کیا آپ کے لئے یہ بہترین پیشہ ثابت ہو سکتا ہے؟
اگر آپ ایک بپتسمہیافتہ مسیحی ہیں تو بِلاشُبہ خدا کے لئے محبت آپ کو اُس کی مرضی پوری کرنے کی تحریک دیتی ہے۔ اس کے علاوہ، خدمتگزاری یقیناً آپکی زندگی میں خاص مقام رکھتی ہوگی۔ اِسلئے کہ یسوع مسیح نے اپنے تمام پیروکاروں کو شاگرد بنانے کی تفویض سونپی تھی۔ (متی ۲۸:۱۹، ۲۰) آپ شاید اپنی کفالت کے لئے اس وقت کوئی دُنیاوی کام کر رہے ہیں۔ لیکن یسوع کے شاگرد اور یہوواہ کے گواہ کے طور پر، سب سے پہلے آپ ایک مسیحی خادم ہیں جو اپنی زندگی میں بادشاہتی منادی کے کام کو پہلا درجہ دیتے ہیں۔—متی ۲۴:۱۴۔
شاید آپ کی عمر ۲۰ سال کے لگبھگ ہے۔ ممکن ہے کہ آپ نے اس بات پر بہت غوروخوض کِیا ہے کہ آپ زندگی میں کونسا پیشہ اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ مختلف انتخابات کا جائزہ لیتے وقت ذاتی تسکین جیسا اہم عنصر بھی ملحوظِخاطر رکھنا چاہئے۔
غور کریں کہ ڈنمارک کا یوران اپنے انتخاب کی بابت کیا بیان کرتا ہے۔ یوران اِسکی بابت کہتا ہے کہ یہ ”بہترین طرزِزندگی ہے جس میں آپ سب سے اہم کام پر توجہ دے سکتے ہیں۔“ یونان کی ایک ۳۱ سالہ خاتون، ایوا کہتی ہے: ”جب مَیں اپنی زندگی کا موازنہ اپنے ہمسروں کیساتھ کرتی ہوں تو مَیں ہمیشہ اس نتیجے پر پہنچتی ہوں کہ میری زندگی زیادہ بامقصد، سُودمند اور خوشگوار ہے۔“ کونسا پیشہ ایسی تسکین بخشتا ہے؟ آپ ایسا طرزِزندگی کیسے اختیار کر سکتے ہیں؟
کیا خدا راہنمائی کرتا ہے؟
کسی پیشے کا انتخاب کرنا کافی مشکل کام ہو سکتا ہے۔ درحقیقت، بعض لوگ خدا سے اس سلسلے میں واضح ہدایت کی اُمید کرتے ہیں کہ وہ اُن سے کیا کرانا چاہتا ہے۔
جب موسیٰ مدیان میں تھا تو یہوواہ نے اُسے مصر جانے اور اسرائیلیوں کو غلامی سے آزاد کرانے کی ہدایت دی۔ (خروج ۳:۱-۱۰) خدا کا فرشتہ جدعون کو نظر آیا جسے اسرائیل کو مصیبت سے رہائی دینے کیلئے مقرر کِیا گیا تھا۔ (قضاۃ ۶:۱۱-۱۴) جب خدا نے سموئیل سے داؤد کو اسرائیل کے اگلے بادشاہ کے طور پر مسح کرنے کیلئے کہا تو وہ اُس وقت بھیڑبکریاں چرایا کرتا تھا۔ (۱-سموئیل ۱۶:۱-۱۳) آجکل ہمیں ان طریقوں سے راہنمائی حاصل نہیں ہوتی۔ اِس کے برعکس، ہمیں معاملات کا جائزہ لیکر فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ ہم اپنی خداداد صلاحیتوں کو کیسے بروئےکار لا سکتے ہیں۔
یہوواہ نے آجکل نوجوان مسیحیوں کے لئے ”ایک وسیع اور کارآمد دروازہ“ کھول رکھا ہے۔ (۱-کرنتھیوں ۱۶:۹) وہ کیسے؟ گزشتہ دس سالوں میں پوری دُنیا کے اندر بادشاہتی مُنادوں کی تعداد ۲۱،۲۵،۰۰۰ سے بڑھکر ۶۰،۰۰،۰۰۰ سے زیادہ ہو گئی ہے۔ روحانی غذا اور خوشخبری کی عالمگیر منادی کے لئے درکار لاکھوں بائبلیں، کتابیں، بروشر، رسالے اور اشتہار فراہم کرنے میں کون مدد کرتے ہیں؟ اِس بابرکت شرف سے عالمگیر بیتایل خاندان کے ارکان مستفید ہوتے ہیں۔
ایک بااجر زندگی
بیتایل کا مطلب ”خدا کا گھر“ ہے اور بیتایل ہومز اُن تمام مقامات کو کہا جاتا ہے جہاں واچ ٹاور سوسائٹی کے ہیڈکوارٹرز اور برانچ دفاتر میں خدمت کرنے والے مسیحی رضاکار رہتے ہیں۔ (پیدایش ۲۸:۱۹) زمانۂجدید کے بیتایل خاندان ایسے منظم گھرانوں کے مشابہ ہیں جو یہوواہ کیلئے محبت کی بنیاد پر ’حکمت سے تعمیر‘ کئے جاتے ہیں۔—امثال ۲۴:۳۔
بیتایل میں خاندان جیسے ماحول کی بابت کیا کہا جا سکتا ہے؟ استونیا کے بیتایل خاندان کی ایک ۲۵ سالہ رُکن بیان کرتی ہے: ”مجھے ہر وقت یہوواہ کے دوستوں کے درمیان رہنے سے خوشی محسوس ہوتی ہے۔ میرے لئے بیتایل میں یہی سب سے بیشقیمت چیز ہے۔“—زبور ۱۵:۱، ۲۔
اس وقت دُنیابھر میں تقریباً ۱۹،۵۰۰ اشخاص بیتایل خدمت کے شرف سے مستفید ہو رہے ہیں۔ (زبور ۱۱۰:۳) ریاستہائےمتحدہ کے بیتایل میں ۴۶ فیصد اشخاص کی عمر ۱۹ سے ۲۹ سال کے درمیان ہے۔ یسعیاہ کی طرح اُنہوں نے کہا ہے: ”مَیں حاضر ہوں مجھے بھیج۔“ (یسعیاہ ۶:۸) یسعیاہ جو یہوواہ کیلئے پہلے ہی سے مخصوص تھا، خدمت کے اضافی شرف کیلئے خود کو رضاکارانہ طور پر پیش کر رہا تھا۔ بدیہی طور پر، اس کا مطلب اُسے کچھ ذاتی فوائد کو قربان کرنا تھا۔ بیتایل خدمت کرنے والے اشخاص اپنے گھروں اور جانےپہچانے ماحول کے علاوہ اپنے ماںباپ، بہنبھائیوں اور دوستاحباب کو بھی چھوڑ کر آتے ہیں۔ یہ قربانیاں ”انجیل کی خاطر“ خوشی سے دی جاتی ہیں۔—مرقس ۱۰:۲۹، ۳۰۔
اسکے عوض، بیتایل میں کونسی روحانی برکات حاصل ہوتی ہیں! روس میں بیتایل خاندان کی ایک نوجوان رُکن وضاحت کرتی ہے: ”خودایثاری کا مظاہرہ کرنے سے ہم بہت کچھ سیکھتے ہیں جو نئی دُنیا میں رہنے کیلئے ہماری مدد کریگا۔ مَیں اپنی بابت یہ کہہ سکتی ہوں کہ یہوواہ کی برکات میری قربانیوں سے کہیں بڑھکر ہیں۔“—ملاکی ۳:۱۰۔
بیتایل میں زندگی
بیتایل کی زندگی کیسی ہے؟ بیتایل کے ارکان اس بات سے متفق ہیں کہ یہاں کی زندگی پاکیزہ، اطمینانبخش اور پُرمسرت ہے۔ ایک ۴۳ سالہ شخص جینز اپنی بیتایل خدمت سے خوش ہے۔ کیوں؟ وہ کہتا ہے: ”اسلئے کہ ہم خود کو ایک نہایت اہم کام کی تکمیل کیلئے عظیم کوشش میں حصہدار خیال کرتے ہیں۔ مَیں یہوواہ کے کام کی وسعت اور اہمیت کو سمجھنے کے قابل ہوں۔“
سوموار سے ہفتے تک، بیتایل میں ہر دن کا آغاز صبح کی پرستش سے ہوتا ہے۔ اس میں ایک تجربہکار بزرگ کی صدارت میں بائبل پر باتچیت ہوتی ہے۔ سوموار کی شام کو ایک گھنٹے کیلئے مینارِنگہبانی کی مدد سے بائبل کا خاندانی مطالعہ ہوتا ہے اور بعضاوقات اسکے بعد کسی صحیفائی موضوع پر مبنی تقریر بھی پیش کی جاتی ہے جو خاص طور پر بیتایل خاندان کیلئے موزوں ہوتی ہے۔
بیتایل میں نئے آنے والے شخص کیلئے کیا کِیا جاتا ہے؟ خاندان کے پُختہ بھائی نئے اشخاص کو بیتایل کی زندگی سے واقف کرانے کیلئے بیتایل خدمت کے مختلف پہلوؤں کی بابت تقاریر پیش کرتے ہیں۔ بیتایل خاندان کا نیا رُکن پہلے سال کے دوران کئی ہفتوں تک ایک عمدہ ہفتہوار سکول میں شرکت کرتا ہے جو صحائف کی بابت اُسکی سمجھ کو بڑھانے کیلئے تشکیل دیا جاتا ہے۔ نئے اشخاص بائبل پڑھائی کے ایک خاص پروگرام سے بھی استفادہ کرتے ہیں۔ بیتایل خدمت کے پہلے سال کے دوران، خاندان کے نئے افراد پوری بائبل پڑھتے ہیں۔
اس تمام تربیت کا کیا اثر ہوتا ہے؟ ہانگکانگ کے بیتایل خاندان کا ایک ۳۳ سالہ رُکن، جوشوعا جواب دیتا ہے: ”بیتایل نے واقعی یہوواہ کے لئے میری قدردانی کو بڑھایا ہے۔ مَیں کئی تجربہکار بھائیوں کے ساتھ رفاقت رکھ سکتا ہوں جنہوں نے اپنی زندگیوں کے بیشتر حصے کو یہوواہ کی خدمت میں صرف کِیا ہے۔ مَیں صبح کی پرستش اور مینارِنگہبانی کے خاندانی مطالعے سے خاص طور پر لطف اُٹھاتا ہوں۔ اِس کے علاوہ، مجھے یہ سادہ اور منظم طرزِزندگی پسند ہے۔ اس سے مجھے غیرضروری پریشانیوں سے آزادی ملتی ہے۔ مَیں مسیحی طریقے سے معاملات کو حل کرنا بھی سیکھتا ہوں جو ہمیشہ فائدہمند ثابت ہوا ہے۔“
بیتایل خاندان کے ارکان اپنا بیشتر وقت اور کوشش اُس کام کے لئے وقف کرتے ہیں جس کیلئے اُنہوں نے خود کو رضاکارانہ طور پر پیش کِیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنی جسمانی اور ذہنی صلاحیتوں کو بنیادی طور پر اُس تفویض کے لئے استعمال کرتے ہیں جو اُنہیں بیتایل میں دی جاتی ہے۔ بیتایل میں مختلف کام کرنے پڑتے ہیں۔ بعض پرنٹنگ پریس یا جِلدسازی کے شعبے میں کتابیں تیار کرتے ہیں جو کئی کلیسیاؤں کو بھیجی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ، دیگر باورچیخانے، طعامخانے یا لانڈری میں خدمت کرتے ہیں۔ ان تفویضات میں صفائی، کاشتکاری اور تعمیراتی کام کے علاوہ اَور بھی کام شامل ہیں۔ بعض افراد کو اِن شعبوں کے سازوسامان کی دیکھبھال کرنے کی ذمہداری دی جاتی ہے۔ دیگر طبّی نگہداشت فراہم کرتے یا دفتری کام کرتے ہیں۔ بیتایل کی تمام تفویضات خوشگوار چیلنجوں پر مشتمل ہوتی ہیں جنکا اجر بڑا عمدہ ہوتا ہے۔ بیتایل کا ہر کام بادشاہتی مفادات کو فروغ دینے اور خدا کی محبت سے تحریک پا کر کِیا جاتا ہے اسلئے یہ خاص طور پر تسکینبخش ہوتا ہے۔
بیتایل خاندان کے ارکان کو مختلف کلیسیاؤں میں تفویض کِیا جاتا ہے جہاں وہ اپنے کام سے براہِراست فائدہ اُٹھاتے ہیں۔ وہ کلیسیا کے اجلاسوں پر حاضر ہونے اور منادی کے کام میں حصہ لینے سے خوشی حاصل کرتے ہیں۔ نتیجتاً، بیتایل خاندان کے ارکان مقامی کلیسیاؤں میں بہنبھائیوں کیساتھ مضبوط رشتہ اُستوار کر لیتے ہیں۔—مرقس ۱۰:۲۹، ۳۰۔
برطانیہ کے بیتایل خاندان کی ایک رُکن، ریٹا بیان کرتی ہے: ”مَیں کلیسیا کیلئے بہت شکرگزار ہوں! جب مَیں اجلاسوں اور خدمتگزاری میں جاتی ہوں تو اپنے عزیز بہنبھائیوں، بچوں اور عمررسیدہ اشخاص کو وہاں دیکھ کر میرا ایمان مضبوط ہوتا ہے! خواہ کچھ بھی ہو جائے وہ اجلاسوں اور خدمتگزاری کیلئے موجود ہوتے ہیں۔ اِس سے زیادہ گرمجوشی کیساتھ اپنی بیتایل خدمت انجام دینے میں میری مدد ہوتی ہے۔“
بیتایل کی زندگی صرف کام، اجلاس، میدانی خدمتگزاری اور مطالعے ہی پر مشتمل نہیں ہے۔ خاندان تفریح کے مواقع سے بھی لطفاندوز ہوتا ہے۔ وقتاًفوقتاً، بہتیروں کی فنی صلاحیتوں کو دیکھنے اور بیتایل میں خدمت کرنے والوں کی زندگی کی بابت حوصلہافزا باتیں سیکھنے کیلئے تفریحی اور روحانی طور پر بااجر ”فیملی نائٹ“ پروگرام بھی منعقد کئے جاتے ہیں۔ دوسروں کیساتھ حوصلہافزا اور تقویتبخش دوستانہ ملاقاتیں بھی خوشی عطا کرتی ہیں۔ ذاتی پڑھائی اور تحقیق کیلئے لائبریری کے علاوہ تفریحی سہولیات بھی فراہم کی جاتی ہیں۔ نیز کھانے کے اوقات پر مسرتبخش باتچیت کو فراموش نہیں کِیا جا سکتا۔
استونیا کے بیتایل خاندان کا رُکن، ٹام بیان کرتا ہے: ”بیتایل سے تھوڑے فاصلہ پر سمندر ہے اور قریب ہی ایک خوبصورت جنگل بھی ہے جہاں پر مَیں اور میری بیوی تھوڑی دیر کیلئے چہلقدمی کرنا پسند کرتے ہیں۔ مَیں کبھیکبھار کلیسیا اور بیتایل کے دوستوں کیساتھ گالف، ہاکی اور ٹنس بھی کھیلتا ہوں۔ جب موسم خوشگوار ہو تو ہم سائیکلوں پر سیر کیلئے بھی جاتے ہیں۔“
آپ بیتایل خدمت کے لائق ٹھہرنے کیلئے کیا کر سکتے ہیں؟
یقیناً، بیتایل بنیادی طور پر پُختہ مسیحیوں کے لئے یہوواہ کی پاک خدمت اور پوری دُنیا کے ساتھی ایمانداروں کے واسطے کام کرنے کی جگہ ہے۔ بیتایل خاندان کے ارکان بننے کے خواہشمند اشخاص کے لئے کچھ تقاضوں پر پورا اُترنا لازمی ہے۔ بیتایل خدمت کے لائق ٹھہرنے کے لئے آپ کیا کر سکتے ہیں؟
پولس رسول کیساتھ خدمت کرنے والے تیمتھیس کی طرح، بیتایل خدمت کے لئے منتخب ہونے والے اشخاص کو کلیسیا میں نیکنام ہونا چاہئے۔ (۱-تیمتھیس ۱:۱) تیمتھیس ”لسترؔہ اور اِکنیمؔ کے بھائیوں میں نیکنام تھا۔“ (اعمال ۱۶:۲) تیمتھیس نوجوان ہونے کے باوجود صحائف سے گہری واقفیت رکھتا اور سچائی میں پُختہ تھا۔ (۲-تیمتھیس ۳:۱۴، ۱۵) اسی طرح، بیتایل خدمت کیلئے منتخب ہونے والوں سے بائبل کا علم رکھنے کی توقع کی جاتی ہے۔
بیتایل خاندان کے ارکان کو خودایثارانہ جذبہ ظاہر کرنے کی ضرورت ہے۔ تیمتھیس نے بادشاہتی مفادات کو اپنی ذات پر ترجیح دیتے ہوئے جس خودایثارانہ جذبے کا مظاہرہ کِیا اُسکی بابت پولس یہ کہہ سکتا تھا: ”کوئی ایسا ہمخیال میرے پاس نہیں جو صافدلی سے تمہارے لئے فکرمند ہو۔ سب اپنی اپنی باتوں کی فکر میں ہیں نہ کہ یسوؔع مسیح کی۔ لیکن تم اُس کی پختگی سے واقف ہو کہ جیسے بیٹا باپ کی خدمت کرتا ہے ویسے ہی اُس نے میرے ساتھ خوشخبری پھیلانے میں خدمت کی۔“—فلپیوں ۲:۲۰-۲۲۔
بیتایل خدمت کیلئے روحانی مردوں اور عورتوں کی ضرورت ہے۔ بیتایل خاندان کے ارکان بائبل مطالعے، مسیحی اجلاس، خدمتگزاری میں باقاعدگی اور پُختہ مسیحیوں کیساتھ رفاقت کے انتظامات سے روحانی طور پر ترقی کرتے ہیں۔ پس بیتایل ارکان کی پولس کی اس مشورت پر عمل کرنے کیلئے مدد کی جاتی ہے: ”جس طرح تم نے مسیح یسوؔع خداوند کو قبول کِیا اُسی طرح اُس میں چلتے رہو۔ اور اُس میں جڑ پکڑتے اور تعمیر ہوتے جاؤ اور جس طرح تم نے تعلیم پائی اُسی طرح ایمان میں مضبوط رہو اور خوب شکرگذاری کِیا کرو۔“—کلسیوں ۲:۶، ۷۔
جس طرح کا کام بیتایل میں ہوتا ہے اُس کے پیشِنظر، خدمت کے اِس شرف کو قبول کرنے والوں کو جسمانی طور پر تندرست اور توانا ہونا چاہئے۔ اگر آپ اِن متذکرہ تقاضوں پر پورا اُترتے ہیں، نیز آپ کی عمر ۱۹ سال یا اس سے زیادہ ہے اور آپ کے بپتسمے کو کمازکم ایک سال ہو چکا ہے تو ہم بیتایل خدمت پر غور کرنے کیلئے آپکی حوصلہافزائی کرتے ہیں۔
ہم سب حصہ لے سکتے ہیں
مسیحیوں کے طور پر، یقیناً ہم سب اپنی زندگی میں بادشاہتی مفادات کو اوّل درجہ دینے اور پورے دلوجان سے یہوواہ کی خدمت کرنے کے خواہشمند ہیں۔ (متی ۶:۳۳؛ کلسیوں ۳:۲۳) ہم بیتایل میں خدمت کرنے والوں کی بھی حوصلہافزائی کرتے ہیں کہ وہ اس پاک خدمت کو جاری رکھیں۔ بیتایل خدمت کیلئے لائق ٹھہرنے والے نوجوان بھائیوں کو بالخصوص اِس بااجر شرف کو حاصل کرنے کی تحریک دی جانی چاہئے۔
بیتایل خدمت روحانی طور پر تسکینبخش طرزِزندگی ہے اور یہ یقیناً آپ کیلئے بہترین پیشہ ثابت ہو سکتی ہے۔ نیق کیلئے ایسا ہی ہے جو ۲۰ سال کی عمر سے بیتایل میں خدمت کر رہا ہے۔ دس سال تک بیتایل خدمت انجام دینے کے بعد وہ کہتا ہے: ”مَیں اکثر دُعا میں یہوواہ کے غیرمستحق فضل کیلئے اُسکا شکر ادا کرتا ہوں۔ مجھے اس سے زیادہ اَور کیا چاہئے؟ یہاں، ہمارے ساتھ وفادار مسیحی ہیں جو یہوواہ کی خدمت کرنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔“
[صفحہ ۲۲ پر بکس/تصویر]
بـزرگ اور والـدیـن کـیـا کر سـکـتے ہـیـں؟
بزرگوں اور سفری نگہبانوں کو نوجوان مردوں کی خاص طور پر حوصلہافزائی کرنی چاہئے کہ بیتایل خدمت کیلئے درخواست دیں۔ بیتایل خاندان کے نوجوان ارکان کے ایک حالیہ سروے نے ظاہر کِیا کہ ان میں ۳۴ فیصد نوجوان ایسے تھے جنکی بیتایل خدمت کو اپنا نصباُلعین بنانے کیلئے بنیادی طور پر مسیحی نگہبانوں نے حوصلہافزائی کی تھی۔ جیہاں، اُنکی مقامی کلیسیائیں شاید اُنکی کمی محسوس کریں۔ تاہم، یہ یاد رکھنا اچھی بات ہے کہ اگرچہ تیمتھیس لسترہ اور اکنیم کے نوجوانوں پر صحتمندانہ اثر ڈال رہا تھا توبھی وہاں کے بزرگوں نے اُسے پولس کیساتھ خدمت کرنے سے نہیں روکا تھا۔ اُنہوں نے یہ نہیں سوچا تھا کہ تیمتھیس کا اس رسول کیساتھ کام کرنا اُنکی کلیسیا کیلئے بہت بڑا نقصان ثابت ہوگا۔—۱-تیمتھیس ۴:۱۴۔
مسیحی والدین کو اس سلسلے میں اپنے بچوں کے لئے ایک مثبت نمونہ پیش کرنا چاہئے۔ متذکرہ سروے میں، ۴۰ فیصد نے بیان کِیا کہ بنیادی طور پر ان کے والدین نے بیتایل خدمت کے لئے ان کی حوصلہافزائی کی تھی۔ بیتایل میں کچھ سالوں سے خدمت کرنے والی ایک بہن نے بیان کِیا: ”یہوواہ کی خدمت میں میرے والدین کی زندگی میرے لئے بیتایل خدمت کا ایک اثرآفرین محرک تھی۔ کُلوقتی خدمت میں اُنکا نمونہ دیکھنے سے مَیں قائل ہوگئی کہ ایسی طرزِزندگی کا انتخاب کرنا میرے لئے بہترین اور انتہائی تسکینبخش ہوگا۔“
[صفحہ ۲۴ پر بکس]
وہ بـیـتایـل خـدمـت کی قـدر کـرتے ہـیـں
”مجھے اپنی بیتایل خدمت نہایت عزیز ہے۔ یہ جاننا تسکینبخش ہے کہ مَیں نے نہ صرف آج دنبھر یہوواہ کی خدمت کی ہے بلکہ مجھے کل اور آنے والے دنوں میں ایسا ہی کرنا ہے۔ اِس سے میرا ضمیر مطمئن ہوتا ہے اور میرا ذہن مثبت خیالات سے معمور ہوتا ہے۔“
”بیتایل وہ جگہ ہے جہاں آپ انتشارِخیال کے بغیر اپنے تمام وقت اور توانائی کو یہوواہ کی خدمت میں صرف کر سکتے ہیں۔ اس سے باطنی خوشی حاصل ہوتی ہے۔ تاہم، آپ یہوواہ کی تنظیم کو ایک مختلف زاویے سے بھی دیکھ سکتے ہیں۔ آپ خود کو اس تنظیم کے مرکز کے قریب محسوس کرتے ہیں جو نہایت خوشکُن تجربہ ہے۔“
”بیتایل میں آنا میری زندگی کا بہترین لمحہ تھا۔ یہاں تعلیم کا سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔ نیز یہاں میری تعلیموتربیت میرے ذاتی مفاد کیلئے نہیں بلکہ یہوواہ کے جلال کیلئے ہے۔ یہاں میرا کام کبھی رائیگاں نہیں جائیگا۔“
”بیتایل میں اپنی تمامتر صلاحیتوں کو بروئےکار لانے سے مجھے تسکین اور اطمینان حاصل ہوتا ہے کیونکہ یہ یہوواہ اور میرے بھائیوں کیلئے استعمال ہوتی ہیں۔“
”میری سابقہ ملازمت نے مجھے کبھی حقیقی خوشی اور تسکین نہیں بخشی تھی۔ کئی سالوں سے میرا یہ ارمان تھا کہ مَیں اپنے بہنبھائیوں کی خاطر اور اُنکے ساتھ ملکر کام کروں۔ اسی لئے مَیں بیتایل آیا ہوں۔ میرے لئے یہ جاننا واقعی تسکینبخش ہے کہ میری تمام کوششیں دوسروں کو روحانی طور پر فائدہ پہنچائینگی اور یہوواہ کی تمجید کا باعث بھی بنیں گی۔“