یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م99 1/‏6 ص.‏ 3-‏4
  • وقت اور ابدیت درحقیقت ہم انکی بابت کیا جانتے ہیں؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • وقت اور ابدیت درحقیقت ہم انکی بابت کیا جانتے ہیں؟‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • وقت کی بابت بائبل کا نظریہ
  • ہمیشہ کی زندگی—‏کیا یہ منطقی بات ہے؟‏
  • ہم ہمیشہ تک زندہ رہ سکتے ہیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2022ء
  • اتنا تھوڑا وقت کیوں؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
  • ابدیت کے بادشاہ کی حمد کریں!‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1996ء
  • کیا ہمیشہ کی زندگی واقعی ممکن ہے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
م99 1/‏6 ص.‏ 3-‏4

وقت اور ابدیت درحقیقت ہم انکی بابت کیا جانتے ہیں؟‏

ایک انسائیکلوپیڈیا بیان کرتا ہے، ”‏وقت انسان کے تجربے میں آنے والا سب سے زیادہ پراسرار عمل معلوم ہوتا ہے۔“‏ جی‌ہاں، وقت کو سادہ لفظوں میں بیان کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ وقت ”‏گزر جاتا ہے،“‏ ”‏نکل جاتا ہے،“‏ ”‏اُڑ جاتا ہے،“‏ اور یہ بھی کہ ہم ”‏وقت کے دھارے“‏ میں بہہ رہے ہیں۔ علاوہ‌ازیں، ہم درحقیقت نہیں جانتے کہ ہم کیا کہہ رہے ہیں۔‏

وقت کی ”‏دو واقعات کے درمیانی فاصلے“‏ کے طور پر تعریف کی جاتی ہے۔ تاہم ہمارا تجربہ ہمیں بتاتا ہے کہ وقت واقعات سے بے‌نیاز ہے؛ وقت کا پہیہ چلتا رہتا ہے خواہ کچھ واقع ہو یا نہ ہو۔ ایک فلسفی کا دعویٰ ہے کہ وقت کا درحقیقت کوئی وجود نہیں ہے بلکہ یہ ایک تصوراتی چیز ہے۔ کیا ہمارے بیشتر تجربات کی بنیاد محض ہمارے تخیل کی پیداوار ہے؟‏

وقت کی بابت بائبل کا نظریہ

بائبل وقت کی کوئی تشریح نہیں کرتی جو اس چیز کا مظہر ہو کہ وقت کو مکمل طور پر سمجھنا شاید انسان کے بس سے باہر ہے۔ یہ خلا کی لامحدود وسعت کی مانند ہے جسے سمجھنا ہماری پہنچ میں نہیں ہے۔ وقت، بظاہر، ایسی چیزوں میں سے ہے جسے صرف خدا ہی مکمل طور پر سمجھ سکتا ہے کیونکہ صرف وہی ”‏ازل سے ابد تک“‏ ہے۔—‏زبور ۹۰:‏۲‏۔‏

باوجودیکہ بائبل وقت کی تشریح تو نہیں کرتی تو بھی وہ ایک حقیقی چیز کے طور پر اسکا ذکر کرتی ہے۔ سب سے پہلے تو بائبل ہمیں بتاتی ہے کہ خدا نے وقت کا تعیّن کرنے کیلئے ”‏نیر“‏—‏سورج، چاند اور ستاروں—‏کو خلق کِیا تاکہ ”‏وہ نشانوں اور زمانوں اور دنوں اور برسوں کے امتیاز کے لئے ہوں۔“‏ بائبل میں بیان‌کردہ کئی واقعات کا وقت کے حساب سے ریکارڈ رکھا گیا ہے۔ (‏پیدایش ۱:‏۱۴؛‏ ۵:‏۳-‏۳۲؛‏ ۷:‏۱۱، ۱۲؛‏ ۱۱:‏۱۰-‏۳۲؛‏ خروج ۱۲:‏۴۰، ۴۱)‏ بائبل وقت کا ایسی چیز کے طور پر بھی ذکر کرتی ہے جسے ہمیں دانشمندی کیساتھ استعمال کرنا چاہئے تاکہ ابدیت تک خدا کی برکت—‏ہمیشہ تک زندہ رہنے کا امکان حاصل کرنے کے لائق ٹھہر سکیں۔—‏افسیوں ۵:‏۱۵، ۱۶‏۔‏

ہمیشہ کی زندگی—‏کیا یہ منطقی بات ہے؟‏

جب یہ جاننے کی کوشش کرنا ہی مایوس‌کُن ہے کہ درحقیقت وقت کیا ہے تو ہمیشہ کی زندگی یا ابد تک زندہ رہنے کا خیال بہت سے لوگوں کیلئے پریشان‌کُن ہے۔ اسکی ایک وجہ تو یہ ہو سکتی ہے کہ وقت کی بابت ہمارے تجربے کو ہمیشہ پیدائش، نشوونما، بڑھاپے اور موت کے گردشِ‌ایّام سے جوڑا گیا ہے۔ پس، ہم نے عمر کے بڑھنے کے عمل سے ہی وقت کے بہاؤ کو پہچانا ہے۔ بہتیروں کیلئے، کسی اور طریق پر سوچنا وقت کے نظریے کی خلاف‌ورزی دکھائی دیگا۔ وہ پوچھ سکتے ہیں کہ ’‏انسان کو تمام دوسری جاندار خلائق سے کیوں مختلف ہونا چاہئے؟‘‏

اس قسم کے دلائل میں جس حقیقت کو عموماً نظرانداز کِیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ انسان پہلے ہی کئی لحاظ سے دیگر مخلوقات سے مختلف ہیں۔ مثال کے طور پر، جانور اُن ذہنی صلاحیتیوں سے محروم ہیں جو انسان رکھتے ہیں۔ ان کی بابت مختلف دعوؤں کے باوجود، وہ اپنی جبلت سے بڑھکر کر تخلیقی نہیں بن سکتے۔ اُن کے پاس نہ تو جمالیاتی قوت ہے اور نہ ہی وہ انسانوں کی طرح محبت اور قدردانی دکھانے کی استعداد رکھتے ہیں۔ اگر زندگی کو معنی‌خیز بنانے والی خوبیاں اور صلاحیتیں انسان کو اس فراوانی سے بخشی گئی ہیں تو پھر جب زندگی کی بات آتی ہے تو ایسا کیوں ممکن نہیں کہ انہیں وقت بھی بکثرت دیا گیا ہو؟‏

اس کے برعکس کیا یہ تعجب کی بات نہیں کہ درخت جو کچھ سوچ بھی نہیں سکتے، بعض‌اوقات ہزاروں سال تک زندہ رہتے ہیں جبکہ ذہین انسان اوسطاً ۷۰ سے ۸۰ سال تک ہی زندہ رہ سکتے ہیں؟ کیا یہ متضاد بات نہیں ہے کہ تخلیقی یا جمالیاتی صلاحیتوں سے عاری کچھوے ۲۰۰ سال سے زیادہ عرصے تک زندہ رہ سکتے ہیں جبکہ انسان جسے ایسی صلاحیتوں سے بکثرت نوازا گیا ہے وہ اس کے نصف سے بھی بہت کم عرصے تک زندہ رہتے ہیں؟‏

اگرچہ انسان وقت اور ابدیت کو پوری طرح کبھی نہیں سمجھ سکتا تو بھی ہمیشہ کی زندگی کا وعدہ ابھی ایک اُمید ہے جس کی مضبوط بنیاد بائبل میں پائی جاتی ہے۔ ”‏ہمیشہ کی زندگی“‏ کی اصطلا‌ح اس میں تقریباً ۴۰ مرتبہ آتی ہے۔ تاہم اگر خدا کا مقصد یہ ہے کہ انسان ہمیشہ تک زندہ رہیں تو یہ ابھی پورا کیوں نہیں ہوا؟ اگلے مضمون میں اس سوال پر غور کِیا جائیگا۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں