’اہلِایمان‘ کیلئے محبت
حقیقی مسیحیوں کے اندر خاندان جیسا رشتہ ہوتا ہے۔ درحقیقت، پہلی صدی س.ع. سے لیکر ہی وہ ایک دوسرے کا ”بھائی“ اور ”بہن“ کے طور پر حوالہ دیتے ہیں۔ (مرقس ۳:۳۱-۳۵؛ فلیمون ۱، ۲) یہ محض الفاظ ہی نہیں ہیں؛ وہ اس بات کا مُنہ بولتا ثبوت ہیں کہ خدا کے پرستار ایک دوسرے کی بابت کیسا محسوس کرتے ہیں۔ (مقابلہ کریں ۱-یوحنا ۴:۷، ۸۔) یسوع نے کہا: ”اگر آپس میں محبت رکھو گے تو اس سے سب جانینگے کہ تم میرے شاگرد ہو۔“—یوحنا ۱۳:۳۵۔
جولائی ۱۹۹۷ میں ایسی محبت نمایاں تھی جب چلی میں طویل قحط کے بعد طوفانی بارشیں ہوئیں اور پھر اچانک سیلاب آ گیا۔ جلد ہی، بہتیروں کو خوراک، لباس اور دیگر اشیاء کی ضرورت آن پڑی تھی۔ پریشانکُن حالتوں میں، یہوواہ کے گواہ گلتیوں کے نام پولس کی نصیحت کی پیروی کرنے کی کوشش کرتے ہیں: ”پس جہاں تک موقع ملے سب کے ساتھ نیکی کریں خاص کر اہلِایمان کے ساتھ۔“—گلتیوں ۶:۱۰۔
پس، یہوواہ کے گواہوں نے فوری کارروائی کرنے کے لئے خود کو فوراً منظم کر لیا۔ خوراک، کپڑے اور دیگر ایسی اشیاء جمع کی گئیں اُنہیں چھانٹ کر پیک کِیا گیا اور پھر مصیبتزدہ علاقے کو روانہ کر دیا گیا۔ حتیٰکہ بچوں نے اپنے کھلونے بطور عطیہ پیش کئے! ایک بہن کنگڈم ہال کو امدادی چیزوں سے بھرا ہوا دیکھ کر بہت حیران ہوئی۔ ”مجھ پر سکتہ طاری ہو گیا۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ ہنسوں یا روؤں،“ وہ کہتی ہے۔ ”ہمیں اسی کی ضرورت تھی۔“
پھر، غیرمتوقع طور پر، سیلاب سے متاثرہ علاقے کا کچھ حصہ زلزلے کی زد میں آ گیا۔ بہتیرے مکان ملیامیٹ ہو گئے۔ اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے، مزید امدادی کمیٹیاں تشکیل دی گئیں۔ ریجنل بلڈنگ کمیٹیاں جو عام طور پر یہوواہ کے گواہوں کی پرستش کی جگہوں کی تعمیر کے کام کی دیکھبھال کرتی ہیں، وہ بھی مدد اور حمایت کے لئے آ گئیں۔ نتیجہ؟ اُن سب کو جو اپنے گھر کھو بیٹھے تھے بھائیوں کے ذریعے ڈیزائن اور تعمیرکردہ مناسب گھر فراہم کئے گئے۔ اگرچہ یہ گھر اتنے عالیشان تو نہ تھے تاہم دُنیاوی امدادی ذرائع سے قرضوں پر فراہم کئے جانے والے گھروں کی نسبت بہت نمایاں تھے جو فرش کھڑکیوں اور رنگوروغن سے عاری تھے۔
بعض بھائیوں نے مدد کرنے کیلئے کافی لمبا سفر کِیا۔ ایک ریجنل بلڈنگ کمیٹی کے چیئرمین نے وہیلچیئر تک محدود ہونے کے باوجود دو دن لگاتار متاثرہ علاقے کا دورہ کِیا۔ ایک نابینا بھائی نے مشکل کام سرانجام دیا، وہ شہتیر بڑھئی کے پاس لے جاتا جو اُسے مطلوبہ لمبائی میں کاٹ دیتا تھا۔ ایک بہرا بھائی ان شہتیروں کو اکٹھا کر کے جہاں اُنکی ضرورت تھی وہاں پہنچاتا تھا۔
بہتیرے مشاہدین بھائیوں کی طرف سے فراہم کی جانے والی مدد سے متاثر ہوئے۔ ایک قصبے میں پولیس کی گاڑی ایک بہن کے گھر کے قریب کھڑی تھی اُس گھر کی مرمت کی جا رہی تھی۔ پولیس والے بہت متجسس تھے۔ ایک نے بھائی سے پوچھا: ”یہ کارکن کون ہیں جو بہت خوش نظر آتے ہیں اور انہیں کتنی تنخواہ دی جاتی ہے؟“ بھائی نے وضاحت کی کہ یہ تمام رضاکار ہیں۔ ایک آفیسر نے بیان کِیا کہ وہ ہر مہینے اپنے چرچ کو دہیکی دیتا ہے پھربھی اُسکا پادری زلزلے کے بعد اُس سے ملنے تک نہیں آیا! اگلے دن اُس بہن کو ایک پولیس افسر کی طرف سے ایک فون کال موصول ہوئی۔ اُس نے بھی کارکنوں کا مشاہدہ کِیا تھا۔ اُس نے کہا کہ وہ کارکنوں کا جوشوخروش دیکھ کر اتنا متاثر ہوا کہ وہ اُنکے ساتھ ملکر کام کرنا چاہتا تھا!
واقعی، چلی میں امدادی کارگزاری رضاکاروں کیلئے ایک خوشگوار تجربہ اور مشاہدین کیلئے ایک عمدہ گواہی تھی۔