یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م99 15/‏8 ص.‏ 3-‏4
  • کیا آپ زندگی سے محبت رکھتے ہیں؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • کیا آپ زندگی سے محبت رکھتے ہیں؟‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
  • ملتا جلتا مواد
  • ‏”‏انسان کا فرضِ‌کُلی“‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1997ء
  • آپکی زندگی—‏اسکا مقصد کیا ہے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1997ء
  • حقیقی خوشی کن کاموں سے حاصل ہوتی ہے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2008ء
  • اب اور آئندہ آپ کی زندگی بامقصد ہو سکتی ہے
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—2011ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
م99 15/‏8 ص.‏ 3-‏4

کیا آپ زندگی سے محبت رکھتے ہیں؟‏

‏”‏روشنی آنے دو۔“‏ یہ الفاظ اطالوی شاعر جاکومو لیپارڈی نے اپنی موت سے ذرا پہلے اپنے پاس لوگوں سے کہے تھے۔ یہ الفاظ زندگی سے انسان کی گہری محبت کا مفہوم پیش کرتے ہیں جن کی عکاسی روشنی سے کی گئی ہے۔‏

زندگی سے وابستگی ایک انمول تحریک ہے جو بیشتر لوگوں کو خطرات سے بچنے اور زندہ رہنے کیلئے ممکنہ طور پر سب کچھ کرنے کی تحریک دیتی ہے۔ اس اعتبار سے، انسان بقا کی پُرزور جبلّت والے جانوروں سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے۔‏

لیکن کس قسم کی زندگی واقعی بسر کرنے اور عزیز رکھے جانے کے لائق ہے؟ یہ محض طبعی وجود—‏محض سانس لینے اور حرکات‌وسکنات کا نام ہی نہیں ہے۔ ممکنہ طور پر زندگی سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھا لینے والی سوچ بھی تسکین‌بخش نہیں ہے۔ ”‏آؤ کھائیں پئیں کیونکہ کل تو مر ہی جائینگے،“‏ یہ اِپیکوری فلسفہ، عام طور پر لوگوں کے لئے تسکین کا باعث نہیں بنا ہے۔ (‏۱-‏کرنتھیوں ۱۵:‏۳۲‏)‏ اگرچہ انسان کی بیشتر بنیادی ضروریات مادی ہیں، تاہم اسکی ثقافتی اور سماجی دلچسپیوں کے علاوہ اسکی روحانی ضروریات بھی ہیں جن کا تعلق حاکمِ‌اعلیٰ پر ایمان سے ہے۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ دنیا کے مختلف علاقوں میں اگر اربوں نہیں تو کروڑوں لوگ سماجی اور ماحولیاتی طور پر خراب حالتوں کی وجہ سے اپنی زندگی سے زیادہ خوش نہیں ہیں۔ جو لوگ خود کو بنیادی طور پر اپنی جسمانی ضروریات—‏کھانے، پینے، صاحبِ‌جائیداد ہونے یا جنسی خواہشات کو پورا کرنے—‏تک محدود رکھتے ہیں وہ کسی حد تک جانوروں جیسی زندگی گزارتے ہیں جس سے اُنہیں بہت کم تسکین حاصل ہوتی ہے۔ عملاً، وہ ان بامقصد وسائل کا استعمال نہیں کرتے جو زندگی انسان کی غیرمعمولی صلاحیتوں اور جذبات کی تکمیل کے لئے پیش کرتی ہے۔ مزیدبرآں، جو لوگ محض اپنی اَناپرستانہ خواہشات کی تسکین چاہتے ہیں وہ نہ صرف زندگی سے کچھ حاصل کرنے سے قاصر رہتے ہیں بلکہ وہ جس معاشرے کا حصہ ہیں اسے بھی برباد کرتے ہیں نیز، وہ دوسرے لوگوں کے مفادات کو بھی فروغ نہیں دیتے۔‏

اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے، نابالغ مجرموں کے معاملات نپٹانے والا ایک جج کہتا ہے کہ ”‏اقدار کا بحران، منفی تقلیدی کرداروں کی بڑائی اور راتوں رات امیر بن جانے کی خواہش غیرمتناسب مقابلہ‌بازی کی روح کو فروغ“‏ دینے کی طرف مائل کرتی ہے۔ یہ بات ایسے طرزِعمل کا باعث بنتی ہے جو معاشرے کیلئے نقصان‌دہ اور نوجوانوں کیلئے تباہ‌کُن ہے خاصکر جب وہ منشیات کا رُخ کرتے ہیں۔‏

آپ جانتے ہیں کہ زندگی دلکش مقامات پر چھٹیاں گزارنے، دلچسپ پڑھائی یا تحقیق کرنے، خوشگوار رفاقت اور سُریلی موسیقی سے لطف اُٹھانے کے متفرق مواقع پیش کرتی ہے۔ اسی طرح سے دیگر سرگرمیاں بھی ہیں جو کسی نہ کسی حد تک تسکین کا باعث بنتی ہیں۔ خدا پر پُختہ ایمان رکھنے والے اور بالخصوص وہ لوگ جن کا اعتقاد بائبل کے خدا، یہوواہ پر ہے ان کے پاس زندگی سے پیار کرنے کی اور بھی زیادہ وجوہات ہیں۔ سچا ایمان قوت اور باطنی اطمینان کا سرچشمہ ہے جو مشکل اوقات میں لوگوں کی مدد کر سکتا ہے۔ سچے خدا پر ایمان رکھنے والے اعتماد کے ساتھ کہہ سکتے ہیں:‏ ”‏خداوند [‏یہوواہ]‏ میرا مددگار ہے۔ مَیں خوف نہ کرونگا۔“‏ (‏عبرانیوں ۱۳:‏۶‏)‏ خدا کی محبت سے شناسا لوگ محسوس کرتے ہیں کہ وہ ان سے محبت رکھتا ہے۔ وہ اس کی محبت کیلئے جوابی‌عمل دکھاتے ہیں اور اس سے نہایت شادمانی حاصل کرتے ہیں۔ (‏۱-‏یوحنا ۴:‏۷، ۸،‏ ۱۶‏)‏ وہ ایک فعال اور بے‌غرضانہ زندگی گزار سکتے ہیں جو اطمینان کا باعث ہے۔ یہ بالکل ویسے ہی ہے جیسے یسوع مسیح نے کہا تھا:‏ ”‏دینا لینے سے مبارک ہے۔“‏—‏اعمال ۲۰:‏۳۵‏۔‏

افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ موجودہ زندگی کا ایک اَور رُخ بھی ہے۔ ہر طرف پھیلی ہوئی تکلیف، ناانصافی غربت، بیماری اور موت—‏ان دردناک عناصر میں سے محض چند ایک ہیں جو اکثراوقات جینا مشکل کر دیتے ہیں۔ قدیم اسرائیل کے دولتمند، طاقتور اور دانشمند بادشاہ سلیمان کے پاس انسان کو خوشی بخشنے والی چیزوں کی کمی نہیں تھی۔ تاہم، ایک چیز نے اُسے پریشان کر رکھا تھا—‏یہ احساس کہ جو کچھ اس نے ”‏حکمت اور دانائی اور کامیابی کے ساتھ“‏ بڑی ’‏محنت‘‏ سے اپنے لئے جمع کیا ہوا تھا اسے موت کے وقت وہ سب کچھ کسی دوسرے کیلئے چھوڑنا ہوگا۔—‏واعظ ۲:‏۱۷-‏۲۱‏۔‏

سلیمان کی طرح، بیشتر لوگ اس مختصر سی زندگی سے واقف ہیں جو جلد ہی ختم ہو جاتی ہے۔ صحائف کہتے ہیں کہ خدا نے ’‏ابدیت کو ہمارے دلوں میں جاگزین کیا ہے۔‘‏ (‏واعظ ۳:‏۱۱‏)‏ ابدیت کا یہ احساس انسان کو اس مختصر سی زندگی پر غوروخوض کرنے کی تحریک دیتا ہے۔ انجام‌کار، زندگی اور موت کے مقصد کی بابت قائل کرنے والے جوابات حاصل کئے بغیر، ایک شخص نااُمیدی اور بطالت کے احساسات سے مغلوب ہو سکتا ہے۔ یہ بات زندگی کو غمگین بنا سکتی ہے۔‏

کیا انسان کے پریشان‌کُن سوالوں کا کوئی جواب ہے؟ کیا کبھی زندگی کو اَور زیادہ دلکش اور دائمی بنانے والی حالتیں آئیں گی؟‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں