اِن جیسا ایمان پیدا کریں | نوح
وہ ’خدا کے ساتھساتھ چلتے رہے‘
ذرا تصور کی آنکھ سے اِس منظر کو دیکھیں۔ نوح نبی بہت سخت کام کر رہے ہیں۔ اُن کے بازوؤں اور کندھوں میں بہت درد ہو رہا ہے۔ اِس وجہ سے وہ تھوڑی دیر آرام کرنے کے لئے بیٹھ جاتے ہیں۔ ہوا میں تارکول کی تیز بُو پھیلی ہوئی ہے اور اوزاروں کے چلنے کی آواز آ رہی ہے۔ نوح دیکھتے ہیں کہ اُن کے بیٹے بڑی محنت سے کشتی کے مختلف حصے بنا رہے ہیں۔ اُن کی بیوی، بیٹے اور بہوئیں کئی سالوں سے اِس کشتی کو بنانے میں اُن کی مدد کر رہے ہیں۔ لیکن ابھی بھی بہت سا کام باقی ہے۔
آسپڑوس کے لوگوں کا خیال تھا کہ نوح اور اُن کے گھر والے بہت بےوقوف ہیں۔ جب وہ اُن کو کشتی بناتے ہوئے دیکھتے تھے تو اُن کا مذاق اُڑاتے تھے۔ نوح باربار اُن کو آگاہ کر رہے تھے کہ پوری زمین پر طوفان آئے گا اور سب کچھ تباہ ہو جائے گا۔ لیکن لوگوں کو نوح کی یہ بات سُن کر ہنسی آتی تھی۔ اُن کو لگتا تھا کہ ایسا کبھی نہیں ہوگا۔ وہ سوچتے تھے کہ نوح اِس فضول کام میں اپنا اور اپنے گھر والوں کا وقت ضائع کر رہے ہیں۔ بھلے ہی لوگوں کی نظر میں نوح اور اُن کے گھر والے بےوقوف تھے لیکن یہوواہ خدا کی نظر میں وہ بہت سمجھدار تھے۔
پاک کلام میں لکھا ہے کہ ”نوؔح خدا کے ساتھساتھ چلتا رہا۔“ (پیدایش ۶:۹) اِس کا کیا مطلب ہے؟ اِس کا یہ مطلب نہیں کہ خدا زمین پر آیا تھا یا نوح آسمان پر گئے تھے اور پھر وہ دونوں ساتھساتھ چلنے لگے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ نوح، یہوواہ خدا سے بہت پیار کرتے تھے اور اُس کا ہر حکم مانتے تھے۔ وہ اور یہوواہ خدا دو قریبی دوستوں کی طرح ساتھساتھ چلتے تھے۔ نوح کے زمانے کے ہزاروں سال بعد پاک کلام میں اُن کے بارے میں لکھا گیا کہ ’اپنے ایمان سے نوح نے دُنیا کو مُجرم ٹھہرایا۔‘ (عبرانیوں ۱۱:۷) لیکن نوح نے کیسے اپنے ایمان سے دُنیا کو مجرم ٹھہرایا؟ ہم نوح جیسا ایمان کیسے پیدا کر سکتے ہیں؟
بُری دُنیا میں ایک نیک انسان
نوح نے ایک ایسے دَور میں پرورش پائی جب زمین پر بُرائی دنبدن بڑھتی جا رہی تھی۔ اُن کے پڑدادا، حنوک کے زمانے میں بھی زمین کے حالات بہت بُرے تھے۔ مگر حنوک، یہوواہ خدا کے ساتھساتھ چلتے رہے۔ حنوک نے لوگوں کو بتایا تھا کہ ایک دن خدا بُرے لوگوں کو ختم کر دے گا۔ نوح کے زمانے میں زمین پر بُرائی اَور زیادہ پھیل گئی۔ لوگ پہلے سے زیادہ ظلموتشدد کرنے لگے۔ یہوواہ خدا کی نظر میں اِن بُرے لوگوں نے زمین کو خراب کر دیا تھا۔ (پیدایش ۵:۲۲؛ ۶:۱۱؛ یہوداہ ۱۴، ۱۵) لیکن زمین پر اِتنی زیادہ بُرائی کیوں پھیل گئی تھی؟
اِس کی وجہ یہ تھی کہ ایک فرشتے نے خدا کے خلاف بغاوت کی اور یوں خود کو شیطان بنا لیا۔ اُس نے آدم اور حوا کو بھی خدا کے خلاف کر دیا۔ نوح کے زمانے میں کچھ اَور فرشتوں نے بھی خدا کے خلاف بغاوت کی۔ وہ آسمان چھوڑ کر زمین پر آ گئے۔ اُنہوں نے انسانی جسم اپنا لئے اور خوبصورت عورتوں سے شادی کر لی۔ یہ فرشتے بہت مغرور اور خود غرض تھے اور اِن کا بُرا اثر پوری زمین پر پھیل گیا۔—پیدایش ۳:۱-۵؛ ۶:۱، ۲؛ یہوداہ ۶، ۷۔
عورتوں اور بُرے فرشتوں کے ملاپ سے جو اولاد پیدا ہوئی، وہ بہت قدآور اور طاقتور تھی۔ پاک کلام میں اُن کو جبار کہا گیا ہے۔ اُنہوں نے پوری زمین پر ظلموتشدد پھیلا دیا۔ یہ سب کچھ دیکھ کر خدا نے کہا کہ ”زمین پر انسان کی بدی بہت بڑھ گئی اور اُس کے دل کے تصور اور خیال سدا بُرے ہی ہوتے ہیں۔“ اِس لئے یہوواہ خدا نے فیصلہ کِیا کہ وہ ۱۲۰ سال بعد سب بُرے لوگوں کو ختم کر دے گا۔—پیدایش ۶:۳-۵۔
نوح اور اُن کی بیوی نے اپنے بچوں کو بُرے اثر سے بچا کر رکھا۔
ذرا سوچیں کہ اِتنے بُرے ماحول میں نوح کے لئے اپنے بچوں کی پرورش کرنا کتنا مشکل تھا۔ نوح نے ایک اچھی عورت سے شادی کی تھی اور جب وہ ۵۰۰ سال کے ہوئے تو اُن کے تین بیٹے پیدا ہوئے جن کے نام سم، حام اور یافت تھے۔a نوح اور اُن کی بیوی کو اپنے بیٹوں کو اِردگِرد کے بُرے ماحول سے محفوظ رکھنا پڑا۔ عموماً جب چھوٹے بچے کسی قدآور اور طاقتور شخص کو دیکھتے ہیں تو وہ بہت متاثر ہوتے ہیں۔ یقیناً نوح کے زمانے میں بھی جباروں کو دیکھ کر چھوٹے بچے بہت متاثر ہوتے ہوں گے۔ سچ ہے کہ نوح اور اُن کی بیوی اپنے بیٹوں کو جباروں کے بُرے اثر سے بچانے کے لئے ہر وقت گھر میں بٹھا کر نہیں رکھ سکتے تھے۔ مگر وہ اپنے بچوں کو یہوواہ خدا کے بارے میں سکھا سکتے تھے۔ مثال کے طور پر اُنہوں نے اپنے بچوں کو ضرور بتایا ہوگا کہ یہوواہ خدا کو بُرائی سے کتنی نفرت ہے اور جب وہ دیکھتا ہے کہ لوگ بُرے کام کر رہے ہیں تو اُسے بہت دُکھ ہوتا ہے۔—پیدایش ۶:۶۔
آجکل والدین سمجھ سکتے ہیں کہ نوح اور اُن کی بیوی کے لئے اپنے بچوں کی پرورش کرنا کتنا مشکل تھا۔ ہمارے زمانے میں بھی تشدد اور بغاوت کی وبا ہر طرف پھیلی ہوئی ہے۔ یہاں تک کہ بچوں کے لئے جو ٹیوی پروگرام اور ویڈیو گیمز ہیں، اُن میں بھی اِن کی بھرمار ہے۔ سمجھدار ماںباپ اپنے بچوں کو اِن کے بُرے اثرات سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ اِس کے لئے وہ اپنے بچوں کو سکھاتے ہیں کہ یہوواہ خدا تشدد سے نفرت کرتا ہے اور ایک دن وہ اِسے ختم کر دے گا۔ (زبور ۱۱:۵؛ ۳۷:۱۰، ۱۱) والدین یقین رکھ سکتے ہیں کہ اِس بُرے دَور میں بھی بچے اچھے کام کرنا سیکھ سکتے ہیں۔ نوح کے بیٹے بڑے ہو کر بہت اچھے انسان بنے تھے۔ اُنہوں نے ایسی عورتوں سے شادی کی جو اُن کی طرح یہوواہ خدا سے پیار کرتی تھیں۔
’اپنے لئے ایک کشتی بنا‘
ایک دن کچھ ایسا ہوا جس کی وجہ سے نوح کی زندگی بدل گئی۔ یہوواہ خدا نے اپنے اِس بندے کو بتایا کہ وہ زمین سے بُرائی کو ختم کرنے والا ہے۔ پھر اُس نے نوح کو حکم دیا کہ ’اپنے لئے لکڑی کی ایک کشتی بنا۔‘—پیدایش ۶:۱۴۔
بعض لوگوں کو لگتا ہے کہ یہ کشتی عام بحری جہازوں جیسی تھی۔ لیکن ایسا نہیں تھا کیونکہ نوح کی کشتی میں نہ تو کمان تھی، نہ دُنبالہ اور نہ ہی پتوار۔ اِس کی بناوٹ بھی بحری جہاز جیسی نہیں تھی۔ یہ دیکھنے میں ایک بڑے صندوق یا ڈبے جیسی تھی۔ یہوواہ خدا نے نوح کو کشتی کی لمبائی چوڑائی اور ڈیزائن کے بارے میں تفصیل سے ہدایات دیں۔ اُس نے نوح کو کشتی کے اندر اور باہر تارکول لگانے کو بھی کہا۔ یہوواہ خدا نے نوح کو کشتی بنانے کی وجہ بھی بتائی۔ اُس نے کہا: ”مَیں خود زمین پر پانی کا طوفان لانے والا ہوں . . . اور سب جو زمین پر ہیں مر جائیں گے۔“ لیکن اُس نے نوح سے کہا کہ ”تُو کشتی میں جانا۔ تُو اور تیرے ساتھ تیرے بیٹے اور تیری بیوی اور تیرے بیٹوں کی بیویاں۔“ اِس کے علاوہ خدا نے نوح سے کہا کہ وہ ہر قسم کے جانوروں میں سے کچھ کو اپنے ساتھ کشتی میں لے جائیں۔ صرف وہی انسان اور جانور طوفان سے بچ سکتے تھے جو کشتی میں جاتے۔—پیدایش ۶:۱۷-۲۰۔
اِس کشتی کو بنانا کوئی آسان کام نہیں تھا کیونکہ یہ انتہائی بڑی تھی۔ اِس کی لمبائی ۱۳۳ میٹر (۴۳۷ فٹ)، چوڑائی ۲۲ میٹر (۷۳ فٹ) اور اُونچائی ۱۳ میٹر (۴۴ فٹ) تھی۔ یہ آجکل کے لکڑی کے بنے سب سے بڑے بحری جہازوں سے بھی بڑی تھی۔ لیکن کیا نوح اِتنے بڑے کام کی وجہ سے گھبرا گئے؟ کیا وہ یہ شکایت کرنے لگے کہ اِس کشتی کو بنانا بہت مشکل ہے؟ یا کیا اُنہوں نے کشتی کی لمبائی چوڑائی یا ڈیزائن میں کمیبیشی کی؟ نہیں۔ پاک کلام میں لکھا ہے: ”نوؔح نے یوں ہی کِیا۔ جیسا خدا نے اُسے حکم دیا تھا ویسا ہی عمل کِیا۔“—پیدایش ۶:۲۲۔
کشتی کو بنانے میں شاید ۴۰ سے ۵۰ سال لگے ہوں۔ نوح اور اُن کے بیٹوں نے کشتی کو بنانے کے لئے یقیناً بہت محنت کی، مثلاً اُنہوں نے درختوں کو کاٹا، اُن کو گھسیٹ کر لائے، اُن کے ٹکڑے کئے، اُن کو تراشا اور پھر اُن کو جوڑا۔ اُن کو کشتی میں تین منزلیں اور بہت سے کمرے بنانے تھے اور اِس کی ایک طرف دروازہ بھی لگانا تھا۔ لگتا ہے کہ اُنہوں نے کشتی کی اُوپر والی منزل میں کچھ کھڑکیاں بنائی ہوں گی اور چھت کو درمیان سے تھوڑا سا اُبھرا ہوا بنایا ہوگا تاکہ کشتی پر پانی نہ ٹھہرے۔—پیدایش ۶:۱۴-۱۶۔
جب نوح نے دیکھا ہوگا کہ کشتی بہت حد تک بن گئی ہے تو یقیناً وہ اپنے گھر والوں کے شکرگزار ہوئے ہوں گے۔ خدا نے نوح کو ایک اَور کام بھی دیا تھا جو شاید کشتی بنانے سے بھی مشکل تھا۔ پاک کلام میں لکھا ہے کہ ’نوح راستبازی کی مُنادی کرنے والے تھے۔‘ (۲-پطرس ۲:۵) نوح نے بڑی دلیری سے لوگوں کو بتایا کہ خدا طوفان لانے والا ہے جس میں سب بُرے لوگ ہلاک ہو جائیں گے۔ یہ بات سُن کر لوگوں کا کیا ردِعمل تھا؟ اِس سلسلے میں یسوع مسیح نے نوح کے زمانے کے لوگوں کے بارے میں کہا کہ وہ ”بےفکر رہے۔“ یسوع مسیح نے کہا کہ وہ لوگ اپنے روزمرہ کاموں میں اِس قدر مگن تھے کہ اُنہوں نے نوح کی بات پر کوئی دھیان نہیں دیا۔ (متی ۲۴:۳۷-۳۹، کیتھولک ترجمہ) بِلاشُبہ بہت سے لوگوں نے نوح اور اُن کے گھر والوں کا مذاق اُڑایا ہوگا اور کچھ لوگوں نے تو شاید اُن کو ڈرایا دھمکایا ہو اور اُن کو مارا پیٹا بھی ہو۔
حالانکہ لوگ دیکھ رہے تھے کہ خدا ہر کام میں نوح کا ساتھ دے رہا ہے لیکن اُنہوں نے نوح کے پیغام پر دھیان نہیں دیا۔
لیکن نوح اور اُن کے گھر والوں نے ہمت نہیں ہاری۔ حالانکہ لوگوں کو لگتا تھا کہ نوح اور اُن کے گھر والے بےوقوف ہیں اور ایک فضول کام میں اپنا وقت برباد کر رہے ہیں تو بھی نوح کشتی بناتے رہے۔ آجکل بہت سے مسیحی خاندان نوح اور اُن کے گھر والوں سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ ہم ایک ایسے زمانے میں رہ رہے ہیں جسے پاک کلام میں ”اخیر زمانہ“ کہا گیا ہے۔ (۲-تیمتھیس ۳:۱) یسوع مسیح نے کہا تھا کہ ہمارا زمانہ بالکل نوح کے زمانے کی طرح ہوگا۔ آج بھی جب سچے مسیحی لوگوں کو خدا کی بادشاہت کی خوشخبری سناتے ہیں تو بہت سے لوگ اُن کے پیغام میں دلچسپی نہیں لیتے، اُن کا مذاق اُڑاتے ہیں یا اُن پر اذیت ڈھاتے ہیں۔ لیکن مسیحیوں کو نوح کی مثال سے بہت حوصلہ ملتا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ اُن سے پہلے بھی خدا کے بندوں کو ایسی مشکلوں کا سامنا ہوا تھا۔
’کشتی میں جا‘
بہت سال گزر گئے۔ نوح تقریباً ۶۰۰ سال کے ہو گئے تھے اور کشتی کا تھوڑا سا کام باقی رہ گیا تھا۔ لیکن پھر نوح پر دُکھ کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ اُن کے والد، لمک فوت ہو گئے۔b اِس کے پانچ سال بعد نوح کے دادا، متوسلح بھی فوت ہو گئے۔ اُن کی عمر ۹۶۹ سال تھی۔ پاک کلام میں جن لوگوں کا ذکر ہوا ہے، اُن میں سب سے لمبی عمر متوسلح کی تھی۔ (پیدایش ۵:۲۷) متوسلح اور لمک اُس دَور میں رہتے تھے جب آدم بھی زندہ تھے۔
اِسی سال خدا نے نوح سے کہا کہ ’تُو اپنے پورے خاندان کے ساتھ کشتی میں جا۔‘ خدا نے نوح کو یہ ہدایت بھی دی کہ وہ ہر قسم کے جانوروں کو کشتی میں لے جائیں۔ جو جانور پاک تھے اور جن کو قربانی کے لئے استعمال کِیا جا سکتا تھا، اُن میں سے نوح کو ساتسات جانور لینے تھے۔ اور باقی جانوروں کا صرف ایک ایک جوڑا لینا تھا۔—پیدایش ۷:۱-۳۔
ذرا اِس منظر کا تصور کریں: دُنیا کے کونے کونے سے سینکڑوں چھوٹے بڑے جانور کشتی کی طرف آ رہے ہیں۔ اِن میں سے کچھ چل کر آ رہے ہیں، کچھ رینگ کر اور کچھ اُڑ کر آ رہے ہیں۔ کیا نوح اِن جانوروں کو باندھ کر یا ہانک کر کشتی میں لائے تھے؟ نہیں۔ پاک کلام میں لکھا ہے کہ یہ جانور خود ”کشتی میں نوؔح کے پاس گئے۔“—پیدایش ۷:۹۔
بعض لوگ شاید اعتراض کریں کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ سب جانور خودبخود کشتی کی طرف آئے؟ اور یہ کیسے ممکن ہے کہ یہ جانور کشتی میں اِکٹھے رہے اور ایک دوسرے کو نقصان بھی نہیں پہنچایا؟ ذرا سوچیں کہ جس خالق نے سب کچھ بنایا ہے، کیا اُس کے لئے جانوروں کو قابو میں رکھنا مشکل بات ہے؟ یاد کریں کہ یہوواہ خدا نے کتنے بڑے بڑے کام کئے۔ اُس نے بحرِقلزم کے دو حصے کر دئے اور ایک موقعے پر اُس نے سورج کو ڈوبنے سے روک دیا۔ ظاہری بات ہے کہ خدا کے لئے اِن جانوروں کو لگام دینا مشکل نہیں تھا۔
اگر خدا چاہتا تو وہ جانوروں کو کسی اَور طریقے سے بھی بچا سکتا تھا۔ لیکن اُس نے جانوروں کو بچانے کے لئے انسانوں کو استعمال کِیا۔ اِس طرح خدا نے ہمیں یاد دِلایا کہ اُس نے انسانوں کو جانوروں کی دیکھبھال کرنے کی ذمہداری سونپی ہے۔ (پیدایش ۱:۲۸) آجکل بہت سے والدین اپنے بچوں کو نوح کی کہانی سنا کر یہ سکھاتے ہیں کہ خدا انسانوں اور جانوروں کی بہت قدر کرتا ہے۔
پھر ایک دن یہوواہ خدا نے نوح کو بتایا کہ ایک ہفتے بعد طوفان آئے گا۔ یہ سُن کر یقیناً نوح کے گھر والے افراتفری میں پڑ گئے ہوں گے۔ اُن کو بہت کام کرنا تھا، مثلاً اُن کو سب جانوروں اور اُن کی خوراک کو کشتی پر چڑھانا تھا اور گھر کا سازوسامان بھی کشتی میں رکھنا تھا۔ یقیناً نوح کی بیوی اور اُن کی بہوؤں نے کشتی میں ایک ایسی جگہ بنائی ہوگی جہاں پورا خاندان آرام سے رہ سکے۔
دوسرے لوگوں نے کیسا ردِعمل دِکھایا؟ وہ دیکھ رہے تھے کہ یہوواہ خدا ہر کام میں نوح کا ساتھ دے رہا ہے۔ وہ یہ بھی دیکھ رہے تھے کہ دُوردُور سے جانور کشتی کی طرف آ رہے ہیں۔ لیکن وہ لوگ ”بےفکر رہے۔“ آجکل بھی لوگ دُنیا کے حالات کو دیکھ کر سمجھ سکتے ہیں کہ ہم آخری زمانے میں رہ رہے ہیں لیکن اُنہیں اِس بات کی کوئی پرواہ نہیں۔ یسوع مسیح کے شاگرد پطرس کی پیشینگوئی کے عین مطابق اِس آخری زمانے میں اُن لوگوں کا مذاق اُڑایا جا رہا ہے جو دوسروں کو اِس دُنیا کے خاتمے سے آگاہ کر رہے ہیں۔ (۲-پطرس ۳:۳-۶) اِسی طرح لوگوں نے نوح اور اُن کے گھر والوں کا بھی مذاق اُڑایا ہوگا۔
لیکن پھر بہت جلد اُن کی ہنسی بند ہو گئی۔ پاک کلام میں بتایا گیا ہے کہ جب نوح، اُن کے گھر والے اور جانور کشتی میں چلے گئے تو یہوواہ خدا نے کشتی کا دروازہ بند کر دیا۔ یہ دیکھ کر یقیناً اُن لوگوں کو چپ لگ گئی ہوگی جو نوح کا مذاق اُڑا رہے تھے۔ اگر اِس سے بھی اُن پر کوئی اثر نہیں ہوا تھا تو بارش کی وجہ سے یقیناً اُن کے مُنہ بند ہو گئے ہوں گے۔ بارش رُکنے کا نام نہیں لے رہی تھی اور اِس وجہ سے پوری زمین پر سیلاب آ گیا۔—پیدایش ۷:۱۶-۲۱۔
اِس سیلاب میں سب بُرے لوگ ہلاک ہو گئے۔ کیا یہوواہ خدا کو اِس سے خوشی ملی؟ نہیں۔ (حزقیایل ۳۳:۱۱) اُس نے تو اِن لوگوں کو باربار موقع دیا تھا کہ وہ بُری راہ چھوڑ دیں اور نیکی کی راہ پر چلیں۔ مگر اُنہوں نے ایک نہ سنی۔ کیا اِن لوگوں کے لئے خدا کی راہ اپنانا ممکن تھا؟ اِس کا جواب نوح کی زندگی سے ملتا ہے۔ نوح، یہوواہ خدا کے ساتھساتھ چلتے رہے۔ اُنہوں نے خدا کا ہر حکم مانا اور اِس وجہ سے اُن کی اور اُن کے گھر والوں کی جان بچ گئی۔ اِس سے ظاہر ہوا کہ اگر بُرے لوگ نوح کی طرح خدا کا حکم مانتے تو وہ بھی اپنی جان بچا سکتے تھے۔ اگر ہم بھی نوح جیسا ایمان پیدا کرتے ہیں تو ہم اِس دُنیا کے خاتمے سے اپنی اور اپنے گھر والوں کی جان بچا سکتے ہیں۔ نوح کی طرح ہم بھی خدا کے ساتھ ایک دوست کی طرح چل سکتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ خدا اپنے دوستوں کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑتا۔
a نوح کے زمانے میں لوگوں کی عمریں بہت لمبی ہوتی تھیں۔ شاید ایسا اِس لئے تھا کیونکہ آدم کی اِبتدائی نسلوں میں جسمانی لحاظ سے زیادہ نقص نہیں تھا۔
b لمک نے اپنے بیٹے کا نام نوح رکھا جس کا مطلب شاید آرام یا تسلی ہے۔ لمک نے نوح کے بارے میں پیشینگوئی کی کہ نوح لوگوں کو وہ آرام پہنچائیں گے جو زمین کے لعنتی ہونے کی وجہ سے انسانوں سے چھن گیا تھا۔ (پیدایش ۵:۲۸، ۲۹) لمک کے جیتے جی یہ پیشینگوئی پوری نہیں ہوئی تھی۔