زمین پر فردوس قائم ہوگا
”اَے ہمارے باپ تُو جو آسمان پر ہے تیرا نام پاک مانا جائے۔ تیری بادشاہی آئے۔ تیری مرضی جیسی آسمان پر پوری ہوتی ہے زمین پر بھی ہو۔“—متی ۶:۹، ۱۰۔
یہ دُعا یسوع مسیح نے اپنے شاگردوں کو سکھائی تھی۔ اِس کی بِنا پر تمام انسان مستقبل کے لئے اُمید باندھ سکتے ہیں۔ ہم ایسا کیوں کہہ سکتے ہیں؟
اِس دُعا سے ظاہر ہوتا ہے کہ خدا کی بادشاہت کے ذریعے زمین پر خدا کی مرضی پوری ہوگی جیسا کہ یہ آسمان پر پوری ہو رہی ہے۔ خدا کی مرضی یہ ہے کہ ہماری زمین ایک فردوس میں تبدیل ہو جائے۔ (مکاشفہ ۲۱:۱-۵) پاک صحائف میں خدا کی بادشاہت کے بارے میں کونسی تفصیلات بتائی گئی ہیں؟ یہ بادشاہت زمین پر فردوس کیسے لائے گی؟
خدا کی بادشاہت کے بارے میں کچھ تفصیلات
خدا کی بادشاہت آسمان پر قائم ہے۔ اِس حکومت کا حکمران اور اِس کی رعایا کون ہیں؟ اِس حکومت نے کونسے قوانین عائد کئے ہیں؟ آئیں دیکھیں کہ پاک صحائف میں اِس کے بارے میں کونسی تفصیلات بتائی گئی ہیں۔
خدا کی بادشاہت کے حکمران کون ہیں؟ (یسعیاہ ۳۳:۲۲) یہوواہ خدا نے یسوع مسیح کو اِس بادشاہت کا حاکم ٹھہرایا ہے۔ (متی ۲۸:۱۸) یہوواہ خدا کی راہنمائی میں یسوع مسیح نے ”ہر ایک قبیلہ اور اہلِزبان اور اُمت اور قوم“ میں سے ایسے لوگوں کو چُنا ہے جو اُس کے ساتھ ’زمین پر بادشاہی کریں گے۔‘ اِن کی تعداد محدود ہے۔—مکاشفہ ۵:۹، ۱۰۔
خدا کی بادشاہت کے چند قوانین کیا ہیں؟ یسوع مسیح نے سب سے اہم حکم کی شناخت یوں کی: ”[یہوواہ] اپنے خدا سے اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری عقل سے محبت رکھ۔ بڑا اور پہلا حکم یہی ہے۔ اور دوسرا اِس کی مانند یہ ہے کہ اپنے پڑوسی سے اپنے برابر محبت رکھ۔“—متی ۲۲:۳۷-۳۹۔
اس کے علاوہ خدا کی بادشاہت کے قوانین میں کچھ باتوں سے منع بھی کِیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر خدا کے کلام میں لکھا ہے: ”فریب نہ کھاؤ۔ نہ حرامکار خدا کی بادشاہی کے وارث ہوں گے نہ بُتپرست نہ زناکار نہ عیاش۔ نہ لونڈےباز۔ نہ چور۔ نہ لالچی نہ شرابی۔ نہ گالیاں بکنے والے نہ ظالم۔“—۱-کرنتھیوں ۶:۹، ۱۰۔
خدا کی بادشاہت کی رعایا کیسے لوگوں پر مشتمل ہے؟ یسوع مسیح نے خدا کی بادشاہت کی رعایا کو بھیڑوں سے تشبیہ دی۔ اُس نے کہا: ”وہ میری آواز سنیں گی۔ پھر ایک ہی گلّہ اور ایک ہی چرواہا ہوگا۔“ (یوحنا ۱۰:۱۶) اِس بادشاہت کی رعایا میں شامل ہونے کے لئے یہ کہنا کافی نہیں ہے کہ مَیں یسوع مسیح کی پیروی کرتا ہوں، بلکہ ہمیں اُس کے حکموں پر عمل بھی کرنا چاہئے۔ یسوع مسیح نے کہا تھا: ”جو مجھ سے اَے خداوند اَے خداوند! کہتے ہیں اُن میں سے ہر ایک آسمان کی بادشاہی میں داخل نہ ہوگا مگر وہی جو میرے آسمانی باپ کی مرضی پر چلتا ہے۔“—متی ۷:۲۱۔
لہٰذا جو لوگ خدا کی بادشاہت کی رعایا میں شامل ہیں وہ خدا کے نام یہوواہ کو استعمال کرتے ہیں اور اِس کی بڑائی کرتے ہیں۔ (یوحنا ۱۷:۲۶) وہ یسوع مسیح کے حکم کے مطابق دوسروں کو ’بادشاہی کی خوشخبری‘ سناتے ہیں۔ (متی ۲۴:۱۴؛ ۲۸:۱۹، ۲۰) اس کے علاوہ وہ آپس میں محبت رکھتے ہیں۔—یوحنا ۱۳:۳۵۔
خدا ”زمین کے تباہ کرنے والوں کو تباہ“ کرے گا
دُنیا کے بُرے حالات سے ظاہر ہوتا ہے کہ خدا کی بادشاہت جلد ہی زمین پر حیرتانگیز تبدیلیاں لانے والی ہے۔ ہم یہ کیسے جانتے ہیں؟ تقریباً ۲،۰۰۰ سال پہلے یسوع مسیح نے ایسے نشان بتائے جن سے ہم پہچان سکتے ہیں کہ ”خدا کی بادشاہی نزدیک ہے۔“ (لوقا ۲۱:۳۱) جیسا کہ ہم نے پچھلے مضمون میں دیکھا ہے یہ نشان عالمگیر پیمانے پر ظاہر ہو رہے ہیں۔
مستقبل میں ہم کن واقعات کی توقع کر سکتے ہیں؟ یسوع مسیح نے کہا: ”اُس وقت اَیسی بڑی مصیبت ہوگی کہ دُنیا کے شروع سے نہ اب تک ہوئی نہ کبھی ہوگی۔“ (متی ۲۴:۲۱) خدا ہی یہ مصیبت لائے گا۔ وہ اِس مصیبت کے ذریعے ”زمین کے تباہ کرنے والوں کو تباہ“ کرے گا۔ (مکاشفہ ۱۱:۱۸) بُرے لوگ جن کی حرکتوں سے زمین تباہ ہو رہی ہے وہ ”زمین پر سے کاٹ ڈالے جائیں گے۔“ لیکن ایسے لوگ جو خدا کی مرضی بجا لاتے ہیں اور اُس کی خدمت کرتے ہیں وہ زمین پر ”آباد رہیں گے۔“—امثال ۲:۲۱، ۲۲۔
خدا کی یہ کارروائی اُس کے انصاف کو ظاہر کرتی ہے۔ ہم یہ کیوں کہہ سکتے ہیں؟ ذرا تصور کریں کہ آپ ایک ایسے مکان کے مالک ہیں جس میں کئی فلیٹ ہیں۔ اِن میں رہنے والے بعض کرائےدار اچھے لوگ ہیں جو دوسروں کا لحاظ رکھتے ہیں۔ وہ وقت پر اپنا کرایہ ادا کرتے ہیں اور صفائی کا خیال رکھتے ہیں۔ لیکن کئی کرائےدار خودغرض ہیں۔ وہ کرایہ نہیں ادا کرتے اور گھر میں توڑپھوڑ کرتے ہیں۔ آپ اُنہیں منع کرتے ہیں لیکن اِس کے باوجود وہ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتے۔ مالکمکان کے طور پر آپ اِس صورتحال میں کیا کریں گے؟ ظاہر ہے کہ آپ اِن بُرے کرائےداروں کو گھر سے نکال دیں گے۔
یہوواہ خدا زمین کا خالق اور مالک ہے۔ وہ ہی اِس بات کا فیصلہ کرنے کا حق رکھتا ہے کہ اِس پر کیسے لوگ آباد ہوں گے۔ (مکاشفہ ۴:۱۱) یہوواہ خدا اِن بدکار لوگوں کو زمین پر سے ہٹا لے گا جو اُس کی مرضی کو نظرانداز کرتے ہیں اور دوسروں کا حق مارتے ہیں۔—زبور ۳۷:۹-۱۱۔
زمین فردوس میں تبدیل ہو جائے گی
جلد ہی خدا کی بادشاہت کا بادشاہ یسوع مسیح زمین پر حکمرانی کرنے لگے گا۔ اُس نے اِس نئے دَور کو ”نئی تخلیق“ کہا۔ (متی ۱۹:۲۸، نیو اُردو بائبل ورشن) اُس وقت زمین پر حالات کیسے ہوں گے؟ ذرا اِن پیشینگوئیوں پر غور کریں۔
زبور ۴۶:۹۔ ”وہ زمین کی انتہا تک جنگ موقوف کراتا ہے۔“
یسعیاہ ۳۵:۱۔ ”بیابان اور ویرانہ شادمان ہوں گے اور دشت خوشی کرے گا اور نرگس کی مانند شگفتہ ہوگا۔“
یسعیاہ ۶۵:۲۱-۲۳۔ ”میرے برگزیدے اپنے ہاتھوں کے کام سے مُدتوں تک فائدہ اُٹھائیں گے۔ اُن کی محنت بےسُود نہ ہوگی اور اُن کی اولاد ناگہاں ہلاک نہ ہوگی۔“
یوحنا ۵:۲۸، ۲۹۔ ”اِس سے تعجب نہ کرو کیونکہ وہ وقت آتا ہے کہ جتنے قبروں میں ہیں [یسوع] کی آواز سُن کر نکلیں گے۔“
مکاشفہ ۲۱:۴۔ ”[خدا] اُن کی آنکھوں کے سب آنسو پونچھ دے گا۔ اِس کے بعد نہ موت رہے گی اور نہ ماتم رہے گا۔ نہ آہونالہ نہ درد۔“
خدا کے وعدوں پر بھروسہ رکھیں
کیا آپ کو اِس بات پر بھروسہ ہے کہ خدا کے کلام میں درج وعدے پورے ہوں گے؟ پاک صحائف میں بتایا گیا ہے کہ بہت سے لوگ اِن وعدوں پر اعتبار نہیں کریں گے۔ اِن میں لکھا ہے کہ ”اخیر دنوں میں ایسے ہنسی ٹھٹھا کرنے والے آئیں گے جو اپنی خواہشوں کے موافق چلیں گے۔ اور کہیں گے کہ اُس کے آنے کا وعدہ کہاں گیا؟ کیونکہ جب سے باپدادا سوئے ہیں اُس وقت سے اب تک سب کچھ ویسا ہی ہے جیسا خلقت کے شروع سے تھا۔“ (۲-پطرس ۳:۳، ۴) لیکن یہ ٹھٹھاباز غلطی پر ہیں۔ آئیں ہم چار ایسے حقائق پر غور کریں جن کی بِنا پر ہم پاک صحائف کے وعدوں پر بھروسہ رکھ سکتے ہیں۔
(۱) خدا نے ماضی میں بدکار لوگوں کو تباہ کِیا تھا۔ نوح کے زمانے میں آنے والا طوفان اِس کی ایک مثال ہے۔—۲-پطرس ۳:۵-۷۔
(۲) دُنیا کے موجودہ حالات کے بارے میں جتنی بھی پیشینگوئیاں پاک صحائف میں درج ہیں وہ سب پوری ہو چکی ہیں۔
(۳) یہ بات سچ نہیں کہ ’ہمارے باپدادا کے وقت سے اب تک سب کچھ ویسا ہی ہے جیسا کہ خلقت کے شروع سے تھا۔‘ انسانی تاریخ سے ظاہر ہوتا ہے کہ زمین کے حالات پہلے کبھی اتنے خراب نہ تھے جتنے کہ وہ آج ہیں۔
(۴) ’بادشاہی کی خوشخبری کی مُنادی‘ تمام دُنیا میں ہو رہی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خاتمہ نزدیک ہے۔—متی ۲۴:۱۴۔
یہوواہ کے گواہ آپ کو پاک صحائف کی تعلیم حاصل کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ ایسا کرنے سے آپ ہمیشہ کی زندگی کی اُمید کے بارے میں سیکھ سکیں گے۔ (یوحنا ۱۷:۳) خدا کی بادشاہت کے تحت انسان کا مستقبل واقعی شاندار ہوگا۔ جیہاں، زمین پر خوشحالی کا دَور آنے والا ہے۔ کیا آپ بھی اِس دَور کو دیکھنے کی اُمید رکھتے ہیں؟
[صفحہ ۷ پر عبارت]
جو لوگ کہتے ہیں کہ دُنیا کے حالات میں تبدیلی نہیں آئے گی وہ غلطی پر ہیں
[صفحہ ۸ پر تصویر]
کیا آپ بھی اِس دَور کو دیکھنے کی اُمید رکھتے ہیں؟