یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م05 1/‏11 ص.‏ 8-‏12
  • میرے ”‏دل کی مُرادیں“‏ پوری ہو گئیں

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • میرے ”‏دل کی مُرادیں“‏ پوری ہو گئیں
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2005ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • بائبل کی سمجھ حاصل کرنا
  • خدا کی خدمت شروع کرنا
  • حوصلہ‌شکنی سے نپٹنا
  • پہلے طویل انتظار پھر فوری فیصلہ
  • افریقہ جانے کی میری خواہش
  • واپس لوٹنے کی خوشی
  • اپنے کتے کیساتھ افریقہ میں
  • اُنہوں نے اپنے آپ کو خوشی سے پیش کِیا—‏مغربی افریقہ میں
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے—2014ء
  • ‏”‏اب مَیں دوسروں کی مدد کر رہا ہوں“‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏عوامی ایڈیشن)‏—2016
  • فردوس کی تلاش
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
  • پہلے اور بعدازاں—‏اُس نے اپنی زندگی بدلنے کی طاقت حاصل کی
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2003ء
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2005ء
م05 1/‏11 ص.‏ 8-‏12

میری کہانی میری زبانی

میرے ”‏دل کی مُرادیں“‏ پوری ہو گئیں

از ڈومنیک مورگاؤ

مَیں دسمبر ۱۹۹۸ میں افریقہ میں تھی۔ میرے بچپن کا خواب حقیقت بن چکا تھا۔ مَیں اکثر افریقہ کے وسیع میدانوں اور جنگلی جانوروں کے بارے میں سوچ کر خوش ہوا کرتی تھی اور اب مَیں سچ‌مچ وہاں تھی!‏ اس کیساتھ کسی دوسرے مُلک میں جاکر سارا وقت خدا کی خدمت کرنے کا میرا خواب بھی پورا ہو گیا۔ شاید بہت سے لوگوں کو یہ سب کچھ ناممکن دکھائی دیتا ہو۔ کیونکہ میری نظر بہت زیادہ کمزور ہے اور مَیں افریقہ کے گاؤں کی ریتلی گلیوں میں ایک تربیت‌یافتہ کتے کی مدد سے چلتی ہوں۔ مَیں آپکو بتاتی ہوں کہ میرے لئے افریقہ میں خدمت کرنا کیسے ممکن ہوا اور یہوواہ خدا نے میرے ”‏دل کی مُرادیں“‏ کیسے پوری کیں۔—‏زبور ۳۷:‏۴‏۔‏

مَیں جون ۹، ۱۹۶۶ میں جنوبی فرانس میں پیدا ہوئی۔ مَیں دو بھائیوں اور پانچ بہنوں میں سب سے چھوٹی تھی۔ ہمارے والدین نے بڑی محبت سے ہماری پرورش کی تھی۔ تاہم، میری زندگی میں ایک افسوسناک بات بھی تھی۔ اپنی نانی، والدہ اور ایک بہن کی طرح مَیں بھی ایک موروثی بیماری میں مبتلا تھی۔ یہ ایک ایسی بیماری ہے جس میں آہستہ آہستہ بینائی بالکل ختم ہو جاتی ہے۔‏

جوانی میں مجھے نسل‌پرستی، تعصب اور ریاکاری کو برداشت کرنا پڑا جسکی وجہ سے مَیں معاشرے سے باغی ہوگئی۔ ان ہی مشکل حالات کے دوران ہم فرانس کے ایک دوسرے علاقے میں منتقل ہو گئے۔ وہاں ایک حیران‌کُن بات واقع ہوئی۔‏

ایک اتوار کی صبح، دو یہوواہ کی گواہ عورتیں ہمارے گھر آئیں۔ میری والدہ انہیں جانتی تھی اسلئے انہیں اندر آنے کی دعوت دی۔ ایک گواہ خاتون نے میری والدہ سے پوچھا، کیا آپکو یاد ہے کہ آپ نے بائبل مطالعہ قبول کرنے کا وعدہ کِیا تھا؟ ماں کو یاد تھا اسلئے اُس نے پوچھا، ”‏ہم کب بائبل مطالعہ شروع کریں گی؟“‏ اُنہوں نے اتوار کی صبح بائبل مطالعہ کرنے کا بندوبست بنایا۔ اسطرح میری والدہ نے ”‏خوشخبری کی سچائی“‏ یعنی بائبل سیکھنا شروع کر دی۔—‏گلتیوں ۲:‏۱۴‏۔‏

بائبل کی سمجھ حاصل کرنا

ماں سیکھی ہوئی باتوں کو سمجھنے اور یاد رکھنے کیلئے بہت زیادہ محنت کرتی تھی۔ نابینا ہونے کی وجہ سے اُنہیں ہر بات کو یاد رکھنا پڑتا تھا۔ گواہ بہنیں اُنکے ساتھ بڑے صبر سے پیش آتی تھیں۔ جہاں تک میرا تعلق ہے تو مَیں مطالعہ کے دوران اپنے کمرے میں چھپ جاتی اور جب تک وہ چلی نہ جاتیں باہر نہیں نکلتی تھی۔ تاہم، ایک دن اُن میں سے ایک بہن سے میری ملاقات ہو گئی جسکا نام یوجینی تھا اور اُس نے میرے ساتھ بات‌چیت کی۔ اُس نے مجھے بتایا کہ خدا کی بادشاہت دُنیا میں موجود تمام ریاکاری، نفرت اور تعصب کو ختم کر دے گی۔ اُس نے کہا، ”‏صرف خدا کے پاس ان تمام مشکلات کو ختم کرنے کی طاقت ہے۔“‏ اُس نے پوچھا، کیا آپ مزید جاننا چاہتی ہیں؟ اگلے ہی دن مَیں نے بھی بائبل مطالعہ شروع کر دیا۔‏

جوکچھ مَیں سیکھ رہی تھی وہ سب میرے لئے نیا تھا۔ مَیں سمجھ گئی تھی کہ کچھ عرصہ تک زمین پر بُرائی کو رہنے دینے کی خدا کے پاس بالکل معقول وجوہات ہیں۔ (‏پیدایش ۳:‏۱۵؛‏ یوحنا ۳:‏۱۶؛‏ رومیوں ۹:‏۱۷‏)‏ مَیں نے یہ بھی سیکھا کہ یہوواہ ہمیں بے‌سہارا نہیں چھوڑتا۔ اُس نے ہمیں فردوسی زمین پر ہمیشہ کی زندگی بخشنے کا شاندار وعدہ کِیا ہے۔ (‏زبور ۳۷:‏۲۹؛‏ ۹۶:‏۱۱، ۱۲؛‏ یسعیاہ ۳۵:‏۱، ۲؛‏ ۴۵:‏۱۸‏)‏ اُس فردوس میں میری بینائی مکمل طور پر بحال ہو جائے گی۔—‏یسعیاہ ۳۵:‏۵‏۔‏

خدا کی خدمت شروع کرنا

دسمبر ۱۲، ۱۹۸۵ میں، مَیں نے یہوواہ کیلئے مخصوصیت کی علامت میں بپتسمہ لے لیا۔ میری بہن ماری کلیئر پہلے ہی بپتسمہ لے چکی تھی۔ اسکے بعد جلد ہی میری والدہ اور میرے بھائی جین پیری نے بھی بپتسمہ لے لیا۔‏

میری کلیسیا میں بہت سارے باقاعدہ پائنیر یا کُل‌وقتی مُناد تھے۔ خدمتگزاری کیلئے اُنکے جوش‌وجذبے سے میری بہت حوصلہ‌افزائی ہوتی تھی۔ میری بہن ماری کلیئر نے بھی آنکھوں کی بیماری اور ایک ٹانگ میں نقص کے باوجود کُل‌وقتی مُناد کے طور پر خدمت شروع کر دی۔ خدا کی خدمت کرنے کے سلسلے میں اُسکا عمدہ نمونہ ہمیشہ میرے لئے حوصلہ‌افزائی کا باعث تھا۔ خاندان اور کلیسیائی کُل‌وقتی خادموں (‏پائینروں)‏ نے میرے اندر کُل‌وقتی خدمت شروع کرنے کی خواہش پیدا کرنے میں مدد کی۔ لہٰذا، نومبر ۱۹۹۰ میں، مَیں نے بذیرز کے شہر میں پائنیر کے طور پر خدمت شروع کر دی۔—‏زبور ۹۴:‏۱۷-‏۱۹‏۔‏

حوصلہ‌شکنی سے نپٹنا

خدمتگزاری میں دوسرے خادم میرا بہت زیادہ خیال رکھتے تھے۔ اسکے باوجود، مَیں کبھی‌کبھار اپنی معذوری کی وجہ سے بے‌حوصلہ ہو جاتی اور سوچتی تھی کہ کاش مَیں بھی اَور زیادہ کام کرنے کے قابل ہوتی۔ تاہم، یہوواہ خدا نے حوصلہ‌شکنی کے اس دَور میں مجھے سنبھالا۔ مَیں نے واچ ٹاور پبلیکشنز انڈیکس میں سے اپنے جیسے کمزور نظر والے خادموں کی زندگی کی کہانیاں تلاش کرنا شروع کر دیں۔ اُنکی تعداد دیکھ کر میری حیرت کی انتہا نہ رہی!‏ ان عملی اور حوصلہ‌افزا کہانیوں نے مجھے اپنی حدود کو تسلیم کرنے اور جوکچھ مَیں کر سکتی تھی اُس کیلئے یہوواہ کا شکر ادا کرنا سکھایا۔‏

اپنی ضروریات پوری کرنے کیلئے مَیں نے دیگر گواہوں کیساتھ ملکر ایک شاپنگ سینٹر میں صفائی کا کام شروع کر دیا۔ ایک دن مَیں نے دیکھا کہ میرے ساتھ کام کرنے والے دوبارہ اُس جگہ کو صاف کر رہے ہیں جہاں مَیں نے ابھی ابھی صفائی کی تھی۔ صاف ظاہر ہے کہ مَیں نے وہ جگہ اچھی طرح صاف نہیں کی تھی۔ مَیں اپنی صفائی کی ٹیم کی انچارج ولیری کے پاس گئی اور اُس سے کہا کہ وہ مجھے سچ سچ بتائے کہ مَیں اُسکے لئے یا دوسروں کیلئے مشکل کا باعث تو نہیں بن رہی۔ اُس نے یہ فیصلہ مجھ پر چھوڑ دیا کہ آیا مَیں کام جاری رکھنا چاہوں گی یا نہیں۔ مارچ ۱۹۹۴ میں، مَیں نے صفائی کا کام چھوڑ دیا۔‏

ایک بار پھر مجھے اپنے بیکار ہونے کا احساس ستانے لگا۔ مَیں نے بارہا یہوواہ سے دُعا کی اور مَیں جانتی ہوں کہ اُس نے میری التجائیں سنی۔ ایک مرتبہ پھر بائبل اور مسیحی مطبوعات کے مطالعہ نے میری بڑی مدد کی۔ اگرچہ میری بینائی دن‌بدن کمزور ہوتی جا رہی تھی توبھی یہوواہ کی خدمت کرنے کی میری خواہش روزبروز بڑھتی جا رہی تھی۔ مَیں کیا کر سکتی تھی؟‏

پہلے طویل انتظار پھر فوری فیصلہ

مَیں نے نائمز میں ادارۂ‌بحالی برائے نابینا اور جزوی نابینا میں تربیت حاصل کرنے کیلئے درخواست دی۔ آخرکار مَیں نے تین مہینوں کیلئے وہاں داخلہ لے لیا۔ یہاں گزارا گیا وقت بہت ہی فائدہ‌مند ثابت ہوا۔ مَیں نے اپنی معذوری کو سمجھنا اور اُسکے ساتھ زندہ رہنا سیکھ لیا۔ مختلف معذوریوں میں مبتلا لوگوں کیساتھ رہنے سے مجھے یہ سمجھنے میں مدد ملی کہ مستقبل کی بابت میری اُمید کتنی بیش‌قیمت ہے۔ کم‌ازکم میری زندگی کا کوئی مقصد تھا اور اسکے تحت مَیں کچھ نہ کچھ کام کر سکتی تھی۔ اسکے علاوہ مَیں نے فرانسیسی بریل بھی سیکھ لی۔‏

جب مَیں گھر واپس لوٹی تو میرا خاندان یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ اس تربیت نے میری کتنی زیادہ مدد کی ہے۔ لیکن مجھے سفید چھڑی ہاتھ میں پکڑنا بالکل پسند نہ تھا۔ اس ”‏چھڑی“‏ کا عادی ہونا مجھے کافی مشکل لگا۔ اس سے تو بہتر یہ ہوگا کہ مَیں کوئی اَور چیز شاید ایک تربیت‌یافتہ کتا ہی رکھ لوں۔‏

مَیں نے ایک کتے کے لئے درخواست بھیجی مگر مجھے جواب ملا کہ اس کے لئے مجھے کافی انتظار کرنا پڑے گا۔ اسکے علاوہ ایجنسی کو پہلے کچھ تحقیق بھی کرنی ہوگی۔ ہر کسی کو تربیت‌یافتہ کتا نہیں دیا جاتا۔ ایک دن نابینا افراد کا ادارہ چلانے کیلئے مدد دینے والی ایک خاتون نے مجھے بتایا کہ ایک مقامی ٹینس کلب ہمارے علاقے میں رہنے والے کسی نابینا یا کمزور نظر والے شخص کو ایک تربیت‌یافتہ کتا دینے کا سوچ رہا ہے۔ اُس نے کہا کہ میرے ذہن میں آپکا خیال آیا۔ کیا آپ اسے لینا چاہیں گی؟ مَیں سمجھ گئی کہ یہ یہوواہ کی مرضی ہے لہٰذا مَیں نے اس مہربانہ پیشکش کو قبول کر لیا۔ لیکن مجھے کتا حاصل کرنے کیلئے انتظار کرنا پڑا۔‏

افریقہ جانے کی میری خواہش

اسی دوران مَیں نے دوسری جانب سوچنا شروع کر دیا۔ جیساکہ شروع میں بیان کِیا گیا تھا، بچپن ہی سے مجھے افریقہ جانے کا بہت شوق تھا۔ اگرچہ میری بینائی کمزور ہوتی جا رہی تھی توبھی میری یہ خواہش دن‌بدن بڑھتی جا رہی تھی۔ خاص طور پر، جب سے مَیں نے یہ سنا کہ افریقہ میں بہت سے لوگ بائبل سیکھنے اور یہوواہ کی خدمت کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ کچھ ہی عرصہ پہلے مَیں نے باتوں باتوں میں ولیری سے افریقہ جانے کی اپنی خواہش کا ذکر کِیا۔ پھر مَیں نے اُس سے پوچھا، کیا تم میرے ساتھ جانا چاہوں گی؟ وہ مان گئی اور ہم نے افریقہ میں یہوواہ کے گواہوں کے فرانسیسی بولنے والے مختلف برانچ دفاتر کو خط لکھے۔‏

ٹوگو کی برانچ سے جواب آیا۔ مَیں بہت خوش ہو گئی اور ولیری سے کہا کہ وہ مجھے یہ خط پڑھ کر سنائے۔ خط بہت ہی حوصلہ‌افزا تھا اسلئے ولیری نے کہا:‏ ”‏اگر ایسا ہے توپھر دیر کس بات کی؟“‏ برانچ کے بھائیوں سے خط‌وکتابت کے بعد مجھے دارالحکومت لومہ میں ایک پائنیر بہن سینڈرا سے رابطہ کرنے کی ہدایت کی گئی۔ ہماری روانگی دسمبر ۱، ۱۹۹۸ کو تھی۔‏

اگرچہ سب کچھ میری توقعات سے بڑھ کر تھا مگر مَیں بہت خوش تھی!‏ جوں ہی جہاز لومہ میں اُترا اور ہم باہر نکلے تو ہم نے افریقہ کی شدید گرمی کو محسوس کِیا۔ سینڈرا ائیرپورٹ پر ہمیں لینے کیلئے آئی تھی۔ اس سے پہلے ہم ایک دوسرے سے کبھی نہیں ملی تھیں لیکن ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے ہم برسوں سے ایک دوسرے کو جانتی ہیں۔ ہمارے یہاں آنے سے کچھ ہی عرصہ پہلے سینڈرا اور اسکی ساتھی پائنیر کرسٹین کو ایک چھوٹے قصبے ٹاب‌لگ‌بو میں سپیشل پائنیر (‏کُل‌وقتی خادم)‏ مقرر کِیا گیا تھا۔ ہمیں بھی اُنکی نئی تفویض میں اُنکے ساتھ مل کر کام کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ ہم وہاں تقریباً دو مہینے ٹھہرے اور جب ہم واپس آ رہی تھیں تو مَیں جانتی تھی کہ مَیں ضرور دوبارہ آؤں گی۔‏

واپس لوٹنے کی خوشی

فرانس واپس آتے ہی مَیں نے دوبارہ ٹوگو جانے کی تیاریاں شروع کر دیں۔ اپنے خاندان کی مدد سے مَیں وہاں چھ مہینے تک رہ سکتی تھی۔ ستمبر ۱۹۹۹ میں، مَیں ٹوگو جانے کیلئے دوبارہ جہاز میں سوار تھی۔ تاہم، اس مرتبہ مَیں اکیلی تھی۔ ذرا اندازہ لگائیں کہ مجھے معذوری کے باوجود تنہا جاتے دیکھ کر میرا خاندان کیسا محسوس کرتا ہوگا!‏ لیکن پریشانی کی کوئی بات نہیں تھی۔ مَیں نے اپنے والدین کو یقین دلایا کہ لومہ میں میرے دوست میرا انتظار کر رہے ہوں گے۔ وہ میرے لئے ایک خاندان کی مانند ہی ہیں۔‏

اُس علاقے میں واپس آنا جہاں لوگ بائبل میں بہت زیادہ دلچسپی ظاہر کرتے ہیں واقعی بہت خوشی کی بات تھی!‏ وہاں لوگوں کو گلی میں بائبل پڑھتے دیکھنا ایک عام بات ہے۔ ٹاب‌لگ‌بو میں لوگ آپکو خود ہی بائبل پر بات‌چیت کرنے کیلئے بلا‌تے ہیں۔ دو سپیشل پائنیر بہنوں کیساتھ ایک عام سے گھر میں رہنا ایک شرف سے کم نہ تھا!‏ مَیں ایک نئی ثقافت کے بارے میں جاننے اور چیزوں کو ایک مختلف زاویے سے دیکھنے کے قابل ہوئی تھی۔ سب سے پہلے مَیں نے یہ دیکھا کہ افریقہ میں ہمارے مسیحی بہن بھائی خدا کی خدمت کو اپنی زندگیوں میں پہلا درجہ دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر، وہ کنگڈم ہال میں عبادت پر حاضر ہونے کیلئے کئی میل پیدل چلتے تھے لیکن اجلاسوں سے غیرحاضر نہیں ہوتے تھے۔ مَیں نے اُنکی محبت اور مہمان‌نوازی سے اَور بھی بہت کچھ سیکھا تھا۔‏

ایک دن منادی سے واپس آتے ہوئے مَیں نے سینڈرا کو بتایا کہ مجھے فرانس واپس جانے سے ڈر لگتا ہے۔ میری نظر اَور زیادہ کمزور ہو گئی ہے۔ مَیں بذیرز کی پُرہجوم گلیوں، اپارٹمنٹ کی سیڑھیوں اور دیگر کئی چیزوں کے متعلق سوچتی ہوں جو کسی بھی کمزور نظر والے شخص کیلئے زندگی کو مشکل بنا سکتی ہیں۔ اسکے برعکس، ٹاب‌لگ‌بو کی سڑکیں ہموار نہ ہونے کے باوجود پُرسکون ہیں کیونکہ یہاں نہ تو لوگوں کا ہجوم ہے اور نہ ہی زیادہ ٹریفک ہے۔ اب جبکہ مَیں ٹاب‌لگ‌بو میں رہنے کی عادی ہوگئی ہوں تو فرانس میں کیسے رہ سکوں گی؟‏

اسکے دو دن بعد، میری والدہ نے ٹیلی‌فون پر بتایا کہ تربیت‌یافتہ کتے فراہم کرنے والا سکول میرا انتظار کر رہا ہے۔ نیو فاؤنڈلینڈ کا ایک کتا جسکا نام اوشنی ہے میری راہنمائی کرنے کیلئے تیار ہے۔ ایک بار پھر میری ضروریات پوری ہوئیں اور میری پریشانیاں ختم کی گئی تھیں۔ چھ ماہ تک ٹاب‌لگ‌بو میں خوشی‌خوشی خدمت کرنے کے بعد مَیں اوشنی سے ملنے کیلئے فرانس واپس آ گئی۔‏

کئی مہینوں کی تربیت کے بعد اوشنی میری دیکھ‌بھال کرنے لگی۔ شروع میں یہ آسان نہیں تھا۔ ہمیں ایک دوسرے کو سمجھنا تھا۔ لیکن آہستہ آہستہ مَیں اس بات کو سمجھ گئی کہ اوشنی میرے لئے کتنی ضروری ہے۔ درحقیقت اوشنی اب میری زندگی کا ایک حصہ ہے۔ بذیرز میں لوگ مجھے ایک کتے کیساتھ دروازے پر دیکھ کر کیسا ردِعمل ظاہر کرتے تھے؟ وہ میرے لئے بہت زیادہ احترام دکھاتے اور مہربانی سے پیش آتے تھے۔ اوشنی اردگرد کے علاقے میں ”‏ہیرو“‏ بن گئی۔ کیونکہ بہتیرے لوگ کسی معذور شخص کی موجودگی میں بے‌چینی کا شکار ہو جاتے ہیں اسلئے اس کتے کی موجودگی میں مجھے اپنی معذوری کی بابت زیادہ کچھ بتانے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔ لوگ سکون سے میری بات سنتے تھے۔ واقعی اوشنی کی وجہ سے بات‌چیت شروع کرنا کافی آسان ہو گیا تھا۔‏

اپنے کتے کیساتھ افریقہ میں

مَیں افریقہ کو بھول نہیں پائی تھی، لہٰذا مَیں نے تیسری مرتبہ افریقہ جانے کی تیاری شروع کر دی۔ اس دفعہ اوشنی بھی میرے ساتھ تھی۔ اسکے علاوہ میرے ساتھ ایک نوجوان جوڑا انتھونی اور اورورو اور میری دوست کیرولین بھی تھی۔ یہ سب میری طرح پائنیر تھے۔ ستمبر ۱۰، ۲۰۰۰ کو ہم لومہ پہنچ گئے۔‏

شروع میں تو بہت سے لوگ اوشنی کو دیکھ کر ڈر گئے۔ لومہ میں بہت کم لوگوں نے کبھی اتنا بڑا کتا دیکھا ہے کیونکہ ٹوگو میں زیادہ‌تر چھوٹے کتے پائے جاتے ہیں۔ جب اُنہوں نے اسکے گلے میں پٹہ دیکھا تو بعض نے سوچا کہ یہ کوئی خطرناک کتا ہے جسے باندھ کر رکھنے کی ضرورت ہے۔ جہاں تک اوشنی کا تعلق ہے تو وہ دفاعی انداز اختیار کئے رہتی اور ہر اُس چیز سے میری حفاظت کرتی جسے وہ میرے لئے خطرناک سمجھتی تھی۔ اس تمام کے باوجود اوشنی اس نئے ماحول میں کافی پُرسکون محسوس کرنے لگی۔ جب اُسے پٹہ وغیرہ پہنا دیا جاتا تو وہ سمجھ جاتی کہ اب اسکا کام شروع ہے لہٰذا وہ میرے قریب ہی رہتی۔ لیکن جب پٹہ اُتار دیا جاتا تو وہ کھیلنا اور شرارتیں کرنا شروع کر دیتی۔ ہم دونوں ملکر بہت کھیلتے ہیں۔‏

سینڈرا اور کرسٹین نے ہم سب کو اپنے ساتھ ٹاب‌لگ‌بو آنے اور اُن کے ساتھ رہنے کی دعوت دی۔ کلیسیا کے بہن بھائیوں کے دل سے اوشنی کا خوف دُور کرنے کیلئے ہم نے انہیں اپنے ہاں بلا‌یا اور یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ ایک تربیت‌یافتہ کتا کیا کرتا ہے۔ ہم نے انہیں یہ بھی بتایا کہ مجھے اسکی ضرورت کیوں ہے اور اُسکے سامنے انہیں کیسے رہنا چاہئے۔ کلیسیا کے بزرگوں نے اجازت دے دی کہ مَیں اوشنی کو اپنے ساتھ عبادت پر لا سکتی ہوں۔ چونکہ ٹوگو میں لوگوں کیلئے یہ سب کچھ بہت عجیب تھا لہٰذا کلیسیا کو یہ سمجھانے کیلئے ایک اعلان کِیا گیا۔ جہاں تک منادی کا تعلق ہے تو اوشنی صرف دوبارہ ملاقاتوں اور بائبل مطالعوں پر ہی میرے ساتھ جاتی تھی یا پھر وہاں جہاں اُسکی موجودگی لوگوں کیلئے پریشانی کا سبب نہیں بنتی تھی۔‏

اس علاقے میں منادی کرنا بہت خوشی بخشتا ہے۔ مَیں ایسے لوگوں کی بے‌حد شکرگزار ہوں جو میرے لئے مہربانی دکھاتے تھے مثال کے طور پر مجھے فوراً بیٹھنے کیلئے کرسی دے دیتے تھے۔ اکتوبر ۲۰۰۱ میں مَیں چوتھی مرتبہ ٹوگو آئی۔ اس مرتبہ میری والدہ بھی میرے ساتھ تھی۔ تین ہفتے کے بعد وہ خوشی‌خوشی واپس فرانس لوٹ گئی کیونکہ انہیں یقین ہو گیا تھا کہ مجھے یہاں کوئی مشکل نہیں ہوگی۔‏

مَیں یہوواہ کی بہت شکرگزار ہوں کہ اُس نے مجھے ٹوگو میں خدمت کرنے کا موقع دیا ہے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ جب مَیں پورے دل سے یہوواہ کی خدمت کروں گی تو وہ میرے ”‏دل کی مُرادیں“‏ ضرور پوری کرے گا۔‏a

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a بہن مارگاؤ واپس فرانس آ گئی اور وہ اکتوبر ۶، ۲۰۰۳ سے فروری ۶، ۲۰۰۴ تک پانچویں مرتبہ وہاں جانے کے قابل ہوئی۔ افسوس کہ بیماری کی وجہ سے شاید یہ اُنکا آخری دورہ ہو۔ تاہم، وہ اب بھی یہوواہ کی خدمت کرنے کی دلی خواہش رکھتی ہے۔‏

‏[‏صفحہ ۱۰ پر تصویر]‏

مَیں اکثر افریقہ کے وسیع میدانوں اور جنگلی جانوروں کے بارے میں سوچتی تھی

‏[‏صفحہ ۱۰ پر تصویر]‏

ایک واپسی ملاقات پر اوشنی میرے ساتھ

‏[‏صفحہ ۱۱ پر تصویر]‏

کلیسیا کے بزرگوں نے اجازت دے دی کہ مَیں اوشنی کو اپنے ساتھ عبادت پر لا سکتی ہوں

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں