یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م12 1/‏11 ص.‏ 28-‏32
  • ایک دوسرے کو معاف کرنے کے لئے تیار رہیں

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • ایک دوسرے کو معاف کرنے کے لئے تیار رہیں
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—2012ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • دوسروں کو معاف کرنا اِتنا اہم کیوں ہے؟‏
  • اپنے غصے کی اصل وجہ معلوم کریں
  • صورتحال کا جائزہ لیں
  • ‏’‏تمہارا سلام تُم پر لوٹ آئے‘‏
  • یہوواہ خدا کی طرح معاف کرنے کو تیار رہیں
  • ‏’‏ایک دوسرے کو معاف کرتے رہیں‘‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1997ء
  • معاف کرنے والے کیوں بنیں؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1994ء
  • اپنے دل سے معاف کریں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
  • کیا آپ اُسی طرح معاف کرتے ہیں جیسے یہوؔواہ کرتا ہے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1994ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—2012ء
م12 1/‏11 ص.‏ 28-‏32

ایک دوسرے کو معاف کرنے کے لئے تیار رہیں

‏’‏ایک دوسرے کی برداشت کریں اور ایک دوسرے کے قصور معاف کریں۔‘‏—‏کل ۳:‏۱۳‏۔‏

آپ اِن سوالوں کے کیا جواب دیں گے؟‏

ہمیں دوسروں کو معاف کرنے کے لئے تیار کیوں رہنا چاہئے؟‏

یسوع مسیح نے کیسے ظاہر کِیا کہ دوسروں کو معاف کرنا بہت ضروری ہے؟‏

ایک دوسرے کو معاف کرنے کے فائدے کیا ہیں؟‏

۱، ۲.‏ اِس بات پر غور کرنا کیوں اہم ہے کہ آیا ہم دوسروں کو معاف کرنے کے لئے تیار ہیں یا نہیں؟‏

بائبل میں بتایا گیا ہے کہ یہوواہ خدا گُناہ کے بارے میں کیا نظریہ رکھتا ہے اور جب ہم گُناہ کرتے ہیں تو وہ کیسا ردِعمل ظاہر کرتا ہے۔ پاک کلام میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وہ معاف کرنے کو تیار رہتا ہے۔ پچھلے مضمون میں ہم نے سیکھا تھا کہ خدا نے داؤد اور منسی کو کیوں معاف کر دیا۔ وہ اپنے کئے پر نہایت پشیمان تھے، اُنہوں نے اپنے گُناہوں کا اعتراف کِیا اور عزم کِیا کہ آئندہ وہ ایسے غلط کام نہیں کریں گے۔ چونکہ اُنہوں نے دل سے توبہ کر لی تھی اِس لئے اُنہیں پھر سے یہوواہ خدا کی خوشنودی حاصل ہوئی۔‏

۲ آئیں، اِس بات پر غور کریں کہ کیا ہم یہوواہ خدا کی طرح دوسروں کو معاف کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ ذرا سوچیں کہ منسی کی غلطیوں کی وجہ سے اگر آپ کے کسی عزیز کی جان چلی جاتی تو کیا آپ منسی کو معاف کرنے کے لئے تیار ہوتے؟ آج‌کل ہم ایک ایسی دُنیا میں رہتے ہیں جس میں بہت سے لوگ بدکار، ظالم اور خودغرض ہیں۔ اِس لئے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ دوسروں کو معاف کرنے کا کیا فائدہ ہے؟ اگر آپ کے ساتھ کوئی ناانصافی ہوتی ہے تو آپ اپنے غصے کو قابو میں رکھنے اور خدا کی طرح دوسروں کو معاف کرنے کے قابل کیسے ہو سکتے ہیں؟‏

دوسروں کو معاف کرنا اِتنا اہم کیوں ہے؟‏

۳-‏۵.‏ (‏الف)‏ یسوع مسیح کی کس تمثیل سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دوسروں کو معاف کرنا لازمی ہے؟ (‏ب)‏ متی ۱۸:‏۲۱-‏۳۵ میں درج یسوع مسیح کی تمثیل سے ہم کیا سیکھتے ہیں؟‏

۳ ہمیں اُن لوگوں کو معاف کرنے کے لئے تیار رہنا چاہئے جو ہمیں ٹھیس پہنچاتے ہیں، چاہے وہ کلیسیا کے رُکن ہوں یا پھر کوئی اَور۔ یوں اپنے گھر والوں اور دوستوں وغیرہ کے ساتھ ہمارے تعلقات اچھے رہیں گے اور ہم یہوواہ خدا کی قربت میں بھی رہیں گے۔ بائبل سے ہم سیکھتے ہیں کہ دوسروں کو معاف کرنا ہم پر لازم ہے، خواہ وہ ہمیں بار بار ٹھیس پہنچائیں۔ اِس سلسلے میں یسوع مسیح نے ایک تمثیل پیش کی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمیں دوسروں کو معاف کرنے کے لئے کیوں تیار رہنا چاہئے۔ یہ تمثیل ایک نوکر کے بارے میں ہے جو اپنے مالک کا قرض‌دار تھا۔‏

۴ اِس نوکر پر ۶ کروڑ دینار کا قرض تھا۔ یسوع مسیح کے زمانے میں ایک دن کی مزدوری ایک دینار تھی۔ اِس کا مطلب ہے کہ اُس نوکر نے ۶ کروڑ دنوں کی مزدوری کے برابر قرض ادا کرنا تھا۔ پھر بھی اُس کے مالک نے اُسے اِتنا بڑا قرض معاف کر دیا۔ جب یہ نوکر اپنے مالک سے مل کر باہر آیا تو وہ اپنے ایک ہم‌خدمت سے ملا جس نے اُس کا صرف ۱۰۰ دینار قرض دینا تھا۔ اُس ہم‌خدمت نے اُس نوکر سے رحم کی بھیک مانگی اور کہا کہ قرض لوٹانے کے لئے اُسے تھوڑا اَور وقت دے دے۔ مگر اُس نے ذرا بھی رحم نہ کِیا اور اپنے ہم‌خدمت کو جیل میں ڈلوا دیا۔ جب یہ بات مالک کو پتہ چلی تو وہ بہت غصے میں آ گیا۔ مالک نے اُس نوکر سے کہا:‏ ”‏کیا تجھے لازم نہ تھا کہ جیسا مَیں نے تجھ پر رحم کِیا تُو بھی اپنے ہم‌خدمت پر رحم کرتا؟ اور .‏ .‏ .‏ مالک نے خفا ہو کر اُس کو جلادوں کے حوالہ کِیا کہ جب تک تمام قرض ادا نہ کر دے قید رہے۔“‏—‏متی ۱۸:‏۲۱-‏۳۴‏۔‏

۵ یسوع مسیح اِس تمثیل کے ذریعے کیا سکھانا چاہتے تھے؟ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏میرا آسمانی باپ بھی تمہارے ساتھ اِسی طرح کرے گا اگر تُم میں سے ہر ایک اپنے بھائی کو دل سے معاف نہ کرے۔“‏ (‏متی ۱۸:‏۳۵‏)‏ ہم سب خطاکار انسان ہیں۔ ہم پوری طرح خدا کے حکموں پر عمل نہیں کر سکتے۔ پھر بھی وہ ہمارے گُناہ معاف کرنے کو تیار ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ وہ ہمارے گُناہوں کو دھو ڈالتا ہے۔ لہٰذا اگر ہم خدا کے دوست بننا چاہتے ہیں تو پھر ضروری ہے کہ ہم بھی دوسروں کی غلطیاں معاف کریں۔ یسوع مسیح نے اپنے پہاڑی وعظ میں یہی تعلیم دی تھی۔ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏اگر تُم آدمیوں کے قصور معاف کرو گے تو تمہارا آسمانی باپ بھی تُم کو معاف کرے گا۔ اور اگر تُم آدمیوں کے قصور معاف نہ کرو گے تو تمہارا باپ بھی تمہارے قصور معاف نہ کرے گا۔“‏—‏متی ۶:‏۱۴، ۱۵‏۔‏

۶.‏ دوسروں کو معاف کرنا اکثر مشکل کیوں ہوتا ہے؟‏

۶ آپ اِس بات سے اتفاق کریں گے کہ ہمیں دوسروں کو معاف کرنا چاہئے۔ لیکن آپ شاید سوچیں کہ یہ سب کہنا تو آسان ہے مگر کرنا بہت مشکل ہے۔ جب کوئی ہمیں ٹھیس پہنچاتا ہے تو ہم اکثر جذباتی ہو جاتے ہیں۔ ہم شاید غصے میں آ جائیں یا پھر ہمیں لگے کہ ہمارے ساتھ دھوکا یا ناانصافی ہوئی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ہم بدلہ لینے کی ٹھان لیں۔ شاید ہم سوچیں کہ ہم اُس شخص کو کبھی معاف نہیں کر سکیں گے۔ ایسی صورت میں ہمیں کیا کرنا چاہئے تاکہ ہم یہوواہ خدا کی توقع کے مطابق دوسروں کو معاف کرنے کے لئے تیار رہیں؟‏

اپنے غصے کی اصل وجہ معلوم کریں

۷، ۸.‏ جب کوئی ہمیں چوٹ پہنچاتا ہے تو ہم اُسے معاف کرنے کے قابل کیسے ہو سکتے ہیں؟‏

۷ جب ہمارے ساتھ واقعی کوئی ناانصافی ہوتی ہے یا پھر ہمیں لگتا ہے کہ ہمارے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے تو ہمیں بہت غصہ آتا ہے۔ اِس سلسلے میں ایک نوجوان کی مثال پر غور کریں جسے لگا کہ اُس کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے۔ اُس نے کہا:‏ ”‏مَیں غصے کے عالم میں اپنے گھر سے نکل آیا اور قسم کھائی کہ اب مَیں اِس گھر میں دوبارہ کبھی قدم نہیں رکھوں گا۔ وہ دن بہت خوشگوار تھا اور مَیں ایک خوبصورت راستے پر چلتا جا رہا تھا۔ اِس پُرسکون اور خوبصورت جگہ پر میرا غصہ آہستہ‌آہستہ ٹھنڈا ہونے لگا۔ مجھے اپنے کئے پر شرمندگی محسوس ہوئی اور کچھ گھنٹے بعد مَیں گھر لوٹ آیا۔“‏ اِس نوجوان کی مثال سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب ہمیں کسی بات پر غصہ آتا ہے تو ہمیں کچھ وقت انتظار کرنا چاہئے تاکہ ہمارا غصہ ٹھنڈا ہو جائے۔ یوں ہم ٹھنڈے دماغ سے صورتحال کا جائزہ لینے کے قابل ہوں گے اور کوئی بھی ایسا کام کرنے سے بچیں گے جس پر ہمیں بعد میں پچھتانا پڑے۔—‏امثا ۱۴:‏۲۹؛‏ یعقو ۱:‏۱۹، ۲۰‏۔‏

۸ لیکن اگر ہمارا غصہ یا ناراضگی ختم نہ ہو تو ہمیں کیا کرنا چاہئے؟ ہمیں یہ جاننے کی کوشش کرنی چاہئے کہ ہمارے غصے کی اصل وجہ کیا ہے۔ کیا ہمارے ساتھ ناانصافی کی گئی ہے؟ یا پھر کسی نے ہمارے ساتھ بدتمیزی کی ہے؟ یا کیا ہمیں لگتا ہے کہ کسی نے جان بوجھ کر ہمیں چوٹ پہنچانے کی کوشش کی ہے؟ کیا دوسرے شخص کی حرکت واقعی بہت غلط تھی؟ اگر ہم اپنے غصے کی اصل وجہ معلوم کر لیں تو پھر ہم یہ بھی معلوم کر سکیں گے کہ ہمیں اپنے غصے کو قابو میں رکھنے کے لئے پاک کلام کے کن اصولوں پر عمل کرنا چاہئے۔ یوں ہم دوسروں کو معاف کرنے کی طرف زیادہ مائل ہوں گے۔ ‏(‏امثال ۱۵:‏۲۸؛‏ ۱۷:‏۲۷ کو پڑھیں۔)‏ یہ اچھا ہوگا کہ ہم اپنے احساسات کی بجائے حقائق پر غور کریں۔ ایسا کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ لیکن پاک کلام کے ذریعے ہم اپنے ”‏دل کے خیالوں اور اِرادوں“‏ کو جانچنے کے قابل ہوں گے اور معاف کرنے کے سلسلے میں یہوواہ خدا کی مثال پر عمل کر سکیں گے۔—‏عبر ۴:‏۱۲‏۔‏

صورتحال کا جائزہ لیں

۹، ۱۰.‏ (‏الف)‏ جب کوئی شخص آپ کو غصہ دِلاتا ہے تو آپ کا ردِعمل کیا ہو سکتا ہے؟ (‏ب)‏ اگر آپ فوراً غصے میں نہیں آتے اور معاف کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں تو آپ کیسا محسوس کریں گے؟‏

۹ زندگی میں بہت سے ایسے موقعے آتے ہیں جب لوگوں کو غصہ آ جاتا ہے۔ فرض کریں کہ آپ گاڑی چلا رہے ہیں اور کوئی دوسری گاڑی آپ کے اِتنا قریب آ جاتی ہے کہ ٹکر ہوتے ہوتے بچتی ہے۔ ایسی صورت میں آپ کا ردِعمل کیا ہوگا؟ بعض لوگ اِتنے غصے میں آ جاتے ہیں کہ وہ دوسرے ڈرائیور سے مارپیٹ شروع کر دیتے ہیں۔ ایک مسیحی کے طور پر یقیناً آپ ایسا نہیں کریں گے۔‏

۱۰ فوراً کوئی قدم اُٹھانے کی بجائے اچھا ہوگا کہ آپ صورتحال کا جائزہ لیں۔ ہو سکتا ہے کہ گاڑی چلاتے وقت تھوڑی دیر کے لئے آپ کا دھیان ہٹ گیا ہو اِس لئے آپ بھی اِس صورتحال کے ذمہ‌دار ہیں۔ یا پھر دوسرے شخص کی گاڑی میں اچانک کوئی نقص پیدا ہو گیا ہو۔ اِسی طرح جب کوئی شخص ایسی غلطی کرتا ہے جس سے ہمیں غصہ آتا ہے تو ہمیں یہ سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے کہ یہ غلطی کن حالات میں ہوئی۔ ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ ہم اُن تمام حقائق سے واقف نہیں جن کی بِنا پر غلطی ہوئی۔ اِس کے علاوہ ہمیں اُس شخص کو معاف کرنے کے لئے تیار رہنا چاہئے۔ ایسا کرنے سے ہم اپنے جذبات کو قابو میں رکھ سکیں گے۔ واعظ ۷:‏۹ میں لکھا ہے:‏ ”‏تُو اپنے جی میں خفا ہونے میں جلدی نہ کر کیونکہ خفگی احمقوں کے سینوں میں رہتی ہے۔“‏ بعض اوقات شاید ہم سوچتے ہیں کہ کوئی شخص جان‌بُوجھ کر ہمیں ٹھیس پہنچا رہا ہے۔ لیکن یہ محض ہماری غلط‌فہمی ہو سکتی ہے۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ وہ شخص بھی ہماری طرح خطاکار ہے اور اُس سے بھی غلطی ہو سکتی ہے۔ یہ بات ذہن میں رکھیں کہ ہم پوری طرح جان نہیں سکتے کہ ایک شخص نے فلاں بات کیوں کہی یا فلاں کام کیوں کِیا۔ اگر ہم محبت کی بِنا پر اُس شخص کو معاف کر دیں گے تو ہم خوش رہیں گے۔‏‏—‏۱-‏پطرس ۴:‏۸ کو پڑھیں۔‏

‏’‏تمہارا سلام تُم پر لوٹ آئے‘‏

۱۱.‏ مُنادی کے دوران لوگ ہمارے ساتھ چاہے جیسا بھی سلوک کریں، ہمیں کیسا ردِعمل ظاہر کرنا چاہئے؟‏

۱۱ اگر مُنادی کے کام کے دوران کوئی آپ سے بدتمیزی کرتا ہے تو آپ اپنے غصے پر کیسے قابو رکھ سکتے ہیں؟ جب یسوع مسیح نے ۷۰ شاگردوں کو مُنادی کرنے کے لئے بھیجا تھا تو اُنہوں نے ہدایت کی تھی کہ وہ جس گھر بھی جائیں یہ کہیں کہ ”‏اِس گھر کی سلامتی ہو۔“‏ پھر اُنہوں نے کہا کہ ”‏اگر وہاں کوئی سلامتی کا فرزند ہوگا تو تمہارا سلام اُس پر ٹھہرے گا نہیں تو تُم پر لوٹ آئے گا۔“‏ (‏لو ۱۰:‏۱،‏ ۵، ۶‏)‏ اِن آیتوں میں جس یونانی لفظ کا ترجمہ سلام کِیا گیا ہے، وہ اطمینان اور سکون کے معنی بھی رکھتا ہے۔ جب لوگ ہمارا پیغام سنتے ہیں تو ہمیں خوشی ہوتی ہے کیونکہ اِس سے اُنہیں فائدہ ہوگا۔ لیکن جب وہ ہمارے ساتھ غصے اور بدتمیزی سے پیش آتے ہیں تو ہمیں غصے میں نہیں آنا چاہئے۔ اِس صورت میں یسوع مسیح کے مطابق ہمارا اطمینان قائم رہے گا۔‏

۱۲.‏ افسیوں ۴:‏۳۱، ۳۲ میں پولس رسول کی ہدایت کے مطابق ہمیں کیا کرنا چاہئے؟‏

۱۲ ہمیں نہ صرف مُنادی کے دوران بلکہ ہر صورتحال میں اپنا اطمینان قائم رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ دوسروں کو معاف کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ ہماری نظر میں اُن کے کام صحیح ہیں۔ اِس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ہم یہ تاثر دیں کہ اُن کے کاموں سے دوسروں کو کوئی نقصان نہیں ہوتا۔ اِس کے برعکس اِس کا مطلب یہ ہے کہ ہم دوسروں کی غلطیوں کی وجہ سے اُن کے لئے اپنے دل میں رنجش نہ رکھیں اور اپنے اطمینان کو قائم رکھیں۔ بعض لوگ سوچتے رہتے ہیں کہ دوسروں نے اُن کے ساتھ کتنا بُرا سلوک کِیا ہے۔ اِس طرح وہ غصے میں رہتے ہیں اور اپنی خوشی اور اطمینان کھو بیٹھتے ہیں۔ آپ غصے کو اپنے اُوپر حاوی نہ ہونے دیں۔ یاد رکھیں کہ اگر آپ کسی سے خفا رہیں گے تو آپ خوش نہیں رہ پائیں گے۔ لہٰذا معاف کرنے کے لئے تیار رہیں۔‏‏—‏افسیوں ۴:‏۳۱،‏ ۳۲ کو پڑھیں۔‏

یہوواہ خدا کی طرح معاف کرنے کو تیار رہیں

۱۳.‏ (‏الف)‏ ایک مسیحی ’‏اپنے دُشمن کے سر پر آگ کے انگاروں کا ڈھیر‘‏ کیسے لگا سکتا ہے؟ (‏ب)‏ جب ہم غصے کا جواب نرمی سے دیتے ہیں تو کیا نتیجہ نکل سکتا ہے؟‏

۱۳ بعض اوقات شاید کوئی ایسا شخص آپ کو چوٹ پہنچائے جو کلیسیا کا رُکن نہیں۔ ایسی صورت میں آپ شاید اُسے سچائی کی طرف کھینچ لیں۔ پولس رسول نے لکھا:‏ ”‏اگر تیرا دُشمن بھوکا ہو تو اُس کو کھانا کھلا۔ اگر پیاسا ہو تو اُسے پانی پلا کیونکہ ایسا کرنے سے تُو اُس کے سر پر آگ کے انگاروں کا ڈھیر لگائے گا۔ بدی سے مغلوب نہ ہو بلکہ نیکی کے ذریعہ سے بدی پر غالب آؤ۔“‏ (‏روم ۱۲:‏۲۰، ۲۱‏)‏ جب لوگ آپ کے ساتھ غصے سے پیش آتے ہیں مگر آپ اُن کے ساتھ بڑے تحمل سے بات کرتے ہیں تو اُن کا رویہ بدل سکتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ بھی آپ کے ساتھ نرمی سے پیش آنے لگیں۔ اگر آپ اُن کے حالات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور مہربانی سے کام لیتے ہیں تو شاید وہ بائبل سے تعلیم حاصل کرنے کے لئے تیار ہو جائیں۔ چاہے وہ سچائی قبول کریں یا نہ کریں، آپ کا اچھا ردِعمل اُنہیں یہ سوچنے کی ترغیب دے گا کہ آپ دوسروں سے اِتنے فرق کیوں ہیں۔—‏۱-‏پطر ۲:‏۱۲؛‏ ۳:‏۱۶‏۔‏

۱۴.‏ اگر کسی کے سنگین گُناہ کی وجہ سے آپ کو بہت ٹھیس پہنچی ہے تو بھی آپ کو اُسے معاف کرنے کے لئے تیار کیوں رہنا چاہئے؟‏

۱۴ ہمیں کچھ لوگوں کے ساتھ کسی قسم کا میل‌جول نہیں رکھنا چاہئے۔ مثال کے طور پر جن لوگوں کو کلیسیا سے خارج کر دیا گیا ہے، ہمیں اُن سے کوئی صحبت نہیں رکھنی چاہئے۔ اُنہیں کلیسیا سے اِس لئے نکالا گیا تھا کیونکہ اُنہوں نے سنگین گُناہ کِیا تھا اور توبہ نہیں کی تھی۔ اگر ایسے ہی کسی شخص کی وجہ سے آپ کو ٹھیس پہنچی ہے تو آپ کو اُسے معاف کرنا شاید مشکل لگے۔ ہو سکتا ہے کہ اُس شخص نے اپنے گُناہ سے توبہ کر لی ہو پھر بھی آپ اُسے ابھی تک معاف نہیں کر پائے۔ ایسی صورت میں یہوواہ خدا سے دُعا کریں تاکہ آپ اُس شخص کو معاف کر سکیں۔ یہوواہ خدا سے مدد مانگنا ضروری ہے کیونکہ آپ اُس شخص کے احساسات اور جذبات کو سمجھ نہیں سکتے۔ لیکن یہوواہ خدا سمجھتا ہے۔ وہ ہر ایک کے دل کا حال جانتا ہے اور جو لوگ گُناہ کرتے ہیں، اُن کے ساتھ صبر سے پیش آتا ہے۔ (‏زبور ۷:‏۹؛‏ امثا ۱۷:‏۳‏)‏ اِسی لئے خدا کے کلام میں یہ ہدایت دی گئی ہے کہ ”‏بدی کے عوض کسی سے بدی نہ کرو۔ جو باتیں سب لوگوں کے نزدیک اچھی ہیں اُن کی تدبیر کرو۔ جہاں تک ہو سکے تُم اپنی طرف سے سب آدمیوں کے ساتھ میل ملاپ رکھو۔ اَے عزیزو!‏ اپنا انتقام نہ لو بلکہ غضب کو موقع دو کیونکہ یہ لکھا ہے کہ [‏یہوواہ]‏ فرماتا ہے انتقام لینا میرا کام ہے۔ بدلہ مَیں ہی دوں گا۔“‏ (‏روم ۱۲:‏۱۷-‏۱۹‏)‏ ہمیں دوسروں کو غلط قرار دینے کا کوئی حق نہیں ہے۔ (‏متی ۷:‏۱، ۲‏)‏ لیکن ہم یقین رکھ سکتے ہیں کہ یہوواہ خدا کبھی کسی سے ناانصافی نہیں کرتا۔‏

۱۵.‏ اگر ہمیں کسی کو معاف کرنا مشکل لگتا ہے تو کون‌سی بات یاد رکھنے سے ہماری سوچ بدل سکتی ہے؟‏

۱۵ اگر کسی نے اپنے گُناہ سے توبہ کر لی ہے پھر بھی آپ کو اُسے معاف کرنا مشکل لگتا ہے تو یاد رکھیں کہ اُس شخص نے بھی گُناہ کو ورثے میں پایا ہے۔ (‏روم ۳:‏۲۳‏)‏ چونکہ سب انسان گنہگار ہیں اِس لئے یہوواہ خدا کو اُن پر رحم آتا ہے۔ لہٰذا اچھا ہوگا کہ ہم اُس شخص کے لئے دُعا کریں جس نے ہمیں ٹھیس پہنچائی ہے۔ اگر ہم کسی شخص کے لئے دُعا کرتے ہیں تو ہم بھلا اُس سے خفا کیسے رہ سکتے ہیں۔ یسوع مسیح نے بھی واضح کِیا کہ ہمیں اُن لوگوں سے خفا نہیں رہنا چاہئے جو ہمیں چوٹ پہنچاتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏اپنے دُشمنوں سے محبت رکھو اور اپنے ستانے والوں کے لئے دُعا کرو۔“‏—‏متی ۵:‏۴۴‏۔‏

۱۶، ۱۷.‏ جب کلیسیا کے بزرگ یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنے گُناہ سے توبہ کر لی ہے تو ہمیں کیسا ردِعمل ظاہر کرنا چاہئے اور کیوں؟‏

۱۶ یہوواہ خدا نے کلیسیا کے بزرگوں کو یہ فیصلہ کرنے کی ذمہ‌داری دی ہے کہ آیا ایک شخص نے اپنے گُناہوں سے سچی توبہ کر لی ہے یا نہیں۔ بزرگ ہر معاملے کے بارے میں سب کچھ تو نہیں جانتے جیسے کہ یہوواہ خدا جانتا ہے۔ لیکن وہ کوشش کرتے ہیں کہ اُن کا ہر فیصلہ پاک کلام کے مطابق اور پاک روح کی رہنمائی میں ہو۔ لہٰذا جب وہ دُعا کرنے کے بعد کسی گنہگار کے سلسلے میں کوئی فیصلہ کرتے ہیں تو ہم یقین رکھ سکتے ہیں کہ اُن کا فیصلہ یہوواہ خدا کی مرضی کے مطابق ہے۔—‏متی ۱۸:‏۱۸‏۔‏

۱۷ کیا ہم بزرگوں کے فیصلوں کی حمایت کرتے ہیں؟ جب وہ یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ کسی شخص نے توبہ کر لی ہے تو کیا ہم بھی اُس شخص کو معاف کرنے کے لئے تیار ہوتے ہیں؟ (‏۲-‏کر ۲:‏۵-‏۸‏)‏ شاید ہمارے لئے ایسا کرنا مشکل ہو، خاص طور پر اُس وقت جب اُس کی وجہ سے ہمیں یا ہمارے کسی رشتہ‌دار کو چوٹ پہنچی ہے۔ اِس صورت میں ہمیں یہوواہ خدا پر بھروسا رکھنا چاہئے اور یہ یقین رکھنا چاہئے کہ وہ فیصلے کرنے میں بزرگوں کی رہنمائی کرتا ہے۔ یوں ہم اُس شخص کو دل سے معاف کرنے کے لئے تیار ہوں گے۔—‏امثا ۳:‏۵، ۶‏۔‏

۱۸.‏ دوسروں کو معاف کرنے سے ہمیں کیا فائدے ہو سکتے ہیں؟‏

۱۸ اگر ہم دوسروں کو معاف نہیں کرتے تو ہم پریشانی کا شکار ہو سکتے ہیں، ہماری صحت پر بُرا اثر ہو سکتا ہے اور دوسروں کے ساتھ ہمارے تعلقات خراب ہو سکتے ہیں۔ اِس کے برعکس دوسروں کو معاف کرنے کے بہت فائدے ہیں۔ جب ہم غصے اور مایوسی وغیرہ کو خود پر حاوی نہیں ہونے دیتے تو ہماری صحت پر اچھا اثر ہوتا ہے۔ اِس کے علاوہ دوسرے لوگوں کے ساتھ ہماری تعلقات خوشگوار رہتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر ہم اپنے آسمانی باپ یہوواہ خدا کی قربت میں رہتے ہیں۔‏‏—‏کلسیوں ۳:‏۱۲-‏۱۴ کو پڑھیں۔‏

‏[‏صفحہ ۲۹ پر تصویر]‏

یسوع مسیح اِس تمثیل کے ذریعے کیا سکھانا چاہتے تھے؟‏

‏[‏صفحہ ۳۲ پر تصویر]‏

مسیحیوں پر لازم ہے کہ وہ ایک دوسرے کو معاف کرنے کے لئے تیار رہیں‏۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں