کیا آپکو اپنے نقطۂنظر کو وسیع کرنا چاہئے؟
ایک تباہکُن زلزلے نے مغربی جاپان کے شہر کوبے میں تباہی پھیلا دی اور خودایثاری کا جذبہ رکھنے والے رضاکار فوراً ہی زخمی لوگوں کی مدد کیلئے پہنچ گئے۔ تاہم، دَورہ کرنے والے ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے دیکھا کہ شہر کے ہیلتھ بیورو نے طبّی سامان کیلئے اُنکی درخواست مسترد کر دی ہے۔ وہ افسر جو ایک بڑے مونسپل ہسپتال کا ڈائریکٹر بھی تھا، چاہتا تھا کہ متاثرین کو کوبے کے ہسپتالوں میں لے جانے کی بجائے انہیں مہنگے انجکشن اور وریدوں میں داخل کئے جانے والے مائعجات وہاں امدادی مراکز پر ہی مہیا کئے جائیں۔ بالآخر، ڈاکٹروں کی درخواست منظور کر لی گئی لیکن افسر کے ابتدائی بےلوچ رویے اور بظاہر رحم کی کمی کو وسیع پیمانے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
آپ نے بھی شاید کسی صاحبِاختیار شخص کی ہٹدھرمی کا تجربہ کِیا ہو۔ شاید آپ نے خود بھی اِس کا ارتکاب کِیا ہو۔ کیا آپ ایک وسیع نقطۂنظر اپنانے سے مستفید ہو سکتے ہیں؟
حالات کو پوری طرح سے سمجھیں
مختلف لوگوں کے لئے معاملات کو ایک ہی زاویے سے دیکھنا عام بات ہے اور اس طرح وہ اپنی سمجھ یا بصیرت کو محدود کر لیتے ہیں۔ اس کی وجہ عموماً تعلیم، زندگی کے تجربے اور پسمنظر جیسے عناصر ہوتے ہیں۔ جب ایک شخص پوری صورتحال کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے تو دانشمندانہ فیصلے کئے جا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر آپ ایک مصروف چوراہے سے گزر رہے ہیں جہاں پر کوئی ٹریفک لائٹس نہیں ہیں تو کیا محض سامنے دیکھنا دانشمندانہ ہوگا؟ یقیناً نہیں! اسی طرح، حالات کو پوری طرح سمجھنے کیلئے اپنی سوچ کو وسیع کرنا، فیصلے کرنے اور اُن پر عملپیرا ہونے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ زندگی بچانے والا بھی ہو سکتا ہے۔
یقیناً، ہم سب اس سلسلے میں بہتری پیدا کر سکتے ہیں۔ پس اپنے آپ سے پوچھیں، ’کونسے ایسے حلقے ہیں جن میں اپنی سوچ کو وسیع کرنے سے مجھے فائدہ ہو سکتا ہے؟‘
دوسروں کی بابت آپکا نقطۂنظر
جب آپ دوسروں پر نظر کرتے ہیں تو کیا دیکھتے ہیں؟ کیا دوسرے جوکچھ کرتے یا کہتے ہیں آپ اُسے مختلف زاویوں کی بجائے صرف درست یا غلط کی روشنی میں پرکھنے کا میلان رکھتے ہیں گویا کہ اَور کوئی راستہ ہے ہی نہیں؟ کیا کوئی شخص جو رائے دیتا ہے آپکے نزدیک وہ یا تو صرف تعریف یا پھر تنقید ہی ہے؟ کیا کوئی شخص بالکل صحیح یا بالکل غلط ہے؟ ایسا نقطۂنظر اُس فوٹوگرافر کی مانند ہوگا جو موسمِخزاں کی تصویر میں صرف سیاہوسفید اشیاء کی عکاسی کرتے ہوئے بہت سے شوخ اور گہرے رنگوں کو نظرانداز کر دیتا ہے۔ یا کیا آپ کسی شخص کے منفی خصائل پر توجہ مرتکز رکھنے کا میلان رکھتے ہیں بالکل اُس مسافر کی مانند جو ایک خوبصورت منظر سے محظوظ ہونے کے احساس کو اُس کوڑےکرکٹ سے متاثر ہونے دیتا ہے جو بعض لاپرواہ سیاحوں نے پھیلایا ہے۔—مقابلہ کریں واعظ ۷:۱۶۔
انسانوں کی خطاؤں کی بابت یہوواہ کے نقطۂنظر سے بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے۔ انسان کی کمزوریوں اور ناکامیوں سے واقف ہونے کے باوجود وہ اُن پر توجہ مرکوز رکھنے کا انتخاب نہیں کرتا ہے۔ شکرگزاری دکھانے والے زبورنویس نے بیان کِیا: ”اگر تُو بدکاری کو حساب میں لائے تو اَے [یہوواہ] کون قائم رہ سکے گا؟“ (زبور ۱۳۰:۳) یہوواہ گناہ کو تائب گنہگاروں سے دور کرنے کیلئے تیار ہے، جیہاں وہ شاندار طریقے سے اُنہیں دھو ڈالتا ہے تاکہ وہ اُسکے ساتھ ہمارے رشتے پر اثرانداز نہ ہوں۔ (زبور ۵۱:۱؛ ۱۰۳:۱۲) یہوواہ، بادشاہ داؤد کی بابت کہہ سکتا تھا جو ایک مرتبہ بتسبع کے ساتھ سنگین گناہ کا مرتکب ہوا تھا کہ اُس نے ”اپنے سارے دل سے میری پیروی کی تاکہ فقط وہی کرے جو میری نظر میں ٹھیک تھا۔“ (۱-سلاطین ۱۴:۸) خدا داؤد کی بابت اس طرح کیوں کہہ سکتا تھا؟ اس لئے کہ اُس نے تائب داؤد کی بہتر خوبیوں پر توجہ لگائی۔ اُس نے تمام متعلقہ عناصر پر غور کِیا اور اپنے خادم کیلئے رحم دکھاتے رہنے کا انتخاب کِیا۔
یسوع مسیح نے بھی دوسروں کی غلطیوں کی بابت اس نظریے کی کامل طور پر عکاسی کی۔ (یوحنا ۵:۱۹) جب اُسے اپنے رسولوں کی کمزوریوں کا سامنا کرنا پڑا تو یسوع رحمدل اور فہیم تھا۔ وہ ناکامل انسانوں کی بابت سمجھتا تھا کہ جب ’روح مستعد بھی ہو تو جسم کمزور ہوتا ہے۔‘ (متی ۲۶:۴۱) اس چیز کو ذہن میں رکھتے ہوئے، یسوع اپنے شاگردوں کی کمزوریوں اور غلطیوں سے صبر اور فہم کیساتھ نپٹ سکتا تھا۔ اُس نے اُنکی ناکامیوں پر دھیان دینے کی بجائے اُنکی عمدہ خوبیوں پر توجہ دی۔
ایک موقع پر جب وہ بحث کر رہے تھے کہ اُن میں بڑا کون ہے تو شاگردوں کی درستی کرنے کے بعد یسوع نے مزید کہا: ”مگر تم وہ ہو جو میری آزمایشوں میں برابر میرے ساتھ رہے۔ اور جیسے میرے باپ نے میرے لئے ایک بادشاہی مقرر کی ہے مَیں بھی تمہارے لئے مقرر کرتا ہوں۔ تاکہ میری بادشاہی میں میری میز پر کھاؤ پیو بلکہ تم تخت پر بیٹھ کر اؔسرائیل کے بارہ قبیلوں کا انصاف کرو گے۔“ (لوقا ۲۲:۲۴-۳۰) جیہاں، شاگردوں کی بہت سی کمزوریوں کے باوجود، یسوع نے اپنے لئے اُن کی وفاداری اور محبت کو یاد رکھا۔ (امثال ۱۷:۱۷) یسوع پُراعتماد تھا کہ وہ کیا کر سکتے تھے اور وہ کیا کریں گے، لہٰذا اُس نے اُن کے ساتھ بادشاہتی عہد باندھا۔ جیہاں، ’یسوع اپنے شاگردوں سے آخر تک محبت رکھتا رہا۔‘—یوحنا ۱۳:۱۔
پس اگر کسی کی شخصیت اور غلطیوں سے آپ پریشان ہو جاتے ہیں تو یہوواہ اور یسوع کی مانند بنیں۔ اپنی سوچ کو وسیع کریں اور تمام پہلوؤں پر غور کرنے کی کوشش کریں۔ چیزوں کو مناسب پسمنظر میں دیکھنے سے آپ اپنے بھائیوں سے محبت کرنا اور اُنکی قدر کرنا آسان پائینگے۔
مادی طور پر دینا
دوسروں کو دینے کا شرف اُن خوشیوں میں سے ایک ہے جو مسیحیوں کو عطا کی گئی ہیں۔ تاہم کیا ہمیں دینے کو محض ایک ہی کارگزاری تک محدود رکھنا چاہئے، مثال کے طور پر، میدانی خدمتگزاری میں شرکت کرنا؟ (متی ۲۴:۱۴؛ ۲۸:۱۹، ۲۰) یا کیا آپ دوسروں کی جسمانی ضروریات اور فلاح کو ملحوظِخاطر رکھتے ہوئے اپنی سوچ کو وسیع کر سکتے ہیں؟ بلاشُبہ، تمام مسیحی سمجھتے ہیں کہ روحانی طور پر دینا سب سے اہم ہے۔ (یوحنا ۶:۲۶، ۲۷؛ اعمال ۱:۸) اگرچہ روحانی طور پر دینا اہم ہے توبھی مادی طور دینے کو نظرانداز نہیں کِیا جانا چاہئے۔—یعقوب ۲:۱۵، ۱۶۔
جب ہم اپنی کلیسیا اور پوری دُنیا میں اپنے روحانی بھائیوں کی ضروریات پر توجہ دیتے ہیں تو ہم زیادہ واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں کہ ہم اُنکی مدد کرنے کیلئے کیا کر سکتے ہیں۔ جب بہتر مالی حالات والے اشخاص فیاضی سے دوسروں کو شریک کرتے ہیں تو برابری ہوتی ہے۔ اس طرح ہمارے تمام بھائیوں کی ضروریات کی دیکھبھال ممکن ہوتی ہے۔ ایک مسیحی بزرگ نے اسکا اظہار اسطرح سے کِیا: ”اگر دُنیا کے ایک حصے میں کوئی ضرورت پیدا ہوتی ہے تو دُنیا کے دوسرے حصے میں بھائی اُنکی مدد کو آتے ہیں۔ اگر وہ مدد کرنے کی حالت میں نہیں ہیں تو کسی اَور جگہ کے بھائی ایسا کرتے ہیں۔ یوں دُنیابھر کے بھائیوں کی ضروریات پوری کی جاتی ہیں۔ عالمگیر برادری یقیناً بہت ہی عمدہ ہے۔“—۲-کرنتھیوں ۸:۱۳-۱۵؛ ۱-پطرس ۲:۱۷۔
ایک مسیحی بہن جو مشرقی یورپ میں بینالاقوامی کنونشنوں پر حاضر ہونا چاہتی تھی ایسا کرنے کی حالت میں نہیں تھی۔ تاہم، اُس نے سنا کہ وہاں کے بھائیوں کو بائبلوں کی اشد ضرورت ہے پس اُس نے وہاں حاضر ہونے والے ایک شخص کے ذریعے بائبلوں کیلئے عطیہ بھیجا۔ پس اُس نے غیرملک میں اپنے بھائیوں کو دینے کی خوشی کا تجربہ کِیا۔—اعمال ۲۰:۳۵۔
شاید اپنی سوچ کو وسیع کرنے سے آپ، بائبل کے ہمیشہ بڑھنے والے عالمگیر تعلیمی کام کے لئے زیادہ عطیہ دینے سے اپنے اور دوسروں کے لئے خوشی کا باعث بن رہے ہیں۔—استثنا ۱۵:۷؛ امثال ۱۱:۲۴؛ فلپیوں ۴:۱۴-۱۹۔
مشورت دیتے وقت
جب اصلاح کرنے یا مشورت دینے کیلئے کہا جاتا ہے تو بالحاظ اور محتاط دلائل ہمیں اپنے روحانی بھائیوں کا احترام حاصل کرنے اور حقیقی مؤثر مدد دینے کے قابل بنائیں گے۔ محض چند حقائق پر توجہ دینا اور یکطرفہ اور جلدباز نتیجہ اخذ کر لینا آسان ہے۔ یہ یسوع کے زمانے کے مذہبی راہنماؤں کی طرح ہماری تنگنظری یا یکطرفہ سوچ کا تاثر دیتا ہے جو اپنے لامحدود قوانین دوسروں پر لاد دینے کا میلان رکھتے تھے۔ (متی ۲۳:۲-۴) اس کے برعکس اگر ہم انتہا پسند ہونے سے گریز کرتے ہیں اور صحیفائی اصولوں پر مبنی ٹھوس مشورت پیش کرتے ہیں اور یہوواہ کی راست تاہم متوازن اور رحمدلانہ سوچ کی عکاسی کرتے ہیں تو دوسروں کے لئے ہماری تجاویز کو قبول کرنا اور اُن کا اطلاق کرنا نہایت آسان ہوگا۔
چند سال قبل کھیل میں شرکت کرنے کے لئے مختلف کلیسیاؤں سے بھائی اکٹھے ہوئے۔ بدقسمتی سے، اُن کے درمیان مقابلہبازی کی روح پیدا ہو گئی جو سخت الفاظ کے تبادلے پر منتج ہوئی۔ مقامی بزرگ صورتحال سے کیسے نپٹے؟ نوجوانوں کے لئے تفریح کے مواقع کی ضرورت کو تسلیم کرتے ہوئے، اُنہوں نے اسے ختم کرنے کی تجویز پیش نہیں کی۔ (افسیوں ۵:۱۷؛ ۱-تیمتھیس ۴:۸) اس کی بجائے، اُنہوں نے ٹھوس تاہم معقول آگاہی دی کہ مقابلہبازی کی روح کس چیز پر منتج ہو سکتی ہے۔ اُنہوں نے مفید تجاویز بھی پیش کیں جیسےکہ پُختہ، ذمہدار بھائیوں کا موجود ہونا۔ نوجوانوں نے مشورت کی حکمت اور توازن کی قدر کی اور عمدہ جوابیعمل دکھایا۔ مزیدبرآں، بزرگوں کے لئے اُن کے احترام اور محبت میں اضافہ ہوا۔
اپنی سوچ کو وسیع کرنے کیلئے جدوجہد کریں
اگرچہ آپ قصداً یا دانستہ تو تعصب نہ کریں تاہم اپنی سوچ کو وسیع کرنے کیلئے مستقلمزاجی سے کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔ جب آپ خدا کا کلام پڑھتے ہیں تو اسے سمجھنے اور یہوواہ کے نقطۂنظر کی قدر کرنے کیلئے اس پر غوروخوض کریں۔ (زبور ۱۳۹:۱۷) بائبل میں درج بیانات کی وجوہات اور عائد ہونے والے اصولوں کو سمجھنے کی کوشش کریں اور معاملات کی یہوواہ کے نقطۂنظر سے اہمیت کو جاننے کی کوشش کریں۔ یہ داؤد کی دُعا کی مطابقت میں ہوگا: ”اَے [یہوواہ] اپنی راہیں مجھے دکھا۔ اپنے راستے مجھے بتا دے۔ مجھے اپنی سچائی پر چلا اور تعلیم دے۔کیونکہ تُو میرا نجات دینے والا خدا ہے۔“—زبور ۲۵:۴، ۵۔
جب آپ ایک وسیع نقطۂنظر اختیار کرتے ہیں تو آپ برکت حاصل کرینگے۔ وسیع نقطۂنظر کی ایک برکت آپ کا متوازن اور فہیم شخص کے طور پر شہرت حاصل کرنا ہوگا۔ مختلف معاملات میں مدد فراہم کرتے ہوئے آپ زیادہ معقول اور سمجھدار طریقے سے جوابیعمل دکھانے کے قابل ہونگے۔ نتیجتاً، یہ مسیحی برادری میں شاندار اتحاد اور ہمآہنگی کیلئے ایک اہم کردار ادا کریگا۔
[صفحہ 12 پر تصویریں]
فیاضی سے دینا دوسروں کی مدد کرتا، دینے والے کیلئے خوشی کا باعث بنتا اور ہمارے آسمانی باپ کو خوش کرتا ہے