یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م99 1/‏5 ص.‏ 20-‏24
  • ہوشیاروبیدار رہیں!‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • ہوشیاروبیدار رہیں!‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • پانچ کنواریوں کی طرح ہوشیار رہیں!‏
  • ہوشیار رہیں کیونکہ خاتمہ قریب ہے
  • اُس کی موجودگی کے دوران ہوشیاروبیدار
  • کیا آپ ’‏جاگتے رہیں‘‏ گے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے—2015ء
  • کیا آپ آگاہیوں پر دھیان دے رہے ہیں؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2024ء
  • بے‌وقوف اور سمجھ‌دار کنواریاں
    یسوع مسیح—‏راستہ، سچائی اور زندگی
  • ہم توڑوں کی تمثیل سے کیا سیکھتے ہیں؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے—2015ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
م99 1/‏5 ص.‏ 20-‏24

ہوشیاروبیدار رہیں!‏

‏”‏پس جاگتے رہو کیونکہ تم نہ اُس دن کو جانتے ہو نہ اُس گھڑی کو۔“‏—‏متی ۲۵:‏۱۳‏۔‏

۱.‏ یوحنا رسول کس چیز کا منتظر تھا؟‏

بائبل میں یسوع نے اپنے آخری مکالمے میں وعدہ کِیا:‏ ”‏مَیں جلد آنے والا ہوں۔“‏ اُس کے رسول یوحنا نے جواب دیا:‏ ”‏آمین۔ اَے خداوند یسوؔع آ۔“‏ رسول کو یسوع کے آنے کی بابت کوئی شک نہیں تھا۔ یوحنا اُنہی رسولوں میں سے تھا جنہوں نے یسوع سے پوچھا تھا:‏ ”‏یہ باتیں کب ہوں گی؟ اور تیرے آنے [‏”‏موجودگی،“‏ این‌ڈبلیو]‏ [‏یونانی، پُروضیا]‏ اور دُنیا کے آخر ہونے کا نشان کیا ہوگا؟“‏ مزیدبرآں، یوحنا پُراعتماد طریقے سے یسوع کی آئندہ موجودگی کا منتظر تھا۔—‏مکاشفہ ۲۲:‏۲۰؛‏ متی ۲۴:‏۳‏۔‏

۲.‏ یسوع کی موجودگی کے سلسلے میں، دُنیائے‌مسیحیت کی کلیسیاؤں کی حالت کیا ہے؟‏

۲ آجکل ایسا اعتماد کم ہی ملتا ہے۔ دُنیائے‌مسیحیت کے بہتیرے چرچ یسوع کے ”‏آنے“‏ کی بابت ایک باضابطہ عقیدہ رکھتے ہیں مگر اُن کے ارکان میں سے چند ہی درحقیقت اس کی توقع رکھتے ہیں۔ وہ اپنی زندگی میں اس کی کوئی پرواہ بھی نہیں کرتے۔ کتاب دی پُروضیا ان دی نیو ٹسٹامنٹ بیان کرتی ہے:‏ ”‏چرچ کے ارکان کی زندگی، سوچ اور کام میں پُروضیا کے سلسلے میں اُمید کا ذرا سا بھی مثبت اشارہ نہیں ملتا۔ .‏ .‏ .‏ چرچ کو توبہ اور انجیل کی منادی کے کاموں کو جس احساسِ‌اہمیت کیساتھ پورا کرنا چاہئے وہ اگر بالکل ختم نہیں ہوا تو کمزور ضرور پڑ گیا ہے۔“‏ تاہم سب میں نہیں!‏

۳.‏ (‏ا)‏ سچے مسیحی پُروضیا کی بابت کیسا محسوس کرتے ہیں؟ (‏ب)‏ اب ہمیں بالخصوص کس پر غور کرنا چاہئے؟‏

۳ یسوع کے سچے شاگرد موجودہ بدکار نظام‌اُلعمل کے خاتمے کا اشتیاق سے انتظار کر رہے ہیں۔ وفاداری سے ایسا کرتے ہوئے، ہمیں یسوع کی موجودگی سے وابستہ تمام باتوں کی بابت درست نظریہ رکھنا اور اُس کے مطابق عمل کرنا چاہئے۔ یہ ہمیں ’‏آخر تک برداشت کرنے اور نجات پانے‘‏ کے لائق بنائے گا۔ (‏متی ۲۴:‏۱۳‏)‏ متی ۲۴ اور ۲۵ ابواب کی پیشینگوئی میں یسوع نے دانشمندانہ مشورت پیش کی جس کا ہم اپنے دائمی فائدے کے لئے اطلاق کر سکتے ہیں۔ باب ۲۵ میں ایسی تمثیلیں پائی جاتی ہیں جن سے غالباً آپ واقف ہیں، اس میں ایک دس کنواریوں (‏عقلمند اور بیوقوف کنواریوں)‏ کی بابت ہے اور دوسری توڑوں کی تمثیل ہے۔ (‏متی ۲۵:‏۱-‏۳۰‏)‏ ہم ان تمثیلوں سے کیسے مستفید ہو سکتے ہیں؟‏

پانچ کنواریوں کی طرح ہوشیار رہیں!‏

۴.‏ کنواریوں کی تمثیل کا لبِ‌لباب کیا ہے؟‏

۴ آپ شاید متی ۲۵:‏۱-‏۱۳ میں کنواریوں کی تمثیل کو دوبارہ پڑھنا چاہیں۔ پس‌منظر ایک عظیم‌الشان یہودی شادی کا ہے جس میں دُلہا دُلہن کو بڑی دھوم‌دھام کیساتھ اپنے (‏یا اپنے باپ)‏ کے گھر لانے کیلئے اُسکے باپ کے گھر جاتا ہے۔ ایسے جلوس میں موسیقار اور گویے ہو سکتے تھے اور اسکی آمد کا ٹھیک وقت معلوم نہیں ہوتا تھا۔ تمثیل میں، دس کنواریاں رات کے وقت دُلہے کی آمد کا انتظار کرتی ہیں۔ پانچ بیوقوفی کا مظاہرہ کرتی ہیں اور اپنے ساتھ چراغوں کیلئے کافی تیل نہیں لاتیں جس کی وجہ سے اُنہیں اَور خریدنے کیلئے جانا پڑتا ہے۔ دیگر پانچ عقلمندی سے اپنی کپیوں میں اضافی تیل لاتی ہیں تاکہ انتظار کے دوران بوقتِ‌ضرورت وہ اپنے چراغوں کو دوبارہ بھر سکیں۔ جب دُلہا پہنچتا ہے تو صرف یہی پانچ تیار ہوتی ہیں۔ لہٰذا، صرف انہی کو ضیافت میں داخل ہونے کی اجازت ملتی ہے۔ جب پانچ بیوقوف کنواریاں واپس آتی ہیں تو بہت زیادہ تاخیر کے باعث وہ داخل نہیں ہو پاتیں۔‏

۵.‏ کونسے صحائف کنواریوں کی تمثیل کے علامتی مفہوم پر روشنی ڈالتے ہیں؟‏

۵ اس تمثیل کے بیشتر پہلوؤں کو علامتی سمجھا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، صحائف یسوع کا ایک دُلہے کے طور پر ذکر کرتے ہیں۔ (‏یوحنا ۳:‏۲۸-‏۳۰‏)‏ یسوع نے خود کو ایک بادشاہ کے بیٹے سے تشبِیہ دی جس کے لئے شادی کی ضیافت تیار کی گئی تھی۔ (‏متی ۲۲:‏۱-‏۱۴‏)‏ اسی طرح سے بائبل مسیح کو ایک شوہر سے بھی تشبِیہ دیتی ہے۔ (‏افسیوں ۵:‏۲۳‏)‏ دلچسپی کی بات ہے کہ اگرچہ دیگر جگہوں پر ممسوح مسیحیوں کو ”‏دُلہن“‏ کہا گیا ہے مگر اس تمثیل میں دُلہن کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ (‏یوحنا ۳:‏۲۹؛‏ مکاشفہ ۱۹:‏۷؛‏ ۲۱:‏۲،‏ ۹‏)‏ تاہم، یہ دس کنواریوں کا ذکر ضرور کرتی ہے اور ممسوحوں کو دیگر جگہوں پر ایک کنواری سے تشبِیہ دی گئی ہے جسکی مسیح کیساتھ نسبت ہو چکی ہے۔—‏۲-‏کرنتھیوں ۱۱:‏۲‏۔‏a

۶.‏ کنواریوں کی تمثیل کے اختتام پر یسوع نے کیا نصیحت کی؟‏

۶ ایسی تفصیلات اور کسی بھی نبوّتی مفہوم کے علاوہ، ہم اس تمثیل سے یقیناً عمدہ اصول سیکھ سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، غور فرمائیں کہ یسوع نے اسے ان الفاظ کیساتھ ختم کِیا:‏ ”‏پس جاگتے رہو کیونکہ تم نہ اُس دن کو جانتے ہو نہ اُس گھڑی کو۔“‏ پس تمثیل ہم سب کیلئے ہوشیار رہنے کی ضرورت کو اُجاگر کرتی ہے تاکہ ہم اس بدکار نظام‌العمل کے قریبی خاتمے سے خبردار رہ سکیں۔ خاتمہ بِلاشُبہ آنے والا ہے اگرچہ ہم اسکی تاریخ کا تعیّن نہیں کر سکتے۔ اس سلسلے میں، کنواریوں کے دو گروہوں کے ظاہرکردہ رُجحانات پر غور کیجئے۔‏

۷.‏ تمثیل میں پانچ کنواریاں کس لحاظ سے بیوقوف ثابت ہوئیں؟‏

۷ یسوع نے کہا:‏ ”‏اُن میں پانچ بیوقوف .‏ .‏ .‏ تھیں۔“‏ کیا اس کی وجہ یہ تھی کہ اُنہیں دُلہا کے آنے کا یقین نہیں تھا؟ کیا وہ عیش‌وعشرت کے حصول میں مگن تھیں؟ یا کیا وہ فریب‌خوردہ تھیں؟ ان میں سے کوئی بھی بات نہیں تھی۔ یسوع نے کہا کہ یہ پانچ ”‏دُلہا کے استقبال کو نکلیں۔“‏ اُنہیں معلوم تھا کہ وہ آ رہا ہے اور وہ اس کے ساتھ ”‏شادی کے جشن“‏ میں شریک ہونا چاہتی تھیں۔ تاہم، کیا وہ اس کے لئے پوری طرح تیار تھیں؟ اُنہوں نے ”‏آدھی رات“‏ تک تو اُس کا انتظار کِیا لیکن وہ کسی بھی وقت اُس کی آمد کے لئے تیار نہ تھیں—‏خواہ اُن کی ابتدائی توقع کی نسبت جلدی یا دیر سے تھی۔‏

۸.‏ تمثیل کی پانچ کنواریاں عقلمند کیسے ثابت ہوئیں؟‏

۸ دیگر پانچ بھی—‏جنہیں یسوع عقلمند کہتا ہے—‏دُلہے کی آمد کی توقع میں روشن چراغ لئے ہوئے استقبال کو نکلتی ہیں۔ اُنہیں بھی انتظار کرنا پڑا تھا مگر وہ ”‏عقلمند“‏ تھیں۔ جس یونانی لفظ کا ترجمہ ”‏عقلمند“‏ کِیا گیا ہے وہ ”‏ہوشیار، فہیم، عملی طور پر دانا“‏ ہونے کا مفہوم پیش کرتا ہے۔ ان پانچوں نے اپنی کپیوں میں اضافی تیل لانے سے عقلمندی کا ثبوت دیا تاکہ بوقتِ‌ضرورت اپنے چراغوں کو دوبارہ بھر سکیں۔ دراصل، وہ دُلہے کیلئے اس حد تک تیار رہنا چاہتی تھیں کہ وہ اپنے تیل میں سے کسی کو دینے کیلئے تیار نہیں تھیں۔ ایسی ہوشیاری نامناسب نہیں تھی جیساکہ اُنکے وہاں موجود ہونے اور دُلہے کی آمد کے وقت بالکل تیار ہونے سے ظاہر ہوتا ہے۔ یہ ‏”‏جو تیار تھیں .‏ .‏ .‏ اُسکے ساتھ شادی کے جشن میں اندر چلی گئیں اور دروازہ بند ہو گیا۔“‏

۹، ۱۰.‏ کنواریوں کی تمثیل کا بنیادی نکتہ کِیا ہے اور ہمیں خود سے کیا سوال پوچھنے چاہئیں؟‏

۹ یسوع جشنِ‌عروسی کے آداب‌واطوار کا درس نہیں دے رہا تھا، نہ ہی وہ دوسروں کو اپنی چیزوں میں شریک کرنے کا مشورہ دے رہا تھا۔ اُسکا نکتہ یہ تھا:‏ ”‏پس جاگتے رہو کیونکہ تم نہ اُس دن کو جانتے ہو نہ اُس گھڑی کو۔“‏ خود سے پوچھیں، ’‏کیا مَیں یسوع کی موجودگی کے سلسلے میں واقعی ہوشیار ہوں؟‘‏ ہمارا ایمان ہے کہ اب یسوع آسمان میں حکمرانی کر رہا ہے لیکن ہم اس حقیقت پر کسقدر دھیان دیتے ہیں کہ ’‏ابنِ‌آدم جلد ہی بڑی قدرت اور جلال کے سا تھ آسمان کے بادلوں پر آئے گا‘‏؟ (‏متی ۲۴:‏۳۰‏)‏ ”‏آدھی رات“‏ کے وقت دُلہے کی آمد شروع میں اُس سے ملنے کیلئے کنواریوں کے باہر جانے کی نسبت واقعی قریب تھی۔ اسی طرح، جب ہم ابنِ‌آدم کے آنے کا انتظار کرنے لگے تھے اُسکی نسبت موجودہ بدکار نظام کو تباہ کرنے کیلئے اُسکا آنا بہت قریب ہے۔ (‏رومیوں ۱۳:‏۱۱-‏۱۴‏)‏ جب وہ وقت قریب آتا ہے تو کیا ہم پہلے سے زیادہ بیدار رہنے سے اپنی ہوشیاری کے جذبے کو قائم رکھے ہوئے ہیں؟‏

۱۰ ”‏جاگتے رہو“‏ کے حکم کی تعمیل کرنا مستقل ہوشیار رہنے کا تقاضا کرتا ہے۔ پانچ کنواریوں کا تیل ختم ہو جاتا ہے لہٰذا وہ اَور خریدنے کے لئے چلی جاتی ہیں۔ ایک مسیحی آجکل بھی ایسے ہی انتشارِخیال میں پڑ سکتا ہے کہ وہ یسوع کی قریبی آمد کے لئے بالکل تیار نہ ہو۔ پہلی صدی کے بعض مسیحیوں کے ساتھ ایسا ہی واقع ہوا تھا۔ آجکل بھی بعض کے ساتھ ایسا ہو سکتا ہے۔ لہٰذا ہمیں خود سے پوچھنا چاہئے، ’‏کیا میرے ساتھ بھی ایسا ہو رہا ہے؟‘‏—‏۱-‏تھسلنیکیوں ۵:‏۶-‏۸؛‏ عبرانیوں ۲:‏۱؛‏ ۳:‏۱۲؛‏ ۱۲:‏۳؛‏ مکاشفہ ۱۶:‏۱۵‏۔‏

ہوشیار رہیں کیونکہ خاتمہ قریب ہے

۱۱.‏ اِسکے بعد یسوع کیا تمثیل پیش کرتا ہے اور یہ کس کے مشابہ تھی؟‏

۱۱ اپنی اگلی تمثیل میں یسوع اپنے پیروکاروں کو ہوشیار رہنے سے زیادہ کی تاکید کرتا ہے۔ عقلمند اور بیوقوف کنواریوں کی بابت بتانے کے بعد اُس نے توڑوں کی تمثیل پیش کی۔ (‏پڑھیں متی ۲۵:‏۱۴-‏۳۰‏۔)‏ کئی لحاظ سے یہ پہلے پیش کی گئی اشرفیوں کی تمثیل کے مشابہ ہے جو یسوع نے اسلئے بیان کی کہ بہتیرے ”‏گمان کرتے تھے کہ خدا کی بادشاہی ابھی ظاہر ہؤا چاہتی ہے۔“‏—‏لوقا ۱۹:‏۱۱-‏۲۷‏۔‏

۱۲.‏ توڑوں کی تمثیل کا لبِ‌لباب کیا ہے؟‏

۱۲ توڑوں کی تمثیل میں، یسوع نے ایک آدمی کا ذکر کِیا جو دوردراز کا سفر کرنے سے پہلے اپنے تین نوکروں کو بلا‌تا ہے۔ ایک کو وہ پانچ توڑے دیتا ہے، دوسرے کو دو اور آخری کو صرف ایک—‏”‏ہر ایک کو اُس کی لیاقت کے مطابق۔“‏ غالباً، یہ ایک چاندی کا توڑا ہوتا تھا جو اُس وقت ایک مزدور کی ۱۴ سال کی کمائی کے برابر معیاری رقم تھی—‏بہت سارا پیسہ!‏ جب وہ آدمی واپس آیا تو یہ جاننے کے لئے نوکروں کو طلب کِیا کہ اُنہوں نے اُس ”‏بڑی مدت“‏ کے دوران کیا کِیا جب وہ گیا ہوا تھا۔ پہلے دو نوکروں کو جوکچھ سونپا گیا تھا اُنہوں نے اُس کا دُگنا کمایا۔ اُس نے کہا ”‏شاباش“‏ اور پھر ہر ایک کو مزید ذمہ‌داری سونپنے کا وعدہ کرتے ہوئے یہ فیصلہ سنایا:‏ ”‏اپنے مالک کی خوشی میں شریک ہو۔“‏ یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ اُس کا مالک نہایت متقاضی ہے، ایک توڑے والے نوکر نے اُس توڑے سے کوئی نفع‌بخش کام نہ کِیا۔ اُس نے تو پیسے کو سود کمانے کے لئے ساہوکاروں کے پاس بھی نہ رکھا بلکہ اُسے چھپا دیا۔ مالک نے اُسے ”‏شریر اور سُست“‏ کہا کیونکہ اُس نے اپنے مالک کے مفادات کے خلاف کام کِیا تھا۔ نتیجتاً، توڑا اُس سے چھین لیا گیا اور اُسے باہر اندھیرے میں ڈال دیا گیا جہاں ”‏رونا اور دانت پیسنا“‏ ہوگا۔‏

۱۳.‏ یسوع تمثیل میں مالک کی مانند کیسے ثابت ہوا؟‏

۱۳ ایک بار پھر، اس کی تفصیلات کو علامتی مفہوم میں ہی سمجھا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، دوردراز کا سفر کرنے والا آدمی، یسوع کی عکاسی کرتا ہے جو اپنے شاگردوں کو چھوڑ کر آسمان پر جائیگا اور شاہانہ اختیار حاصل کرنے سے قبل طویل عرصہ تک انتظار کریگا۔‏b (‏زبور ۱۱۰:‏۱-‏۴؛‏ اعمال ۲:‏۳۴-‏۳۶؛‏ رومیوں ۸:‏۳۴؛‏ عبرانیوں ۱۰:‏۱۲، ۱۳‏)‏ اگرچہ ہم اس سے بھی واضح سبق یا اصول کی سمجھ حاصل کر سکتے ہیں جس کا ہم سب کو اپنی زندگیوں میں اطلاق کرنا چاہئے۔ وہ کیا ہے؟‏

۱۴.‏ توڑوں کی تمثیل کس اہم ضرورت پر زور دیتی ہے؟‏

۱۴ ہماری اُمید خواہ آسمان میں غیرفانی زندگی کی ہے یا فردوسی زمین پر ابدی زندگی کی ہے، یسوع کی تمثیل سے یہ بات واضح ہے کہ ہمیں مسیحی کارگزاریوں میں جانفشانی کرنی چاہئے۔ دراصل، اس تمثیل کا لبِ‌لباب ایک ہی لفظ میں بیان کِیا جا سکتا ہے:‏ ہوشیاری۔ رسولوں نے ۳۳ س.‏ع.‏ کے پنتِکُست کے بعد سے نمونہ قائم کِیا۔ ہم پڑھتے ہیں:‏ ”‏[‏پطرس]‏ نے اَور بہت سی باتیں جتاجتا کر اُنہیں یہ نصیحت کی کہ اپنے آپ کو اس ٹیڑھی قوم سے بچاؤ۔“‏ (‏اعمال ۲:‏۴۰-‏۴۲‏)‏ لہٰذا اُسے اپنی کاوشوں کا کیا ہی شاندار صلہ ملا!‏ جب دیگر بیدار لوگ مسیحی منادی کے کام میں رسولوں کیساتھ مل گئے تو خوشخبری ”‏سارے جہاں میں .‏ .‏ .‏ ترقی کرتی“‏ گئی۔—‏کلسیوں ۱:‏۳-‏۶،‏ ۲۳؛‏ ۱-‏کرنتھیوں ۳:‏۵-‏۹‏۔‏

۱۵.‏ ہمیں کس خاص طریقے سے توڑوں کی تمثیل کے اہم نکتے کا اطلاق کرنا چاہئے؟‏

۱۵ اس تمثیل کے سیاق‌وسباق کو بھی ذہن میں رکھیں—‏یسوع کی موجودگی کی بابت پیشینگوئی۔ ہمارے پاس اس بات کی شہادت موجود ہے کہ اب یسوع کی پُروضیا کا وقت ہے جو جلد ہی انتہا کو پہنچے گی۔ ذرا اُس تعلق کو یاد کریں جو یسوع نے ”‏خاتمے“‏ اور اُس کام کے مابین قائم کِیا جو مسیحیوں کو کرنا ہے:‏ ”‏بادشاہی کی اس خوشخبری کی منادی تمام دُنیا میں ہو گی تاکہ سب قوموں کے لئے گواہی ہو۔ تب خاتمہ ہوگا۔“‏ (‏متی ۲۴:‏۱۴‏)‏ اس کے پیشِ‌نظر، ہم کس نوکر کے مشابہ ہیں؟ خود سے پوچھیں:‏ ’‏کیا اس بات کی کوئی وجہ ہے کہ مَیں اُس نوکر کی مانند ہوں جو اپنے ذاتی مفادات میں مگن رہا مگر جوکچھ اُس کے سپرد کِیا گیا تھا اُسے چھپا دیا؟ یا کیا یہ واضح ہے کہ مَیں اچھے اور دیانتدار نوکروں کی مانند ہوں؟ کیا مَیں ہر موقع پر مالک کے مفادات کو فروغ دینے کے لئے پُرعزم ہوں؟‘‏

اُس کی موجودگی کے دوران ہوشیاروبیدار

۱۶.‏ جن دو تمثیلوں پر ہم نے گفتگو کی ہے اُن میں آپ کیلئے کیا پیغام پایا جاتا ہے؟‏

۱۶ مزیدبرآں اپنے علامتی اور نبوّتی مفہوم کے علاوہ، یہ دونوں تمثیلیں ہمیں خود یسوع کے مُنہ سے نکلنے والی حوصلہ‌افزائی پیش کرتی ہیں۔ اُس کا پیغام یہ ہے:‏ ہوشیار رہیں؛ بیدار رہیں، بالخصوص جب‌کہ مسیح کی پُروضیا کا نشان واضح ہے۔ یہ اب واضح ہے۔ پس کیا ہم واقعی ہوشیاروبیدار ہیں؟‏

۱۷، ۱۸.‏ شاگرد یعقوب یسوع کی موجودگی کے حوالے سے کیا مشورت دیتا ہے؟‏

۱۷ یسوع کا سوتیلا بھائی زیتون کے پہاڑ پر یسوع کی پیشینگوئی سننے کے لئے موجود تو نہیں تھا؛ تاہم اُسے بعد میں معلوم ہوا اور اُس نے اس کے پورے مفہوم کو سمجھ لیا۔ اُس نے لکھا:‏ ”‏پس اے بھائیو!‏ خداوند کی آمد [‏”‏موجودگی،“‏ این‌ڈبلیو]‏ تک صبر کرو۔ دیکھو۔ کسان زمین کی قیمتی پیداوار کے انتظار میں پہلے اور پچھلے مینہ کے برسنے تک صبر کرتا رہتا ہے۔ تم بھی صبر کرو اور اپنے دلوں کو مضبوط رکھو کیونکہ خداوند کی آمد [‏”‏موجودگی،“‏ این‌ڈبلیو]‏ قریب ہے۔“‏—‏یعقوب ۵:‏۷، ۸‏۔‏

۱۸ اس بات کی یقین‌دہانی کرانے کے بعد کہ خدا اپنے مال‌ومتاع کا غلط استعمال کرنے والوں کی کڑی عدالت کرے گا، یعقوب نے مسیحیوں کو تاکید کی کہ یہوواہ کی کارروائی کے انتظار میں بے‌صبری سے کام نہ لیں۔ ایک بے‌صبرا مسیحی کینہ‌پرور بن سکتا ہے گویا کہ اُسے ایسے لوگوں کی غلطیوں کو خود ہی درست کرنا ہے۔ تاہم ایسا نہیں ہونا چاہئے کیونکہ عدالت کا وقت ضرور آئے گا۔ یعقوب کی بیان‌کردہ کسان کی مثال سے یہ بات عیاں ہے۔‏

۱۹.‏ ایک اسرائیلی کسان کس قسم کے صبر کا مظاہرہ کر سکتا تھا؟‏

۱۹ ایک اسرائیلی کسان کو بیج بونے کے بعد، پہلے تو کونپلیں نکلنے، پھر پودے کے بڑھنے اور بالآخر کٹائی کے لئے انتظار کرنا پڑتا تھا۔ (‏لوقا ۸:‏۵-‏۸؛‏ لوقا ۴:‏۳۵‏)‏ ان مہینوں کے دوران، پریشانی کا وقت اور غالباً وجہ بھی ہوتی ہے۔ کیا پہلی بارش کافی مقدار میں ہوگی؟ پچھلی بارش کی بابت کیا ہے؟ کیا کیڑےمکوڑے یا طوفان پودوں کو بتاہ کر دے گا؟ (‏مقابلہ کریں یوایل ۱:‏۴؛‏ ۲:‏۲۳-‏۲۵‏۔)‏ تاہم، مجموعی طور پر ایک اسرائیلی کسان یہوواہ اور اُس کے قائم‌کردہ قدرتی سلسلوں پر بھروسہ کر سکتا تھا۔ (‏استثنا ۱۱:‏۱۴؛‏ یرمیاہ ۵:‏۲۴‏)‏ کسان کا صبر درحقیقت پُراعتماد توقع پر مبنی ہو سکتا ہے۔ ایمان سے وہ جانتا ہے کہ اُس کی اُمید ضرور بر آئے گی۔ ایسا واقعی ہوگا!‏

۲۰.‏ ہم یعقوب کی مشورت کے مطابق صبر کیسے ظاہر کر سکتے ہیں؟‏

۲۰ کسان کو تو تھوڑا بہت علم ہو سکتا ہے کہ کٹائی کب ہوگی مگر پہلی صدی کے مسیحی اس بات کا تعیّن نہیں کر سکتے تھے کہ یسوع کی موجودگی کب ہوگی۔ تاہم، اسکا واقع ہونا یقینی تھا۔ یعقوب نے لکھا:‏ ”‏خداوند کی آمد [‏”‏موجودگی،“‏ این‌ڈبلیو]‏ [‏یونانی، پُروضیا]‏ قریب ہے۔“‏ جب یعقوب نے یہ الفاظ قلمبند کئے تو وسیع یا عالمگیر پیمانے پر مسیح کی موجودگی کا نشان ابھی واضح نہیں ہوا تھا۔ تاہم اب یہ واضح ہے!‏ پس اس وقت ہمیں کیسا محسوس کرنا چاہئے؟ درحقیقت نشان اب عیاں ہے۔ ہمیں یہ نظر آتا ہے۔ ہم یقین کیساتھ کہہ سکتے ہیں، ’‏مَیں نشان کو تکمیل‌پذیر دیکھتا ہوں۔‘‏ ہم تو یعقوب سے بھی زیادہ اعتماد کیساتھ کہہ سکتے ہیں:‏ ’‏خداوند کی آمد [‏”‏موجودگی،“‏ این‌ڈبلیو]‏ قریب ہے۔‘‏

۲۱.‏ ہم کیا کرنے کا قطعی عزم رکھتے ہیں؟‏

۲۱ پس اس صورت میں، ہمارے پاس اس کی معقول وجہ ہے کہ ہم نے یسوع کی جن دو تمثیلوں پر گفتگو کی ہے اُن کے بنیادی اسباق کو دلنشین کریں اور اُنکا اطلاق کریں۔ اُس نے کہا تھا:‏ ”‏پس جاگتے رہو کیونکہ تم نہ اُس دن کو جانتے ہو نہ اُس گھڑی کو۔“‏ (‏متی ۲۵:‏۱۳‏)‏ بِلاشُبہ ہمارے لئے مسیحی خدمت میں سرگرم ہونے کا وقت یہی ہے۔ ہمیں اپنی روزمرّہ زندگیوں سے ظاہر کرنا چاہئے کہ ہم یسوع کے نکتے کو سمجھتے ہیں۔ پس آئیے ہوشیار رہیں!‏ آئیے بیدار رہیں!‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a تمثیل کی علامتی تفصیلات کیلئے، واچ‌ٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی آف نیو یارک، انکارپوریٹڈ کی شائع‌کردہ کتاب گاڈز کنگڈم آف اے تھاؤزینڈ ائیرز ہیز اپروچڈ، صفحات ۱۶۹-‏۲۱۱ کو دیکھیں۔‏

b دیکھیں گاڈز کنگڈم آف اے تھاؤزینڈ ایئرز ہیز اپروچڈ، صفحات ۲۱۲-‏۲۵۶۔‏

کیا آپکو یاد ہے؟‏

◻آپ نے عقلمند اور بیوقوف کنواریوں کی تمثیل سے کیا اہم پیغام حاصل کِیا ہے؟‏

◻توڑوں کی تمثیل کے ذریعے، یسوع آپ کو کونسی بنیادی نصیحت پیش کر رہا ہے؟‏

◻کس لحاظ سے ایک اسرائیلی کسان کی طرح آپ کا صبر پُروضیا سے منسلک ہے؟‏

◻اس دَور میں رہنا بالخصوص ہیجان‌خیز اور چیلنج خیز کیوں ہے؟‏

‏[‏صفحہ 23 پر تصویریں]‏

آپ کنواریوں اور توڑوں کی تمثیل سے کیا سبق سیکھتے ہیں؟‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں