اچھے ساتھیوں کا انتخاب کرنے کیلئے راہنمائی
نوجوان لباس اور موسیقی کے سلسلے میں راہنمائی کیلئے اپنے والدین کی بجائے اپنے ہمسروں کی طرف مائل ہوتے ہیں، ریڈرز ڈائجسٹ کی ایک رپورٹ بیان کرتی ہے۔ اسلئے، والدین کیلئے یہ جاننا نہایت ضروری ہے کہ اُنکے بچے کن کیساتھ اور کہاں پر رفاقت رکھتے ہیں۔
ساؤتھ افریقن یونیورسٹی میں نفسیات کے شعبہ کی سینیئر لیکچرار ازما فان رنزبرک کہتی ہیں، ”اسکی تحقیقوتفتیش کرنا آپکی ذمہداری ہے۔“ وہ مزید کہتی ہیں: ”ممکن ہے کہ آپکے بچے آپکے کیساتھ ناراض ہو جائیں، تاہم، بعدازاں اُنکا غصہ ٹھنڈا ہو جائیگا۔“ اسکے بعد وہ والدین کو ذیل میں درج تجاویز پیش کرتی ہے۔ ضابطے منطقی ہونے چاہئیں اور اُن میں قطعی بنیادی اُصول پنہاں ہونے چاہئیں؛ اپنے بچے کی بات غور سے سنیں؛ ضرورت سے زیادہ ردِعمل ظاہر نہ کریں بلکہ پُرسکون رہیں اور اس بات سے باخبر رہیں کہ آپ کیا کہنا چاہتے ہیں۔ اگر آپکے بچے نے پہلے ہی کسی ناموافق ساتھی کیساتھ دوستی پیدا کر لی ہے تو مزید رفاقت سے منع کرنے کی بجائے اس دوستی سے پیدا ہونے والے ناقابلِقبول طرزِعمل پر توجہ دلائیں۔
والدین کیلئے قابلِاعتماد مشورت خدا کے کلام بائبل میں عرصہدراز سے دستیاب ہے۔ مثلاً، یہ بیان کرتی ہے: ”سننے میں تیز اور بولنے میں دھیرا اور قہر کرنے میں دھیما ہو۔“ (یعقوب ۱:۱۹) صحائف ساتھیوں کے انتخاب کی بابت بھی عمدہ مشورت پیش کرتے ہیں: ”وہ جو داناؤں کے ساتھ چلتا ہے دانا ہوگا پر احمقوں کا ساتھی ہلاک کِیا جائیگا۔“ (امثال ۱۳:۲۰) یہ مثالیں بائبل کو قدردانی سے پڑھنے اور اپنی روزمرّہ زندگی میں اُسکا اطلاق کرنے والوں کیلئے دستیاب حکمت ظاہر کرتی ہیں۔