مکاشفہ کی کتاب سے ”خوشخبری“
”مَیں نے ایک اَور فرشتہ کو آسمان کے بیچ میں اُڑتے ہوئے دیکھا جسکے پاس زمین کے رہنے والوں . . . کے سنانے کے لئے ابدی خوشخبری تھی۔“—مکاشفہ ۱۴:۶۔
۱. یہوواہ کے گواہ مکاشفہ کی کتاب کو الہامی ماننے کے باوجود ”عالمگیر تباہی کا علمبردار فرقہ“ کیوں نہیں ہیں؟
یہوواہ کے گواہوں کے خلاف بہت سے الزامات عائد کئے جاتے ہیں اس کے برعکس وہ، ”عالمگیر تباہی کا علمبردار فرقہ“ یا ” کائنات کی تباہی کی منادی کرنے والا مَسلک“ نہیں ہیں۔ تاہم، وہ اپوکالپس یا مکاشفہ کی کتاب کو خدا کے الہامی کلام کا حصہ مانتے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ مکاشفہ میں شریروں کے خلاف عدالتی پیغامات پائے جاتے ہیں۔ لیکن اپنی عوامی گواہی میں خدا کے خادم بنیادی طور پر مکاشفہ کی کتاب سمیت، بائبل میں پیش کی جانے والی شاندار اُمید دینے والے پیغامات پر توجہ دلاتے ہیں۔ لہٰذا، وہ اِس کے اندر پائے جانے والے نبوّتی کلام میں نہ تو کچھ بڑھاتے ہیں اور نہ ہی کچھ گھٹاتے ہیں۔—مکاشفہ ۲۲:۱۸، ۱۹۔
خوشخبری کے مناد
۲. یہوواہ کے گواہ اپنے منادی کے کام میں اکثر کونسے صحائف استعمال کرتے ہیں؟
۲ یہوواہ کے گواہوں کی عوامی مُنادی کیلئے اکثر پیش کی جانے والی صحیفائی بنیاد یسوع کا یہ بیان ہے: ”بادشاہی کی اس خوشخبری کی منادی تمام دُنیا میں ہو گی تاکہ سب قوموں کے لئے گواہی ہو۔ تب خاتمہ ہوگا۔“ (متی ۲۴:۱۴) تاہم ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ ”بادشاہی کی . . . خوشخبری“ کیا ہے؟ بہتیرے گواہ اِس سوال کے جواب میں مکاشفہ ۲۰ اور ۲۱ ابواب سے آیات کا حوالہ دیں گے جو مسیح کے عہدِہزارسالہ اور اس کی بادشاہتی حکومت اور ایک ایسے انسانی معاشرے کی بابت واضح الفاظ میں بتاتی ہیں کہ موت، ماتم اور درد ”جاتے رہیں“ گے۔—مکاشفہ ۲۰:۶؛ ۲۱:۱، ۴۔
۳. یہوواہ کے گواہوں کی عوامی منادی کس اہم کام کے مماثل ہے؟
۳ یہوواہ کے گواہ ایسی خوشخبری کے منادوں کی حیثیت سے واقعی علامتی آسمانی پیامبر کے نمائندے ہیں جس کے خاص کام کو مکاشفہ ہی میں بیان کِیا گیا ہے۔ ”مَیں نے ایک اَور فرشتہ کو آسمان کے بیچ میں اُڑتے ہوئے دیکھا جس کے پاس زمین کے رہنے والوں کی ہر قوم اور قبیلہ اور اہلِزبان اور اُمت کے سنانے کے لئے ابدی خوشخبری تھی۔“ (مکاشفہ ۱۴:۶) ”ابدی خوشخبری“ میں یہ اعلان شامل ہے کہ ”دُنیا کی بادشاہی [یا حکمرانی] ہمارے خداوند اور اُس کے مسیح کی ہو گئی“ اور یہوواہ کا ”وقت آ پہنچا“ ہے کہ ”زمین کے تباہ کرنے والوں کو تباہ“ کرے۔ (مکاشفہ ۱۱:۱۵، ۱۷، ۱۸) سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ درحقیقت خوشخبری نہیں ہے؟
مکاشفہ میں ہمارے لئے کیا کچھ پایا جاتا ہے
۴. (ا) مکاشفہ ۱ باب میں کونسی بنیادی سچائیاں پیش کی گئی ہیں؟ (ب) خوشخبری سے مستفید ہونے کے خواہاں لوگوں سے کیا تقاضا کِیا جاتا ہے؟
۴ پہلا باب یہوواہ خدا کو ”جو ہے اور جو تھا اور جو آنے والا ہے یعنی قادرِمطلق . . . الفا اور اومیگا “ کے طور پر پیش کرتا ہے۔ اِسی طرح سے یہ اس کے بیٹے یسوع مسیح کو ”سچا گواہ اور مُردوں میں سے جی اُٹھنے والوں میں پہلوٹھا“ اور ”دُنیا کے بادشاہوں پر حاکم“ کی حیثیت سے پیش کرتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ یسوع کی بابت بیان کرتا ہے کہ ”جو ہم سے محبت رکھتا ہے اور جس نے اپنے خون کے وسیلہ سے ہم کو گناہوں سے خلاصی بخشی۔“ (مکاشفہ ۱:۵، ۸) لہٰذا، مکاشفہ اپنے شروع ہی سے زندگیبخش بنیادی سچائیوں کو بیان کرتا ہے۔ ”زمین کے رہنے والے“ اس وقت تک ان کے پاس لائی جانے والی خوشخبری سے فائدہ نہیں اُٹھائینگے جبتک وہ یہوواہ کی حاکمیت کو تسلیم نہیں کرتے، یسوع کے بہائے ہوئے خون پر ایمان نہیں لاتے اور یہ یقین نہیں رکھتے کہ یہوواہ نے اسے زندہ کِیا اور یہ کہ مسیح اس وقت خدا کا مقررکردہ حاکم ہے۔—زبور ۲:۶-۸۔
۵. مکاشفہ ۲ اور ۳ ابواب میں مسیح کی تصویرکشی کس کردار میں کی گئی ہے؟
۵ اگلے دو ابواب یسوع مسیح کی زمین پر اپنے شاگردوں کی کلیسیاؤں کے پُرمحبت آسمانی نگہبان کے طور پر تصویرکشی کرتے ہیں۔ پہلی صدی س.ع. میں موجود سات مخصوص مسیحی کلیسیاؤں سے مخاطب طومار میں حوصلہافزائی اور ٹھوس مشورت پائی جاتی ہے جس کا اطلاق آج بھی ہوتا ہے۔ کلیسیاؤں کو ارسال کئے گئے پیغامات عام طور پر ان الفاظ سے شروع ہوتے ہیں جیسے کہ ”مَیں تیرے کام . . . جانتا ہوں“ یا ”مَیں تیری مصیبت . . . کو جانتا ہوں۔“ (مکاشفہ ۲:۲، ۹) جیہاں، مسیح پورے طور پر جانتا تھا کہ اس کے شاگردوں کی کلیسیاؤں میں کیا کچھ ہو رہا ہے۔ اُس نے بعض کی محبت، ایمان، خدمتگزاری میں محنت، صبر اور اس کے نام اور کلام کے لئے وفاداری کی وجہ سے اُن کی تعریف کی۔ دیگر کو اس نے سرزنش کی کیونکہ یہوواہ خدا اور اس کے بیٹے کیلئے ان کی محبت ٹھنڈی پڑ گئی تھی یا وہ جنسی بداخلاقی، بُتپرستی، یا برگشتہ فرقہواریت میں پڑ چکی تھیں۔
۶. چوتھے باب میں درج رویا لوگوں کو کیا سمجھنے میں مدد دیتی ہے؟
۶ چوتھا باب یہوواہ خدا کے آسمانی تخت کی ایک مہیب رویا پیش کرتا ہے۔ یہ یہوواہ کی موجودگی اور آسمانی حکومتی ڈھانچے کی ایک جھلک پیش کرتا ہے جسے وہ استعمال کرے گا۔ تاجدار حکمران، جن کے تخت کائنات کے مرکزی تخت کے گرداگرد ہیں، یہوواہ کو سجدہ کرتے اور پکارتے ہیں: ”اَے ہمارے خداوند اور خدا تُو ہی تمجید اور عزت اور قدرت کے لائق ہے کیونکہ تُو ہی نے سب چیزیں پیدا کیں اور وہ تیری ہی مرضی سے تھیں اور پیدا ہوئیں۔“—مکاشفہ ۴:۱۱۔
۷. (ا) فرشتہ زمین کے باشندوں کو کیا کرنے حکم دیتا ہے؟ (ب) ہمارے تعلیمی کام کا اہم حصہ کیا ہے؟
۷ کیا آجکل کے لوگوں کے لئے اس کا کچھ مطلب ہے؟ یقیناً ہے۔ اگر وہ ہزارسالہ بادشاہت کے تحت زندگی چاہتے ہیں تو انہیں اس بات پر ضرور دھیان دینا چاہئے جس کا اعلان ”فرشتہ . . . آسمان کے بیچ میں اُڑتے ہوئے“ کرتا ہے کہ ”خدا سے ڈرو اور اُس کی تمجید کرو کیونکہ اُس کی عدالت کا وقت آ پہنچا ہے۔“ (مکاشفہ ۱۴:۶، ۷) یہوواہ کے گواہوں کے ذریعے عمل میں آنے والے بائبل کے تعلیمی کام کے اہم مقاصد میں سے ایک ”زمین کے رہنے والوں“ کی یہوواہ کو جاننے اور اس کی پرستش کرنے، اُسے خالق تسلیم کرنے اور رضامندی کے ساتھ اُس کی راست حاکمیت کی اطاعت کرنے میں مدد کرنا ہے۔
عزت کے لائق برّہ
۸. (ا) مسیح کی ۵ اور ۶ ابواب میں کیسے تصویرکشی کی گئی ہے؟ (ب) اِس خوشخبری کو سننے والے سب لوگ اس رویا سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
۸ اس کے بعد، ۵ اور ۶ ابواب یسوع مسیح کو ایک برّہ کے طور پر پیش کرتے ہیں جو سات مہروں والی کتاب کھولنے کے لائق پایا جاتا ہے، چنانچہ علامتی زبان میں ہمارے زمانے میں رُونما ہونے والے واقعات آشکارا کرتا ہے۔ (مقابلہ کریں یوحنا ۱:۲۹۔) اس علامتی برّے سے، آسمانی آوازیں کہتی ہیں: ”تُو ہی اِس کتاب کو لینے اور اُس کی مہریں کھولنے کے لائق ہے کیونکہ تُو نے ذبح ہو کر اپنے خون سے ہر ایک قبیلہ اور اہلِزبان اور اُمت اور قوم میں سے خدا کے واسطے لوگوں کو خرید لیا۔ اور اُنکو ہمارے خدا کے لئے ایک بادشاہی اور کاہن بنا دیا اور وہ زمین پر بادشاہی کرتے ہیں۔“ (مکاشفہ ۵:۹، ۱۰) یہ رویا ہمیں سکھاتی ہے کہ مسیح کے بہائے ہوئے خون کی بنیاد پر تمام قوموں میں سے کچھ لوگوں کو اُس کے ساتھ ملکر ”زمین پر بادشاہی“ کرنے کے لئے بلایا جاتا ہے۔ (مقابلہ کریں مکاشفہ ۱:۵، ۶۔) بعدازاں مکاشفہ میں اُن کی محدود تعداد کی بابت آشکارا کِیا گیا ہے۔
۹. مسیح کو ۶ باب میں کیسے پیش کِیا گیا ہے؟
۹ اسی رویا میں، مسیح کو سفید گھوڑے پر تاجدار سوار کے طور پر پیش کِیا گیا ہے جو ”فتح کرتا ہؤا نکلا تاکہ اور بھی فتح کرے۔“ خوشی کی بات ہے کہ وہ ان بُرے اثرات پر فتح پائیگا جن کی علامت مکاشفہ کے دیگر تین گھڑسواروں سے پیش کی گئی ہے جنکی تُندخو دوڑ ۱۹۱۴ کے اہم سال سے لیکر نسلِانسانی کے لئے جنگ، کال اور موت لائی ہے۔ (مکاشفہ ۶:۱-۸) نوعِانسان کی نجات اور یہوواہ کے شاندار مقاصد کی تکمیل میں خدا کے برّہ، مسیح کا منفرد کردار یہوواہ کے گواہوں کے بائبل کے تعلیمی کام کا بنیادی موضوع ہے۔
۱۰. (ا) کونسی اہم معلومات ۷ باب میں فراہم کی گئی ہیں؟ (ب) مسیح بادشاہت حاصل کرنے والوں کی بابت کیا کہتا ہے؟
۱۰ باب ۷ میں واقعی خوشخبری پائی جاتی ہے۔ صرف مکاشفہ کی کتاب میں ہی ہمیں ان اشخاص کی تعداد معلوم ہوتی ہے جنہیں یسوع نے ”چھوٹا گلّہ“ کہا جنہیں برّہ کا باپ بادشاہت دیتا ہے۔ (لوقا ۱۲:۳۲؛ ۲۲:۲۸-۳۰) ان پر یہوواہ خدا اپنی روح کے ذریعے مہر کرتا ہے۔ (۲-کرنتھیوں ۱:۲۱، ۲۲) یوحنا رسول، جسے مکاشفہ حاصل ہوا، تصدیق کرتا ہے: ”جن پر مہر کی گئی مَیں نے اُن کا شمار سنا کہ . . . ایک لاکھ چوالیس ہزار“ ہے۔ (مکاشفہ ۷:۴) اس مخصوص تعداد کی تصدیق اس کے بعد ایک باب میں ان اشخاص کی کُل تعداد کے طور پر کی گئی ہے جو آسمانی کوہِصیون پر برّہ کے ساتھ بادشاہی کرنے کے لئے ”دُنیا میں سے خرید لئے“ گئے ہیں۔ (مکاشفہ ۱۴:۱-۴) اگرچہ دُنیائےمسیحیت کے چرچ اس تعداد کی مبہم اور غیرمدلل وضاحتیں پیش کرتے ہیں، تاہم دلچسپی کی بات ہے کہ بائبل عالم ای. ڈبلیو. بللنگر اس کی بابت بیان کرتا ہے: ”یہ ایک سادہ سی حقیقت ہے: اس باب میں ایک مُعیّن عدد کا غیرمُعیّن عدد سے موازنہ کِیا گیا ہے۔“
۱۱. (ا) کونسی خوشخبری ۷ باب میں پائی جاتی ہے؟ (ب) ”بڑی بِھیڑ“ کے اراکین کے سامنے کونسے امکانات رکھے گئے ہیں؟
۱۱ بللنگر کس غیرمُعیّن عدد کا حوالہ دے رہا تھا؟ یوحنا رسول نے اُسکی بابت بیان کرتے ہوئے ۹ آیت میں اِس طرح سے لکھا: ”اِن باتوں کے بعد جو مَیں نے نگاہ کی تو کیا دیکھتا ہوں کہ ہر ایک قوم اور قبیلہ اور اُمت اور اہلِزبان کی ایک ایسی بڑی بِھیڑ جسے کوئی شمار نہیں کر سکتا سفید جامے پہنے اور کھجور کی ڈالیاں اپنے ہاتھوں میں لئے ہوئے تخت اور برّہ کے آگے کھڑی ہے۔“ (مکاشفہ ۷:۹) یوحنا رسول کو رویا میں نظر آنے والی اس بڑی بِھیڑ کو کون تشکیل دیتے ہیں، خدا کے حضور ان کی کیا حیثیت ہے اور ان کے لئے مستقبل کیا تھامے ہوئے ہے؟ مکاشفہ کا جواب زمین کے رہنے والوں کے لئے خوشخبری ہے۔ ہم پڑھتے ہیں: ”یہ وہی ہیں جو اُس بڑی مصیبت میں سے نکل کر آئے ہیں۔ اِنہوں نے اپنے جامے برّہ کے خون سے دھو کر سفید کئے ہیں۔“ مسیح کے بہائے ہوئے خون پر ایمان کی بدولت وہ ”بڑی مصیبت“ کے دوران بچائے جائیں گے۔ مسیح ”اُنہیں آبِحیات کے چشموں کے پاس لے جائیگا اور خدا اُن کی آنکھوں کے سب آنسو پونچھ دیگا۔“ (مکاشفہ ۷:۱۴-۱۷) مزیدبرآں، لاکھوں لوگ آجکل اس اَنگنت بِھیڑ کا حصہ بن سکتے ہیں جو موجودہ شریر نظاماُلعمل سے بچ جائے گی۔ بادشاہ یسوع مسیح کی رعایا کے طور پر وہ اس کی ہزارسالہ حکومت کے دوران زمین پر ہمیشہ کی زندگی کے لئے اس سے راہنمائی حاصل کریں گے۔ کیا یہ خوشخبری نہیں ہے؟
”اُس کے فیصلے راست اور درست ہیں“
۱۲، ۱۳. (ا) ابواب ۸ سے ۱۹ میں کیا پایا جاتا ہے؟ (ب) ایسی پیشینگوئیوں سے خلوصدل لوگوں کو کیوں پریشان نہیں ہونا چاہئے؟
۱۲ ابواب ۸ تا ۱۹ بڑی حد تک اس بات کے ذمہدار ہیں کہ مکاشفہ ہولناک تباہیوں کی پیشینگوئی کرنے والی کتاب ہے۔ ان میں شیطان کے نظاماُلعمل کے مختلف عناصر کے خلاف دئے گئے نہایت اثرآفرین پیغامات (جن کی علامت نرسنگے پھونکنے، آفات اور الہٰی قہر کے پیالوں سے کی گئی ہے) پائے جاتے ہیں۔ ان عدالتی پیغامات کی تعمیل پہلے جھوٹے مذہب (”بڑے . . . بابلؔ“) کے خلاف اور اس کے بعد ان بیدین سیاسی عناصر کے خلاف ہوگی جنکی نمائندگی حیوانوں سے کی گئی ہے۔—مکاشفہ ۱۳:۱، ۲؛ ۱۷:۵-۷، ۱۵، ۱۶۔a
۱۳ یہ ابواب شیطان اور شیاطین کے آسمان سے زمین کے گردونواح میں پھینکے جانے کیساتھ آسمان کو پاکصاف کرنے کی تصویرکشی کرتے ہیں۔ یہ بات ۱۹۱۴ سے لیکر بینظیر عالمی مصیبت کی منطقی وضاحت پیش کرتی ہے۔ (مکاشفہ ۱۲:۷-۱۲) یہ علامتی زبان میں زمین پر شیطان کے بدکار نظاماُلعمل کی تباہی کی بھی وضاحت کرتے ہیں۔ (مکاشفہ ۱۹:۱۹-۲۱) کیا خلوصدل لوگوں کو ایسے ڈرامائی واقعات سے خوفزدہ ہونا چاہئے؟ جینہیں، خدا کے عدالتی فیصلوں کی تعمیل کے دوران، ایک آسمانی لشکر پکار اُٹھتا ہے: ”ہللویاہ! نجات اور جلال اور قدرت ہمارے خدا ہی کی ہے۔ کیونکہ اُس کے فیصلے راست اور درست ہیں۔“—مکاشفہ ۱۹:۱، ۲۔
۱۴، ۱۵. (ا) موجودہ شریر نظام کا خاتمہ راستبازی کا موجب کیسے بنیگا؟ (ب) مکاشفہ کی کتاب کے اس حصے کو خلوصدل لوگوں کے لئے خوشی کا سبب کیوں بننا چاہئے؟
۱۴ یہوواہ زمین کو تباہ کرنے والوں کو تباہ کئے بغیر ایک راست نظاماُلعمل نہیں لائے گا۔ (مکاشفہ ۱۱:۱۷، ۱۸؛ ۱۹:۱۱-۱۶؛ ۲۰:۱، ۲) تاہم، کسی بھی انسان یا سیاسی حکومت کے پاس ایسا کرنے کی طاقت یا اختیار نہیں ہے۔ صرف یہوواہ اور اس کا مقررکردہ بادشاہ اور منصف، یسوع مسیح ہی راستی کیساتھ ایسا کر سکتے ہیں۔—۲-تھسلنیکیوں ۱:۶-۹۔
۱۵ مکاشفہ کی کتاب واضح طور پر بیان کرتی ہے کہ یہوواہ موجودہ شریر نظام کا خاتمہ لانے کا مقصد رکھتا ہے۔ اس حقیقت کو ایسے تمام مردوں اور عورتوں کے لئے خوشی کا سبب بننا چاہئے جو ”اُن سب نفرتی کاموں کے سبب سے جو اُس کے درمیان کئے جاتے ہیں آہیں مارتے اور روتے ہیں۔“ (حزقیایل ۹:۴) اِس سے اُنہیں خوشخبری سنانے والے فرشتے کی بلاہٹ پر دھیان دینے کی فوری ضرورت سے باخبر ہو جانا چاہئے جس نے یہ اعلان کِیا: ”خدا سے ڈرو . . . کیونکہ اُس کی عدالت کا وقت آ پہنچا ہے اور اُسی کی عبادت کرو جس نے آسمان اور زمین . . . پیدا کئے۔“ (مکاشفہ ۱۴:۷) دُعا ہے کہ ایسے لوگ اس کے گواہوں کے ساتھ ملکر یہوواہ کی پرستش اور خدمت کریں جو ”خدا کے حکموں پر عمل [کرتے] . . . اور یسوؔع کی گواہی دینے پر قائم [ہیں]۔“—مکاشفہ ۱۲:۱۷۔
شاندار عہدِہزارسالہ
۱۶. (ا) دُنیائےمسیحیت کی کلیسیاؤں نے عہدِہزارسالہ کی اُمید کیوں ردّ کر دی ہے؟ (ب) یہوواہ کے گواہ کیوں یہ یقین رکھتے ہیں کہ نمونے کی دُعا کا جواب ضرور ملے گا؟
۱۶ مکاشفہ کی کتاب کے ۲۰ تا ۲۲ ابواب میں عہدِہزارسالہ میں اُمید کی صحیفائی بنیاد پائی جاتی ہے۔ بائبل کا صرف یہی حصہ درحقیقت ہزارسالہ دَور کا ذکر کرتا ہے جو آسمان اور زمین میں ابدی خوشحالی کا آغاز ہوگا۔ دُنیائےمسیحیت نے عہدِہزارسالہ کی اُمید کو صریحی طور پر ٹھکرا دیا ہے۔ چونکہ چرچ کا یہ عقیدہ ہے کہ راستباز بہشت میں جائیں گے اور شریر دوزخ میں جائیں گے اس لئے اس میں زمینی فردوس کی کوئی گنجائش ہی نہیں ہے۔ نمونے کی دُعا جس میں یہ درخواست کی جاتی ہے کہ خدا کی ”مرضی جیسی آسمان پر پوری ہوتی ہے زمین پر بھی ہو،“ دُنیائےمسیحیت کے زیادہتر چرچ اراکین کے لئے یہ درخواست بالکل بےمعنی ہے۔ (متی ۶:۱۰) لیکن یہ بات یہوواہ کے گواہوں کی بابت سچ نہیں ہے۔ ان کا پُختہ اعتقاد ہے کہ یہوواہ خدا نے زمین کو ”عبث“ نہیں بنایا بلکہ اسے ”آبادی کے لئے آراستہ کِیا۔“ (یسعیاہ ۴۵:۱۲، ۱۸) لہٰذا، قدیم پیشینگوئی، نمونے کی دُعا اور عہدِہزارسالہ کی بابت مکاشفہ کی اُمید آپس میں متفق ہیں۔ اپنے ہزارسالہ دورِحکومت کے دوران مسیح اس بات کا خیال رکھے گا کہ جیسے آسمان پر یہوواہ کی مرضی پوری ہوتی ہے ویسے ہی زمین پر بھی ہو۔
۱۷. ”ہزار برس“ کو ہمیں کیسا خیال کرنا چاہئے؟
۱۷ مکاشفہ کی کتاب کے ۲۰ باب کی پہلی سات آیات میں ”ہزار برس“ کی اصطلاح چھ مرتبہ آتی ہے۔ تاہم یہ حقیقت قابلِغور ہے کہ یہ اصطلاح ایک غیرمُعیّن طویل دَور کی بجائے ایک حقیقی عہدِہزارسالہ کا حوالہ دیتی ہے جبکہ دُنیائےمسیحیت کے بیشتر تبصرہنگار ہمیں یقین دلانا چاہیں گے کہ یہ حقیقی نہیں بلکہ ایک غیرمعین مدت ہے۔ عہدِہزارسالہ کے دوران کیا واقع ہوگا؟ سب سے پہلے اس پوری مدت کے دوران شیطان کی کارگزاریوں کو بند کر دیا جائے گا۔ (مکاشفہ ۲۰:۱-۳؛ مقابلہ کریں عبرانیوں ۲:۱۴۔) یہ کیا ہی شاندار اور دل کو گرما دینے والی خوشخبری ہے!
۱۸. (ا) عہدِہزارسال کو عدالت کا ”دن“ کیوں کہا جا سکتا ہے؟ (ب) ہزار سال کے بعد کیا واقع ہوگا؟
۱۸ چونکہ ”عدالت“ ان کے سپرد کی جاتی ہے جو ”[مسیح] کے ساتھ ہزار برس تک بادشاہی کریں گے“ درحقیقت، یہ دَور، ایک ہزار سال کا عدالتی ”دن“ ہے۔ (مکاشفہ ۲۰:۴، ۶؛ مقابلہ کریں اعمال ۱۷:۳۱؛ ۲-پطرس ۳:۸۔) مُردے جی اُٹھیں گے اور پھر ”بڑی مصیبت“ سے بچنے والوں سمیت، اُس وقت کے دوران ان کے کاموں یا اعمال کے مطابق اُن کی منصفانہ عدالت کی جائے گی۔ (مکاشفہ ۲۰:۱۲، ۱۳) ہزار سال کے بعد نوعِانسان کی آخری آزمائش کرنے کے لئے شیطان تھوڑے عرصے کے لئے چھوڑا جائیگا جس کے بعد وہ اور اس کے شیاطین اور زمین پر اس کی پیروی کرنے والے برگشتگی کا شکار ہو جانے والے باغیوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کر دیا جائے گا۔ (مکاشفہ ۲۰:۷-۱۰) اس امتحان میں کامیاب ہونے والے انسانوں کے نام ”کتابِحیات“ میں کبھی نہ مٹنے کے لئے تحریر کئے جائیں گے اور ایک فردوسی زمین پر یہوواہ کی خدمت کرتے اور اس کی پرستش کرتے ہوئے وہ خوشکُن ابدی زندگی میں داخل ہو جائینگے۔—مکاشفہ ۲۰:۱۴، ۱۵؛ زبور ۳۷:۹، ۲۹؛ یسعیاہ ۶۶:۲۲، ۲۳۔
۱۹. (ا) ہم کیوں یقین رکھ سکتے ہیں کہ مکاشفہ کی کتاب میں پیش کئے گئے شاندار وعدے ضرور پورے ہوں گے؟ (ب) اگلے مضمون میں کس بات پر غور کِیا جائے گا؟
۱۹ مکاشفہ کی کتاب میں ایسی ہی خوشخبری پیش کی گئی ہے۔ یہ کوئی انسانساختہ کھوکھلا وعدہ نہیں ہے۔ یوحنا رسول نے رویا میں دیکھا اور ہمارے ایمان کو جِلا بخشنے کے لئے یوں لکھا: ”جو تخت پر بیٹھا ہؤا تھا اُس نے کہا دیکھ میں سب چیزوں کو نیا بنا دیتا ہوں۔ پھر اُس نے کہا لکھ لے کیونکہ یہ باتیں سچ اور برحق ہیں۔“ (مکاشفہ ۲۱:۵) اس خوشخبری کی تکمیل میں حصہ لینے کے لئے ہمیں کیا کرنا چاہئے؟ خدا کو خوش کرنے کے خواہشمند اشخاص کے لئے مکاشفہ کی کتاب میں کافی مشورت پائی جاتی ہے۔ ایسی مشورت کی پیروی کرنا ہمارے لئے اب اور ہمیشہ کے لئے بہت زیادہ خوشیاں لائے گی جیسا کہ اگلا مضمون ظاہر کرے گا۔
[فٹنوٹ]
a مکاشفہ کی کتاب کی پوری وضاحت کے لئے واچٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی آف نیو یارک، انکارپوریٹڈ کی ۱۹۸۸ میں شائع ہونے والی کتاب ریولیشن—اِٹس گرینڈ کلائمیکس ایٹ ہینڈ! دیکھیں۔
نکات برائے اعادہ
◻مکاشفہ کے ۴ تا ۶ ابواب میں پائی جانے والی کونسی بنیادی سچائیاں خوشخبری کے ایک اہم حصے کو تشکیل دیتی ہیں؟
◻مکاشفہ ۷ باب میں کونسی خوشخبری پائی جاتی ہے؟
◻مکاشفہ میں پائے جانے والے عدالتی پیغامات سے خلوصدل لوگوں کو کیوں پریشان نہیں ہونا چاہئے؟
◻کن طریقوں سے عہدِہزارسالہ عدالت کا ”دن“ ہوگا؟
[صفحہ 10 پر تصویر]
بادشاہ یسوع مسیح جنگ، کال، اور موت کو زمین سے مکمل طور پر ختم کر دیگا