یہوواہ سچائی کا خدا ہے
”اَے [یہوواہ]! سچائی کے خدا! تُو نے میرا فدیہ دیا ہے۔“ —زبور ۳۱:۵۔
۱. جب جھوٹ کا نامونشان نہیں تھا تو آسمان اور زمین پر حالتیں کیسی تھیں؟
ایک وقت ایسا تھا جب جھوٹ کا نامونشان تک نہیں تھا۔ آسمان پر کامل روحانی مخلوق، فرشتے اپنے خالق، ”سچائی کے خدا“ کی خدمت کرتے تھے۔ (زبور ۳۱:۵) کوئی جھوٹ اور دھوکادہی نہیں تھی۔ یہوواہ اپنے روحانی بیٹوں کے ساتھ ہمیشہ سچ بولتا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اُن سے محبت اور اُن کی فلاحوبہبود میں دلچسپی رکھتا تھا۔ زمین پر بھی ایسا ہی تھا۔ یہوواہ نے پہلے آدمی اور عورت کو خلق کِیا اور اپنے مقررہ ذریعے کی معرفت وہ اُن سے بھی ہمیشہ سچ اور حق بات کہتا تھا۔ یہ کتنی شاندار بات تھی!
۲. جھوٹ کو کس نے متعارف کرایا اور کیوں؟
۲ پھر خدا کے ایک روحانی بیٹے نے بڑی دیدہدلیری سے مخالفت کرتے ہوئے یہوواہ کا مرتبہ ہتھیانا چاہا۔ یہ روحانی مخلوق اپنی پرستش کرانا چاہتا تھا جو شیطان ابلیس کہلایا۔ اپنے نصباُلعین کو حاصل کرنے کے لئے اُس نے جھوٹ کو متعارف کرایا تاکہ دوسروں کو اپنے قبضے میں کر سکے۔ ایسا کرنے سے وہ ”جھوٹا . . . بلکہ جھوٹ کا باپ“ بن گیا۔—یوحنا ۸:۴۴۔
۳. آدم اور حوا نے شیطان کے جھوٹ کے لئے کیسا ردِعمل دکھایا اور اس کا کیا نتیجہ نکلا؟
۳ ایک سانپ کے ذریعے شیطان نے پہلی عورت حوا کو بتایا کہ اگر وہ خدا کا حکم توڑ کر ممنوعہ پھل کھا لے تو وہ نہیں مرے گی۔ یہ ایک جھوٹ تھا۔ اُس نے یہ بھی کہا کہ وہ یہ پھل کھانے سے خدا کی مانند نیکوبد کو جاننے کے قابل ہو جائے گی۔ یہ بھی جھوٹ تھا۔ اگرچہ اس سے پہلے حوا نے جھوٹ نہیں سنا تھا توبھی اُسے یہ پہچان لینا چاہئے تھا کہ سانپ کی بات خدا کی بات سے بالکل فرق ہے جو اُس نے اُس کے شوہر آدم کو بتائی تھی۔ پھربھی اُس نے یہوواہ کی بجائے شیطان کا یقین کرنے کا انتخاب کِیا۔ اُس نے پوری طرح دھوکے میں آ کر پھل کھا لیا۔ بعدازاں، آدم نے بھی پھل کھایا۔ (پیدایش ۳:۱-۶) حوا کی طرح آدم نے بھی پہلے کبھی جھوٹ نہیں سنا تھا لیکن اُسے دھوکا نہیں دیا گیا تھا۔ (۱-تیمتھیس ۲:۱۴) اُس نے اپنے کاموں سے ثابت کِیا کہ اُس نے اپنے خالق کو رد کر دیا ہے۔ نوعِانسان کے لئے اس کا نتیجہ نہایت تباہکُن نکلا۔ آدم کی نافرمانی کے باعث، بدعنوانی اور مصیبت سمیت گناہ اور موت تمام انسانوں میں پھیل گئے۔—رومیوں ۵:۱۲۔
۴. (ا) عدن میں کیسے جھوٹ بولے گئے تھے؟ (ب) ہم شیطان سے گمراہ ہونے سے بچنے کے لئے کیا کر سکتے ہیں؟
۴ اس طرح جھوٹ بھی پھیل گیا۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ باغِعدن میں بولے گئے جھوٹ یہوواہ کی سچائی پر حملہ تھے۔ شیطان کا اعتراض تھا کہ خدا آدم اور حوا کو کسی اچھی چیز سے محروم رکھے ہوئے ہے۔ درحقیقت ایسا نہیں تھا۔ آدم اور حوا نے اپنی نافرمانی سے کوئی فائدہ نہیں اُٹھایا تھا۔ وہ یہوواہ کے قول کے مطابق مر گئے۔ تاہم، یہوواہ کے خلاف شیطان کا بہتانآمیز حملہ اس حد تک جاری رہا کہ صدیوں بعد بھی یوحنا رسول کو یہ لکھنے کا الہام بخشا گیا کہ شیطان ”سارے جہان کو گمراہ کر“ رہا ہے۔ (مکاشفہ ۱۲:۹) شیطان ابلیس سے گمراہ ہونے کی بجائے ہمیں یہوواہ اور اُس کے کلام کی صداقت پر پورا بھروسا رکھنا چاہئے۔ آپ یہوواہ پر اپنا اعتماد مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ اُس کے دشمن کے پھیلائے ہوئے جھوٹ اور دھوکے کے خلاف کیسے مستحکم ہو سکتے ہیں؟
یہوواہ سچائی جانتا ہے
۵، ۶. (ا) یہوواہ کیسا علم رکھتا ہے؟ (ب) یہوواہ کے مقابلے میں انسان کا علم کیسا ہے؟
۵ بائبل واضح کرتی ہے کہ یہوواہ ’سب چیزیں پیدا کرنے والا‘ ہے۔ (افسیوں ۳:۹) اُسی نے ”آسمان اور زمین اور سمندر اور جوکچھ اُن میں ہے پیدا کِیا۔“ (اعمال ۴:۲۴) یہوواہ خالق ہونے کی وجہ سے ہر چیز کی بابت سچائی جانتا ہے۔ مثال کے طور پر: اپنے ہاتھوں سے اپنا گھر بنانے والے شخص کا تصور کریں۔ وہ گھر کو بنتے ہوئے دیکھنے والے کسی بھی شخص کی نسبت اپنے گھر کے اندر اور باہر سے اچھی طرح واقف ہوگا۔ لوگ اپنی بنائی ہوئی چیزوں کو بخوبی جانتے ہیں۔ اسی طرح یہوواہ بھی اپنی تخلیق سے واقف ہے۔
۶ یسعیاہ نبی نے بڑی خوبصورتی کے ساتھ یہوواہ کے علم کی وسعت کو بیان کِیا۔ ہم پڑھتے ہیں: ”کس نے سمندر کو چلو سے ناپا اور آسمان کی پیمایش بالشت سے کی اور زمین کی گرد کو پیمانہ میں بھرا اور پہاڑوں کو پلڑوں میں وزن کِیا اور ٹیلوں کو ترازو میں تولا؟ کس نے [یہوواہ] کی رُوح کی ہدایت کی یا اُس کا مشیر ہو کر اُسے سکھایا؟ اُس نے کس سے مشورت لی ہے جو اُسے تعلیم دے اور اُسے عدالت کی راہ سمجھائے اور اُسے معرفت کی بات بتائے اور اُسے حکمت کی راہ سے آگاہ کرے؟“ (یسعیاہ ۴۰:۱۲-۱۴) واقعی، یہوواہ ”خدایِعلیم“ اور ”علم میں کامل“ ہے۔ (۱-سموئیل ۲:۳؛ ایوب ۳۶:۴؛ ۳۷:۱۶) اُس کے مقابلے میں ہمارا علم کتنا محدود ہے! مادی کائنات کی بابت انسان کے حاصلکردہ حیرانکُن علم کے باوجود یہ ”اُس کی راہوں کے فقط کنارے“ کی مانند ہے۔ یہ ”اُس کی قدرت کی گرج“ کے مقابلے میں ”دھیمی آواز“ ہے۔—ایوب ۲۶:۱۴۔
۷. یہوواہ کے علم کی بابت داؤد نے کیا جان لیا تھا اور ہمیں کیا تسلیم کرنا چاہئے؟
۷ جب یہوواہ ہمارا خالق ہے تو وہ ہماری بابت اچھی طرح جانتا ہے۔ داؤد بادشاہ نے اس حقیقت کو تسلیم کِیا۔ اُس نے لکھا: ”اَے [یہوواہ]! تُو نے مجھے جانچ لیا اور پہچان لیا۔ تُو میرا اُٹھنا بیٹھنا جانتا ہے۔ تُو میرے خیال کو دُور سے سمجھ لیتا ہے۔ تُو میرے راستہ کی اور میری خوابگاہ کی چھانبین کرتا ہے اور میری سب روشوں سے واقف ہے۔ دیکھ! میری زبان پر کوئی ایسی بات نہیں جسے تُو اَے [یہوواہ]! پورے طور پر نہ جانتا ہو۔“ (زبور ۱۳۹:۱-۴) بِلاشُبہ، داؤد سمجھ گیا تھا کہ خدا نے ہمیں آزاد مرضی کے ساتھ خلق کِیا ہے—اُس نے ہمیں فرمانبرداری یا نافرمانی کا مکمل حق عطا کِیا ہے۔ (استثنا ۳۰:۱۹، ۲۰؛ یشوع ۲۴:۱۵) تاہم، یہوواہ ہمیں اتنی اچھی طرح جانتا ہے کہ ہم خود بھی اپنی بابت اتنا نہیں جانتے۔ وہ ہماری بھلائی چاہتا ہے اور ہماری راہنمائی کرنے کے قابل ہے۔ (یرمیاہ ۱۰:۲۳) واقعی، ہمیں سچائی کی تعلیم دینے اور حکمت بخشنے اور خوش رہنے کے قابل بنانے کے لئے اُس سے بہتر کوئی اُستاد، ماہر یا مشیر نہیں ہے۔
یہوواہ سچا خدا ہے
۸. ہم یہ کیسے جانتے ہیں کہ یہوواہ سچا خدا ہے؟
۸ سچائی سے واقف ہونا سچ بولنے اور سچا ہونے سے بالکل فرق ہے۔ مثال کے طور پر، اِبلیس نے ”سچائی پر قائم“ نہ رہنے کا انتخاب کِیا۔ (یوحنا ۸:۴۴) اس کے برعکس، یہوواہ ”وفا میں غنی“ ہے۔ (خروج ۳۴:۶) صحائف بار بار یہوواہ کی سچائی کی تصدیق کرتے ہیں۔ پولس رسول نے بیان کِیا، ”خدا کا جھوٹ بولنا ممکن نہیں“ اور یہ کہ خدا ”جھوٹ نہیں بول سکتا۔“ (عبرانیوں ۶:۱۸؛ ططس ۱:۲) سچائی یہوواہ کی شخصیت کا اہم عنصر ہے۔ ہم یہوواہ پر توکل اور بھروسا رکھ سکتے ہیں کیونکہ وہ اپنے وفادار بندوں کو دھوکا نہیں دیتا۔
۹. یہوواہ کے نام کا سچائی سے کیا تعلق ہے؟
۹ یہوواہ کا نام ہی اُس کے سچا ہونے کی تصدیق کرتا ہے۔ الہٰی نام کا مطلب ہے ”مسبّباُلاسباب۔“ یہ یہوواہ کی شناخت ایک ایسے شخص کے طور پر کراتا ہے جو بتدریج اپنے تمام وعدے پورے کرتا ہے۔ کوئی اَور ایسا نہیں کر سکتا۔ یہوواہ اعلیٰوبالا ہستی ہے اس لئے کوئی بھی چیز اُس کے مقاصد کی تکمیل میں حائل نہیں ہو سکتی۔ یہوواہ نہ صرف سچا ہے بلکہ اپنے قول کو سچا ثابت کرنے کی طاقت اور حکمت بھی رکھتا ہے۔
۱۰. (ا) یشوع نے کس طرح یہوواہ کی صداقت کی گواہی دی؟ (ب) آپ نے یہوواہ کے کونسے وعدوں کی تکمیل دیکھی ہے؟
۱۰ یشوع اُن بہتیرے اشخاص میں سے ایک تھا جس نے یہوواہ کی صداقت کے بیشمار شاندار واقعات کی گواہی دی۔ جب یشوع مصر میں تھا تو یہوواہ نے اُس قوم پر دس آفتیں نازل کیں اور اُن میں سے ہر ایک کی بابت پہلے سے پیشینگوئی کی۔ دیگر چیزوں کے علاوہ یشوع نے اسرائیلیوں کو مصر سے رہائی دلانے اور موعودہ مُلک میں لیجانے اور اُن کی مخالفت کرنے والے کنعانیوں کے زورآور لشکروں کو اُن کے تابع کرنے کے سلسلے میں یہوواہ کے وعدوں کی تکمیل بھی دیکھی تھی۔ اپنی زندگی کے اختتام کے قریب، یشوع نے اسرائیل کے بزرگوں سے کہا: ”تم خوب جانتے ہو کہ اُن سب اچھی باتوں میں سے جو [یہوواہ] تمہارے خدا نے تمہارے حق میں کہیں ایک بات بھی نہ چُھوٹی۔ سب تمہارے حق میں پوری ہوئیں اور ایک بھی اُن میں سے رہ نہ گئی۔“ (یشوع ۲۳:۱۴) اگرچہ آپ نے یشوع کی طرح کے معجزات نہیں دیکھے توبھی کیا آپ نے اپنی زندگی کے دوران خدا کے وعدوں کی صداقت کا تجربہ کِیا ہے؟
یہوواہ سچائی آشکارا کرتا ہے
۱۱. کیا چیز ظاہر کرتی ہے کہ یہوواہ انسانوں تک سچائی پہنچانا چاہتا ہے؟
۱۱ ایک ایسے باپ کا تصور کریں جو وسیع علم تو رکھتا ہے لیکن اپنے بچوں سے بہت کم باتچیت کرتا ہے۔ کیا آپ اس بات سے خوش نہیں کہ یہوواہ ایسا نہیں ہے؟ یہوواہ بڑے پیار اور فیاضی کے ساتھ انسانوں سے ہمکلام ہوتا ہے۔ صحائف اُسے ’عظیم مُعلم‘ کہتے ہیں۔ (یسعیاہ ۳۰:۲۰) اپنی شفقت میں وہ اُن تک بھی رسائی کرتا ہے جو اُس کی بات سننے کی طرف مائل نہیں ہوتے۔ مثال کے طور پر، یہوواہ نے حزقیایل کو ایسے لوگوں میں منادی کرنے کا کام دیا جن کی بابت یہوواہ جانتا تھا کہ وہ اُس کی بات نہیں سنیں گے۔ یہوواہ نے فرمایا: ”اَے آدمزاد تُو بنیاسرائیل کے پاس جا اور میری یہ باتیں اُن سے کہہ۔“ پھر اُس نے آگاہ کِیا: ”لیکن بنیاسرائیل تیری بات نہ سنیں گے کیونکہ وہ میری سننا نہیں چاہتے کیونکہ سب بنیاسرائیل سختپیشانی اور سنگدل ہیں۔“ یہ ایک مشکل تفویض تھی مگر حزقیایل نے اسے وفاداری سے پورا کِیا اور ایسا کرنے سے اُس نے یہوواہ کے رحم کی عکاسی کی۔ اگر آپ کے پاس بھی منادی کی ایسی مشکل تفویض ہے اور آپ خدا پر بھروسا رکھتے ہیں تو آپ یہ یقین رکھ سکتے ہیں کہ خدا حزقیایل نبی کی طرح آپ کو بھی طاقت بخشے گا۔—حزقیایل ۳:۴، ۷-۹۔
۱۲، ۱۳. خدا نے کن طریقوں سے انسانوں سے کلام کِیا ہے؟
۱۲ یہوواہ چاہتا ہے کہ ”سب آدمی نجات پائیں اور سچائی کی پہچان تک پہنچیں۔“ (۱-تیمتھیس ۲:۴) اُس نے نبیوں، فرشتوں اور اپنے عزیز بیٹے یسوع مسیح کی معرفت کلام کِیا ہے۔ (عبرانیوں ۱:۱، ۲؛ ۲:۲) یسوع نے پیلاطُس سے کہا: ”مَیں اس لئے پیدا ہوا اور اس واسطے دُنیا میں آیا ہوں کہ حق پر گواہی دوں۔ جو کوئی حقانی ہے میری آواز سنتا ہے۔“ پیلاطُس کے پاس نجات حاصل کرنے کے لئے براہِراست خدا کے بیٹے سے یہوواہ کی بابت سچائی سیکھنے کا موقع تھا۔ تاہم، پیلاطُس حقانی نہیں تھا اور وہ یسوع سے سیکھنا نہیں چاہتا تھا۔ پیلاطُس نے طنزاً جواب دیا: ”حق کیا ہے؟“ (یوحنا ۱۸:۳۷، ۳۸) اُس کے لئے کتنے افسوس کی بات تھی! تاہم، بہتیروں نے یسوع کی طرف سے بیان کی جانے والی سچائی کو سنا۔ اُس نے اپنے شاگردوں سے کہا: ”مبارک ہیں تمہاری آنکھیں اِسلئےکہ وہ دیکھتی ہیں اور تمہارے کان اسلئےکہ وہ سنتے ہیں۔“—متی ۱۳:۱۶۔
۱۳ یہوواہ نے بائبل کے ذریعے سچائی کو محفوظ رکھا ہے اور اسے ہر جگہ رہنے والے لوگوں کے لئے دستیاب کِیا ہے۔ بائبل چیزوں کو اُن کی اصلی حالت میں بیان کرتی ہے۔ یہ خدا کی صفات، مقاصد اور احکامات اور اس کے ساتھ ساتھ انسانوں کی اصل حالت کو بیان کرتی ہے۔ یسوع نے یہوواہ سے دُعا کرتے ہوئے کہا: ”تیرا کلام سچائی ہے۔“ (یوحنا ۱۷:۱۷) اس وجہ سے بائبل ایک منفرد کتاب ہے۔ صرف یہی تمام چیزوں کا علم رکھنے والے خدا کے الہام سے لکھی گئی ہے۔ (۲-تیمتھیس ۳:۱۶) یہ انسانوں کے لئے ایک ایسا قیمتی تحفہ ہے جسے خدا کے خادم بیشقیمت خیال کرتے ہیں۔ اگر ہم اسے ہر روز پڑھتے ہیں تو یہ دانشمندانہ روش ہے۔
سچائی کو مضبوطی سے تھامے رہیں
۱۴. یہوواہ کیا کرنے کا وعدہ کرتا ہے اور ہمیں کیوں اُس کا یقین کرنا چاہئے؟
۱۴ ہمیں یہوواہ کے کلام پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے۔ وہ اپنے قول کا پکا ہے۔ ہمارے پاس خدا پر بھروسا رکھنے کی ہر وجہ ہے۔ جب یہوواہ یہ فرماتا ہے کہ وہ ”جو خدا کو نہیں پہچانتے اور ہمارے خداوند یسوؔع کی خوشخبری کو نہیں مانتے اُن سے بدلہ لے گا“ تو ہمیں اس کا یقین کرنا چاہئے۔ (۲-تھسلنیکیوں ۱:۸) جب یہوواہ یہ کہتا ہے کہ وہ راستبازی کی تلاش کرنے والوں سے محبت کرتا ہے، ایمان رکھنے والوں کو ہمیشہ کی زندگی عطا کرے گا اور دُکھدرد، آہونالہ اور موت کو ختم کرے گا تو ہمیں اُس کی باتوں کا یقین کرنا چاہئے۔ یہوواہ نے اپنے اس وعدے کو مستند قرار دینے کے لئے یوحنا رسول کو یہ ہدایت کی: ”لکھ لے کیونکہ یہ باتیں سچ اور برحق ہیں۔“—مکاشفہ ۲۱:۴، ۵؛ امثال ۱۵:۹؛ یوحنا ۳:۳۶۔
۱۵. چند کونسے جھوٹ ہیں جن کی شیطان تائید کرتا ہے؟
۱۵ شیطان یہوواہ کے بالکل برعکس ہے۔ وہ روشنخیالی عطا کرنے کی بجائے دھوکا دیتا ہے۔ لوگوں کو سچی پرستش سے دُور رکھنے کے اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لئے شیطان مختلف قِسم کے جھوٹ پھیلاتا ہے۔ مثال کے طور پر، شیطان ہمیں یہ باور کرا سکتا ہے کہ یہوواہ جذباتی طور پر ہم سے بہت دُور ہے اور زمین پر آنے والی مشکلات کے لئے کوئی احساس نہیں رکھتا۔ تاہم، بائبل بیان کرتی ہے کہ یہوواہ اپنی مخلوق کی بابت زیادہ فکر رکھتا ہے اور بدکاری اور تکلیف کو ناپسند کرتا ہے۔ (اعمال ۱۷:۲۴-۳۰) شیطان لوگوں کو یہ بھی باور کرانے کی کوشش کرتا ہے کہ روحانی حاصلات محض وقت کا ضیاع ہیں۔ اس کے برعکس، صحائف ہمیں یقیندہانی کراتے ہیں کہ ”خدا بےانصاف نہیں جو تمہارے کام اور اُس محبت کو بھول جائے جو تُم نے اُس کے نام کے واسطے . . . ظاہر کی۔“ مزیدبرآں، یہ واضح طور پر بیان کرتے ہیں کہ ”وہ . . . اپنے طالبوں کو بدلہ دیتا ہے۔“—عبرانیوں ۶:۱۰؛ ۱۱:۶۔
۱۶. مسیحیوں کو ہوشیار رہنے اور سچائی کو مضبوطی سے تھامے رہنے کی ضرورت کیوں ہے؟
۱۶ شیطان کی بابت پولس رسول نے لکھا: ”ان بےایمانوں کے واسطے جن کی عقلوں کو اِس جہان کے خدا نے اندھا کر دیا ہے تاکہ مسیح جو خدا کی صورت ہے اُس کے جلال کی خوشخبری کی روشنی اُن پر نہ پڑے۔“ (۲-کرنتھیوں ۴:۴) حوا کی مانند بعض مکمل طور پر شیطان اِبلیس کے فریب میں آ جاتے ہیں۔ دیگر آدم کی روش پر چلتے ہیں جس نے فریب نہیں کھایا تھا بلکہ جانبوجھ کر نافرمانی کی روش اختیار کی تھی۔ (یہوداہ ۵، ۱۱) لہٰذا یہ ضروری ہے کہ مسیحی ہوشیار رہیں اور سچائی کو مضبوطی سے تھامے رہیں۔
یہوواہ ”بےریا ایمان“ کا تقاضا کرتا ہے
۱۷. یہوواہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ہمیں کیا کرنا چاہئے؟
۱۷ یہوواہ اپنی تمام راہوں میں راست ہونے کی وجہ سے اپنے پرستاروں سے بھی راست ہونے کا تقاضا کرتا ہے۔ زبورنویس نے لکھا: ”اَے [یہوواہ] تیرے خیمہ میں کون رہے گا؟ تیرے کوہِمُقدس پر کون سکونت کرے گا؟ وہ جو راستی سے چلتا اور صداقت کا کام کرتا اور دل سے سچ بولتا ہے۔“ (زبور ۱۵:۱، ۲) اِن الفاظ کو گانے والے یہودیوں کے ذہن میں یہوواہ کا مُقدس پہاڑ کوہِصیون تھا جہاں بادشاہ داؤد اپنے نصبکردہ خیمہاجتماع میں عہد کا صندوق لایا تھا۔ (۲-سموئیل ۶:۱۲، ۱۷) پہاڑ اور خیمہ نے اُس جگہ کی یاد دلائی تھی جہاں یہوواہ علامتی طور پر سکونت کرتا تھا۔ خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے لوگ وہاں جا سکتے تھے۔
۱۸. (ا) خدا کے ساتھ دوستی کس چیز کا تقاضا کرتی ہے؟ (ب) اگلے مضمون میں کس موضوع پر بات کی جائے گی؟
۱۸ یہوواہ کی دوستی کے خواہاں ہر شخص کو زبان کی بجائے ”دل سے“ سچ بولنے کی ضرورت ہے۔ خدا کے سچے دوستوں کو دیانتدار ہونا اور ”بےریا ایمان“ کا ثبوت دینا چاہئے کیونکہ راستی کے کام دل ہی سے کئے جاتے ہیں۔ (۱-تیمتھیس ۱:۵؛ متی ۱۲:۳۴، ۳۵) خدا کا دوست دغا یا فریب نہیں دیتا کیونکہ ”[یہوواہ] کو . . . دغاباز آدمی سے کراہیت ہے۔“ (زبور ۵:۶) دُنیابھر میں یہوواہ کے گواہ اپنے خدا کی نقل میں راستگو بننے کی سخت کوشش کرتے ہیں۔ اگلا مضمون اسی موضوع پر بات کرے گا۔
آپ کیسے جواب دیں گے؟
• یہوواہ کیوں ہر چیز کی حقیقت جانتا ہے؟
• کیا چیز ظاہر کرتی ہے کہ یہوواہ سچا خدا ہے؟
• یہوواہ نے سچائی کو کیسے آشکارا کِیا ہے؟
• سچائی کے سلسلے میں ہم سے کیا تقاضا کِیا جاتا ہے؟
[صفحہ ۱۰ پر تصویریں]
سچائی کا خدا اپنی تخلیق کی بابت سب کچھ جانتا ہے
[صفحہ ۱۳ پر تصویریں]
یہوواہ کے وعدے ضرور پورے ہوں گے