بچوں کی پرورش کرنے کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنا
آجکل بالخصوص تیرہ سے اُنیس سال کی عمر کے بچوں کی پرورش کرنا والدین کیلئے واقعی ایک خوفناک چیلنج ہے۔ مونٹرئیل، کینیڈا کا دی گزٹ بیان کرتا ہے کہ الکحل اور منشیات کا استعمال ”نوجوانوں کا معمول“ بن گیا ہے۔ یہ بات ”اپنے تیرہ سے اُنیس سال کی عمر کے بچوں کے طرزِعمل میں آنے والی تبدیلیوں کی بابت چوکس رہنے کے سلسلے میں والدین کی ”ذمہداری“ کو نمایاں کرتی ہے۔
والدین کو نوجوانوں کے ایسے مسائل کی نشاندہی کرنے والی کس چیز پر توجہ دینی چاہئے؟ بچوں اور نوجوانوں کی نفسیات کی امریکن اکیڈمی نے چند ایک جسمانی، جذباتی اور معاشرتی انتباہی علامات کی نشاندہی کی ہے جن میں مستقل تھکاوٹ، شخصیت اور مزاج میں تبدیلی، زیادہ وقت کمرے میں بند رہنا، بغاوتی طرزِعمل اور قانون کی خلافورزی کرنا شامل ہے۔
والدین اپنے بچوں کو ایسے نقصاندہ تجربات سے گزرنے اور اس سے برآمد ہونے والے منفی نتائج سے کیسے محفوظ رکھ سکتے ہیں؟ میکگل یونیورسٹی کے ڈاکٹر جیفری ایل. ڈیریونسکائی کا خیال ہے کہ بچے کے ابتدائی سالوں کے دوران کھلے رابطے اور باہمی احترام کو فروغ دینے سے بعد میں اُٹھنے والے مسائل کو کم کِیا جا سکتا ہے۔ دی گزٹ مزید بیان کرتا ہے کہ اگرچہ سنِبلوغت کے دوران زیادہ خودمختاری کی خواہش نمایاں ہوتی ہے توبھی تیرہ سے اُنیس سال کے بچوں کو اپنے والدین کی طرف سے ہمیشہ ”راہنمائی، حمایت، مستحکم نمونے اور محبت کی ضرورت ہوتی ہے۔“ یہ بیانات ایک بائبل مثل کیساتھ متفق ہیں جو بیان کرتی ہے: ”لڑکے کی اُس راہ میں تربیت کر جس پر اُسے جانا ہے وہ بوڑھا ہو کر بھی اُس سے نہیں مڑیگا۔“ (امثال ۲۲:۶) خدا والدین کو نصیحت کرتا ہے کہ وہ تقلیدیکردار، رفیق، رابطہ رکھنے والے اور اُستاد بنیں۔—استثنا ۶:۶، ۷۔