اسرائیل میں الہٰی نام کا استعمال
صدیوں سے روایتی یہودیت نے اپنے پیروکاروں کو الہٰی نام، یہوواہ استعمال کرنے سے سختی کیساتھ منع کِیا ہوا ہے۔ مِشنہ کے مطابق، کوئی بھی شخص جو خدا کا نام لیگا اُسکا ”آنے والی دُنیا میں کوئی بخرہ نہیں“ ہوگا۔—سینہڈرن ۱۰:۱۔a
اسرائیل کے سابقہ سفاردیمی چیف ربّی نے جنوری ۳۰، ۱۹۹۵ کو جانبوجھ کر الہٰی نام کا استعمال کِیا۔ اُس نے کبالہ کی ایک اصلاحی دُعا، ٹیکون، پڑھتے وقت ایسا کِیا۔ یہ دُعا اس لئے کی جاتی ہے کہ خدائے قادر کائنات میں پائی جانے والی ہمآہنگی کو برقرار رکھے جوکہ اس کے پرستاروں کے مطابق بدکار قوتوں کی وجہ سے انتشار کا شکار ہو چکی ہے۔ فروری ۶، ۱۹۹۵ کے اخبار یڈیوت اہارونت نے بیان کِیا: ”یہ اسقدر ناقابلِیقین قوت کی حامل عبادت ہے کہ اسکے الفاظ صرف ایسے خاص کتابچے میں پائے جاتے ہیں جسے ہر خاصوعام کو فروخت نہیں کِیا جاتا ہے۔“ اس متن میں خدا کے نام کو شامل کرنے کی بابت یہ خیال کِیا جاتا ہے کہ ایسا کرنا اس استدعا کو اَور زیادہ پُرزور بنا دیتا ہے۔
یہ بات قابلِغور ہے کہ بائبل خدا کے خادموں کو الہٰی نام، یہوواہ استعمال کرنے کا حکم دیتی ہے۔ (خروج ۳:۱۵؛ امثال ۱۸:۱۰؛ یسعیاہ ۱۲:۴؛ صفنیاہ ۳:۹) بائبل کے اصلی عبرانی متن میں یہ نام تقریباً ۷،۰۰۰ مرتبہ آتا ہے۔ تاہم، بائبل خدا کے نام کے غلط استعمال کی بابت متنبہ کرتی ہے۔ دس حکموں میں سے تیسرا بیان کرتا ہے: ”تُو خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] اپنے خدا کا نام بےفائدہ نہ لینا کیونکہ جو اُس کا نام بےفائدہ لیتا ہے [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] اُسے بےگناہ نہ ٹھہرائیگا۔“ (خروج ۲۰:۷) خدا کا نام کس طرح سے بیفائدہ لیا جا سکتا ہے؟ جیوئش پبلیکیشن سوسائٹی کا ایک تبصرہ بیان کرتا ہے کہ عبرانی اصطلاح کے ”بےفائدہ طریقے“ سے ترجمہ کئے جانے میں نہ صرف الہٰی نام کا ”غیرضروری استعمال“ ہی شامل ہے بلکہ اس میں ”کسی غیرضروری برکت کا بار بار دہرانا“ بھی شامل ہے۔
پس، ہمیں کبالہ کی اصلاحی دُعا، ٹیکون کو کیسا خیال کرنا چاہئے؟ اس کا آغاز کہاں سے ہوا؟ کبالا کہلانے والی یہودیت کی ایک صوفیانہ جماعت نے ۱۲ویں اور ۱۳ویں صدی س.ع. میں مقبولیت حاصل کرنا شروع کر دی۔ ایک ربّی، آئزک لوریا نے کبالی عباداتی طریقوں میں ۱۶ویں صدی میں ”ٹیکونم“ کو متعارف کروایا۔ خدا کے نام کو خاص قوتوں سے بھرپور پُراسرار وظیفے کے طور پر استعمال کِیا جاتا تھا اور یہ کبالی مذہبی رسوم کا ایک حصہ بن گیا۔ آپ کے خیال میں کیا یہ خدا کے نام کا مناسب استعمال ہے؟—استثنا ۱۸:۱۰-۱۲۔
آپ اس سوال کا خواہ کچھ بھی جواب دیں، تاہم آپ اس بات سے متفق ہونگے کہ زمانۂجدید کے اسرائیل میں خدا کے نام کا علانیہ استعمال ایک انتہائی غیرمعمولی واقع تھا۔ تاہم، خدا نے خود اسرائیل کو حکم دیا تھا: ”اُس وقت تم کہو گے خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] کی ستایش کرو۔ اُس سے دُعا کرو۔ لوگوں کے درمیان اُسکے کاموں کا بیان کرو اور کہو کہ اُس کا نام بلند ہے۔ خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] کی مداحسرائی کرو کیونکہ اُس نے جلالی کام کئے جنکو تمام دُنیا جانتی ہے۔“—یسعیاہ ۱۲:۴، ۵۔
خوشی کی بات ہے کہ پوری دُنیا میں ۲۳۰ ممالک کی طرح، اسرائیل میں بھی یہوواہ کے گواہ اپنے پڑوسیوں کو یہوواہ کی بابت صحیح علم حاصل کرنے میں مدد دینے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ اُن کی اُمید ہے کہ ابھی اَور زیادہ لوگ زبور ۹۱:۱۴ جیسے صحائف کے مطلب کی قدرافزائی کرنے لگیں گے: ”چونکہ اُس نے مجھ [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] سے دل لگایا ہے اس لئے مَیں اُسے چھڑاؤنگا۔ مَیں اُسے سرفراز کروں گا کیونکہ اُس نے میرا نام پہچانا ہے۔“
[فٹنوٹ]
a مِشنہ صحیفائی شریعت کی حمایت کرنے والی تفسیروں کا مجموعہ ہے جوکہ تانیم کہلانے والے ربیوں (اُستادوں) کی تشریحات پر مبنی ہے۔ اسے دوسری صدی کے آخر اور تیسری صدی س.ع. کے اوائل میں تحریری شکل دی گئی تھی۔
[صفحہ 28 پر تصویر]
نجب میں یہوواہ کے لوگ اُسکے نام اور اُسکے کلام کا چرچا کر رہے ہیں
[صفحہ 29 پر تصویر]
پوسٹر جس میں الہٰی نام نظر آ رہا ہے