”طوفانی سمندر میں سفر کرنا“
کیا آپ ایسا خطرہ مول لینے کو بےمحل، حماقت اور تباہی کا پیشخیمہ خیال نہیں کرینگے؟ تاہم، بعض خود کو علامتی مفہوم میں ایسی صورتحال میں دھکیل دیتے ہیں۔ کیسے؟ ۱۷ویں صدی کے ایک انگریز مصنف تھامس فلر نے بیان کِیا: ”غصے کی حالت میں کچھ نہ کریں۔ یہ طوفانی سمندر میں سفر کرنے کے مترادف ہے۔“
بےلگام غصے کی حالت میں کسی بھی کام کے نتائج نہایت المناک ہو سکتے ہیں۔ یہ بات بائبل میں درج ایک واقعہ سے عیاں ہے۔ قدیم زمانے کے قبائلی سردار یعقوب کے بیٹوں، شمعون اور لاوی نے قہروغضب کی حالت میں اپنی بہن دینہ کی بےحُرمتی کے سلسلے میں شدید انتقامی کارروائی کی۔ یہ وسیع پیمانے پر قتلوغارت پر منتج ہوا۔ اس میں حیرانی کی بات نہیں کہ یعقوب نے ان الفاظ میں اُن کے اس بھیانک کام کی مذمت کی: ”تم نے مجھے کڑھایا کیونکہ تم نے مجھے اس ملک کے باشندوں . . . میں نفرتانگیز بنا دیا۔“—پیدایش ۳۴:۲۵-۳۰۔
خدا کا کلام، بائبل، دانشمندی سے اس سے فرق روش اختیار کرنے کی سفارش کرتا ہے۔ یہ بیان کرتا ہے: ”قہر سے باز آ اور غضب کو چھوڑ دے۔ بیزار نہ ہو۔ اس سے بُرائی ہی نکلتی ہے۔“ (زبور ۳۷:۸) اس مشورت پر چلنے سے بڑے گناہوں کے سرزد ہونے کو روکا جا سکتا ہے۔—واعظ ۱۰:۴؛ نیز دیکھیں امثال ۲۲:۲۴، ۲۵۔