یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م01 15/‏6 ص.‏ 27-‏30
  • حشمونی اور اُن کی میراث

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • حشمونی اور اُن کی میراث
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2001ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • آزادی اور نااتفاقی میں اضافہ
  • مزید توسیع اور استبداد
  • فریسیوں اور صدوقیوں کا ظہور
  • سیاست زیادہ، عقیدت کم
  • حشمونی میراث
  • سوالات از قارئین
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2005ء
  • ‏”‏مجھ سے سیکھو“‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2001ء
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2001ء
م01 15/‏6 ص.‏ 27-‏30

حشمونی اور اُن کی میراث

جب یسوع زمین پر تھا تو یہودیت اقتدار کے بھوکے فرقوں میں بٹی ہوئی تھی۔ یہ بات انجیلی سرگزشتوں اور پہلی صدی کے یہودی مؤرخ یوسیفس کی تصانیف سے صاف ظاہر ہے۔‏

اس وقت فریسی اور صدوقی لوگوں پر اتنا زیادہ اثرورسُوخ رکھتے تھے کہ اُنہوں نے یسوع کو بطور مسیحا رد کرنے کی حد تک رائے‌عامہ کو متاثر کِیا تھا۔ (‏متی ۱۵:‏۱، ۲؛‏ ۱۶:‏۱؛‏ یوحنا ۱۱:‏۴۷، ۴۸؛‏ ۱۲:‏۴۲، ۴۳‏)‏ تاہم، عبرانی صحائف میں ان دونوں بارسُوخ گروہوں کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔‏

یوسیفس دوسری صدی ق.‏س.‏ع.‏ کے واقعات کے حوالے سے پہلی مرتبہ صدوقیوں اور فریسیوں کا ذکر کرتا ہے۔ اس دَور میں، بہتیرے یہودی ہیلینیت یعنی یونانی ثقافت‌وفلسفے کی طرف مائل ہو رہے تھے۔ جب سلوکی حکمرانوں نے یروشلیم کی ہیکل کو زیوس کیلئے مخصوص کرکے اسکی بے‌حُرمتی کی تو ہیلینیت اور یہودیت میں کشیدگی اَور بھی بڑھ گئی۔ حشمونی خاندان کے ایک جانباز سپہ‌سالار، یہوداہ مکابی کی قیادت میں ایک باغی لشکر نے ہیکل کو یونانی تسلط سے آزاد کرایا۔‏a

مکابیوں کی بغاوت اور فتح کے فوراً بعد کے سالوں میں مسابقانہ نظریات کی بِنا پر فرقے بنا لینے کا رُجحان بہت عام تھا اور ہر فرقہ زیادہ سے زیادہ یہودیوں کو اپنے ساتھ ملانے کیلئے کوشاں تھا۔ لیکن یہ رُجحان کیوں پیدا ہوا؟ یہودیت میں تفرقے کیوں پڑ گئے؟ ان سوالوں کے جواب کیلئے ہمیں حشمونی تاریخ کا جائزہ لینا ہوگا۔‏

آزادی اور نااتفاقی میں اضافہ

یہوواہ کی ہیکل میں پرستش کی بحالی کا مذہبی فریضہ انجام دینے کے بعد یہوداہ مکابی سیاسی سرگرمیوں میں اُلجھ گیا۔ نتیجتاً، بہتیرے یہودیوں نے اُس کا ساتھ چھوڑ دیا۔ تاہم، اُس نے سلوکی حکمرانوں کے خلاف جنگ جاری رکھنے کیلئے روم کے ساتھ الحاق کر لیا اور ایک آزاد یہودی ریاست قائم کرنے کی کوشش کی۔ جنگ میں یہوداہ کی موت کے بعد اُسکے بھائیوں، یوناتان اور شمعون نے اس جدوجہد کو جاری رکھا۔ پہلے‌پہل تو سلوکی حکمرانوں نے مکابیوں کی سخت مخالفت کی لیکن وقت کیساتھ ساتھ اُنہوں نے سیاسی سمجھوتہ کر لیا جس سے حشمونی برادران کو قدرے خودمختاری حاصل ہو گئی۔‏

کہانتی نسل سے ہونے کے باوجود، کسی بھی حشمونی نے سردار کاہن کے عہدے پر کبھی خدمت انجام نہیں دی تھی۔ بہتیرے یہودیوں کا خیال تھا کہ صدوق کے سلسلۂ‌نسب سے تعلق رکھنے والے کاہنوں کو اس مرتبے پر فائز ہونا چاہئے جسے سلیمان نے سردار کاہن مقرر کِیا تھا۔ (‏۱-‏سلاطین ۲:‏۳۵؛‏ حزقی‌ایل ۴۳:‏۱۹)‏ یوناتان نے جنگ اور سیاسی جوڑتوڑ سے کام لیتے ہوئے سلوکیوں کو اُسے کاہن‌اعظم مقرر کرنے پر راضی کر لیا۔ لیکن یوناتان کی موت کے بعد، اُسکے بھائی شمعون کو اس سے بھی بڑا اعزاز حاصل ہوا۔ ستمبر ۱۴۰ ق.‏س.‏ع.‏ میں، یروشلیم میں پیتل کی لوحوں پر یونانی طرز میں کندہ یہ اہم فرمان جاری کِیا گیا:‏ ”‏دیمیتریس بادشاہ [‏یونانی سلوکی حکمران]‏ نے اُس [‏شمعون]‏ کو کاہن‌اعظم کے عہدے پر برقرار رکھا۔ اور اُس کو اپنے رفیقوں میں شمولیت بخشی اور اُس کی بہت عزت‌افزائی کی۔ .‏ .‏ .‏ یہودیوں اور اُن کے کاہنوں کے نزدیک یہ مناسب معلوم ہوا کہ شمعون ہمیشہ کے لئے رئیس اور کاہن‌اعظم رہے جب تک کوئی معتبر نبی برپا نہ ہو۔“‏—‏۱-‏مکابیین ۱۴:‏۳۸-‏۴۱ (‏اپاکرفا کی ایک تاریخی کتاب)‏۔‏

پس، شمعون—‏اور اُس کے بیٹوں—‏کے لئے حکمران اور سردار کاہن کے مرتبے کو نہ صرف خارجی سلوکی حکومت میں بلکہ اُسکے اپنے لوگوں کے ”‏اجتماعِ‌عام“‏ میں بھی منظور کر لیا گیا۔ یہ ایک اہم نقطۂ‌انقلاب تھا۔ مؤرخ آمل شیورر بیان کرتا ہے کہ حشمونیوں کی سیاسی حکومت قائم ہو جانے کے بعد ”‏اُنکا بنیادی مقصد توریت [‏یہودی شریعت]‏ کی تعمیل کی بجائے اپنے سیاسی اقتدار کی توسیع اور تحفظ تھا۔“‏ تاہم، شمعون نے یہودیوں کے جذبات‌واحساسات کو ٹھیس پہنچانے سے گریز کرتے ہوئے ”‏بادشاہ“‏ کی بجائے ”‏اتھنارک“‏ یا ”‏قائدعوام“‏ کا لقب استعمال کِیا۔‏

تاہم، تمام لوگ مذہبی اور سیاسی دونوں حلقوں میں حشمونی قبضے سے خوش نہیں تھے۔ بہتیرے علما کے مطابق، اسی دَور میں لوگ قمران میں جاکر آباد ہو گئے تھے۔ صدوق کے سلسلۂ‌نسب سے ایک کاہن کی بابت خیال ہے کہ وادیَ‌قمران سے ملنے والے طوماروں میں اُسے ”‏راستبازی کا مُعلم“‏ کہا گیا ہے۔ یہ کاہن یروشلیم چھوڑ کر ایک مخالف گروہ کو بحرِمُردار کے پاس یہودیہ کے صحرا میں لے گیا تھا۔ بحرِمُردار کے ایک طومار، حبقوق کی کتاب کی تفسیر میں ”‏شریر کاہن“‏ کی مذمت کی گئی ”‏جو شروع میں تو صادق تھا مگر جب اُس نے اسرائیل پر حکومت شروع کی تو وہ گھمنڈی ہو گیا۔“‏ بہتیرے علما کا خیال ہے کہ وادئ‌قمران میں آباد فرقے نے حکمران ”‏شریر کاہن“‏ کی جو تصویرکشی کی ہے وہ یوناتان یا شمعون میں سے کسی ایک پر عائد ہو سکتی ہے۔‏

شمعون نے اپنے زیرِتسلط علاقے کو بڑھانے کیلئے جنگوں کا سلسلہ جاری رکھا۔ تاہم، اُسکی حکومت اچانک ختم ہو گئی کیونکہ اُسکے داماد بطلماؤس نے اُسے اور اُسکے دو بیٹوں کو یریحو کے قریب ایک ضیافت میں قتل کر دیا۔ لیکن اقتدار حاصل کرنے کی یہ کوشش ناکام ہو گئی۔ شمعون کے ایک اَور بیٹے، یوحنا ہرکانس کو اپنے قتل کی سازش کا پتہ چل گیا۔ لہٰذا، اُس نے قتل کی سازش کرنے والوں کو پکڑ لیا اور اپنے باپ کی جگہ پیشوائی اور کہانت کا عہدہ سنبھال لیا۔‏

مزید توسیع اور استبداد

پہلے‌پہل تو یوحنا ہرکانس کو سریانی فوج کی طرف سے بڑے خطرات کا سامنا رہا لیکن ۱۲۹ ق.‏س.‏ع.‏ میں سلوکی حکمران پارتھیوں سے ایک بہت ہی اہم جنگ ہار گئے۔ سلوکیوں پر اس جنگ کے اثرات کی بابت یہودی عالم میناہم سترن نے لکھا:‏ ”‏حکومت کا سارا نظام درہم‌برہم ہو گیا۔“‏ یوں ہرکانس ”‏یہودیہ کی مکمل سیاسی خودمختاری بحال کرنے کے علاوہ اپنی سرحدیں چاروں اطراف پھیلانے کے قابل ہوا۔“‏ یوں اُس کی حکومت وسیع سے وسیع‌تر ہوتی چلی گئی۔‏

اب سریانی خطرہ ٹل جانے کے بعد ہرکانس نے یہودیہ سے باہر کے علاقوں پر حملہ کرکے اُنہیں مطیع کر لیا۔ ان علاقوں کے باشندوں کو اپنا مذہب چھوڑ کر یہودیت قبول کرنی پڑتی تھی ورنہ اُنکے شہر مسمار کر دئے جاتے تھے۔ ادومی ایسی ہی ایک مہم کا نشانہ بنے تھے۔ اس سلسلے میں سترن نے بیان کِیا:‏ ”‏ادومیوں کے سلسلے میں تبدیلئ‌مذہب کی مہم کچھ عجیب ہی تھی کیونکہ اس میں چند افراد کی بجائے ساری قوم کو اپنا مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کِیا جا رہا تھا۔“‏ دیگر مفتوح علاقوں میں سامریہ بھی شامل تھا جہاں ہرکانس نے کوہِ‌گرزیم پر واقع سامریوں کی ہیکل کو ملیامیٹ کر دیا تھا۔ حشمونی حکمرانوں کی جبراً مذہب تبدیل کرانے کی حکمتِ‌عملی کی ستم‌ظریفی کو بیان کرتے ہوئے مؤرخ سلیمان گراضل نے لکھا:‏ ”‏متتیاہ [‏یہوداہ مکابی کا باپ]‏ کا پوتا اُسی اصول—‏مذہبی آزادی—‏کی خلاف‌ورزی کر رہا تھا جسکی اُسکے اسلاف نے دل‌وجان سے حفاظت کی تھی۔“‏

فریسیوں اور صدوقیوں کا ظہور

یوسیفس پہلی مرتبہ فریسیوں اور صدوقیوں کے نمایاں اثرورسُوخ کا ذکر ہرکانس کے عہدِحکومت کے حوالے سے کرتا ہے۔ (‏یوسیفس پہلے یوناتان کے دورِحکومت میں رہنے والے فریسیوں کا ذکر کر چکا تھا۔)‏ وہ اُنکی ابتدا کی بابت کچھ نہیں کہتا۔ بعض علما کا خیال ہے کہ یہ گروہ حسیدیوں کے مُتقی فرقے سے نکلا تھا جس نے یہوداہ مکابی کی اپنے مذہبی نصب‌العین کو حاصل کرنے میں مدد کی تھی مگر بعدازاں اُسکی سیاسی جاہ‌پسندی کی وجہ سے اُسکا ساتھ چھوڑ دیا تھا۔‏

نام فریسی عموماً جس عبرانی لفظ سے منسلک کِیا جاتا ہے اُس کا مطلب ”‏علیٰحدہ کئے گئے“‏ ہے حالانکہ بعض کے خیال میں یہ لفظ ”‏شارحین“‏ سے مربوط ہے۔ فریسی کسی بڑے خاندان سے نہیں تھے بلکہ وہ عام لوگوں میں سے ہی نکل کر عالم بن گئے تھے۔ اُنہوں نے ہیکل کے کہانتی پاکیزگی کے اصولوں کا روزمرّہ زندگی کی عام حالتوں پر اطلاق کرنے سے خصوصی پارسائی کا فلسفہ ترتیب دیکر خود کو مذہبی ناپاکی سے علیٰحدہ کر لیا تھا۔ فریسیوں نے صحائف کی شرح کا ایک نیا طریقہ نکالا جو بعدازاں زبانی شریعت کہلانے لگا۔ شمعون کے دورِحکومت میں جب ان میں سے بعض کو گیراؤسیا (‏مجلسِ‌بزرگان)‏ میں مقرر کِیا گیا جو بعدازاں صدرعدالت کہلانے لگی تو اُنہیں بڑا اختیار حاصل ہو گیا۔‏

یوسیفس بیان کرتا ہے کہ یوحنا ہرکانس پہلے فریسیوں کا شاگرد اور حمایتی تھا۔ تاہم، ایک وقت آیا جب سردار کاہن کے عہدے سے دستبردار نہ ہونے کی وجہ سے فریسیوں نے اُسے ملامت کی۔ اس سے ایک بڑی تبدیلی واقع ہوئی۔ ہرکانس نے فریسیوں کے مذہبی قوانین کو منسوخ قرار دے دیا۔ اضافی سزا کیلئے اُس نے فریسیوں کے مذہبی حریف، صدوقیوں سے بھی الحاق کر لیا۔‏

نام صدوقی غالباً سردار کاہن صدوق سے مشتق ہے جس کی اولاد سلیمان کے عہد سے کہانتی مرتبے پر فائز تھی۔ تاہم، تمام صدوقی اس کے سلسلۂ‌نسب سے نہیں تھے۔ یوسیفس کے مطابق، صدوقی قوم کے رئیس‌وشرفا تھے جنہیں عوامی حمایت حاصل نہیں تھی۔ پروفیسر شیف‌مین بیان کرتا ہے:‏ ”‏ان میں سے بیشتر یا تو کاہن تھے یا پھر اُنہوں نے ممتاز کہانتی خاندانوں میں شادیاں کر رکھی تھیں۔“‏ لہٰذا، وہ کافی مدت سے بااختیار طبقے سے منسلک تھے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگوں کی زندگی میں فریسیوں کا عمل‌دخل اور اُنکا تمام لوگوں پر کہانتی پاکیزگی کے معیاروں کو عائد کرنے کا نظریہ صدوقیوں کے عام اختیار کے لئے خطرہ سمجھا جاتا تھا۔ لیکن ہرکانس کی حکومت کے آخری سالوں میں صدوقی دوبارہ زور پکڑ گئے۔‏

سیاست زیادہ، عقیدت کم

ہرکانس کے بڑے بیٹے، اَرسطبولس نے اپنی وفات سے پہلے صرف ایک سال حکومت کی۔ اُس نے اتوریوں کے سلسلے میں جبراً تبدیلئ‌مذہب کی مہم جاری رکھی اور بالائی گلیل کو حشمونی راج میں شامل کر لیا۔ تاہم، ۷۶-‏۱۰۳ ق.‏س.‏ع.‏ تک حکومت کرنے والے اُسکے بھائی سکندر یانس کے عہدِحکومت میں حشمونی خاندان کا اقتدار عروج پر تھا۔‏

سکندر یانس نے پُرانی حکمتِ‌عملی کو رد کرکے سرِعام خود کو سردار کاہن اور بادشاہ کہنا شروع کر دیا۔ حشمونیوں اور فریسیوں کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے اور ایسی خانہ‌جنگی پر منتج ہوئے جس میں ۵۰،۰۰۰ یہودی ہلاک ہو گئے۔ یانس نے بغاوت کو کچلنے کے بعد، غیرقوم بادشاہوں کے دستور کے مطابق ۸۰۰ باغیوں کو مصلوب کرا دیا۔ جب وہ قریب‌المرگ تھے تو اُنکے بیوی‌بچوں کو اُنکی آنکھوں کے سامنے ذبح کر دیا گیا جبکہ خود یانس سرِعام اپنی داشتاؤں کیساتھ ضیافت کے مزے اُڑا رہا تھا۔‏b

فریسیوں سے دُشمنی کے باوجود یانس نہایت حقیقت‌پسند سیاستدان تھا۔ اُس نے دیکھا کہ فریسیوں کو عوام کی مقبولیت حاصل ہے۔ اسی لئے اُس نے بسترِمرگ پر اپنی بیوی سلومی سکندرا کو اُن کے ساتھ الحاق کرنے کی ہدایت کی۔ یانس نے اپنے بیٹوں کی بجائے اُسے اپنی سلطنت کا جانشین منتخب کِیا۔ اُس نے بھی خود کو لائق حکمران ثابت کِیا اور اپنی قوم کو حشمونی حکومت کے تحت انتہائی پُرامن دَور (‏۷۶-‏۶۷ ق.‏س.‏ع.‏)‏ بخشا۔ فریسیوں کو اعلیٰ مرتبوں پر بحال کر دیا گیا اور اُن کے مذہبی ضوابط سے پابندیاں اُٹھا لی گئیں۔‏

سلومی کی وفات کے بعد اُسکے بیٹوں ہرکانس دوم جو پہلے سردار کاہن تھا اور اَرسطبولس دوم حصولِ‌اقتدار کیلئے ایک دوسرے کے حریف بن گئے۔ یہ دونوں سیاسی اور عسکری معاملات میں اپنے باپ‌دادا جیسی بصیرت نہیں رکھتے تھے اور ایسا لگتا ہے کہ ان میں سے کوئی بھی سلوکی حکومت کے خاتمے کے بعد اس علاقے کے اندر رومی آبادی میں اضافے کی اہمیت کو نہیں سمجھتا تھا۔ جب ۶۳ ق.‏س.‏ع.‏ میں رومی حکمران پومپی دمشق آیا تو یہ دونوں بھائی اُس کے پاس اپنے جھگڑے پر غوروخوض کرنے کی درخواست لے کر پہنچ گئے۔ اُسی سال میں پومپی اپنی فوج کو لیکر یروشلیم پر چڑھ آیا اور اسے زیر کر لیا۔ یہ حشمونی سلطنت کے اختتام کا آغاز تھا۔ بعدازاں، ۳۷ ق.‏س.‏ع.‏ میں ادومی بادشاہ ہیرودیس اعظم نے یروشلیم کو فتح کر لیا جسے رومی کابینہ نے ”‏شاہِ‌یہودیہ،“‏ ”‏رومی عوام کے دوست اور خیرخواہ“‏ کے طور پر قبول کر لیا تھا۔ اس کیساتھ ہی حشمونی حکومت کا وجود ختم ہو گیا۔‏

حشمونی میراث

یہوداہ مکابی سے لیکر اَرسطبولس دوم تک، حشمونی دَور ہی نے یسوع کی زمین پر آمد کے وقت پھیلی ہوئی مذہبی فرقہ‌واریت کی بنیاد ڈالی تھی۔ حشمونیوں نے خدا کی پرستش کے جذبے کے ساتھ چلنا شروع کِیا تھا مگر مفادپرستی نے اُنہیں کھوکھلا کر دیا۔ اُن کے کاہنوں کو خدائی شریعت کی پابندی کرنے کیلئے لوگوں کو متحد کرنے کا موقع حاصل تھا مگر اُنہوں نے قوم کو سیاسی کشمکش کے گڑھے میں دھکیل دیا۔ ایسے ماحول میں نزاع‌انگیز نظریات نے فروغ پایا۔ حشمونی تو ختم ہو گئے مگر صدوقیوں، فریسیوں اور دیگر فرقوں کے درمیان مذہبی اختیار کیلئے تگ‌ودَو اب ہیرودیس اور روم کے زیرِتسلط اس قوم کا خاصہ بن گئی۔‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a نومبر ۱۵، ۱۹۹۸ کے دی واچ‌ٹاور میں مضمون ”‏مکابی کون تھے؟“‏ کا مطالعہ کریں۔‏

b بحرِمُردار کے طومار، ”‏ناحوم کی شرح“‏ میں ایک ”‏غضبناک شیر“‏ کا ذکر ہے جس نے ”‏انسانوں کو سولی پر لٹکا دیا تھا۔“‏ یہ مذکورہ‌بالا واقعے کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے۔‏

‏[‏صفحہ ۳۰ پر چارٹ]‏

‏(‏تصویر کے لئے چھپے ہوئے صفحے کو دیکھیں)‏

حشمونی خاندانِ‌سلاطین

یہوداہ مکابی یوناتان مکابی شمعون مکابی

↓

یوحنا ہرکانس

↓ ↓

سلومی سکندرا –‏ شادی –‏ سکندر یانس اَرسطبولس

↓ ↓

ہرکانس II اَرسطبولس II

‏[‏صفحہ ۲۷ پر تصویر]‏

یہوداہ مکابی نے یہودیوں کی خودمختاری کیلئے جدوجہد کی

‏[‏تصویر کا حوالہ]‏

‏.Dover Publications, Inc/‏The Doré Bible Illustrations

‏[‏صفحہ ۲۹ پر تصویر]‏

حشمونیوں نے غیریہودی شہروں پر قبضہ کرنے کیلئے جنگیں لڑیں

‏[‏تصویر کا حوالہ]‏

‏.Dover Publications, Inc/‏The Doré Bible Illustrations

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں