اتنا تھوڑا وقت کیوں؟
وقت، اس لفظ کی جامع تعریف بیان کرنا تو شاید ہمارے لئے مشکل ہو مگر ایک بات ہم ضرور جانتے ہیں کہ ہمارے پاس کبھی بھی کافی وقت نہیں ہوتا۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ وقت بڑی تیزی سے گزر جاتا ہے۔ درحقیقت، ہم اکثر افسوس کیساتھ کہتے ہیں کہ ”وقت کو تو جیسے پَر لگے ہوئے ہیں۔“
تاہم، بدیہی طور پر انگریز شاعر آسٹن ڈوبسن حقیقت کے بہت قریب تھا جب اُس نے ۱۸۷۷ میں بیان کِیا: ”آپ کہتے ہیں کہ وقت گزر جاتا ہے؟ ہرگز نہیں! افسوس کی بات ہے کہ وقت تو قائم رہتا ہے، ہم گزر جاتے ہیں۔“ ۱۹۲۱ میں اُسکی وفات سے لیکر، ڈوبسن کو گزرے ہوئے تقریباً ۸۰ سال ہو گئے ہیں لیکن وقت ابھی تک رواںدواں ہے۔
وقت کی فراوانی
بائبل نوعِانسان کے خالق کی بابت ہمیں بتاتی ہے: ”اِس سے پیشتر کہ پہاڑ پیدا ہوئے یا زمین اور دُنیا کو تُو نے بنایا۔ ازل سے ابد تک تُو ہی خدا ہے۔“ (زبور ۹۰:۲) یاپھر دی نیو جیروصلم بائبل کے مطابق، ”ابد سے ابد تک تُو ہی خدا ہے۔“ پس جب تک خدا رہیگا وقت بھی رہیگا—ہمیشہ تک!
ابدی خدا کے بالکل برعکس، ہم انسانوں کی بابت پڑھتے ہیں: ”کیونکہ ہمارے تمام دن تیرے قہر میں گذرے۔ ہماری عمر خیال کی طرح جاتی رہتی ہے۔ ہماری عمر کی میعاد ستر برس ہے۔ یا قوت ہو تو اَسی برس۔ تو بھی اُنکی رونق محض مشقت اور غم ہے کیونکہ وہ جلد جاتی رہتی ہے اور ہم اُڑ جاتے ہیں۔“—زبور ۹۰:۹، ۱۰۔
بائبل کی وضاحت کے مطابق خدا کا مقصد ہے کہ انسان ہمیشہ تک زندہ رہے لیکن اسکے باوجود زندگی اسقدر قلیل کیوں ہے؟ (پیدایش ۱:۲۷، ۲۸؛ زبور ۳۷:۲۹) خدائی مقصد کے اعتبار سے لامحدود عرصۂحیات کے برعکس، بہترین حالات کے تحت بھی انسان کی اوسط عمر ۳۰،۰۰۰ دنوں سے بھی کم کیوں ہوتی ہے؟ انسان کے پاس اتنا تھوڑا وقت کیوں ہے؟ اِس افسوسناک حالت کا ذمہدار کون ہے؟ بائبل واضح اور تسلیبخش جوابات فراہم کرتی ہے۔a
وقت کی کمی میں اضافہ
عمررسیدہ اشخاص اِس بات کی تصدیق کرینگے کہ حالیہ دہوں میں زندگی کی رفتار بہت تیز ہو گئی ہے۔ ایک صحافی، ڈاکٹر زیبل فرچ نے بیان کِیا کہ گزشتہ ۲۰۰ برسوں کے دوران، ہفتہوار کام کا وقت ۸۰ گھنٹوں سے کم ہو کر ۳۸ گھنٹے رہ گیا ہے، ”تاہم اِس کے باوجود ہماری شکایت ختم نہیں ہوئی۔“ اُس نے وضاحت کی: ”وقت نہیں ہے؛ وقت قیمتی سرمایہ ہے؛ وقت کا حصول عملِتنفّس کی طرح ضروری ہے؛ زندگی افراتفری کا نام ہے۔“
نئی ایجادات نے ایسے مواقع اور امکانات پیدا کر دئے ہیں جنکی بابت پہلی نسلوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔ تاہم بیشمار کارگزاریوں میں شریک ہونے کے وسیعتر امکان کے باوجود وقت کی کمی کے باعث ان سے محظوظ نہ ہو پانا اکثر مایوسی کا سبب بنتا ہے۔ آجکل، دُنیا کے بیشتر حصوں میں، لوگ گھڑی کی سوئیوں کیساتھ چلتے ہیں اور ایک کام کو ختم کرنے کے فوراً بعد دوسرے کی طرف لپکتے ہیں۔ ابو کو ۰۰:۷ بجے کام کیلئے روانہ ہونا ہے، ماں کو ۳۰:۸ بجے بچوں کو سکول پہنچانا ہے، دادا جان کو ۴۰:۹ پر ڈاکٹر کے پاس پہنچنا ہے اور ہم سب کو شام ۳۰:۷ بجے ایک اہم اجلاس کیلئے تیار ہونا ہے۔ ایک کے بعد دوسرا کام نپٹانے کی جلدی میں ذرا بھی سستانے کا وقت نہیں ملتا۔ چنانچہ ہم تھکا دینے والے روزانہ کے معمول اور بیکار دوڑدھوپ کی بابت شکایت کرتے ہیں۔
ہم ہی تھوڑے وقت کا شکار نہیں ہیں
خدا کا دشمن، شیطان ابلیس جس کی سازش نوعِانسان کے لئے قلیل دورِحیات کا سبب بنی، اَب اپنی ہی شرارت کا شکار ہو گیا ہے۔ (مقابلہ کریں گلتیوں ۶:۷، ۸۔) آسمان میں مسیحائی بادشاہت کے وجود میں آنے کا ذکر کرتے ہوئے مکاشفہ ۱۲:۱۲ ہمیں اُمید کی وجہ فراہم کرتی ہے: ”پس اَے آسمانو اور اُنکے رہنے والو خوشی مناؤ! اَے خشکی اور تری تم پر افسوس! کیونکہ ابلیس بڑے قہر میں تمہارے پاس اُتر کر آیا ہے۔ اِسلئے کہ جانتا ہے کہ میرا تھوڑا ہی سا وقت باقی ہے۔“
بائبل کے قابلِاعتماد علمِتاریخ اور بائبل پیشینگوئی کی تکمیل کے مطابق اب ہم اس ”تھوڑے سے وقت“ کے بالکل آخر میں رہ رہے ہیں۔ یہ کتنی خوشی کی بات ہے کہ بہت جلد شیطان کا وقت بالکل ختم ہو جائیگا! جب اُسے بند کر دیا جائیگا تو فرمانبردار انسانوں کو کاملیت عطا کی جائیگی اور وہ ابتدائی مقصد کے مطابق ہمیشہ کی زندگی حاصل کر سکیں گے۔ (مکاشفہ ۲۱:۱-۴) پھر وقت کی کمی کا کوئی مسئلہ باقی نہیں رہیگا۔
کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ ابدی زندگی کا کیا مطلب ہوگا؟ پھر کبھی آپکو ادھورے رہ جانے والے کاموں کی وجہ سے پریشانی نہیں ہوگی۔ اگر آپکو زیادہ وقت کی ضرورت ہوگی تو اگلا دن یا اگلا ہفتہ یا اگلا سال ہوگا—درحقیقت، آپکے سامنے ابدیت ہوگی!
اب دستیاب وقت کو دانشمندی سے استعمال کرنا
شیطان یہ سمجھتا ہے کہ انسانوں پر اُسکے اختیار کا بس تھوڑا ہی سا وقت باقی رہ گیا ہے اسلئے وہ لوگوں کو اتنا مصروف رکھنے کی کوشش کرتا ہے کہ اُنکے پاس خدا کی قائمشُدہ بادشاہت کی بابت خوشخبری سننے کا کوئی وقت ہی نہ ہو۔ پس، ہمارے لئے اس الہٰی مشورت پر دھیان دینا مفید ثابت ہوگا:”پس غور سے دیکھو کہ کس طرح چلتے ہو۔ نادانوں کی طرح نہیں بلکہ داناؤں کی مانند چلو۔ اور وقت کو غنیمت جانو کیونکہ دِن بُرے ہیں۔ اِس سبب سے نادان نہ بنو بلکہ [یہوواہ] کی مرضی کو سمجھو۔“—افسیوں ۵:۱۵-۱۷۔
بیکار چیزوں پر وقت ضائع کرنے کی بجائے جن سے کوئی دائمی فائدہ حاصل نہیں ہوتا، اپنے وقت کو دانشمندی کیساتھ زیادہ اہم کاموں کیلئے استعمال کرنا کتنا ضروری ہے! ہمیں موسیٰ جیسا میلان رکھنا چاہئے جسکا اظہار اُس نے اِن سنجیدہ الفاظ میں یہوواہ سے التجا کرتے ہوئے کِیا: ”ہمکو اپنے دن گننا سکھا۔ ایسا کہ ہم دانا دل حاصل کریں۔“—زبور ۹۰:۱۲۔
سچ ہے کہ آجکل کی دُنیا میں ہر شخص مصروف ہے۔ تاہم، یہوواہ کے گواہ آپکو پُرزور تاکید کرتے ہیں کہ اپنے بیشقیمت وقت میں سے کچھ وقت خدا کی بادشاہتی حکمرانی کے تحت ہمیشہ کی زندگی حاصل کرنے کیلئے اُسکے تقاضوں کی بابت سیکھنے میں صرف کریں۔ ”یہوواہ کی مرضی کو سمجھنے“ کیلئے ہر ہفتے ایک گھنٹہ باقاعدہ بائبل مطالعہ کرنے سے آپ ذاتی طور پر اِن الفاظ کی تکمیل کا تجربہ کرنے کے قابل ہونگے: ”بدی کو چھوڑ دے اور نیکی کر اور ہمیشہ تک آباد رہ۔ صادق زمین کے وارث ہونگے اور اُس میں ہمیشہ بسے رہینگے۔“—زبور ۳۷:۲۷، ۲۹۔
[فٹنوٹ]
a واچٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی آف نیو یارک، انکارپوریٹڈ کی شائعکردہ کتاب علم جو ہمیشہ کی زندگی کا باعث ہے کے باب ۶ کو دیکھیں۔