یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م03 1/‏8 ص.‏ 14-‏19
  • سچائی کے خدا کی نقل کرنا

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • سچائی کے خدا کی نقل کرنا
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2003ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • یہوواہ کے خادم سچائی کو جانتے ہیں
  • یہوواہ کے خادم سچے ہیں
  • یہوواہ کے خادم سچائی بیان کرتے ہیں
  • سچائی کی روش پر چلیں
  • یہوواہ سچائی کا خدا ہے
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2003ء
  • اپنے پڑوسی سے سچ بولیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2009ء
  • ‏’‏مَیں تیری سچائی پر چلوں گا‘‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—2018ء
  • مسیحی رُوح اور سچائی سے پرستش کرتے ہیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2002ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2003ء
م03 1/‏8 ص.‏ 14-‏19

سچائی کے خدا کی نقل کرنا

‏”‏عزیز فرزندوں کی طرح خدا کی مانند بنو۔“‏ —‏افسیوں ۵:‏۱‏۔‏

۱.‏ بعض لوگ سچائی کی بابت کیا سمجھتے ہیں اور اُن کا استدلال کیوں دُرست نہیں ہے؟‏

‏’‏سچائی کیا ہے؟‘‏ (‏یوحنا ۱۸:‏۳۸‏)‏ کوئی ۲،۰۰۰ سال پہلے پوچھے جانے والے پُنطیُس پیلاطُس کے اِس تمسخرآمیز سوال سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سچائی کی تلاش مشکل ہے۔ آجکل بہتیرے اس سے اتفاق کریں گے۔ سچائی کی حقیقت حملے کی زد میں ہے۔ شاید آپ نے یہ بھی سنا ہو کہ سچائی کے لئے ہر ایک کا اپنا معیار ہے یا سچائی نسبتی ہے اور سچ بدلتا رہتا ہے۔ یہ استدلال ناقص ہے۔ تحقیق اور تعلیم کا اصل مقصد موجودہ دُنیا کی بابت حقائق اور سچائی جاننا ہے جس میں ہم رہتے ہیں ہے۔ سچائی ذاتی پسند کا معاملہ نہیں ہے۔ مثال کے طور پر، انسانی جان یا تو غیرفانی ہے یا پھر فانی۔ شیطان یا تو وجود رکھتا ہے یا نہیں۔ زندگی کا کوئی مقصد ہے یا پھر نہیں۔ ہر صورتحال میں صرف ایک جواب ہی صحیح ہو سکتا ہے۔ ایک صحیح ہے اور دوسرا غلط، دونوں دُرست نہیں ہو سکتے۔‏

۲.‏ کن طریقوں سے یہوواہ سچائی کا خدا ہے اور اب کونسے سوال زیرِبحث آئیں گے؟‏

۲ پچھلے مضمون میں، ہم نے اس بات پر غور کِیا تھا کہ یہوواہ سچائی کا خدا ہے۔ وہ تمام چیزوں کی حقیقت سے واقف ہے۔ اپنے مخالف فریبی شیطان اِبلیس کے برعکس یہوواہ ہمیشہ صادق ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر یہوواہ کثرت سے دوسروں پر سچائی آشکارا کرتا ہے۔ پولس رسول نے ساتھی مسیحیوں کو تاکید کی:‏ ”‏عزیز فرزندوں کی طرح خدا کی مانند بنو۔“‏ (‏افسیوں ۵:‏۱‏)‏ ہم یہوواہ کے گواہوں کے طور پر کیسے سچائی کے سلسلے میں اپنے قول‌وفعل میں یہوواہ کی نقل کر سکتے ہیں؟ ایسا کرنا کیوں ضروری ہے؟ نیز ہمارے پاس اس بات کی کیا یقین‌دہانی ہے کہ یہوواہ سچائی پر چلنے والوں کو قبول کرتا ہے؟ آئیے دیکھیں۔‏

۳، ۴.‏ پولس اور پطرس رسول نے ”‏اخیر زمانہ“‏ کی بابت کیا بیان کِیا؟‏

۳ ہم ایسے وقت میں رہ رہے ہیں جب مذہبی جھوٹ عام ہے۔ پولس رسول کی الہامی پیشینگوئی کے مطابق اس ”‏اخیر زمانے“‏ میں بیشتر لوگ دینداری کی وضع تو رکھتے ہیں مگر اُس کے اثر کو قبول نہیں کرتے۔ بعض حق کی مخالفت کرتے ہیں کیونکہ اُن کی ”‏عقل تاریک ہو گئی ہے۔“‏ علاوہ‌ازیں، ”‏بُرے اور دھوکاباز آدمی فریب دیتے اور فریب کھاتے ہوئے بگڑتے چلے“‏ جا رہے ہیں۔ ایسے لوگ ہمیشہ سیکھنے کے باوجود ”‏حق کی پہچان“‏ تک کبھی نہیں پہنچتے۔—‏۲-‏تیمتھیس ۳:‏۱،‏ ۵،‏ ۷، ۸،‏ ۱۳‏۔‏

۴ پطرس رسول کو بھی اخیر زمانہ کی بابت لکھنے کا الہام بخشا گیا تھا۔ جب اُس نے پیشینگوئی کی تو لوگوں نے نہ صرف سچائی کو رد کِیا بلکہ خدا کے کلام اور اس کی سچائی کا پرچار کرنے والوں کا تمسخر اُڑایا۔ ”‏اپنی خواہشوں کے موافق“‏ چلنے اور ہنسی‌ٹھٹھا کرنے والے لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ نوح کے زمانے کی دُنیا پانی میں ڈوب کر ہلاک ہوئی تھی اور ہمارے لئے خدا کی عدالتی کارروائی کا نمونہ ٹھہری تھی۔ جب خدا کا بیدین لوگوں کو تباہ کرنے کا وقت آ پہنچے گا تو اُن کی خام‌خیالی بربادی کا باعث بن جائے گی۔—‏۲-‏پطرس ۳:‏۳-‏۷‏۔‏

یہوواہ کے خادم سچائی کو جانتے ہیں

۵.‏ دانی‌ایل نبی کے مطابق، ”‏آخری زمانہ“‏ میں کیا واقع ہوگا اور یہ پیشینگوئی کیسے تکمیل‌پذیر ہوئی ہے؟‏

۵ دانی‌ایل نبی نے ”‏آخری زمانہ“‏ کی بابت بیان کرتے ہوئے خدا کے لوگوں کے درمیان مذہبی سچائی کے سلسلے میں بالکل مختلف صورتحال کی پیشینگوئی کی تھی۔ اُس نے لکھا:‏ ”‏بہتیرے اِس کی تفتیش‌وتحقیق کریں گے اور دانش افزون ہوگی۔“‏ (‏دانی‌ایل ۱۲:‏۴‏)‏ یہوواہ کے لوگ اس بڑے فریبی کے ذریعے نہ تو ابتری کا شکار ہوئے ہیں اور نہ ہی اُن کی عقلوں پر پردہ پڑا ہے۔ بائبل کا مطالعہ کرنے سے اُنہوں نے صحیح علم حاصل کِیا ہے۔ پہلی صدی میں یسوع نے اپنے شاگردوں کو روشن‌خیالی عطا کی تھی۔ اُس نے ان کا ”‏ذہن کھولا تاکہ کتابِ‌مُقدس کو سمجھیں۔“‏ (‏لوقا ۲۴:‏۴۵‏)‏ ہمارے زمانے میں بھی یہوواہ نے بالکل ایسا ہی کِیا ہے۔ اپنے کلام، روح اور تنظیم کے ذریعے، اُس نے دُنیابھر میں لاکھوں لوگوں کو سچائی سمجھنے میں مدد دی ہے جس کا وہ خود ماخذ ہے۔‏

۶.‏ آجکل خدا کے لوگ بائبل کی کونسی سچائیوں کو سمجھتے ہیں؟‏

۶ خدا کے لوگوں کے طور پر، ہم بہت سی باتیں سمجھنے لگے ہیں جن سے ہم بصورتِ‌دیگر واقف نہیں ہو سکتے تھے۔ ہم ایسے سوالات کے جواب جانتے ہیں جن کی بابت دُنیا کے دانشور صدیوں سے سرگرداں ہیں۔ مثال کے طور پر، ہم جانتے ہیں کہ مشکلات کس وجہ سے ہیں، لوگ کیوں مرتے ہیں اور انسان عالمی امن اور اتحاد لانے میں کیوں ناکام ہے۔ ہمیں مستقبل کی بابت بھی واضح سمجھ بخشی گئی ہے جس میں خدا کی بادشاہت، فردوسی زمین اور کاملیت میں کبھی ختم نہ ہونے والی زندگی شامل ہے۔ ہم اعلیٰ‌وبالا ہستی یہوواہ کو جانتے ہیں۔ ہم نے اُس کی دلکش شخصیت کی بابت سیکھ لیا ہے اور یہ بھی کہ اُس کی برکات سے لطف‌اندوز ہونے کے لئے ہمیں کیا کرنا چاہئے۔ سچائی کو جاننا ہمیں جھوٹ کو پہچاننے کے قابل بناتا ہے۔ سچائی کا اطلاق کرنا ہمیں بیکار حاصلات کے پیچھے بھاگنے سے محفوظ رکھتا ہے اور زندگی سے بھرپور فائدہ اُٹھانے کے قابل بنانے کے ساتھ ساتھ مستقبل کے لئے شاندار اُمید فراہم کرتا ہے۔‏

۷.‏ کن لوگوں کو بائبل سچائیوں تک رسائی حاصل ہے اور کن کو نہیں؟‏

۷ کیا آپ بائبل سچائی کو سمجھتے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو آپ نہایت مبارک ہیں۔ جب کوئی مصنف کتاب لکھتا ہے تو وہ اسے کسی خاص گروہ کو مدِنظر رکھ کر لکھتا ہے۔ بعض کتابیں تعلیم‌یافتہ لوگوں کے لئے لکھی جاتی ہیں، دیگر بچوں کے لئے اور دوسری مخصوص ماہرین کے لئے لکھی جاتی ہیں۔ سب کے لئے بائبل کی دستیابی کے باوجود اسے لوگوں کے ایک خاص گروہ نے پڑھنا اور سمجھنا تھا۔ یہوواہ نے اسے فروتن اور حلیم لوگوں کے لئے تیار کروایا ہے۔ ایسے لوگ اپنی تعلیم، تہذیب، معاشرتی حیثیت اور نسلی گروہ سے قطع‌نظر بائبل کے نقطۂ‌نظر کو سمجھ سکتے ہیں۔ (‏۱-‏تیمتھیس ۲:‏۳، ۴‏)‏ اس کے برعکس، جو لوگ صحیح میلان نہیں رکھتے وہ بائبل سچائی کو نہیں سمجھ سکتے خواہ وہ کتنے ہی ذہین یا تعلیم‌یافتہ کیوں نہ ہوں۔ متکبر، مغرور لوگ خدا کے کلام کی بیش‌قیمت سچائیوں کو نہیں سمجھ سکتے۔ (‏متی ۱۳:‏۱۱-‏۱۵؛‏ لوقا ۱۰:‏۲۱؛‏ اعمال ۱۳:‏۴۸‏)‏ صرف خدا ہی ایسی کتاب فراہم کر سکتا تھا۔‏

یہوواہ کے خادم سچے ہیں

۸.‏ یسوع تجسیمِ‌سچائی کیوں تھا؟‏

۸ یہوواہ کی مانند، اُس کے وفادار گواہ بھی سچے ہیں۔ یہوواہ کے ممتاز گواہ یسوع مسیح نے اپنی تعلیم، طرزِزندگی اور موت سے سچائی کی تصدیق کی تھی۔ اُس نے یہوواہ کے کلام اور وعدوں کی سچائیوں کو سربلند کِیا۔ نتیجتاً، یسوع تجسیمِ‌سچائی تھا جیسے‌کہ اُس نے خود بھی بیان کِیا۔—‏یوحنا ۱۴:‏۶؛‏ مکاشفہ ۳:‏۱۴؛‏ ۱۹:‏۱۰‏۔‏

۹.‏ سچ بولنے کی بابت صحائف کیا کہتے ہیں؟‏

۹ یسوع ”‏فضل اور سچائی سے معمور“‏ تھا اور ”‏اُس کے مُنہ میں ہرگز چھل نہ تھا۔“‏ (‏یوحنا ۱:‏۱۴؛‏ یسعیاہ ۵۳:‏۹‏)‏ دوسروں کے ساتھ سچ بولنے کے سلسلے میں سچے مسیحی یسوع کے نمونے پر چلتے ہیں۔ پولس نے ساتھی مسیحیوں کو نصیحت کی:‏ ”‏جھوٹ بولنا چھوڑ کر ہر ایک شخص اپنے پڑوسی سے سچ بولے کیونکہ ہم آپس میں ایک دوسرے کے عضو ہیں۔“‏ (‏افسیوں ۴:‏۲۵‏)‏ اس سے پہلے، زکریاہ نبی نے لکھا:‏ ”‏تم سب اپنے پڑوسیوں سے سچ بولو۔“‏ (‏زکریاہ ۸:‏۱۶)‏ مسیحی خدا کو خوش کرنے کی خاطر سچ بولتے ہیں۔ یہوواہ سچ بولتا ہے اور وہ دروغگوئی کے نقصان سے واقف ہے۔ اس لئے، وہ اپنے پیروکاروں سے سچ بولنے کی توقع کرنے میں حق بجانب ہے۔‏

۱۰.‏ لوگ کیوں جھوٹ بولتے ہیں اور اِس کے کیا منفی نتائج نکلتے ہیں؟‏

۱۰ بہتیروں کے لئے جھوٹ بولنا بیشمار فوائد حاصل کرنے کا آسان راستہ ہو سکتا ہے۔ لوگ سزا سے بچنے، کسی طرح کا فائدہ اُٹھانے یا دوسروں سے تعریف کروانے کے لئے جھوٹ بولتے ہیں۔ تاہم، جھوٹ بولنا ایک اخلاقی کمزوری ہے۔ سب سے بڑھ کر جھوٹ بولنے والا شخص خدا کی خوشنودی حاصل نہیں کر سکتا۔ (‏مکاشفہ ۲۱:‏۸،‏ ۲۷؛‏ ۲۲:‏۱۵‏)‏ جب ہم راست‌گو شخص کے طور پر مشہور ہوتے ہیں تو دوسرے ہمارا یقین کرتے اور ہم پر بھروسا کرتے ہیں۔ تاہم، اگر ہم معمولی سا جھوٹ بولتے ہوئے بھی نظر آئے تو دوسرے لوگ مستقبل میں ہماری صداقت پر شک کریں گے۔ ایک افریقی کہاوت ہے:‏ ”‏ایک جھوٹ ہزار سچ پر پانی پھیر دیتا ہے۔“‏ ایک دوسری مثل ہے:‏ ”‏جھوٹے کے سچ کا بھی کوئی یقین نہیں کرتا۔“‏

۱۱.‏ کس طرح راست‌گوئی محض سچ بولنے سے زیادہ مطلب رکھتی ہے؟‏

۱۱ راست‌گو ہونے میں محض سچ بولنے سے زیادہ کچھ شامل ہے۔ یہ ایک طرزِزندگی ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہم کون ہیں۔ اپنے قول‌وفعل سے ہم دوسروں کو سچائی سے واقف کراتے ہیں۔ ”‏پس تُو جو اَوروں کو سکھاتا ہے اپنے‌آپ کو کیوں نہیں سکھاتا؟“‏ پولس سوال کرتا ہے۔ ”‏تُو جو وعظ کرتا ہے کہ چوری نہ کرنا آپ خود کیوں چوری کرتا ہے؟ تُو جو کہتا ہے کہ زنا نہ کرنا آپ خود کیوں زنا کرتا ہے؟“‏ (‏رومیوں ۲:‏۲۱، ۲۲‏)‏ اگر ہم نے دوسروں تک سچائی پہنچانا ہے تو ہمیں خود اپنی تمام راہوں میں راست‌گو ہونے کی ضرورت ہے۔ راست‌گو اور دیانتدار ہونے کی ہماری شہرت ہماری تعلیم کی بابت لوگوں کے جوابی‌عمل پر بہت زیادہ اثر کرے گی۔‏

۱۲، ۱۳.‏ ایک جواں‌سال لڑکی نے سچائی کی بابت کیا لکھا اور اُس کے اعلیٰ اخلاقی معیاروں کے پیچھے کیا چیز کارفرما تھی؟‏

۱۲ یہوواہ کے گواہوں میں جواں‌سال لوگ بھی سچ بولنے کی اہمیت سے واقف ہیں۔ سکول میں ایک مضمون لکھتے وقت ۱۳ سالہ جینی نے لکھا:‏ ”‏مَیں دیانتداری کی بہت قدر کرتی ہوں۔ افسوس کی بات ہے کہ آجکل بیشتر لوگ دیانتدار نہیں ہیں۔ مَیں خود سے وعدہ کرتی ہوں کہ مَیں ہمیشہ دیانتدار رہوں گی۔ مَیں اُس وقت بھی دیانتدار رہوں گی جب سچ بولنا میرے لئے یا میرے دوستوں کے لئے فوری فائدے کا باعث نہیں ہوگا۔ مَیں دوستوں کا انتخاب کرتے وقت اس بات کا یقین کر لیتی ہوں کہ آیا وہ دیانتدار اور راست‌گو ہیں۔“‏

۱۳ اس مضمون پر تبصرہ کرتے ہوئے جینی کی ٹیچر نے لکھا:‏ ”‏آپ نے اپنی جواں‌سالی میں بھی ایک مضبوط اخلاقی ضابطہ قائم کر رکھا ہے۔ مَیں جانتی ہوں کہ آپ اپنے اس ضابطے پر قائم رہیں گی کیونکہ آپ بڑے مضبوط کردار کی مالک ہیں۔“‏ اس طالبہ کی اخلاقی پختگی کے پیچھے کیا چیز کارفرما تھی؟ اپنے مضمون کے شروع میں، جینی نے بیان کِیا کہ اُس کے مذہب نے ”‏اُس کی زندگی کے لئے معیار قائم کئے ہیں۔“‏ اُس کی ٹیچر کے مطابق جینی نے یہ مضمون سات برس پہلے لکھا تھا اور جینی یہوواہ کی ایک گواہ کے طور پر اب بھی اعلیٰ اخلاقی معیاروں پر کاربند ہے۔‏

یہوواہ کے خادم سچائی بیان کرتے ہیں

۱۴.‏ خدا کے خادموں کو سچائی کو سربلند رکھنے کی ذمہ‌داری کیوں سونپی گئی ہے؟‏

۱۴ بِلاشُبہ، یہوواہ کے گواہوں کے علاوہ بھی لوگ سچ بولنے اور دیانتدار بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاہم، خدا کے خادموں کے طور پر، ہم سچائی کو سربلند رکھنے کی بھاری ذمہ‌داری رکھتے ہیں۔ ہمیں بائبل سچائیاں سونپی گئی ہیں، جی‌ہاں ایسی سچائیاں جوکہ ہمیشہ کی زندگی کا باعث بن سکتی ہیں۔ لہٰذا ہم پر یہ فرض ہے کہ یہ علم دوسروں تک پہنچائیں۔ یسوع نے کہا، ”‏جسے بہت سونپا گیا ہے اُس سے زیادہ طلب کریں گے۔“‏ (‏لوقا ۱۲:‏۴۸‏)‏ یقیناً جنہیں خدا کے قیمتی علم سے نوازا گیا ہے اُن سے ’‏زیادہ طلب کِیا جائے گا۔‘‏

۱۵.‏ دوسروں کو بائبل سچائی پیش کرنے سے آپ کو کیسی خوشی ملتی ہے؟‏

۱۵ دوسروں کو بائبل سچائی پیش کرنے سے بہت خوشی ملتی ہے۔ یسوع کے پہلی صدی کے شاگردوں کی طرح، ہم خوشخبری کی منادی کرتے  ہیں—‏دل کو گرما دینے والا ایک پُراُمید پیغام—‏ایسے لوگوں کو سناتے  ہیں جو ”‏اُن بھیڑوں کی مانند جن کا چرواہا نہ ہو خستہ‌حال اور پراگندہ“‏ ہیں اور وہ جو ”‏شیاطین کی تعلیم“‏ کی وجہ سے اندھے اور ابتری کا شکار ہیں۔ (‏متی ۹:‏۳۶؛‏ ۱-‏تیمتھیس ۴:‏۱‏)‏ یوحنا رسول نے لکھا:‏ ”‏میرے لئے اس سے بڑھ کر اَور کوئی خوشی نہیں کہ مَیں اپنے فرزندوں کو حق پر چلتے ہوئے سنوں۔“‏ (‏۳-‏یوحنا ۴‏)‏ یوحنا کے ”‏فرزندوں“‏ کی وفاداری—‏جنہیں شاید وہ سچائی میں لایا تھا—‏اُس کے لئے بہت زیادہ خوشی کا باعث تھی۔ جب ہم بھی لوگوں کو خدا کے کلام کے لئے قدردانی ظاہر کرتے دیکھتے ہیں تو ہمارے لئے اس سے بڑی خوشی کوئی نہیں۔‏

۱۶، ۱۷.‏ (‏ا)‏ سب لوگ سچائی کو قبول کیوں نہیں کرتے؟ (‏ب)‏ جب آپ بائبل سچائی کا اعلان کرتے ہیں تو آپ کس خوشی کا تجربہ کر سکتے ہیں؟‏

۱۶ سچ ہے کہ سب تو سچائی کو قبول نہیں کریں گے۔ یسوع نے اُس وقت بھی خدا کی بابت سچائی بیان کی جب ایسا کرنا اتنا مقبول نہیں تھا۔ یہودی مخالفین سے اُس نے کہا:‏ ”‏تم .‏ .‏ .‏ میرا یقین کیوں نہیں کرتے؟ جو خدا سے ہوتا ہے وہ خدا کی باتیں سنتا ہے۔ تم اس لئے نہیں سنتے کہ خدا سے نہیں  ہو۔“‏—‏یوحنا ۸:‏۴۶، ۴۷‏۔‏

۱۷ یسوع کی طرح، ہم بھی یہوواہ کی بابت بیش‌قیمت سچائی بیان کرنے سے ہچکچاتے نہیں۔ ہم یہ توقع نہیں کرتے کہ لوگ ہماری بات کا یقین کریں کیونکہ جوکچھ یسوع نے کہا اُس سب کا بھی لوگوں نے یقین نہیں کِیا تھا۔ تاہم، یہ جان کر ہم خوش ہیں کہ ہم صحیح کام کر رہے ہیں۔ اپنی شفقت کی بدولت یہوواہ چاہتا ہے کہ انسانوں تک سچائی پہنچے۔ سچائی کے مالک ہونے کی وجہ سے، مسیحی تاریکی میں ڈوبی اس دُنیا کے اندر چراغوں کی مانند چمکتے ہیں۔ اپنے قول‌وفعل سے سچائی کی روشنی چمکاتے ہوئے ہم دوسروں کی آسمانی باپ کو جلال دینے میں مدد کر سکتے ہیں۔ (‏متی ۵:‏۱۴،‏ ۱۶‏)‏ ہم اس بات کا علانیہ اقرار کرتے ہیں کہ ہم شیطان کی غلط تعلیم کو مسترد کرتے اور خدا کے خالص کلام کو سربلند کرتے ہیں۔ جو سچائی ہم جانتے اور دوسروں کو پیش کرتے ہیں وہ اسے قبول کرنے والوں کے لئے حقیقی آزادی کا باعث بن سکتی ہے۔—‏یوحنا ۸:‏۳۲‏۔‏

سچائی کی روش پر چلیں

۱۸.‏ یسوع نے کیوں اور کیسے نتن‌ایل کی حمایت کی تھی؟‏

۱۸ یسوع نے سچائی سے محبت رکھی اور سچائی بیان کی۔ اپنی زمینی خدمتگزاری کے دوران، اُس نے صادق لوگوں کے لئے ہمدردی ظاہر کی۔ نتن‌ایل کی بابت یسوع نے کہا:‏ ”‏دیکھو!‏ یہ فی‌الحقیقت اسرائیلی ہے۔ اس میں مکر نہیں۔“‏ (‏یوحنا ۱:‏۴۷‏)‏ نتیجتاً، نتن‌ایل کا ۱۲ رسولوں میں شمار ہوا جو برتلمائی بھی کہلاتا  ہے۔ (‏متی ۱۰:‏۲-‏۴‏)‏ کیا ہی عزت‌افزائی!‏

۱۹-‏۲۱.‏ دلیری سے سچ بولنے کے لئے ایک نابینا شخص کو کیسے برکت سے نوازا گیا؟‏

۱۹ بائبل میں یوحنا کی کتاب کا ایک پورا باب ایک دوسرے دیانتدار شخص کا ذکر کرتا ہے جسے یسوع نے برکت دی تھی۔ ہم اُس کا نام نہیں جانتے۔ لیکن ہم یہ ضرور جانتے ہیں کہ وہ شخص ایک بھکاری اور پیدائشی اندھا تھا۔ جب یسوع نے اُس کی بینائی بحال کی تو لوگ دنگ رہ گئے۔ اس معجزانہ شفا کی خبر سچائی کی مخالفت کرنے والے فریسیوں کے کانوں تک بھی پہنچی جنہوں نے یسوع پر ایمان لانے والے ہر شخص کو عبادتخانہ سے خارج کر دینے کا عزم کر رکھا تھا۔ اُن کے منصوبے کو جانتے ہوئے، اُس نابینا شخص کے خوفزدہ والدین نے فریسیوں سے جھوٹ بولا اور کہا کہ وہ نہیں جانتے کہ اُن کا بیٹا کیسے بینا ہواہے یا کس نے اُسے بینا کِیا ہے۔—‏یوحنا ۹:‏۱-‏۲۳‏۔‏

۲۰ شفا پانے والے شخص کو ایک بار پھر فریسیوں کے سامنے لایا گیا۔ نتائج سے قطع‌نظر اُس نے دلیری کے ساتھ سچائی بیان کی۔ اُس نے بتایا کہ اُس نے کیسے شفا پائی اور شفا دینے والے کا نام یسوع ہے۔ اس بات پر حیران ہوتے ہوئے کہ شرع کے عالم اس بات پر یقین نہیں رکھتے کہ یسوع خدا کی طرف سے ہے، شفا پانے والے شخص نے دلیری کے ساتھ اُنہیں اسے قبول کرنے کی تحریک دی:‏ ”‏اگر یہ شخص خدا کی طرف سے نہ ہوتا تو کچھ نہ کر سکتا۔“‏ فریسیوں نے لاجواب ہو کر اُس پر گستاخ ہونے کا الزام لگایا اور باہر نکال دیا۔—‏یوحنا ۹:‏۲۴-‏۳۴‏۔‏

۲۱ جب یسوع کو یہ پتا چلا تو اُس نے اُس شخص کو تلاش کِیا۔ ایسا کرنے کے بعد اُس نے نابینا شخص کے ایمان ظاہر کرنے پر گفتگو کی۔ یسوع نے اپنی شناخت بطور مسیحا کرائی۔ اُس شخص کو سچائی بیان کرنے کا کتنا بڑا اَجر ملا!‏ واقعی سچ بولنے والے الہٰی کرمفرمائی سے مستفید ہوتے ہیں۔—‏یوحنا ۹:‏۳۵-‏۳۷‏۔‏

۲۲.‏ ہم سچائی کی روش پر چلنے کی کوشش کیسے کر سکتے ہیں؟‏

۲۲ سچ بولنا ایک ایسی چیز ہے جس کی ہمیں سنجیدگی سے جستجو کرنی چاہئے۔ یہ خدا اور لوگوں کے ساتھ اچھا رشتہ قائم کرنے اور برقرار رکھنے کے لئے بنیادی عنصر ہے۔ راست‌گو ہونے کا مطلب صاف‌گو، مخلص، قابلِ‌رسائی اور قابلِ‌بھروسا ہونا اور یہوواہ کی خوشنودی حاصل کرنا ہے۔ (‏زبور ۱۵:‏۱، ۲‏)‏ جھوٹا ہونے کا مطلب پُرفریب، ناقابلِ‌بھروسا اور دروغگو ہونا ہے اور یہ یہوواہ کی ناراضگی پر منتج ہوتا ہے۔ (‏امثال ۶:‏۱۶-‏۱۹‏)‏ لہٰذا سچائی کی روش پر چلنے کا عزم کریں۔ واقعی، سچائی کے خدا کی نقل کرنے کے لئے ہمیں سچائی کو جاننا، سچ بولنا اور سچ کے مطابق زندہ رہنے کی ضرورت ہے۔‏

آپ کیسے جواب دیں گے؟‏

‏• ہم سچائی جاننے کی وجہ سے کیوں شکرگزار ہو سکتے ہیں؟‏

‏• ہم سچ بولنے میں یہوواہ کی نقل کیسے کر  سکتے  ہیں؟‏

‏• دوسروں کو سچائی پہنچانے کے کیا فوائد ہیں؟‏

‏• سچائی کی روش پر چلنا کیوں ضروری ہے؟‏

‏[‏صفحہ ۱۷ پر تصویریں]‏

مسیحی بائبل سچائی سونپے جانے کی وجہ سے سرگرمی کے ساتھ دوسروں کو سچائی بتاتے ہیں

‏[‏صفحہ ۱۸ پر تصویریں]‏

نابینا شخص جسے یسوع نے شفا دی اُسے بہت زیادہ برکت ملی

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں