فدیہ خدا کی راستی کی بڑائی کرتا ہے
آدم اور حوا کی بغاوت کے بعد یہوواہ خدا نے بیان کِیا کہ وہ ایک نسل پیدا کرے گا جسکی ایڑی پر کاٹا جائے گا۔ (پیدایش ۳:۱۵) یہ پیشینگوئی اُس وقت پوری ہوئی جب خدا کے دُشمنوں نے یسوع کو سولی دے دیا۔ (گلتیوں ۳:۱۳، ۱۶) یسوع بےگُناہ تھا کیونکہ اُس نے معجزانہ طور پر خدا کی پاک روح کی مدد سے ایک کنواری کے رحم میں نشوونما پائی تھی۔ اسلئے اُسکا بہایا ہوا خون انسانوں کو آدم کے گُناہ اور موت سے چھڑانے کے لئے فدیے کی قیمت کے طور پر استعمال کِیا جا سکتا تھا۔—رومیوں ۵:۱۲، ۱۹۔
کوئی بھی چیز قادرِمطلق خدا یہوواہ کو اپنا مقصد پورا کرنے سے روک نہیں سکتی۔ لہٰذا، یہوواہ خدا کے نقطۂنظر سے انسان کے گُناہ میں پڑنے کے بعد ہی فدیہ کی قیمت ادا کر دی گئی تھی۔ اسی بِنا پر خدا اُن اشخاص کیساتھ تعلقات قائم کر سکتا تھا جو اُسکے وعدوں کی تکمیل پر ایمان رکھتے تھے۔ اب آدم کی گنہگار اولاد جیسےکہ حنوک، نوح اور ابرہام یہوواہ کی پاکیزگی کو داغدار کئے بغیر اُسکے ساتھ ساتھ چلنے اور اُسکے دوست بننے کے قابل تھے۔—پیدایش ۵:۲۴؛ ۶:۹؛ یعقوب ۲:۲۳۔
یہوواہ خدا پر ایمان رکھنے کے باوجود بعض اشخاص سنگین گُناہوں میں پڑ گئے۔ ایک مثال بادشاہ داؤد کی ہے۔ آپ شاید پوچھیں کہ بادشاہ داؤد بتسبع کیساتھ حرامکاری کرنے اور اُسکے شوہر حتیاوریاہ کو قتل کرانے کے بعد بھی یہوواہ کی خوشنودی یا برکت کیسے حاصل کر سکتا تھا؟ اسکی اہم وجہ داؤد کی دلی توبہ اور ایمان تھا۔ (۲-سموئیل ۱۱:۱-۱۷؛ ۱۲:۱-۱۴) مزیدبرآں، یسوع مسیح کی مستقبل میں دی جانے والی قربانی کی بنیاد پر خدا تائب داؤد کو معاف کر سکتا اور اپنے انصاف اور راستی کے معیار کو برقرار رکھ سکتا تھا۔ (زبور ۳۲:۱، ۲) اس بات کو ثابت کرنے کیلئے بائبل فدیے کے نہایت اہم فائدے کو یوں بیان کرتی ہے، فدیے کے ذریعے ”[خدا] اپنی راستبازی ظاہر“ کرتا ہے اور ”جو گُناہ پیشتر ہو چکے“ ہیں یا ”اس وقت“ ہوتے ہیں اُنہیں معاف کرتا ہے۔—رومیوں ۳:۲۵، ۲۶۔
جیہاں، یسوع مسیح کے بہائے ہوئے خون کی قیمت کی وجہ سے انسانوں کو بہت سے فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ فدیہ کی بنیاد پر تائب گنہگار اشخاص خدا کیساتھ قریبی رشتے سے لطفاندوز ہو سکتے ہیں۔ علاوہازیں، فدیہ خدا کی نئی دُنیا میں مُردوں کے جی اُٹھنے کی راہ بھی کھول دیتا ہے۔ ان میں خدا کے وہ وفادار خادم بھی شامل ہوں گے جو یسوع کے فدیہ دینے سے پہلے مر چکے تھے۔ اسکے علاوہ بہتیرے ایسے اشخاص بھی زندہ کئے جائیں گے جو خدا کی پرستش نہیں کرتے تھے اور لاعلمی کی حالت میں ہی مر گئے۔ کیونکہ بائبل بیان کرتی ہے: ”راستبازوں اور ناراستوں دونوں کی قیامت ہوگی۔“ (اعمال ۲۴:۱۵) اُس وقت فدیے کی بنیاد پر، یہوواہ خدا تمام فرمانبردار انسانوں کو ہمیشہ کی زندگی عطا کرے گا۔ (یوحنا ۳:۳۶) یسوع نے خود فرمایا: ”خدا نے دُنیا سے ایسی محبت رکھی کہ اُس نے اپنا اکلوتا بیٹا بخش دیا تاکہ جو کوئی اُس پر ایمان لائے ہلاک نہ ہو بلکہ ہمیشہ کی زندگی پائے۔“ (یوحنا ۳:۱۶) خدا کے فدیے کی قربانی کا بندوبست کرنے کی وجہ سے انسانوں کو یہ تمام فوائد حاصل ہوں گے۔
تاہم، فدیے کی بابت اہم بات یہ نہیں کہ ہم اس سے بہت سے فوائد حاصل کرتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ یسوع کا فدیہ یہوواہ کے نام کیلئے کیا کچھ انجام دیتا ہے۔ فدیہ ثابت کرتا ہے کہ یہوواہ کامل راستی کا خدا ہے جو گنہگار انسانوں کیساتھ قریبی تعلقات رکھنے کے باوجود خود پاک رہ سکتا ہے۔ اگر خدا نے فدیہ فراہم کرنے کا بندوبست نہ کِیا ہوتا تو آدم کی اولاد میں سے کوئی بھی حتیٰکہ حنوک، نوح اور ابرہام نہ تو خدا کیساتھ چل سکتے تھے اور نہ ہی اُس کے دوست بن سکتے تھے۔ زبورنویس نے اس حقیقت کو سمجھ لیا تھا اسی لئے اُس نے لکھا، ”اَے خداوند! اگر تُو بدکاری کو حساب میں لائے تو اَے خداوند! کون قائم رہ سکے گا؟“ (زبور ۱۳۰:۳) ہمیں یہوواہ خدا اور یسوع مسیح دونوں کے کتنے شکرگزار ہونا چاہئے! یہوواہ خدا کے اسلئےکہ اُس نے اپنے پیارے بیٹے کو زمین پر بھیجا اور یسوع مسیح کے اسلئےکہ اُس نے خوشی سے اپنی جان ہمارے لئے فدیے میں دیدی۔—مرقس ۱۰:۴۵۔