یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م13 15/‏11 ص.‏ 10-‏14
  • ہم صبر سے یہوواہ کے دن کا اِنتظار کیسے کر سکتے ہیں؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • ہم صبر سے یہوواہ کے دن کا اِنتظار کیسے کر سکتے ہیں؟‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے—2013ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • ہم میکاہ نبی کی مثال سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟‏
  • کن واقعات سے ظاہر ہوگا کہ اِنتظار کا وقت ختم ہونے والا ہے؟‏
  • ہم خدا کے صبر کے لئے قدر کیسے ظاہر کر سکتے ہیں؟‏
  • ہم ابد تک یہوواہ کے نام سے چلیں گے!‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2003ء
  • یہوواہ کے خادم حقیقی اُمید رکھتے ہیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2003ء
  • یہوواہ ہم سے کیا توقع کرتا ہے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2003ء
  • نبیوں کی مثال پر عمل کریں —‏میکاہ
    ہماری بادشاہتی خدمتگزاری ۲۰۱۴
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے—2013ء
م13 15/‏11 ص.‏ 10-‏14

ہم صبر سے یہوواہ کے دن کا اِنتظار کیسے کر سکتے ہیں؟‏

‏”‏مَیں .‏ .‏ .‏ خدا کا اِنتظار کروں گا۔“‏—‏میک ۷:‏۷۔‏

آپ اِن سوالوں کے کیا جواب دیں گے؟‏

  • ہم میکاہ نبی کی مثال سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟‏

  • ہم کن واقعات کو دیکھنے کے منتظر ہیں؟‏

  • ہم کیسے ظاہر کر سکتے ہیں کہ ہم یہوواہ خدا کے صبر کی قدر کرتے ہیں؟‏

۱.‏ ہم بے‌صبری کا شکار کیوں ہو سکتے ہیں؟‏

سن ۱۹۱۴ء میں جب مسیح کی بادشاہت آسمان پر قائم ہوئی تو شیطان کی دُنیا کا آخری زمانہ شروع ہو گیا۔ اُس وقت آسمان پر جنگ ہوئی اور یسوع مسیح نے شیطان اور اُس کے بُرے فرشتوں کو زمین پر پھینک دیا۔ ‏(‏مکاشفہ ۱۲:‏۷-‏۹ کو پڑھیں۔)‏ شیطان جانتا ہے کہ اُس کا ”‏تھوڑا ہی سا وقت باقی ہے۔“‏ (‏مکا ۱۲:‏۱۲‏)‏ لیکن پھر بھی اُس واقعے سے اب تک بہت سال بیت چکے ہیں۔ اِس لئے کئی مسیحیوں کو شاید ایسا لگے کہ آخری زمانہ بہت لمبا ہو گیا ہے۔ یہوواہ خدا کے دن کا اِنتظار کرتے‌کرتے کیا آپ بھی بے‌صبری کا شکار ہو گئے ہیں؟‏

۲.‏ ہم اِس مضمون میں کن سوالوں پر غور کریں گے؟‏

۲ بے‌صبری ہمارے لئے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ بے‌صبری کی حالت میں اِنسان اکثر جلدبازی سے کام لیتا ہے۔ ہم صبر سے یہوواہ کے دن کا اِنتظار کیسے کر سکتے ہیں؟ آئیں، ہم اِس سلسلے میں تین سوالوں پر غور کریں:‏ (‏۱)‏ ہم صبر سے کام لینے کے سلسلے میں میکاہ نبی کی مثال سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟ (‏۲)‏ کن واقعات سے ظاہر ہوگا کہ ہمارے اِنتظار کا وقت ختم ہونے والا ہے؟ (‏۳)‏ ہم کیسے ظاہر کر سکتے ہیں کہ ہم یہوواہ خدا کے صبر کی قدر کرتے ہیں؟‏

ہم میکاہ نبی کی مثال سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟‏

۳.‏ میکاہ نبی کے زمانے میں اِسرائیل میں حالات کیسے تھے؟‏

۳ میکاہ ۷:‏۲-‏۶ کو پڑھیں۔‏ میکاہ نبی کے زمانے میں بنی‌اِسرائیل بُرائی کی طرف بڑھ رہے تھے اور بادشاہ آخز کی حکمرانی کے دوران تو وہ پوری طرح بُرائی کی دَلدل میں پھنس چکے تھے۔ میکاہ نبی نے اُن بے‌وفا اِسرائیلیوں کو ”‏اُونٹ‌کٹارے“‏ اور ”‏خاردار جھاڑی“‏ سے تشبیہ دی۔ جو شخص اُونٹ‌کٹارے اور خاردار جھاڑی میں پھنس جاتا ہے، اُسے زخم ضرور لگتے ہیں۔ اِسی طرح جو بھی شخص اُن اِسرائیلیوں سے صحبت رکھتا، اُسے نقصان پہنچتا۔ حالات تو یہاں تک بگڑ گئے تھے کہ خاندانی رشتے بھی ٹوٹ رہے تھے۔ میکاہ نبی جانتے تھے کہ وہ خود اِس صورتحال میں کوئی بہتری نہیں لا سکتے۔ اِس لئے اُنہوں نے دُعا میں یہوواہ خدا کو اپنے احساسات کے بارے میں بتایا اور پھر صبر سے یہوواہ خدا کی نجات کا اِنتظار کِیا۔ میکاہ نبی کو پورا یقین تھا کہ یہوواہ خدا صحیح وقت پر کارروائی ضرور کرے گا۔‏

۴.‏ ہمیں کن مشکلات کا سامنا ہے؟‏

۴ میکاہ نبی کی طرح ہم بھی خودغرض لوگوں میں رہتے ہیں۔ آج‌کل بہت سے لوگ ”‏ناشکر۔ ناپاک۔ طبعی محبت سے خالی“‏ ہیں۔ (‏۲-‏تیم ۳:‏۲، ۳‏)‏ جب ہمارے پڑوسی، ہم‌جماعت یا ہمارے ساتھ کام کرنے والے لوگ صرف اپنے ہی فائدے کا سوچتے ہیں تو ہمیں دُکھ پہنچتا ہے۔ لیکن خدا کے بعض بندوں کو اِس سے بھی زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یسوع مسیح نے بتایا کہ اُن کے پیروکاروں کو اپنے گھر والوں کی طرف سے بھی مخالفت سہنی پڑے گی۔ اُنہوں نے میکاہ ۷:‏۶ جیسے الفاظ اِستعمال کرتے ہوئے کہا:‏ ”‏مَیں اِس لئے آیا ہوں کہ آدمی کو اُس کے باپ سے اور بیٹی کو اُس کی ماں سے اور بہو کو اُس کی ساس سے جُدا کر دوں۔ اور آدمی کے دُشمن اُس کے گھر ہی کے لوگ ہوں گے۔“‏ (‏متی ۱۰:‏۳۵، ۳۶‏)‏ ایسے گھر والوں کے ساتھ رہنا آسان نہیں ہوتا جو ہمارے ایمان کی وجہ سے ہمارا مذاق اُڑاتے ہیں اور ہماری مخالفت کرتے ہیں۔ اگر آپ ایسی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں تو اپنے ایمان پر سمجھوتا نہ کریں بلکہ یہوواہ خدا کے وفادار رہیں اور صبر سے اُس وقت کا اِنتظار کریں جب وہ اِس صورتحال کو حل کرے گا۔ اگر ہم اُس کی مدد مانگتے رہتے ہیں تو وہ ہمیں ہمت اور دانش‌مندی دے گا تاکہ ہم اِس صورتحال کو برداشت کر سکیں۔‏

۵، ۶.‏ (‏الف)‏ یہوواہ خدا نے میکاہ نبی کو اُن کے صبر کا کیا صلہ دیا؟ (‏ب)‏ کیا میکاہ نبی نے اُن تمام پیش‌گوئیوں کو پورا ہوتے دیکھا جو خدا نے اُن کے ذریعے کی تھیں؟‏

۵ یہوواہ خدا نے میکاہ نبی کو اُن کے صبر کا صلہ دیا۔ میکاہ نے آخز بادشاہ اور اُن کی حکمرانی کا خاتمہ اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ اُن کی زندگی میں ہی آخز کے بیٹے حزِقیاہ بادشاہ بنے اور اُن کی حکمرانی میں بنی‌اِسرائیل پھر سے یہوواہ خدا کی عبادت کرنے لگے۔ اور میکاہ کی زندگی میں وہ پیش‌گوئی بھی پوری ہوئی جو یہوواہ خدا نے سامریہ (‏یعنی اِسرائیل کی شمالی سلطنت)‏ کے بارے میں کی تھی۔ اِس پیش‌گوئی کے عین مطابق اسوری فوج نے اُس سلطنت پر قبضہ کر لیا۔—‏میک ۱:‏۶۔‏

۶ لیکن جو پیش‌گوئیاں یہوواہ خدا نے میکاہ کے ذریعے کی تھیں، اُن میں سے کچھ میکاہ کی زندگی میں پوری نہیں ہوئیں۔ مثال کے طور پر اُنہوں نے لکھا:‏ ”‏آخری دنوں میں یوں ہوگا کہ [‏یہوواہ]‏ کے گھر کا پہاڑ پہاڑوں کی چوٹی پر قائم کِیا جائے گا اور سب ٹیلوں سے بلند ہوگا اور اُمتیں وہاں پہنچیں گی۔ اور بہت سی قومیں آئیں گی اور کہیں گی آؤ [‏یہوواہ]‏ کے پہاڑ پر چڑھیں۔“‏ (‏میک ۴:‏۱، ۲)‏ میکاہ نبی اِس پیش‌گوئی کے پورا ہونے سے بہت صدیاں پہلے ہی فوت ہو گئے۔ پھر بھی وہ اپنی موت تک یہوواہ خدا کے وفادار رہے، چاہے اُن کے اِردگِرد کے لوگ کتنے ہی بُرے کام کر رہے تھے۔ میکاہ نے لکھا:‏ ”‏سب اُمتیں اپنے اپنے معبود کے نام سے چلیں گی پر ہم ابداُلآباد تک [‏یہوواہ]‏ اپنے خدا کے نام سے چلیں گے۔“‏ (‏میک ۴:‏۵)‏ میکاہ نبی اِس لئے مشکل وقت میں صبر سے یہوواہ خدا کی نجات کا اِنتظار کرتے رہے کیونکہ اُنہیں پورا یقین تھا کہ یہوواہ خدا اپنے تمام وعدوں کو پورا کرے گا۔ واقعی یہوواہ خدا پر اُن کا بھروسا مثالی تھا۔‏

۷، ۸.‏ (‏الف)‏ ہمارے پاس یہوواہ خدا پر بھروسا رکھنے کی کون‌سی وجوہات ہیں؟ (‏ب)‏ ہم کیا کر سکتے ہیں تاکہ اِنتظار کا وقت جلد کٹ جائے؟‏

۷ کیا ہم بھی میکاہ نبی کی طرح یہوواہ خدا پر پورا بھروسا رکھتے ہیں؟ ہمارے پاس ایسا کرنے کی بہت سی وجوہات ہیں۔ ہم اپنی آنکھوں سے میکاہ نبی کی پیش‌گوئی کو پورا ہوتے دیکھ رہے ہیں۔ اِن ”‏آخری دنوں میں“‏ تمام قوموں اور نسلوں میں سے لاکھوں لوگ ’‏یہوواہ کے گھر کے پہاڑ پر چڑھ رہے ہیں۔‘‏ حالانکہ یہ لوگ کچھ ایسی قوموں سے آ رہے ہیں جو ایک دوسرے کی دُشمن ہیں پھر بھی اُنہوں نے ”‏اپنی تلواروں کو توڑ کر پھالیں“‏ بنا لیا ہے اور وہ ’‏جنگ کرنا نہیں سیکھتے۔‘‏ (‏میک ۴:‏۳)‏ یہ کتنا بڑا اعزاز ہے کہ ہمارا شمار یہوواہ خدا کے امن‌پسند بندوں میں ہوتا ہے!‏

۸ بِلاشُبہ ہم چاہتے ہیں کہ یہوواہ خدا اِس بُری دُنیا کو جلد ختم کرے۔ لیکن ہم تبھی صبر سے اِنتظار کر سکتے ہیں جب ہم معاملات کو خدا کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ اُس نے ایک دن ٹھہرایا ہے جب وہ یسوع مسیح کے ذریعے دُنیا کی عدالت کرے گا۔ (‏اعما ۱۷:‏۳۱‏)‏ لیکن اِس سے پہلے خدا سب لوگوں کو موقع دے رہا ہے کہ وہ ”‏سچائی کی پہچان تک پہنچیں،“‏ سیکھی ہوئی باتوں پر عمل کریں اور یوں نجات پائیں۔ لہٰذا خدا کے صبر کی وجہ سے بہت سی زندگیاں بچ گئی ہیں۔ ‏(‏۱-‏تیمتھیس ۲:‏۳،‏ ۴ کو پڑھیں۔)‏ اگر ہم دوسروں کو خدا کے بارے میں سچائی سکھانے میں مصروف رہتے ہیں تو ہمیں وقت گزرنے کا احساس بھی نہیں ہوگا۔ جلد ہی وہ وقت آ پہنچے گا جب خدا دُنیا کی عدالت کرے گا۔ اُس وقت ہم اِس بات سے بہت خوش ہوں گے کہ ہم بادشاہت کی خوش‌خبری سنانے میں مصروف رہے تھے۔‏

کن واقعات سے ظاہر ہوگا کہ اِنتظار کا وقت ختم ہونے والا ہے؟‏

۹-‏۱۱.‏ کیا ۱-‏تھسلنیکیوں ۵:‏۳ میں درج پیش‌گوئی پوری ہو گئی ہے؟ وضاحت کریں۔‏

۹ ۱-‏تھسلنیکیوں ۵:‏۱-‏۳ کو پڑھیں۔‏ بہت ہی جلد قومیں ”‏سلامتی اور امن“‏ کا اِعلان کریں گی۔ اِس اِعلان سے دھوکا کھانے سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم ”‏جاگتے اور ہوشیار رہیں۔“‏ (‏۱-‏تھس ۵:‏۶‏)‏ آئیں، کچھ ایسے واقعات پر غور کریں جن سے پتہ چلتا ہے کہ اِس اِعلان میں اب زیادہ دیر نہیں۔ یوں ہمیں روحانی لحاظ سے جاگتے رہنے کی ترغیب ملے گی۔‏

۱۰ دونوں عالمی جنگوں کے بعد قوموں نے دُنیا میں امن لانے کی کوششیں تیز کر دیں۔ پہلی عالمی جنگ کے بعد لیگ آف نیشنز کو اِس اُمید کے ساتھ قائم کِیا گیا کہ یہ تنظیم دُنیا میں امن برقرار رکھے گی۔ پھر دوسری عالمی جنگ کے بعد لوگوں نے اقوامِ‌متحدہ سے بڑی اُمیدیں باندھیں۔ نہ صرف سیاست‌دانوں نے بلکہ مذہبی رہنماؤں نے بھی اِن دونوں تنظیموں پر آس لگائی۔ مثال کے طور پر اقوامِ‌متحدہ نے ۱۹۸۶ء کو امن کا سال قرار دیا۔ اُس سال پوپ کے بلا‌وے پر بہت سی قوموں اور مذہبوں کے رہنما اِٹلی کے شہر اسیسی میں جمع ہوئے اور عالمی امن کے لئے دُعائیں مانگیں۔‏

۱۱ لیکن نہ تو امن اور سلامتی کے اِس اِعلان سے اور نہ ہی اِس طرح کے کسی اَور اِعلان سے ۱-‏تھسلنیکیوں ۵:‏۳ میں درج پیش‌گوئی پوری ہوئی۔ ہم یہ کیوں کہہ سکتے ہیں؟ کیونکہ اب تک ”‏ناگہاں ہلاکت“‏ نہیں آئی۔‏

۱۲.‏ ہم ”‏سلامتی اور امن“‏ کے اِعلان کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟‏

۱۲ ”‏سلامتی اور امن“‏ کا اِعلان کون کرے گا؟ اِس میں مسیحی فرقوں اور دوسرے مذہبوں کے رہنماؤں کا کیا ہاتھ ہوگا؟ مختلف حکومتوں کے رہنما اِس میں کیا کردار ادا کریں گے؟ اِس کے بارے میں بائبل میں کچھ نہیں بتایا گیا۔ لیکن ہم اِتنا ضرور جانتے ہیں کہ یہ اِعلان چاہے کسی بھی شکل میں ہو اور کتنا بھی قابلِ‌بھروسا لگے، اِس دُنیا میں حقیقی سلامتی اور امن نہیں آئے گا۔ یہ دُنیا شیطان کے قبضے میں رہے گی۔ یہ جڑ ہی سے خراب ہے اور کبھی ٹھیک نہیں ہو سکتی۔ یہ کتنے افسوس کی بات ہوگی اگر ہم میں سے کوئی اُس نازک موڑ پر شیطان کے اِس جھوٹ کا یقین کر لے اور سیاسی معاملات میں حصہ لے۔‏

۱۳.‏ فرشتوں نے طوفانی ہواؤں کو کیوں روک رکھا ہے؟‏

۱۳ مکاشفہ ۷:‏۱-‏۴ کو پڑھیں۔‏ جس عرصے کے دوران ہم ۱-‏تھسلنیکیوں ۵:‏۳ کی پیش‌گوئی کے پورا ہونے کا اِنتظار کر رہے ہیں، طاقت‌ور فرشتے بڑی مصیبت کی طوفانی ہواؤں کو روکے ہوئے ہیں۔ وہ کس واقعے کا اِنتظار کر رہے ہیں؟ یوحنا رسول نے بتایا کہ فرشتے تب تک اِنتظار کرتے ہیں جب تک ”‏خدا کے بندوں کے ماتھے پر“‏ حتمی مہر نہیں ہو جاتی۔‏aجب خدا کے تمام ممسوح بندوں پر حتمی مہر کرنے کا کام مکمل ہو جائے گا تو فرشتے طوفانی ہواؤں کو چھوڑ دیں گے۔ اِس کے بعد کیا ہوگا؟‏

۱۴.‏ اِس بات کا کیا اِشارہ ہے کہ بڑے شہر بابل کا خاتمہ نزدیک ہے؟‏

۱۴ بڑے شہر بابل یعنی تمام جھوٹے مذاہب پر تباہی آئے گی۔ ”‏اُمتیں اور گروہ اور قومیں اور اہلِ‌زبان“‏ اُس کی مدد کو نہیں آئیں گے۔ یہ بات ابھی بھی نظر آ رہی ہے کہ اُس کا خاتمہ نزدیک ہے۔ (‏مکا ۱۶:‏۱۲؛‏ ۱۷:‏۱۵-‏۱۸؛‏ ۱۸:‏۷، ۸،‏ ۲۱‏)‏ ہم یہ کیسے جانتے ہیں؟ آج‌کل اخباروں اور رسالوں میں اور ٹیلی‌ویژن پر اکثر مذہب اور مذہبی رہنماؤں پر تنقید کی جاتی ہے۔ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوگ اب پہلے کی طرح مذہب کی حمایت نہیں کر رہے ہیں۔ اِس کے باوجود بڑے شہر بابل کے رہنما یہ سمجھتے ہیں کہ اُنہیں کسی قسم کا خطرہ نہیں ہے۔ لیکن یہ اُن کی غلط‌فہمی ہے۔ ”‏سلامتی اور امن“‏ کے اِعلان کے بعد شیطان کی دُنیا کا سیاسی نظام جھوٹے مذاہب پر ٹوٹ پڑے گا اور اِس کا نام‌ونشان مٹا دے گا۔ اِس کے بعد بڑا شہر بابل کبھی دِکھائی نہیں دے گا۔ یقیناً ہم بڑی شدت سے اُس وقت کا اِنتظار کر رہے ہیں جب ہم اِن خاص واقعات کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے۔—‏مکا ۱۸:‏۸،‏ ۱۰‏۔‏

ہم خدا کے صبر کے لئے قدر کیسے ظاہر کر سکتے ہیں؟‏

۱۵.‏ یہوواہ خدا نے ابھی تک کارروائی کیوں نہیں کی؟‏

۱۵ حالانکہ لوگ خدا کی بڑی بدنامی کر رہے ہیں پھر بھی یہوواہ خدا کارروائی کرنے کے لئے صحیح وقت کا اِنتظار کرتا آیا ہے۔ وہ یہ نہیں چاہتا کہ کوئی بھی ایسا شخص ہلاک ہو جائے جس کا دل سچائی کی طرف مائل ہے۔ (‏۲-‏پطر ۳:‏۹، ۱۰‏)‏ کیا ہم بھی یہی چاہتے ہیں؟ ہم کیسے ظاہر کر سکتے ہیں کہ ہم یہوواہ خدا کے صبر کی قدر کرتے ہیں؟‏

۱۶، ۱۷.‏ (‏الف)‏ ہمیں ایسے بہن‌بھائیوں کی مدد کیوں کرنی چاہئے جنہوں نے خدا کی خدمت کرنا بند کر دیا ہے؟ (‏ب)‏ جو لوگ کلیسیا سے دُور ہو گئے ہیں، اُنہیں واپس آنے میں دیر کیوں نہیں کرنی چاہئے؟‏

۱۶ ایسے بہن‌بھائیوں کی مدد کریں جنہوں نے خدا کی خدمت کرنا بند کر دیا ہے۔‏ یسوع مسیح نے کہا کہ جب ایک کھوئی ہوئی بھیڑ مل جاتی ہے تو آسمان پر خوشی ہوتی ہے۔ (‏متی ۱۸:‏۱۴؛‏ لو ۱۵:‏۳-‏۷‏)‏ ظاہری بات ہے کہ یہوواہ خدا اُن سب کو عزیز رکھتا ہے جنہوں نے اُس کے نام کے لئے محبت ظاہر کی، یہاں تک کہ اُن کو بھی جنہوں نے اُس کی خدمت کرنا چھوڑ دیا ہے۔ جب ہم ایسے بہن‌بھائیوں کو کلیسیا کی طرف واپس لے آتے ہیں تو ہم یہوواہ خدا اور فرشتوں کو خوش کرتے ہیں۔‏

۱۷ کیا آپ پہلے یہوواہ خدا کی خدمت کرتے تھے اور اب نہیں کر رہے ہیں؟ شاید کلیسیا میں کسی نے آپ کو ٹھیس پہنچائی اور اِس لئے آپ کلیسیا سے دُور ہو گئے۔ اُس واقعے کو شاید اب کافی وقت گزر چُکا ہے۔ خود سے پوچھیں:‏ ”‏کیا اب میری زندگی زیادہ خوش‌گوار ہے؟ کیا مجھے یہوواہ خدا نے ٹھیس پہنچائی تھی یا کسی عیب‌دار اِنسان نے؟ کیا یہوواہ خدا نے مجھے کبھی کوئی نقصان پہنچایا ہے؟“‏ یہوواہ خدا تو ہمیشہ ہمارا بھلا ہی چاہتا ہے۔ اگر ہم اُس کی خدمت کرنے کا وعدہ نہیں نبھا رہے تو بھی وہ ہمیں اپنی نعمتوں سے محروم نہیں رکھتا۔ (‏یعقو ۱:‏۱۶، ۱۷‏)‏ یہوواہ خدا کا دن جلد آنے والا ہے۔ اِس لئے اپنے آسمانی باپ یہوواہ خدا کی قربت میں واپس آنے میں دیر نہ کریں۔ اور پھر سے کلیسیا میں لوٹ آئیں کیونکہ وہیں آپ کو اِس آخری زمانے میں پناہ ملے گی۔—‏است ۳۳:‏۲۷؛‏ عبر ۱۰:‏۲۴، ۲۵‏۔‏

ہم اپنے اُن بہن‌بھائیوں کو کلیسیا کی طرف واپس لانے کی پوری کوشش کرتے ہیں جنہوں نے خدا کی خدمت کرنا بند کر دیا ہے۔ (‏پیراگراف ۱۶ اور ۱۷ کو دیکھیں۔)‏

۱۸.‏ ہمیں اُن بھائیوں کی حمایت کیوں کرنی چاہئے جو ہماری پیشوائی کرتے ہیں؟‏

۱۸ اُن بھائیوں کی حمایت کریں جو ہماری پیشوائی کرتے ہیں۔‏ یہوواہ خدا ایک شفیق چرواہا ہے۔ وہ ہماری حفاظت اور رہنمائی کرتا ہے۔ اُس نے اپنے بیٹے کو اپنی بھیڑوں کا ”‏سردار گلّہ‌بان“‏ مقرر کِیا ہے۔ (‏۱-‏پطر ۵:‏۴‏)‏ ایک لاکھ سے زیادہ کلیسیاؤں میں بزرگ ہیں جو خدا کی بھیڑوں کی نگہبانی کرتے ہیں اور اُن کی مدد کرنے کے لئے وقت نکالتے ہیں۔ (‏اعما ۲۰:‏۲۸‏)‏ جب ہم اُن بھائیوں کی حمایت کرتے ہیں جو ہماری پیشوائی کرتے ہیں تو ہم یہوواہ خدا اور یسوع مسیح کی تمام مہربانیوں کے لئے قدر ظاہر کرتے ہیں۔‏

۱۹.‏ ہمیں کیا کرنا چاہئے تاکہ ہم اپنے بہن‌بھائیوں کے قریب رہیں؟‏

۱۹ ایک دوسرے کے قریب آ جائیں۔‏ جب ایک فوج پر حملہ ہوتا ہے تو عموماً فوجی ایک دوسرے کے اِتنا قریب آ جاتے ہیں کہ دُشمن اُن کے بیچ میں گھس کر اُن سے لڑ نہیں سکتا۔ شیطان، خدا کے لوگوں پر پہلے سے زیادہ حملے کر رہا ہے۔ لہٰذا یہ آپس میں لڑنے جھگڑنے کا وقت نہیں ہے۔ اِس نازک دَور میں ہمیں ایک دوسرے کے قریب رہنا چاہئے، ایک دوسرے کی غلطیوں کو معاف کرنا چاہئے اور یہوواہ خدا کی رہنمائی پر بھروسا رکھنا چاہئے۔‏

ہمیں ایک دوسرے کے قریب رہنا چاہئے تاکہ ہم شیطان کے حملوں کا شکار نہ ہوں۔ (‏پیراگراف ۱۹ کو دیکھیں۔)‏

۲۰.‏ اب ہمیں کیا کرنا چاہئے؟‏

۲۰ آئیں، ہم روحانی طور پر جاگتے رہیں اور یہوواہ خدا کی نجات کا اِنتظار کرتے رہیں۔ ہم اُس وقت کے منتظر ہیں جب ”‏سلامتی اور امن“‏ کا اِعلان کِیا جائے گا اور ممسوح مسیحیوں پر حتمی مہر کی جائے گی۔ اِس کے بعد چاروں فرشتے طوفانی ہواؤں کو چھوڑ دیں گے اور بڑے شہر بابل کو تباہ کر دیا جائے گا۔ اِس سے پہلے کہ یہ خاص واقعات ہوں، آئیں، ہم اُن بھائیوں کی ہدایات پر عمل کریں جو ہماری پیشوائی کرتے ہیں۔ ایک دوسرے کے قریب رہیں تاکہ ہم شیطان کے حملوں کا شکار نہ ہوں۔ اب بہت ضروری ہے کہ ہم زبورنویس کی اِس نصیحت پر دھیان دیں:‏ ”‏اَے [‏یہوواہ]‏ پر آس رکھنے والو!‏ سب مضبوط ہو اور تمہارا دل قوی رہے۔“‏—‏زبور ۳۱:‏۲۴‏۔‏

a غور کریں کہ ممسوح مسیحیوں پر اِبتدائی مہر کرنے اور حتمی مہر کرنے میں فرق ہے۔ اِس سلسلے میں مینارِنگہبانی یکم ستمبر ۱۹۹۷ء، صفحہ ۱۱، پیراگراف ۱۲ کو دیکھیں۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں