انتہائی غربت سے عظیم برکات
مینول ڈی زوزش المیڈا کی زبانی
میری پیدائش ۱۷ بچوں کے بعد، اکتوبر ۱۹۱۶ میں ہوئی۔ میرے نو بڑے بہن بھائی بیماری اور خوراک کی کمی کے باعث وفات پا چکے تھے چنانچہ مَیں اُن کی بابت کچھ نہیں جانتا۔ باقی ہم آٹھ، پورٹو، پُرتگال کے قریب ایک چھوٹے سے گاؤں میں اپنے والدین کیساتھ رہتے تھے۔
ہمارا معمولی سا گھر ایک چھوٹی سی بیٹھک اور ایک بیڈروم پر مشتمل تھا۔ پینے کا پانی تقریباً نصف کلومیٹر پر واقع ایک کنوئیں سے حاصل کِیا جاتا تھا اور کھانا پکانے کی سہولیات بڑی سادہ تھیں۔
جونہی میرے بڑے بھائی کچھ جوان ہوئے تو اُنہوں نے کھیتوں میں کام کرنا شروع کر دیا۔ اُنکی کمائی سے خاندان کیلئے کچھ خوراک مہیا ہو جاتی تھی۔ اُن ہی کی بدولت مَیں، خاندان کا واحد لڑکا، کچھ تعلیم حاصل کرنے کے قابل ہوا تھا۔ اگرچہ ہماری زندگی نہایت کٹھن تھی تو بھی ہم اس اُمید پر کیتھولک چرچ کے بہت زیادہ وفادار تھے کہ ایسا کرنا کسی نہ کسی طرح ہماری زندگیوں کیلئے اچھا ثابت ہوگا۔
مئی کے مہینے کے دوران، چرچ کا نووینا ہوتا تھا۔ مسلسل نو دن تک ہم صبحسویرے چرچ روانہ ہو جاتے تھے۔ وہاں ہم اس یقین کیساتھ دُعا کرتے تھے کہ اس سے خدا کی طرف سے برکت حاصل ہوگی۔ ہم پادری کو خدا کا نمائندہ اور ایک مقدس شخص خیال کرتے تھے۔ تاہم، وقت کیساتھ ساتھ ہمارا نظریہ تبدیل ہوگیا۔
کسی بہتر چیز کی تلاش
جب ہم چرچ کا ٹیکس ادا نہ کر پاتے تو پادری انتہائی مالی مشکلات کے باوجود کسی قسم کی مدد نہ کرتا۔ اس چیز نے ہمیں بےحوصلہ کر دیا۔ چرچ کی بابت میرے تاثرات یکسر تبدیل ہو گئے، لہٰذا جب مَیں ۱۸ برس کا ہوا تو مَیں نے کھیتوں میں کام کرنے اور چرچ اراکین کیساتھ جھگڑنے کی بجائے کسی بہتر چیز کی تلاش میں اپنے خاندان سے دُور جانے کا فیصلہ کر لیا۔ مَیں ۱۹۳۶ میں پُرتگال کے داراُلحکومت، لزبن پہنچ گیا۔
وہاں میری ملاقات ایڈمینیا سے ہوئی۔ مذہب سے فریبخوردہ محسوس کرنے کے باوجود رسمورواج کی پیروی کرتے ہوئے ہم نے کیتھولک چرچ میں شادی کر لی۔ اس کے بعد ۱۹۳۹ میں، دوسری عالمی جنگ شروع ہو گئی۔ جنگ کے دوران، مَیں ۱۸ گوداموں کا انچارج تھا اور ہم لوگ ایک دن میں جنگی سامان سے بھرے ہوئے تقریباً ۱۲۵ ٹرک روانہ کرتے تھے۔
جنگ کی سفاکیوں اور ان میں کیتھولک چرچ کی شمولیت نے مجھے بڑا متاثر کِیا۔ مَیں سوچتا تھا، ’کیا خدا واقعی انسانوں کی پرواہ کرتا ہے؟ ہمیں اُسکی پرستش کیسے کرنی چاہئے؟‘ سالوں بعد، ۱۹۵۴ میں ایک باوقار، عمررسیدہ یہوواہ کے گواہ نے ان سوالات کی بابت مجھ سے گفتگو کی۔ اس گفتگو نے میری ساری زندگی کو بدل کر رکھ دیا۔
بائبل کی اُمید سے خوش ہونا
اس مہربان شخص جوشوعا نے مجھے بتایا کہ خدا کی بادشاہت ہی دُنیا کے مسائل کا واحد حل ہے اور صرف بادشاہتی حکمرانی کے ذریعے ہی امنوسلامتی آئے گی۔ (متی ۶:۹، ۱۰؛ ۲۴:۱۴) اُس کی باتیں سن کر مجھے بہت خوشی ہوئی، تاہم مذہب کی بابت اپنے گزشتہ تجربے کی بِنا پر مَیں اُس کی وضاحتوں کو تسلیم کرنے سے ہچکچا رہا تھا۔ جب اُس نے میرے ساتھ بائبل مطالعہ کرنے کی پیشکش کی تو مَیں اس شرط پر رضامند ہو گیا کہ وہ پیسے نہیں مانگے گا اور سیاست کی بابت گفتگو نہیں کرے گا۔ وہ مان گیا اور مجھے اس بات کی یقیندہانی کرائی کہ اُس کی پیشکش مُفت ہے۔—مکاشفہ ۲۲:۱۷۔
جلد ہی مَیں جوشوعا پر اعتماد کرنے لگا۔ پس مَیں نے اُس سے وہ چیز مانگی جس کی مجھے جوانی سے بڑی تمنا تھی۔ ”کیا یہ ممکن ہے کہ میرے پاس میری اپنی بائبل ہو؟“ اسے حاصل کرنے کے بعد، مَیں زندگی میں پہلی بار اپنے خالق کے کلام سے اس طرح کے وعدوں کی بابت پڑھ کر کتنا زیادہ خوش تھا: ”خدا آپ اُن کے ساتھ رہے گا اور اُن کا خدا ہوگا۔ اور وہ اُن کی آنکھوں کے سب آنسو پونچھ دے گا۔ اِس کے بعد نہ موت رہے گی اور نہ ماتم رہے گا۔ نہ آہونالہ نہ درد۔ پہلی چیزیں جاتی رہیں“!—مکاشفہ ۲۱:۳، ۴۔
بالخصوص، غربت اور بیماری کو ختم کرنے سے متعلق بائبل کے وعدے میرے لئے نہایت تسلیبخش تھے۔ وفادار آدمی الیہو نے خدا کی بابت کہا تھا: ”[وہ] خوراک افراط سے عطا فرماتا ہے۔“ (ایوب ۳۶:۳۱) نیز خدا کی بادشاہت کی راست حکمرانی کے تحت، بائبل بیان کرتی ہے کہ ”وہاں کے باشندوں میں بھی کوئی نہ کہیگا کہ مَیں بیمار ہوں۔“ (یسعیاہ ۳۳:۲۴) یہوواہ خدا نوعِانسان میں کتنی پُرمحبت دلچسپی رکھتا ہے! اُس کے وعدوں میں میری دلچسپی کسقدر زیادہ ہو گئی تھی!
اپریل ۱۷، ۱۹۵۴ میں، مَیں یہوواہ کے گواہوں کے پہلے اجلاس پر حاضر ہوا۔ یہ ایک خاص اجلاس تھا—مسیح کی موت کی یادگار کی تقریب۔ اُس وقت سے مَیں اجلاسوں پر باقاعدہ حاضر ہونے لگا۔ جلد ہی مَیں نے وہ اچھی باتیں دوسروں کو بھی بتانا شروع کر دیں جو مَیں سیکھ رہا تھا۔ اُن دنوں پُرتگال میں، ہم ہر مہینے ساحل پر پکنک منانے جاتے تھے اور اسکے بعد بپتسمے ہوتے تھے۔ جوشوعا کیساتھ ابتدائی باتچیت کرنے کے سات مہینے بعد، مَیں نے یہوواہ خدا کیلئے اپنی مخصوصیت کی اور پانی میں بپتسمہ لے کر اسکا اظہار کِیا۔
سن ۱۹۵۴ کے اوائل میں، پُرتگال میں کوئی ایک سو گواہ تھے۔ پس مُنادی کے کام میں پیشوائی کرنے کیلئے آدمیوں کی سخت ضرورت تھی۔ مَیں نے بڑی تیزی کے ساتھ روحانی ترقی کی اور جلد ہی مجھے کلیسیا کے اندر ذمہداریاں سونپ دی گئیں۔ سن ۱۹۵۶ میں، لزبن میں یہوواہ کے گواہوں کی دوسری کلیسیا میں کلیسیائی خادم کے طور پر میری تقرری ہوئی، اُس وقت صدارتی نگہبان کو کلیسیائی خادم کہا جاتا تھا۔ آجکل اُس شہر اور اُسکے گردونواح میں ایک سو سے زیادہ کلیسیائیں ہیں۔
مہماننوازی دکھانے سے مستفید ہونا
میری اور ایڈمینیا کی مالی حالت اگرچہ زیادہ اچھی نہیں تھی، توبھی ہمارا دروازہ ہمارے مسیحی بھائیوں کیلئے ہمیشہ کھلا رہتا تھا۔ سن ۱۹۵۵ میں، ایک پائنیر نے جیسےکہ یہوواہ کے گواہوں کے کُلوقتی مبشر کہلاتے ہیں، برازیل میں اپنے گھر سے جرمنی میں ”فاتح بادشاہت“ انٹرنیشنل کنونشن پر جاتے ہوئے پُرتگال میں قیام کِیا۔ آمدورفت کے مسائل کی وجہ سے، اُس نے ایک مہینے کیلئے ہمارے گھر میں قیام کِیا اور ہم نے اُس کے دَورے سے روحانی طور پر بہت زیادہ استفادہ کِیا!
اُس وقت ہمارے گھر آنے والے مہمانوں میں بروکلن، نیو یارک میں یہوواہ کے گواہوں کے ہیڈکواٹرز فیملی کے ممبران، ہیوگو ریمر اور اُسی کے کمرے میں رہنے والا چارلس ایکر شامل تھے۔ اُنہوں نے ہمارے ساتھ کھانا کھایا اور پُرتگالی بھائیوں کو تقاریر پیش کیں۔ انڈوں سے نکل کر چونچیں کھولے ہوئے چوزوں کی طرح ہم ان اشخاص کی طرف سے فراہمکردہ رسیلے روحانی لقموں کے منتظر رہتے تھے۔
یہوواہ کے گواہوں کے سفری نگہبان بھی اپنے دَوروں کے دوران ہمارے گھر میں قیام کرتے تھے۔ سن ۱۹۵۷ میں ایک یادگار مہمان، مراکش کا برانچ اوورسیئر، الوارو بریکوچا تھا جسے بھائیوں کی حوصلہافزائی کرنے کیلئے پُرتگال کا دَورہ کرنے کی تفویض دی گئی تھی۔ اُس نے ہمارے گھر میں کتابی مطالعہ میں شرکت کی اور ہم نے اصرار کِیا کہ وہ پُرتگال میں اپنے باقی وقت کے دوران ہمارے ساتھ قیام کرے۔ اُس کے ایک ماہ کے دَورے سے ہم بکثرت روحانی برکات حاصل کرنے سے خوب آسودہ ہوئے جبکہ میری بیوی ایڈمینیا کے ہاتھ کے بنے ہوئے عمدہ کھانوں کی وجہ سے الوارو جسمانی طور پر موٹا ہو گیا۔
انتہائی غربت، جسکا مَیں نے بچپن میں تجربہ کِیا تھا، کسی شخص پر گہرا اثر چھوڑ سکتی ہے۔ تاہم، مَیں اس بات کو سمجھنے لگا کہ جتنا زیادہ ہم یہوواہ اور اُسکے وفادار خادموں کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اُتنا ہی زیادہ وہ ہمیں برکت دیتا ہے۔ جب ہم نے بارہا زیادہ سے زیادہ لوگوں کیلئے مہماننوازی دکھائی تو یہ حقیقت مجھ پر اَور بھی زیادہ واضح ہوگئی تھی۔
سن ۱۹۵۵ میں، پورٹو میں ہمارے کنونشن پر ۱۹۵۸ میں نیو یارک شہر میں یانکی سٹڈیم میں منعقد ہونے والے یہوواہ کے گواہوں کے انٹرنیشنل کنونشن کی بابت اعلان کِیا گیا۔ پُرتگالی مندوبین کو کنونشن پر بھیجنے کے لئے مالی مدد کرنے کی غرض سے مُلک کے اندر ہر کنگڈم ہال میں—جو اُسوقت تعداد میں بہت کم تھے—عطیے کا ایک بکس رکھا گیا۔ جب مجھے اور میری اہلیہ کو ان مندوبین میں منتخب کِیا گیا تو کیا آپ ہماری خوشی کا اندازہ لگا سکتے ہیں؟ جب ہم کنونشن کے لئے ریاستہائےمتحدہ میں تھے تو بروکلن میں یہوواہ کے گواہوں کے عالمی ہیڈکواٹرز کا دَورہ کرنا کسقدر ہیجانخیز تھا!
اذیت برداشت کرنا
سن ۱۹۶۲ میں، پُرتگال کے اندر یہوواہ کے گواہوں کے کام پر پابندی لگا دی گئی اور ایرک برٹن، ڈومنک پیکون، ایرک بیوریج اور اُن کی بیویوں سمیت تمام مشنریوں کو مُلک سے نکال دیا گیا۔ بعدازاں، ہمیں اپنے کنگڈم ہالوں میں اجلاس منعقد کرنے کی اجازت نہیں تھی، لہٰذا، ہم خفیہ طور پر ذاتی گھروں میں اجلاس منعقد کرتے تھے؛ پُرتگال میں بڑی کنونشنیں منعقد کرنا بھی ممکن نہیں تھا۔ لہٰذا، اب میری یہ ذمہداری تھی کہ اپنے مسیحی بہنبھائیوں کے لئے دیگر ممالک میں ایسی کنونشنوں پر حاضر ہونے کے لئے سواری کا بندوبست کروں۔
گواہوں کی بڑی تعداد کیلئے دیگر ممالک کا سفر کرنے کا بندوبست کرنا اتنا آسان نہیں تھا۔ تاہم، اُن شاندار روحانی فوائد پر غور کرتے ہوئے جو پُرتگالی بھائیوں کو حاصل ہوتے تھے یہ کوشش نہایت مفید ثابت ہوئی تھی۔ سوئٹزرلینڈ، انگلینڈ، اٹلی، اور فرانس میں ان کونشنوں پر حاضر ہونا ان کیلئے کسقدر حوصلہافزا تجربہ تھا! ان کنونشنوں سے اُنہیں مُلک میں لٹریچر لانے کا موقع بھی حاصل ہوا۔ ان سالوں کے دوران، ہم نے پُرتگال میں مذہبی تنظیم کے طور پر رجسٹرڈ ہونے کیلئے بیشمار درخواستیں دیں تاہم ان تمام درخواستوں کو مسترد کر دیا گیا۔
سن ۱۹۶۲ کے اوائل میں مشنریوں کے نکال دئے جانے کے بعد، خفیہ پولیس نے ہمارے مُنادی کے کام کو بند کرنے کی مہم تیز کر دی۔ ہمارے بہت سے بہنبھائیوں کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کِیا گیا۔ ان واقعات میں سے کئی ایک کے بارے میں اس جریدے اور اسکے ساتھی رسالے، جاگو! میں دستاویزی رپورٹیں شائع ہو چکی ہیں۔a
مُنادی کے سلسلے میں گرفتار کئے جانے والوں میں ایک پائنیر ایسا تھا جسے مَیں نے خدا کی بادشاہت کی خوشخبری سے متعارف کروایا تھا۔ پولیس کو اُسکی چیزوں میں میرا پتہ مل جانے کی وجہ سے مجھے بھی بلا کر تفتیش کی گئی۔
بعدازاں، پولیس کے دو ایجنٹ میرے گھر بھی آئے۔ اُنہوں نے میری بائبل مطالعے کی امدادی کتابیں نیز بائبل کی ۱۳ کاپیاں ضبط کر لیں۔ ہمارے گھر کی تلاشی لینے کیلئے وہ سات مختلف مواقع پر ہمارے گھر آئے اور ہمیں خوفزدہ کرتے رہے۔ ہر مرتبہ وہ ہم پر سوالات کی بوچھاڑ کر دیتے تھے۔
کئی مرتبہ مجھے ساتھی گواہوں کی تصدیق کے لئے عدالتی مقدمات میں طلب کِیا گیا۔ اگرچہ مَیں نے زیادہ دُنیاوی تعلیم تو حاصل نہیں کی تھی، تاہم یہوواہ نے مجھے ایسی حکمت عطا کی تھی کہ ’تمام مخالفین ملکر بھی مزاحمت یا مباحثہ کرنے کے قابل نہ تھے۔‘ (لوقا ۲۱:۱۵) ایک مرتبہ تو ایک جج میری گواہی سے اتنا حیران رہ گیا کہ اُس نے مجھ سے پوچھا کہ مَیں نے کتنی تعلیم حاصل کی ہے۔ جب مَیں نے کہا کہ مَیں نے صرف چار جماعتیں پاس کی ہیں تو کمرۂعدالت میں موجود سب لوگ ہنس پڑے۔
اذیت بڑھنے کیساتھ ساتھ بادشاہتی پیغام کیلئے مثبت جوابیعمل دکھانے والوں میں بھی اضافہ ہوتا گیا۔ پس، ۱۹۶۲ میں پُرتگال میں محض ۱۳۰۰ گواہ بڑھ کر ۱۹۷۴ میں ۱۳،۰۰۰ کی تعداد کو پہنچ گئے! اسی اثنا میں، مئی ۱۹۶۷ میں، مجھے سفری نگہبان کے طور پر خدمت انجام دینے کی دعوت دی گئی۔ اس کام میں، مَیں نے یہوواہ کے گواہوں کی کلیسیاؤں کو روحانی طور پر مضبوط کرنے کیلئے اُنکا دَورہ کِیا۔
سب سے بڑی دولت سے لطف اُٹھانا
دسمبر ۱۹۷۴ میں، مجھے رجسٹریشن کروانے کے اُس کام میں شریک ہونے کا شرف حاصل ہوا جس نے پُرتگال میں یہوواہ کے گواہوں کے کام کو قانونی بنا دیا۔ اگلے سال مَیں اور میری بیوی اسٹورل میں یہوواہ کے گواہوں کے بیتایل خاندان کے رُکن بن گئے۔ نیز پُرتگال کی برانچ کمیٹی کے رُکن کے طور پر خدمت انجام دینے کیلئے میری تقرری ہوگئی۔
پُرتگال اور ہماری برانچ کے زیرِنگرانی علاقوں میں مُنادی کے کام کو ترقی کرتے دیکھنا کسقدر خوشی کی بات ہے! ان میں انگولا، ازورس، کیپ ورڈے، میڈیرا اور ساؤ ٹومے اور پرنسپا شامل ہیں۔ کئی سالوں سے پُرتگال سے بھیجے گئے مشنریوں کو ان ممالک میں خدمت کرتے دیکھنا جہاں بادشاہتی پیغام کیلئے بہت زیادہ دلچسپی دکھائی گئی ہے، نہایت خوشی کا باعث رہا ہے۔ ذرا تصور کریں کہ اب ان علاقوں میں ۸۸،۰۰۰ بادشاہتی مُنادوں کو دیکھنا کسقدر خوشی کا باعث ہوگا جن میں سے صرف پُرتگال میں ۴۷،۰۰۰ سے زیادہ مُناد ہیں! ان ممالک کے اندر ۱۹۹۸ میں میموریل کی حاضری ۲،۴۵،۰۰۰ تھی جبکہ ۱۹۵۴ میں جب مَیں گواہ بنا تھا تو یہی حاضری ۲۰۰ سے بھی کم تھی۔
مَیں اور ایڈمینیا پوری طرح سے بائبل زبورنویس کیساتھ متفق ہیں جس نے کہا تھا کہ ”[یہوواہ کی] بارگاہوں میں ایک دن ہزار سے بہتر ہے۔“ (زبور ۸۴:۱۰) جب مَیں ماضی میں اپنی ادنیٰ ابتدا پر نظر ڈالتا ہوں اور اسکا موازنہ اُن روحانی برکات کیساتھ کرتا ہوں جن سے مَیں اب تک مستفید ہو چکا ہوں تو مَیں یسعیاہ نبی کی طرح محسوس کرتا ہوں: ”اَے خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] خدا تُو میرا خدا ہے۔ مَیں تیری تمجید کرونگا۔ تیرے نام کی ستایش کرونگا کیونکہ تُو نے عجیب کام کئے ہیں۔ . . . کیونکہ تُو مسکین کے لئے قلعہ . . . ہوا۔“—یسعیاہ ۲۵:۱، ۴۔
[فٹنوٹ]
a مئی ۲۲، ۱۹۶۴ کے اویک! کے صفحات ۸-۱۶، اور اکتوبر ۱، ۱۹۶۶ کے دی واچٹاور کے صفحات ۵۸۱-۵۹۲ کو دیکھیں۔
[صفحہ 24 پر تصویریں]
اُوپر: لزبن میں بھائی المیڈا، ۱۹۵۸ میں نیو یارک کنونشن کیلئے مندوبین بھیجنے کے بندوبست کا اعلان کرتے ہوئے
وسط میں: پیرس میں ”زمین پر صُلح“ انٹرنیشنل کنونشن پر خادموں کا اجلاس کراتے ہوئے
نیچے: فرانس میں ایک ڈسٹرکٹ کنونشن کیلئے تیار چارٹرڈ بسیں
[صفحہ 25 پر تصویر]
پُرتگال برانچ میں صبح کی پرستش کراتے ہوئے
[صفحہ 25 پر تصویر]
پُرتگال برانچ جسکی مخصوصیت ۱۹۸۸ میں ہوئی
[صفحہ 26 پر تصویر]
جب بروکلن بیتایل سے بھائی ہیوگو ریمر نے دَورہ کِیا تو اُنکی تقاریر نے ہماری حوصلہافزائی کی
[صفحہ 26 پر تصویر]
اپنی اہلیہ کیساتھ