یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م99 15/‏4 ص.‏ 28-‏30
  • سوالات از قارئین

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • سوالات از قارئین
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
  • ملتا جلتا مواد
  • اپنی محنت سے فائدہ اُٹھائیں
    خدا کی محبت میں قائم رہیں
  • اپنے ضمیر کی آواز کے لئے جوابی‌عمل دکھائیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2007ء
  • ‏”‏ہر شخص اپنا ہی بوجھ اٹھائے گا“‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2006ء
  • اسقاطِ‌حمل کی وجوہات اور نتائج
    جاگو!‏—‏2009ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
م99 15/‏4 ص.‏ 28-‏30

سوالات از قارئین

بعض یہوواہ کے گواہوں کو مذہبی عمارات یا املاک کے سلسلے میں ملازمت کی پیشکش کی گئی ہے۔ ایسے کام کی بابت صحیفائی نقطۂ‌نظر کیا ہے؟‏

یہ مسئلہ ۱-‏تیمتھیس ۵:‏۸ کا اطلاق کرنے کی سنجیدہ خواہش رکھنے والے مسیحیوں کو درپیش ہو سکتا ہے جو اپنے گھرانے کی مادی ضروریات کو پورا کرنے کی اہمیت پر زور دیتی ہے۔ مسیحیوں کو اس مشورت کا اگرچہ قطعی اطلاق کرنا چاہئے توبھی یہ اس بات کی توجیہ نہیں کرتی کہ وہ ہر قسم کے کام کو اُسکی نوعیت سے قطع‌نظر قبول کر سکتے ہیں۔ مسیحی خدا کی مرضی کے دیگر اظہارات کا لحاظ رکھنے کی ضرورت کی قدر کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، کسی بھی شخص کی اپنے خاندان کی کفالت کرنے کی خواہش اخلاقیات یا قتل کے سلسلے میں بائبل کے موقف کی خلاف‌ورزی کرنے کا جواز پیش نہیں کرتی۔ (‏مقابلہ کریں پیدایش ۳۹:‏۴-‏۹؛‏ یسعیاہ ۲:‏۴؛‏ یوحنا ۱۷:‏۱۴،‏ ۱۶‏۔)‏ یہ بھی ضروری ہے کہ مسیحی جھوٹے مذہب کی عالمی مملکت، بڑے بابل سے نکلنے کے حکم کے مطابق عمل کریں۔—‏مکاشفہ ۱۸:‏۴، ۵‏۔‏

ساری دُنیا میں، خدا کے خادموں کو ملازمت کے سلسلے میں مختلف حالتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تمام ممکنات کی فہرست بنانا اور غیرمشروط اصول وضع کرنے کی کوشش کرنا بے‌سود اور ہمارے اختیار سے باہر ہوگا۔ (‏۲-‏کرنتھیوں ۱:‏۲۴‏)‏ بہرکیف، ہم بعض ایسے عناصر پر گفتگو کر سکتے ہیں جن پر ملازمت سے متعلق ذاتی فیصلے کرتے وقت مسیحیوں کو غور کرنا چاہئے۔ ان عناصر کا جولائی ۱۹۸۳ کے مینارِنگہبانی میں خداداد ضمیر سے مستفید ہونے کی بابت ایک مضمون میں مختصراً تبصرہ کِیا گیا تھا۔ ایک بکس میں دو بنیادی سوالات اُٹھانے کے بعد دیگر مفید عناصر کی فہرست پیش کی گئی تھی۔‏

پہلا بنیادی سوال یہ ہے:‏ کیا بائبل میں دُنیاوی کام کی قعطاً مذمت کی گئی ہے؟ اس پر رائے‌زنی کرتے ہوئے، مینارِنگہبانی نے بیان کِیا کہ بائبل چوری‌چکاری، خون کے غلط استعمال اور بُت‌پرستی کی مذمت کرتی ہے۔ ایک مسیحی کو ایسے دُنیاوی کام سے گریز کرنا چاہئے جو خدا کی نظر میں ایسی ناپسندیدہ کارگزاریوں کو براہِ‌راست فروغ دیتا ہے جنکا اوپر ذکر کِیا گیا ہے۔‏

دوسرا سوال ہے:‏ کیا یہ کام کرنا کسی شخص کیلئے ایک ممنوعہ فعل میں شریک ہونے کا باعث بنیگا؟ ظاہر ہے کہ جوئے کے اڈے، اسقاطِ‌حمل کرنے والے کسی کلینک یا قحبہ‌خانے میں ملازمت کرنے والا شخص ایک غیرصحیفائی کام میں شریک ہوگا۔ خواہ وہاں اُسکا معمول کا کام محض جھاڑو دینا یا ٹیلیفون سننا ہی ہو وہ ایک ایسے کام کی حمایت کر رہا ہوگا جسے خدا رد کرتا ہے۔‏

ملازمت کے سلسلے میں فیصلے کرنے والے بہتیرے مسیحیوں نے ایک ذاتی فیصلے تک پہنچنے کیلئے ان سوالات پر غوروفکر کو مفید پایا ہے۔‏

مثال کے طور پر، ان دو سوالات سے کوئی بھی شخص یہ دیکھ سکتا ہے کہ ایک سچا پرستار چرچ میں یا اس کیلئے کام کرنے سے کسی جھوٹی مذہبی تنظیم کا براہِ‌راست ملازم کیوں نہیں بننا چاہیگا۔ مکاشفہ ۱۸:‏۴ یہ حکم دیتی ہے:‏ ”‏اَے میری اُمت کے لوگو!‏ اُس میں سے نکل آؤ تاکہ تم اُسکے گناہوں میں شریک نہ ہو۔“‏ اگر کوئی شخص جھوٹی پرستش کی تعلیم دینے والے کسی مذہب کا باقاعدہ ملازم ہے تو وہ بڑے بابل کے کاموں اور گناہوں میں شریک ہوگا۔ خواہ ملازم محض مالی، چوکیدار، مرمت کرنے والا یا ایک اکاؤنٹنٹ ہی ہو، اُسکا کام سچے مذہب سے ٹکرانے والے طرزِعبادت کو فروغ دیگا۔ مزیدبرآں، جو لوگ اُس ملازم کو چرچ آراستہ کرتے، مرمت کرتے یا اُسکے مذہبی مقاصد انجام دیتے ہوئے دیکھیں گے وہ اُسے واجب طور پر اُسی مذہب سے وابستہ خیال کرینگے۔‏

ایسے شخص کی بابت کیا ہے جو کسی چرچ یا مذہبی تنظیم کا باقاعدہ ملازم نہ ہو؟ غالباً اُسے چرچ کے تہہ‌خانے میں ٹوٹے ہوئے پانی کے پائپ کی ناگہانی صورتحال میں مرمت کرنے کیلئے بلا‌یا گیا ہے۔ کیا یہ چرچ کی چھت کی مرمت کرنے یا مضبوط بنانے کیلئے معاہدہ کرنے سے فرق نہیں ہوگا؟‏

ایک بار پھر، مختلف صورتوں کا تصور کِیا جا سکتا ہے۔ پس آئیے مینارِنگہبانی کے بیان‌کردہ پانچ اضافی عناصر پر نظرثانی کریں:‏

۱.‏ کیا یہ کام کوئی انسانی خدمت ہے جو بذاتِ‌خود صحیفائی لحاظ سے قابلِ‌اعتراض نہیں؟‏ ایک ڈاکیے کی مثال پر غور کیجئے۔ اگر وہ کسی علاقے میں ڈاک بانٹتے ہوئے کسی چرچ یا اسقاطِ‌حمل کرنے والے کلینک پر بھی جاتا ہے تو اسکا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ وہ ممنوعہ کام کو فروغ دے رہا ہے۔ خدا جو دھوپ فراہم کرتا ہے وہ چرچ یا ایسے کلینک سمیت تمام عمارتوں کے دریچوں سے داخل ہوتی ہے۔ (‏اعمال ۱۴:‏۱۶، ۱۷‏)‏ ڈاکیے کا کام کرنے والا مسیحی اسے اپنی انسانی خدمت سمجھ سکتا ہے جو وہ ہر روز انجام دیتا ہے۔ یہ اُس مسیحی کی مانند ہو گا جو کسی ناگہانی صورتحال کیلئے جوابی عمل دکھاتا ہے—‏ایک پلمبر جسے چرچ میں جمع ہونے والے پانی کو روکنے کیلئے بلا‌یا جاتا ہے یا ایمبولینس کیساتھ کام کرنے والا جسے چرچ کی عبادت کے دوران گِر جانے والے کسی شخص کو ہسپتال لیجانے کیلئے بلا‌یا جاتا ہے۔ وہ اسے محض اتفاقاً انسانی مدد فراہم کرنے کا موقع خیال کر سکتا ہے۔‏

۲.‏ کسی جگہ پر کئے جانے والے کسی کام پر اُس شخص کا کتنا اختیار ہے؟‏ ایک مسیحی جو ایک سٹور کا مالک ہے وہ کبھی بھی بُت، ارواح‌پرستی کی چیزیں، سگریٹ یا خون سے بنی ہوئی ساسیج فروخت کرنے پر راضی نہیں ہوگا۔ مالک ہونے کی حیثیت سے سب کچھ اُسکے اختیار میں ہے۔ لوگ شاید اُسے زیادہ نفع کمانے کیلئے سگریٹ یا بُت بیچنے کی ترغیب دیں مگر وہ اپنے صحیفائی اعتقادات کے مطابق عمل کریگا۔ اسکے برعکس، اشیائے‌خوردنی کے ایک بہت بڑے سٹور پر ملازم ایک مسیحی کو شاید پیسوں کی وصولی کیلئے مشین استعمال کرنے، فرش پالش کرنے یا حساب‌کتاب کرنے کی تفویض سونپی گئی ہو۔ یہ اُسکے اختیار میں نہیں کہ کونسی چیزیں منگوائی اور بیچی جاتی ہیں، خواہ اُن میں سے بعض چیزیں قابلِ‌اعتراض ہی کیوں نہ ہوں جیسے‌کہ سگریٹ یا مذہبی تہواروں سے متعلق چیزیں۔‏a (‏مقابلہ کریں لوقا ۷:‏۸؛‏ ۱۷:‏۷، ۸‏۔)‏ اسکا تعلق اگلے نقطے سے ہے۔‏

۳.‏ وہ شخص کس حد تک ملوث ہے؟‏ اب آئیے سٹور کی مثال پر واپس چلیں۔ شاید ایک ملازم کو پیسوں کی وصولی والی مشین چلانے یا کبھی‌کبھار سگریٹ یا مذہبی چیزوں کو اُنکے خانوں میں رکھنے کا کام سونپا جاتا ہے جو اُسکے مجموعی کام کا محض ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔ تاہم، یہ اُس ملازم سے بہت فرق ہوگا جو تمباکو کاؤنٹر پر کام کرتا ہے!‏ صبح سے شام تک اُس کا کام ایسی چیز پر مُرتکز رہتا ہے جو مسیحی اعتقادات کے منافی ہے۔ (‏۲-‏کرنتھیوں ۷:‏۱‏)‏ اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ملازمت سے متعلق سوالات کو طے کرنے میں شمولیت یا تعلق کی حد کا تعیّن کرنا کیوں ضروری ہے۔‏

۴.‏ تنخواہ کس سے ملتی ہے یا کام کہاں پر کِیا جاتا ہے؟‏ دو صورتوں پر غور کریں۔ عوام کی نگاہ میں شہرت حاصل کرنے کیلئے اسقاطِ‌حمل کرنے والا کلینک کے اردگرد کی گلیوں کو صاف کرنے کیلئے کسی آدمی کو اُجرت پر رکھنے کا فیصلہ کرتا ہے۔ اُسے تنخواہ تو اسقاطِ‌حمل کرنے والے کلینک سے ملتی ہے مگر وہ وہاں کام نہیں کرتا اور وہ سارا دن کلینک پر نظر بھی نہیں آتا۔ اس سے قطع‌نظر کہ اُسے تنخواہ کون دیتا ہے لوگ اُسے صرف ایسا عوامی کام کرتے ہوئے دیکھتے ہیں جو بذاتِ‌خود صحائف کے خلاف نہیں ہے۔ اب یہ صورت کچھ فرق ہے۔ ایسی قوم میں جہاں عصمت‌فروشی قانوناً جائز ہے، محکمۂ‌صحت جنسی طور پر لگنے والی بیماریوں کے پھیلاؤ کو کم کرنے کی خاطر صحت کی جانچ‌پڑتال کرنے کیلئے کسی نرس کو قحبہ‌خانوں میں کام کرنے کیلئے اُجرت پر رکھتی ہے۔ اگرچہ وہ محکمۂ‌صحت سے تنخواہ لیتی ہے مگر عصمت‌فروشی کے اڈوں پر اُسکا کام کرنا بداخلاقی کو محفوظ اور زیادہ قابلِ‌قبول بناتا ہے۔ ان مثالوں سے واضح ہو جاتا ہے کہ کس وجہ سے تنخواہ کا ماخذ اور کام کرنے کی جگہ قابلِ‌غور پہلو ہیں۔‏

۵.‏ وہاں کام کرنے کا اثر کِیا ہوگا؛ کیا یہ اُس کے اپنے ضمیر کو ٹھیس پہنچائیگا یا دوسروں کے لئے ٹھوکر کا باعث بنیگا؟‏ اپنے اور دوسروں کے ضمیر کا لحاظ ضرور رکھا جانا چاہئے۔ اگرچہ کوئی کام (‏جگہ یا تنخواہ کے ماخذ سے قطع‌نظر)‏ بیشتر مسیحیوں کیلئے قابلِ‌قبول دکھائی دیتا ہو توبھی وہ شخص انفرادی طور پر محسوس کر سکتا ہے کہ یہ اُس کے ذاتی ضمیر کو ٹھیس پہنچائیگا۔ ایک عمدہ نمونہ قائم کرنے والے رسول پولس نے بیان کِیا:‏ ”‏ہمیں یقین ہے کہ ہمارا دل صاف ہے اور ہم ہر بات میں نیکی کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔“‏ (‏عبرانیوں ۱۳:‏۱۸‏)‏ ہمیں ایسے کام سے گریز کرنا چاہئے جو ہمارے لئے پریشانی کا باعث بنیگا؛ تاہم، جنکے ضمیر فرق محسوس کرتے ہیں ہمیں اُن پر تنقید بھی نہیں کرنا چاہئے۔ اسکے برعکس جب ایک مسیحی کوئی کام کرتا ہے جو اُسکے خیال میں بائبل کے خلاف نہیں توبھی وہ محسوس کرتا ہے کہ یہ کلیسیا اور علاقے میں بہتیرے لوگوں کیلئے پریشانی کا باعث ہوگا۔ پولس نے اپنے ان الفاظ میں صحیح رُجحان کی عکاسی کی:‏ ”‏ہم کسی بات میں ٹھوکر کھانے کا کوئی موقع نہیں دیتے تاکہ ہماری خدمت پر حرف نہ آئے۔ بلکہ خدا کے خادموں کی طرح ہر بات سے اپنی خوبی ظاہر کرتے ہیں۔“‏—‏۲-‏کرنتھیوں ۶:‏۳، ۴‏۔‏

اب آئیے ہم چرچ کی عمارت میں کام کرنے کے سوال پر واپس چلیں جس میں نئی کھڑکیاں لگانے، قالین صاف کرنے یا آتش‌دان کی مرمت کرنا شامل ہو سکتا ہے۔ مندرجہ‌بالا عناصر کسقدر شامل ہونگے؟‏

اختیار کے پہلو کو یاد رکھیں۔ کیا ایک مسیحی جو مالک یا مینیجر ہے چرچ میں ایسا کام کرنے کا فیصلہ کرتا ہے؟ کیا ایسا اختیار رکھنے والا مسیحی کسی کام کیلئے بولی لگانے یا جھوٹی پرستش کو فروغ دینے میں کسی مذہب کی مدد کرنے کے لئے معاہدہ کرنے سے بڑے بابل کے کاموں میں شریک ہوگا؟ کیا یہ اپنے سٹور پر سگریٹ یا بُت فروخت کرنے کا فیصلہ کرنے کے مترادف نہیں ہوگا؟—‏۲-‏کرنتھیوں ۶:‏۱۴-‏۱۶‏۔‏

اگر مسیحی محض ملازم ہے جسے یہ اختیار حاصل نہیں کہ کس قسم کا کام قبول کرے تو دیگر پہلوؤں پر غور کِیا جانا چاہئے جیسے‌کہ جگہ اور شمولیت کی حد۔ کیا ملازم کو محض کسی تقریب پر نئی کرسیاں لانے یا اُنہیں اُنکی جگہ پر رکھنے یا کوئی انسانی خدمت کرنے کیلئے کہا گیا ہے جیسے‌کہ فائرمین کا چرچ میں آگ پھیلنے سے قبل اُسے بجھانا؟ بہتیرے لوگ اُسے کسی کمپنی کے ایسے ملازم سے فرق خیال کرینگے جو طویل مدت تک چرچ میں رنگ‌وروغن کرتا ہے یا اسے جاذبِ‌نظر بنانے کیلئے باقاعدگی سے اس میں باغبانی کرتا ہے۔ ایسا باقاعدہ اور طویل تعلق اس امکان کو بڑھائیگا کہ بیشتر لوگ اُس مسیحی کو ایسے مذہب سے وابستہ سمجھیں گے جسکا وہ رُکن نہیں اور اس سے اُنہیں ٹھوکر لگے گی۔—‏متی ۱۳:‏۴۱؛‏ ۱۸:‏۶، ۷‏۔‏

ہم نے ملازمت کے حوالے سے کئی اہم صورتوں پر گفتگو کی ہے۔ یہ جھوٹے مذہب سے متعلق خاص سوال کے جواب میں ہی پیش کی گئی تھیں۔ تاہم، دیگر اقسام کی ملازمت کے سلسلے میں بھی ان پر اتنا ہی غوروفکر کِیا جانا چاہئے۔ ہر معاملے میں، درپیش صورتحال کے مخصوص—‏اور غالباً غیرمعمولی—‏پہلوؤں پر دُعائیہ غوروفکر کرنا چاہئے۔ متذکرہ‌بالا عناصر نے پہلے ہی بہتیرے خلوصدل مسیحیوں کی ایسے بااصول فیصلے کرنے میں مدد کی ہے جن سے اُنکی یہوواہ کے حضور راستی سے چلنے کی خواہش ظاہر ہوتی ہے۔—‏امثال ۳:‏۵، ۶؛‏ یسعیاہ ۲:‏۳؛‏ عبرانیوں ۱۲:‏۱۲-‏۱۴‏۔‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a ہسپتالوں میں کام کرنے والے بعض مسیحیوں کیلئے اختیار کے اس عنصر پر غور کرنا لازمی ہے۔ ڈاکٹر کو یہ اختیار حاصل ہوتا ہے کہ کسی مریض کے علاج کیلئے کوئی خاص نسخہ یا طریقہ تجویز کرے۔ اگرچہ مریض کو کوئی اعتراض نہ بھی ہو تو بھی ایک بااختیار مسیحی ڈاکٹر انتقالِ‌خون یا اسقاطِ‌حمل کی بابت بائبل کے نقطۂ‌نظر کو جاننے کے باوجود انہیں عمل میں لانے کا حکم کیسے دے سکتا ہے؟ اسکے برعکس، ایک ہسپتال میں ملازم ایک نرس کو شاید ایسا اختیار حاصل نہ ہو۔ جب وہ اپنی معمول کی خدمات انجام دیتی ہے تو ڈاکٹر اُسے کسی مقصد کے تحت یا اسقاطِ‌حمل کیلئے آئے ہوئے مریض کیلئے خون کا ٹیسٹ کرنے کیلئے کہہ سکتا ہے۔ ۲-‏سلاطین ۵:‏۱۷-‏۱۹ میں درج مثال کے مطابق، وہ یہ نتیجہ اخذ کر سکتی ہے کہ انتقالِ‌خون یا اسقاطِ‌حمل کی اجازت دینا اُسکے اختیار میں نہیں اسلئے وہ مریض کیلئے انسانی خدمات انجام دینا جاری رکھ سکتی ہے۔ بِلاشُبہ، ’‏خدا کے حضور صاف ضمیر کیساتھ حاضر‘‏ ہونے کیلئے اُسے اپنے ضمیر کی آواز پر دھیان دینا ہوگا۔—‏اعمال ۲۳:‏۱‏۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں