یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م01 15/‏6 ص.‏ 31
  • سوالات از قارئین

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • سوالات از قارئین
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2001ء
  • ملتا جلتا مواد
  • سب چیزوں کو نیا بنانے کی پیشینگوئی
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2000ء
  • نئی دُنیا—‏کیا آپ وہاں ہونگے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2000ء
  • ایک نئی دُنیا
    جاگتے رہو!‏
  • آسمان کیسی جگہ ہے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—2010ء
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2001ء
م01 15/‏6 ص.‏ 31

سوالات از قارئین

اسکی کیا وجہ ہے کہ ”‏نیو ورلڈ ٹرانسلیشن“‏ ۲-‏پطرس ۳:‏۱۳ میں تو ”‏نئے آسمانوں [‏جمع]‏ اور نئی زمین“‏ کا ذکر کرتی ہے جبکہ مکاشفہ ۲۱:‏۱ میں ”‏نئے آسمان [‏واحد]‏ اور نئی زمین“‏ کی پیشینگوئی کی گئی ہے؟‏

یہ دراصل اصلی زبانوں میں استعمال ہونے والے صرف‌ونحو کے اصولوں کا معاملہ ہے۔ بظاہر مفہوم کے اعتبار سے اسکی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے۔‏

آئیے پہلے عبرانی صحائف پر غور کرتے ہیں۔ اصلی زبان کے متن میں، عبرانی لفظ شامایم جسکا ترجمہ ”‏آسمان (‏آسمانوں)‏“‏ کِیا جاتا ہے، ہمیشہ صیغۂ‌جمع میں استعمال ہوتا ہے۔ اسکی جمع کی حالت جمع بلحاظ تعظیم کی بجائے جمع بلحاظ وسعت یا ”‏کئی حصوں پر مشتمل نظام“‏ کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ بات اس لئے قابلِ‌فہم ہے کہ طبیعی آسمان زمین کے گِرد پھیلا ہوا ہے اور اس میں اربوں ستارے ہیں۔ جب شامایم سے پہلے حرفِ‌تنکیر آتا ہے تو نیو ورلڈ ٹرانسلیشن تقریباً ہر مرتبہ اسکا ترجمہ ”‏آسمانوں“‏ کرتی ہے جیسا کہ یسعیاہ ۶۶:‏۲۲ میں دیکھا جا سکتا ہے۔ جب شامایم سے پہلے حرفِ‌تنکیر نہیں ہوتا تو اسکا ترجمہ واحد (‏پیدایش ۱:‏۸؛‏ ۱۴:‏۱۹،‏ ۲۲؛‏ زبور ۶۹:‏۳۴ میں ”‏آسمان“‏)‏ یا جمع (‏پیدایش ۴۹:‏۲۵؛‏ قضاۃ ۵:‏۴؛‏ ایوب ۹:‏۸؛‏ یسعیاہ ۶۵:‏۱۷ میں ”‏آسمانوں“‏)‏ دونوں میں کِیا جا سکتا ہے۔‏

یسعیاہ ۶۵:‏۱۷ اور ۶۶:‏۲۲ دونوں میں، آسمانوں کے لئے عبرانی لفظ صیغۂ‌جمع میں ہے اور اسکا ترجمہ یکساں طور پر ”‏نئے آسمانوں اور نئی زمین“‏ کِیا گیا ہے۔‏

یونانی لفظ اُرانوس کا مطلب ”‏آسمان“‏ ہے اور جمع اُرانے کا مطلب ”‏آسمانوں“‏ ہے۔ دلچسپی کی بات ہے کہ یونانی سپتواُجنتا کے مترجمین نے یسعیاہ ۶۵:‏۱۷ اور ۶۶:‏۲۲ دونوں میں صیغۂ‌واحد استعمال کِیا تھا۔‏

لیکن مسیحی یونانی صحائف میں اُن دو مقامات کی بابت کیا ہے جہاں پر ”‏نئے آسمان [‏یا آسمانوں]‏ اور نئی زمین“‏ کا جزوِجملہ آتا ہے؟‏

رسول نے ۲-‏پطرس ۳:‏۱۳ میں یونانی لفظ کو جمع کی صورت میں استعمال کِیا۔ اس سے ذرا پہلے (‏۷‏، ۱۰‏، ۱۲ آیات میں)‏ اُس نے صیغۂ‌جمع استعمال کرتے ہوئے موجودہ شریر ”‏آسمانوں“‏ کا ذکر کِیا تھا۔ لہٰذا اُس نے ۱۳ آیت میں بھی صیغۂ‌جمع ہی استعمال کِیا۔ مزیدبرآں، ایسا دکھائی دیتا ہے کہ اُس نے یسعیاہ ۶۵:‏۱۷ کے اصلی متن سے حوالہ دیا تھا جہاں عبرانی لفظ جمع میں ہے جیسے کہ اُس نے ۲-‏پطرس ۲:‏۲۲ میں امثال ۲۶:‏۱۱ کے عبرانی متن سے حوالہ دیا تھا۔ لہٰذا، پطرس نے کہا کہ ”‏اُسکے وعدہ کے موافق ہم نئے آسمانوں [‏جمع]‏ اور نئی زمین کے منتظر“‏ ہیں۔‏

اس کے برعکس، مکاشفہ ۲۱:‏۱ میں یوحنا رسول نے بظاہر سپتواُجنتا میں یسعیاہ ۶۵:‏۱۷ کے حوالے کو استعمال کِیا جس میں، متذکرہ تفصیل کے مطابق، ”‏آسمان“‏ کیلئے یونانی لفظ صیغۂ‌واحد میں استعمال کِیا گیا ہے۔ پس، یوحنا نے یہ لکھا:‏ ”‏مَیں نے ایک نئے آسمان [‏واحد]‏ اور نئی زمین کو دیکھا کیونکہ پہلا آسمان اور پہلی زمین جاتی رہی تھی۔“‏

یہ سب ترجمے سے متعلق صرف‌ونحو کے اصولوں کا معاملہ ہے۔ تاہم، یہ یاددہانی ضروری ہے کہ ”‏نئے آسمانوں“‏ یا ”‏نیا آسمان“‏ کہنے یا پڑھنے سے مفہوم میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ دونوں اصطلا‌حیں استعمال کرنے کا مطلب ایک ہی ہے۔‏

‏[‏صفحہ ۱۳ پر تصویر کا حوالہ]‏

Stars:Frank Zullo

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں