یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م11 1/‏8 ص.‏ 3-‏4
  • کیا زندگی کا کوئی مقصد ہے؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • کیا زندگی کا کوئی مقصد ہے؟‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—2011ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • کیا انسان کی زندگی ہمیشہ بے‌معنی رہے گی؟‏
  • آپکی زندگی—‏اسکا مقصد کیا ہے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1997ء
  • ‏”‏انسان کا فرضِ‌کُلی“‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1997ء
  • حقیقی خوشی کن کاموں سے حاصل ہوتی ہے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2008ء
  • زندگی بے‌معنی کیوں لگتی ہے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—2011ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—2011ء
م11 1/‏8 ص.‏ 3-‏4

کیا زندگی کا کوئی مقصد ہے؟‏

بے‌شمار لوگوں نے یہ سوال پوچھا ہے کہ ”‏کیا زندگی کا کوئی مقصد ہے؟“‏ چاہے اُن کا جواب کچھ بھی ہو، حقیقت یہ ہے کہ بہت سے لوگ اپنی زندگی کو بے‌معنی سمجھتے ہیں۔ اِس سلسلے میں آسٹریا کے ایک اعصابی امراض کے ماہر نے کہا کہ انسان کو اِس احساس سے چھٹکارا نہیں مل سکتا کہ زندگی ”‏کھوکھلی اور بے‌مقصد“‏ ہے۔‏

اِتنے سارے لوگ اپنی زندگی کو بے‌معنی کیوں خیال کرتے ہیں؟ اِس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ لاکھوں لوگ بہت ہی مشکل حالات میں زندگی گزارتے ہیں۔ اُنہیں ہر روز غربت، بیماری، تشدد اور ناانصافی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہ خدا کے خادم ایوب کی طرح محسوس کرتے ہیں جنہوں نے ہزاروں سال پہلے کہا تھا کہ انسان کی زندگی ’‏دُکھ سے بھری ہے۔‘‏ (‏ایوب ۱۴:‏۱‏)‏ ایسے لوگوں کی زندگی کا واحد مقصد یہ ہے کہ کسی طرح آج کا دن کٹ جائے اور وہ کل کا سورج دیکھ سکیں۔‏

لاکھوں لوگ ایسے بھی ہیں جن کے پاس ضرورت کی ہر چیز موجود ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اُن کی زندگی خوشگوار گزرنی چاہئے۔ لیکن ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا۔ اکثر اُنہیں بھی زندگی میں ”‏مشقت اور غم“‏ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، مثلاً جب اُن کو اچانک مالی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے یا اُن کا کوئی بچہ فوت ہو جاتا ہے۔—‏زبور ۹۰:‏۱۰‏۔‏

انسان اپنی زندگی اِس لئے بھی ”‏کھوکھلی اور بے‌مقصد“‏ خیال کرتا ہے کیونکہ زندگی بہت مختصر ہے۔ بہت سے لوگ یہ نہیں سمجھ پاتے کہ انسان کی زندگی محض چند روز کی کیوں ہے جبکہ اُس میں اِتنا کچھ کرنے کی صلاحیت ہے۔ وہ یہ بھی سمجھ نہیں پاتے کہ اگر کسی کی زندگی خوشگوار بھی گزرتی ہے تو آخرکار موت اُس کا سب کچھ کیوں چھین لیتی ہے؟—‏واعظ ۳:‏۱۹، ۲۰‏۔‏

کیا انسان کی زندگی ہمیشہ بے‌معنی رہے گی؟‏

بنی‌اسرائیل کے بادشاہ سلیمان نے بھی انسان کی زندگی پر غور کِیا۔ اُنہوں نے دیکھا کہ لوگ کھیتی‌باڑی کرنے، گھر بنانے اور اپنے گھروالوں کی ضروریات پوری کرنے میں سخت محنت کرتے ہیں اور اپنی صلاحیتوں کو کام میں لاتے ہیں۔ لیکن آخرکار لوگوں کو اِس سب کا کیا فائدہ ہوتا ہے؟ سلیمان بادشاہ نے نتیجہ اخذ کِیا کہ ”‏یہ سب بے‌معنی اور ہوا کے تعاقب کی مانند ہے۔“‏—‏واعظ ۲:‏۱۷‏، نیو اُردو بائبل ورشن۔‏

کیا سلیمان بادشاہ یہ کہنا چاہتے تھے کہ ہمیشہ تک انسان کے سارے کام ”‏بے‌معنی اور ہوا کے تعاقب کی مانند“‏ ہوں گے؟ جی‌نہیں۔ اُنہوں نے محض یہ بتایا کہ حقیقت میں زندگی کیسی ہے۔ لیکن خدا کے کلام میں یہ وعدہ کِیا گیا ہے کہ ایک ایسا وقت آئے گا جب ہر انسان کی زندگی بامقصد ہوگی۔‏

آپ اِس وعدے پر کیوں بھروسا رکھ سکتے ہیں؟ آئیں، اگلے دو مضامین کو پڑھیں۔ اِن میں بتایا گیا ہے کہ انسان اِس حال کو کیسے پہنچا کہ اُس کی زندگی بے‌معنی لگتی ہے، اِس صورتحال کو کیسے حل کِیا جائے گا اور آپ اپنی زندگی کو ابھی بھی بامقصد کیسے بنا سکتے ہیں۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں