کیا آپ سچے خدا پر بھروسا رکھتے ہیں؟
ایک تحقیقاتی گروہ کو امریکن میوزیم آف نیچرل ہسٹری کی طرف سے قُطبشمالی کے ایک علاقے کی بابت تحقیق کرنے کیلئے روانہ کِیا گیا جسے سیاح رابرٹ ای. پیئری نے تقریباً سات سال پہلے ۱۹۰۶ میں دیکھا تھا۔
شمالی امریکہ کے انتہائی شمالمغربی علاقے میں کیپ کولگیٹ کے مقام سے پیئری نے کسی دُورافتادہ علاقے کی برفپوش چوٹیوں کا نظارہ کِیا۔ اُس نے اپنے سفر کے مالی اخراجات پورے کرنے والے اشخاص میں سے ایک کے اعزاز میں اس علاقے کا نام کروکر لینڈ رکھ دیا۔ بعدازاں اس مہم پر جانے والے گروہ کے ارکان دُور سے اِن پہاڑوں، وادیوں اور برفپوش چوٹیوں کو دیکھ کر کتنے خوش ہوئے ہونگے! تاہم اُنہیں بہت جلد یہ احساس ہو گیا کہ وہ محض ایک قُطبی سراب کو دیکھ رہے ہیں۔ بعض ماحولیاتی اثرات کے باعث پیئری اِس بصری التباس کا شکار ہو گیا تھا اور اب انہیں بھی اپنا وقت، توانائی اور وسائل خرچ کرنے کے بعد یہ پتہ چلا تھا کہ وہ ایک غیرحقیقی چیز کی تحقیق کر رہے ہیں۔
آجکل بہتیرے لوگ اپنا وقت اور عقیدت ایسے معبودوں کی نذر کر دیتے ہیں جو اُن کے نزدیک حقیقی ہیں۔ یسوع کے رسولوں کے زمانے میں ہرمیس اور زیوس جیسے دیوتاؤں کی پرستش کی جاتی تھی۔ (اعمال ۱۴:۱۱، ۱۲) آجکل بھی شنتو، ہندو اور دُنیابھر کے دیگر مذاہب میں لاکھوں دیوتاؤں کی پرستش کی جاتی ہے۔ واقعی، بائبل موزوں طور پر بیان کرتی ہے کہ ”بہتیرے خدا اور بہتیرے خداوند ہیں۔“ (۱-کرنتھیوں ۸:۵، ۶) کیا یہ تمام خدا سچے ہو سکتے ہیں؟
خدا جو ”بچا نہیں“ سکتے؟
مثال کے طور پر، پرستش میں مورتوں یا علامات کے استعمال پر غور کریں۔ بُتوں پر بھروسا کرنے یا انکے ذریعے دُعا کرنے والے لوگوں کیلئے یہ ایسے نجاتدہندہ ہوتے ہیں جو اپنی مافوقالفطرت قوت سے لوگوں کو اجر بخشنے کے علاوہ انہیں خطرے سے بچانے کے قابل بھی ہوتے ہیں۔ تاہم، کیا یہ واقعی بچا سکتے ہیں؟ ایسے بُتوں کی بابت زبورنویس نے اپنے گیت میں کہا: ”قوموں کے بُت چاندی اور سونا ہیں یعنی آدمی کی دستکاری۔ اُنکے مُنہ ہیں پر وہ بولتے نہیں۔ آنکھیں ہیں پر وہ دیکھتے نہیں۔ اُنکے کان ہیں پر وہ سنتے نہیں اور اُنکے مُنہ میں سانس نہیں۔“ واقعی یہ ایسے دیوتا ہیں جو ”بچا نہیں“ سکتے۔—زبور ۱۳۵:۱۵-۱۷؛ یسعیاہ ۴۵:۲۰۔
سچ ہے کہ بُت بنانے والے اپنی دستکاری کو زندگی اور طاقت سے منسوب کر سکتے ہیں۔ علاوہازیں بُتوں کی پرستش کرنے والے ان پر بھروسا بھی کرتے ہیں۔ یسعیاہ نبی نے بیان کِیا، ”وہ اُسے [بُت] کندھے پر اُٹھاتے ہیں۔ وہ اُسے لیجا کر اسکی جگہ پر نصب کرتے ہیں۔“ وہ مزید بیان کرتا ہے: ”وہ کھڑا رہتا ہے۔ وہ اپنی جگہ سے سرکتا نہیں بلکہ اگر کوئی اُسے پکارے تو وہ نہ جواب دے سکتا ہے اور نہ اُسے مصیبت سے چھڑا سکتا ہے۔“ (یسعیاہ ۴۶:۷) سچ تو یہ ہے کہ اس پر بھروسا رکھنے والے لوگوں کے مخلصانہ ایمان کے باوجود بُت بےجان ہی رہتا ہے۔ ایسی کھودی اور ڈھالی ہوئی مورتیں بالکل ’ناکارہ‘ ہیں۔—حبقوق ۲:۱۸۔
آجکل تفریح اور کھیل کی ممتاز شخصیات، سیاسی حکومتوں اور بعض مذہبی راہنماؤں کیلئے محبت، عقیدت اور تعظیم دکھانا بہت عام ہے۔ علاوہازیں، بہتیروں کا خدا پیسہ ہے۔ ان تمام معاملات میں یہ بُت اُن سب خوبیوں سے مبرا ہیں جنکی اُن سے توقع کی جاتی ہے۔ وہ ان پر ایمان رکھنے والوں کی اُمیدوں کو پورا کرنے سے قاصر ہیں۔ مثال کے طور پر، دولت بہت سے مسائل کا حل دکھائی دے سکتی ہے لیکن اسکی طاقت محض دھوکا ہے۔ (مرقس ۴:۱۹) ایک محقق نے استفسار کِیا: ”بہتیرے لوگ جس چیز کی خواہش کرتے ہیں اور جسے ہر مرض کی دوا سمجھتے ہیں وہی جب ہاتھ لگ جاتی ہے تو مایوسی اور صدمے کا باعث کیوں بنتی ہے؟“ جیہاں، دولت کی جستجو ایک شخص سے اچھی صحت، اطمینانبخش خاندانی زندگی، دوست یا خالق کیساتھ ایک بیشقیمت رشتے جیسی حقیقی قدروقیمت کی حامل چیزوں کی قربانی کا تقاضا کر سکتی ہے۔ اُسکا دیوتا ’جھوٹا معبود‘ ثابت ہوتا ہے!—یوناہ ۲:۸۔
’کوئی جواب دینے والا نہیں‘
کسی غیرحقیقی چیز کو حقیقی قرار دینا بیوقوفی ہے۔ ایلیاہ کے زمانے میں دیوتا بعل کے پرستاروں نے ایک تلخ تجربے کے بعد یہ سیکھا تھا۔ وہ پُختہ ایمان رکھتے تھے کہ بعل آسمان سے آگ نازل کرکے ایک جانور کی قربانی کو بھسم کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ درحقیقت، وہ ”صبح سے دوپہر تک بعلؔ سے دُعا کرتے اور کہتے رہے اَے بعلؔ ہماری سن۔“ کیا بعل کے پاس سننے کے لئے کان اور بولنے کے لئے مُنہ تھا؟ سرگزشت مزید بیان کرتی ہے: ”نہ کچھ آواز ہوئی اور نہ کوئی جواب دینے والا . . . تھا۔“ واقعی، ’کوئی توجہ کرنے والا نہ تھا۔‘ (۱-سلاطین ۱۸:۲۶، ۲۹) بعل نہ تو حقیقی تھا اور نہ ہی زندہ یا طاقتور تھا۔
پس، سچے خدا کو جاننا اور اُسکی پرستش کرنا کسقدر اہم ہے! لیکن وہ کون ہے؟ نیز اُس پر بھروسا رکھنے سے ہم کیسے مستفید ہو سکتے ہیں؟
[صفحہ ۳ پر تصویریں]
پیئری کا ساتھی اگنوا زمین کی تلاش میں اُفق کا جائزہ لیتا ہے
رابرٹ ای. پیئری
[تصویروں کے حوالہجات]
1909 The North Pole: Its Discovery in Egingwah: From the book
Under the Auspices of the Peary Arctic Club, 1910; Robert E. Peary: NOAA
[صفحہ ۴ پر تصویریں]
بہتیرے لوگ اُن چیزوں کے فریب میں پھنس جاتے ہیں جنکی اِس دُنیا میں پرستش کی جاتی ہے