دفنایا۔ داؤد نے اِس کے لیے بعد میں اُن کی تعریف کی۔—‏1-‏سمو 31:‏2،‏ 8-‏13؛‏ 2-‏سمو 2:‏4-‏6‏۔‏

بائبل میں ہمیں یہ اُمید دی گئی ہے کہ خدا مُردوں کو زندہ کرے گا۔ چاہے ایک شخص کی لاش کو جلایا جائے یا اُسے دفنایا جائے، خدا اُس شخص کو نئے بدن کے ساتھ زندہ کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ جن تین عبرانیوں کو بادشاہ نبوکدنضر نے آگ کی جلتی بھٹی میں ڈلوایا، اُن کو یہ خوف نہیں تھا کہ اگر اُن کے بدن جل جائیں تو خدا اُنہیں زندہ نہیں کر سکے گا۔ (‏دان 3:‏16-‏18‏)‏ اِسی طرح نازیوں کے زمانے میں ہمارے بہت سے بہن‌بھائی اِس خطرے میں تھے کہ اُن کو ہلاک کرکے جلایا جائے۔ لیکن اُنہیں پکا یقین تھا کہ خدا اُن کو زندہ کرے گا۔ خدا کے کچھ خادم دھماکوں میں ہلاک ہو گئے یا کسی اَور وجہ سے اُن کی لاشیں کبھی ملی ہی نہیں۔ پھر بھی اِس میں کوئی شک نہیں کہ خدا اُنہیں زندہ کرے گا۔—‏مکا 20:‏13‏۔‏

ایک شخص کو زندہ کرنے کے لیے یہوواہ خدا کو اُسے وہی بدن عطا کرنے کی ضرورت نہیں جو وہ پہلے رکھتا تھا۔ یہ اِس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ خدا ممسوح مسیحیوں کو آسمان پر کیسے زندہ کرتا ہے۔ جس طرح یسوع مسیح کو ”‏روح کے اِعتبار سے زندہ کِیا گیا“‏ اِسی طرح ممسوح مسیحیوں کو بھی ایک روحانی جسم کے ساتھ زندہ کِیا جاتا ہے۔ وہ اپنے اِنسانی جسم کے ساتھ آسمان پر نہیں جاتے۔—‏1-‏پطر 3:‏18؛‏ 1-‏کر 15:‏42-‏53؛‏ 1-‏یوح 3:‏2‏۔‏

مُردوں کے زندہ ہونے پر ہماری اُمید کا اِنحصار اِس بات پر نہیں کہ لاشوں کے ساتھ کیا کِیا جائے بلکہ اِس پر ہے کہ خدا مُردوں کو زندہ کرنے کی طاقت رکھتا ہے اور ایسا کرنے کی خواہش بھی رکھتا ہے۔ (‏اعما 24:‏15‏)‏ ہم شاید یہ پوری طرح نہیں سمجھتے کہ خدا نے ماضی میں مُردوں کو کیسے زندہ کِیا تھا اور وہ مستقبل میں یہ کیسے کرے گا۔ لیکن ہمیں خدا پر پورا بھروسا ہے۔ اُس نے یسوع مسیح کو زندہ کرکے ”‏یہ بات سب پر ثابت کر دی ہے“‏ کہ وہ مُردوں کو زندہ کر سکتا ہے۔—‏اعما 17:‏31؛‏ لو 24:‏2، 3‏۔‏

ایک لاش کے ساتھ کیا کِیا جائے، یہ ہر مسیحی اور اُس کے خاندان کا اپنا فیصلہ ہے۔ لیکن مسیحیوں کو اپنے علاقے کے رسم‌ورواج، قوانین اور لوگوں کے نظریات کو بھی ذہن میں رکھنا چاہیے۔—‏2-‏کر 6:‏3، 4‏۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں