کیا آپکو یاد ہے؟
کیا آپ مینارِنگہبانی کے حالیہ شماروں کو پڑھنے سے محظوظ ہوئے ہیں؟ درحقیقت، دیکھیں کہ آیا آپ مندرجہذیل سوالات کے جواب دے سکتے ہیں:
◻ ممسوح مسیحیوں کیلئے پولس کی اصطلاح ”مسیح کے ایلچی“ اتنی موزوں کیوں ہے؟ (۲-کرنتھیوں ۵:۲۰)
قدیم زمانوں میں، جنگ کے دنوں میں لڑائی سے بچنے کیلئے ایلچیوں کو بھیجا جاتا تھا۔ (لوقا ۱۴:۳۱، ۳۲) نوعِانسان کی گنہگار دُنیا کے خدا سے دُور ہونے کی وجہ سے، خدا لوگوں کو اُس کیساتھ صلح کے طالب ہونے کی تاکید کرتے ہوئے اُنہیں میلملاپ کی شرائط سے آگاہ کرنے کیلئے اپنے ممسوح ایلچیوں کو بھیجتا رہا ہے۔—۱/۱، صفحہ ۱۳۔
◻ ابرہام کے ایمان کو مضبوط کرنے والی چار چیزیں کونسی ہیں؟
اوّل، اُس نے خدا کی بات پر دھیان دینے سے یہوواہ پر ایمان کا مظاہرہ کِیا (عبرانیوں ۱۱:۸)؛ دوم، اُسکا ایمان اُسکی اُمید سے پوری طرح وابستہ تھا (رومیوں ۴:۱۸)؛ سوم، ابرہام ہمیشہ خدا سے ہمکلام ہوتا تھا؛ اور چہارم، جب ابرہام نے الہٰی ہدایت پر عمل کِیا تو یہوواہ نے اُسکی مدد کی۔ یہی چیزیں آج ہمارے ایمان کو بھی مضبوط کر سکتی ہیں۔—۱/۱، صفحات ۱۷، ۱۸۔
◻ ”ہمیں آزمایش میں نہ لا“ کی اصطلاح کا کیا مطلب ہے؟ (متی ۶:۱۳)
ہم خدا سے کہہ رہے ہوتے ہیں کہ جب ہم پر اُسکی نافرمانی کرنے کی آزمائش آتی ہے تو ہمیں ناکام نہ ہونے دے۔ یہوواہ ہماری راہنمائی کر سکتا ہے کہ ہم شیطان کے آگے گھٹنے نہ ٹیکیں یا ”شریر“ کے قابو میں نہ آئیں۔ (۱-کرنتھیوں ۱۰:۱۳)—۱۵/۱، صفحہ ۱۴۔
◻ کسی کو اپنی خطاکاری کیلئے خدا سے معافی حاصل کرنے کیلئے کیا کرنا چاہئے؟
خدا کے سامنے اعتراف کرنے کیساتھ ساتھ تائب ہونا اور ”توبہ کے موافق پھل“ ضروری ہیں۔ (لوقا ۳:۸) ایک تائب رُجحان اور غلطی درست کرنے کی خواہش اُسے بزرگوں سے مدد حاصل کرنے کی بھی تحریک دیگی۔ (یعقوب ۵:۱۳-۱۵)—۱۵/۱، صفحہ ۱۹۔
◻ ہمیں فروتن بننے کی کوشش کیوں کرنی چاہئے؟
ایک فروتن شخص صابر اور متحمل ہوتا ہے اور اپنی ذات کی بابت حد سے زیادہ سنجیدہ نہیں ہوتا۔ فروتنی آپ سے محبت کرنے والے سچے دوستوں کو آپکی طرف راغب کرتی ہے۔ اس سے بھی بڑھکر، یہ یہوواہ کی برکت پر منتج ہوتی ہے۔ (امثال ۲۲:۴)—۱/۲، صفحہ ۷۔
◻یسوع کی موت اور آدم کی موت میں کیا نمایاں فرق ہے؟
آدم موت کا مستحق تھا کیونکہ اُس نے اپنے خالق کی قصداً حکمعدولی کی تھی۔ (پیدایش ۲:۱۶، ۱۷) اسکے برعکس، یسوع موت کا مستحق نہیں تھا کیونکہ ”اُس نے گناہ“ نہیں کِیا تھا۔ (۱-پطرس ۲:۲۲) پس جب یسوع مرا تو اُس کے پاس ایسی گراںبہا چیز موجود تھی جو گنہگار آدم کے پاس اُسکی موت کے وقت نہیں تھی—کامل انسانی زندگی کا حق۔ لہٰذا، انسان کا فدیہ دینے کیلئے یسوع کی موت، قربانی جیسی قدروقیمت رکھتی تھی۔—۱۵/۲، صفحات ۱۵، ۱۶۔
◻ حزقیایل کی نبوّتی رویا میں شہر کس کی نمائندگی کرتا ہے؟
شہر کے عام (غیرمقدس) جگہ کے وسط میں واقع ہونے کی وجہ سے یہ کوئی زمینی چیز ہے۔ لہٰذا، شہر زمینی انتظامیہ کا عکس پیش کرتا ہے جو راست زمینی معاشرے کو تشکیل دینے والے تمام لوگوں کو فائدہ پہنچاتی ہے۔—۱/۳، صفحہ ۱۸۔
◻ یسوع نے ۳۳ س.ع. کی عیدِفسح مناتے وقت اپنے شاگردوں کے پاؤں کیوں دھوئے تھے؟
یسوع پاؤں دھونے کی کوئی رسم قائم نہیں کر رہا تھا۔ اسکی بجائے، یسوع اپنے رسولوں کی اپنے بھائیوں کیلئے ادنیٰ کام کرنے کیلئے فروتنی اور آمادگی کا ایک نیا رُجحان اپنانے کیلئے مدد کر رہا تھا۔—۱/۳، صفحہ ۳۰۔
◻ دوسروں کو تعلیم دینے میں، فطری صلاحیتوں کی نسبت کیا چیز زیادہ اہم ہے؟
یہ ہمارے اندر موجود لیاقتیں اور وہ روحانی عادات ہیں جو ہم نے پیدا کر لی ہیں جنکی طالبعلم نقل کر سکتے ہیں۔ (لوقا ۶:۴۰؛ ۲-پطرس ۳:۱۱)—۱۵/۳، صفحات ۱۱، ۱۲۔
◻ عوامی خطاب پیش کرنے والے صحائف کی پڑھائی کو کیسے بہتر بنا سکتے ہیں؟
وہ مشق کرنے سے ایسا کر سکتے ہیں۔ جیہاں، بار بار پڑھنے سے جبتک کہ وہ روانی سے ایسا کرنے کے قابل نہیں ہو جاتے۔ اگر آپکی زبان میں بائبل کی آڈیوکیسٹس دستیاب ہیں تو قاری کے مفہوم پر زور دینے اور آواز کے اُتارچڑھاؤ اور ناموں اور غیرمعروف الفاظ کے تلفظ پر غور کرنا دانشمندانہ بات ہوگی۔—۱۵/۳، صفحہ ۱۹۔
◻ جب کوئی شخص مرتا ہے تو ’روح خدا کے پاس واپس‘ کیسے چلی جاتی ہے؟ (واعظ ۱۲:۷)
روح چونکہ قوتِحیات ہے اسلئے یہ اس مفہوم میں ”خدا کے پاس . . . واپس“ چلی جاتی ہے کہ اُس شخص کیلئے مستقبل میں زندگی سے متعلق کوئی بھی اُمید صرف خدا کے پاس ہے۔ صرف خدا ہی اُس شخص کو دوبارہ زندگی عطا کر کے، اُسکی روح یا قوتِحیات بحال کر سکتا ہے۔ (زبور ۱۰۴:۳۰)—۱/۴، صفحہ ۱۷۔