کون آپکی سوچ کو تشکیل دیتا ہے؟
”کسی کو مجھے یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ مجھے کیا سوچنا چاہئے! اور نہ ہی کسی کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ مجھے کیا کرنا چاہئے!“ پُرزور طریقے سے ایسا کہنا عموماً یہ ظاہر کرتا ہے کہ آپ کو اپنے اُوپر اور اپنے فیصلے پر بہت اعتماد ہے۔ کیا آپ بھی ایسا ہی محسوس کرتے ہیں؟ سچ ہے کہ کسی دوسرے شخص کو آپ کیلئے فیصلہ نہیں کرنا چاہئے۔ تاہم کیا کسی بھی ایسی چیز کو جلدی سے رد کر دینا دانشمندی کی بات ہے جوکہ شاید عمدہ مشورت ثابت ہو؟ کیا کوئی بھی شخص آپکو کبھی بھی دانشمندانہ فیصلہ کرنے میں مدد نہیں دے سکتا؟ بہرحال، کیا آپ یقین سے یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ درحقیقت کوئی بھی شخص انجانے میں بھی آپکی سوچ کو متاثر نہیں کر رہا؟
مثال کے طور پر، دوسری جنگِعظیم سے پہلے ہٹلر کے پروپیگنڈا منسٹر، جوزف گوئےبلز نے جرمنی کی فلمی صنعت پر قبضہ جما لیا۔ کیوں؟ اسلئے کہ وہ سمجھتا تھا کہ یہ اُسے انتہائی طاقتور ہتھیار فراہم کریگی جسکی مدد سے وہ ”لوگوں کے عقائد کو متاثر کر کے اُن کے طرزِزندگی“ پر بھی اثرانداز ہو سکتا ہے۔ (پروپیگنڈا اینڈ جرمن سنیما ۱۹۳۳-۱۹۴۵) غالباً آپ اُس سردمہر اثرآفرینی سے واقف ہوں جس سے اُس نے عام لوگوں—نارمل، ذیشعور لوگوں—کو نازی فلسفے کی اندھادھند پیروی کرنے کے لئے اس طریقے اور اسی طرح کے دیگر طریقوں کو استعمال کِیا۔
حقیقت یہ ہے کہ جیسے آپ سوچتے ہیں اور پھر جیسے آپ عمل کرتے ہیں، یہ ہمیشہ اُن لوگوں کے احساسات اور نظریات سے متاثر ہوتا ہے جنکی آپ سنتے ہیں۔ تاہم یہ کوئی بُری بات نہیں ہے۔ اگر یہ وہ لوگ ہیں جو آپکی فلاح میں دلچسپی رکھتے ہیں—جیسے اساتذہ، دوستاحباب یا والدین—تو پھر آپ اُنکی مشورت اور نصیحت سے بہت زیادہ فائدہ اُٹھائیں گے۔ تاہم اگر وہ صرف اپنا فائدہ چاہتے ہیں اور وہ خود بھی گمراہ یا غلط سوچ کا شکار ہیں تو جیسے پولس رسول نے بیان کِیا کہ اُن ”دغاباز“ لوگوں سے خبردار رہیں!—ططس ۱:۱۰؛ استثنا ۱۳:۶-۸۔
پس اتنے زیادہ خوداعتماد نہ بنیں کہ کوئی کبھی بھی آپ پر اثرانداز نہیں ہو سکتا۔ (مقابلہ کریں ۱-کرنتھیوں ۱۰:۱۲۔) بہت اغلب ہے کہ آپکو معلوم ہوئے بغیر پہلے ہی سے ایسا ہو رہا ہے—شاید اتنا زیادہ کہ آپ اُسے تسلیم کرنے کیلئے رضامند نہ ہوں۔ مثال کے طور پر، جب آپ خریداری کیلئے جاتے ہیں تو آپ کس چیز کو خریدنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ کیا یہ ہمیشہ ذاتی، دانشمندانہ فیصلے پر مبنی ہوتی ہے؟ یا کیا دوسرے، اکثر غیرمرئی، پوشیدہ طور پر، مگر نہایت زوردار طریقے سے آپکے انتخاب پر اثرانداز ہوتے ہیں؟ تحقیقاتی صحافی ایرک کلارک کا خیال ہے کہ وہ اثرانداز ہوتے ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ ”جتنا زیادہ ہم تشہیر کا سامنا کرتے ہیں ہم اُسے اتنا ہی کم اہم خیال کرتے ہیں، تاہم یقینی طور پر ہم اُس سے اتنا ہی زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔“ وہ یہ بھی بیان کرتا ہے کہ جب لوگوں سے پوچھا جائے کہ وہ تشہیر کو کتنا مؤثر خیال کرتے ہیں تو ”بہتیرے متفق ہیں کہ یہ اثرانداز ہوتی ہے، تاہم اُن پر نہیں۔“ لوگ یہ خیال کرنے کا میلان رکھتے ہیں کہ ہر دوسرا شخص اس سے متاثر ہوتا ہے لیکن وہ نہیں ہوتے۔ ”اُنہیں ایسا دکھائی دیتا ہے کہ وہ اس سے محفوظ ہیں۔“—دی وانٹ میکرز۔
شیطان کے سانچے میں ڈھالے گئے؟
اگر آپ زمانۂجدید کی تشہیر سے متاثر ہیں تو ہو سکتا ہے کہ اسکے نتائج سنگین نہ ہوں۔ تاہم ایک اور اثر ہے جو اس سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔ بائبل واضح طور پر ظاہر کرتی ہے کہ شیطان چالاکی سے کام نکالنے میں ماہر ہے۔ (مکاشفہ ۱۲:۹) اُسکا فلسفہ بنیادی طور پر ایک تشہیری ایجنٹ سے ملتاجلتا ہے جس نے کہا کہ گاہکوں کو متاثر کرنے کے دو طریقے ہیں—”اُنہیں ورغلانا یا اُنہیں عادی بنا دینا۔“ اگر پروپیگنڈا کرنے والے یا مشتہر آپکی سوچ کو متاثر کرنے کیلئے پوشیدہ طریقے استعمال کر سکتے ہیں تو شیطان اُن ہی ہتھکنڈوں کو استعمال کرنے میں کتنا زیادہ ماہر ہوگا!—یوحنا ۸:۴۴۔
رسول پولس یہ جانتا تھا۔ اُسے ڈر تھا کہ کہیں اُسکے ساتھی مسیحی چوکس نہ ہونے کے باعث شیطان کی دھوکہبازی کا شکار نہ ہو جائیں۔ اُس نے لکھا: ”لیکن میں ڈرتا ہوں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ جس طرح سانپ نے اپنی مکاری سے حوا کو بہکایا اُسی طرح تمہارے خیالات بھی اُس خلوص اور پاکدامنی سے ہٹ جائیں جو مسیح کے ساتھ ہونی چاہئے۔“ (۲-کرنتھیوں ۱۱:۳) اس آگاہی پر سنجیدگی سے دھیان دیں۔ ورنہ آپ بھی اُن لوگوں جیسے ہو سکتے ہیں جو یہ تو مانتے ہیں کہ پروپیگنڈا اور ورغلانا اثرانداز تو ہوتے ہیں—”لیکن اُن پر نہیں۔“ یہ حقیقت ہے کہ شیطانی پروپیگنڈا اثرانداز ہوتا ہے جوکہ ہماری اردگرد کی دُنیا میں سفاکی، بدکاری اور ریاکاری سے عیاں ہے جو اس نسل کا خاصہ ہیں۔
اسلئے، پولس نے اپنے ساتھی مسیحیوں سے التجا کی ”اس جہان کے ہمشکل نہ بنو۔“ (رومیوں ۱۲:۲) ایک بائبل مترجم نے پولس کے اِن الفاظ کو یوں بیان کِیا: ”اپنے اردگرد کی دُنیا کو اس بات کی اجازت نہ دیں کہ وہ آپکو ڈھال لے۔“ (رومیوں ۱۲:۲، فلپس) پُرانے زمانے کے کمہار کی طرح جو مٹی کو سانچے میں ڈالتا تھا تاکہ اپنی مرضی کے مطابق اُن پر نشانات ڈال سکے، شیطان بھی آپکو اپنے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کریگا۔ ایسا کرنے کیلئے شیطان کے پاس اس دُنیا کی سیاست، معیشت، مذہب اور تفریح موجود ہے۔ اُسکا یہ اثر کس حد تک ورغلا سکتا ہے؟ یہ اتنا ہی پھیلا ہوا ہے جتناکہ رسول یوحنا کے دنوں میں تھا۔ یوحنا نے کہا، ”ساری دُنیا اُس شریر کے قبضہ میں پڑی ہوئی ہے۔“ (۱-یوحنا ۵:۱۹؛ ۲-کرنتھیوں ۴:۴ کو بھی دیکھیں۔) اگر آپ لوگوں کو ورغلانے اور اُنکی سوچ کو متاثر کرنے کے سلسلے میں شیطان کی طاقت پر شک کرتے ہیں تو یاد کریں کہ اُس نے اسرائیل کی پوری قوم کیساتھ کتنی کامیابی سے ایسا کِیا جو خدا کیلئے مخصوص تھی۔ (۱-کرنتھیوں ۱۰:۶-۱۲) کیا آپ کیساتھ بھی ایسا واقع ہو سکتا ہے؟ اگر آپ اپنے دماغ کو شیطان سے متاثر ہونے کیلئے چھوڑ دیتے ہیں تو ایسا ہو سکتا ہے۔
معلوم کریں کہ کیا واقع ہو رہا ہے
عام طور پر، ایسے حیلہباز ہتھکنڈے آپ پر اُسی وقت اثرانداز ہونگے اگر آپ اُنہیں اجازت دیتے ہیں۔ اپنی کتاب دی ہیڈن پرسوایڈرز میں، وینس پاکرڈ نے یہ نقطہ بیان کِیا: ”ہمارے پاس ابھی بھی ایسے [پوشیدہ] ورغلانے والوں کے خلاف مضبوط دفاع موجود ہے: ہم انتخاب کر سکتے ہیں کہ نہ ورغلائے جائیں۔ تقریباً ہر حالت میں ہمارے پاس انتخاب ہے اور اگر ہم جانتے ہیں کہ کیا واقع ہو رہا ہے تو ہمیں اتنی آسانی سے نہیں اُلجھایا جا سکتا۔“ پروپیگنڈے اور دھوکے کے بارے میں بھی یہ سچ ہے۔
بلاشُبہ، ”رونما ہونے والے واقعات کو جاننے کیلئے،“ آپکو اپنے دماغ کو کھلا اور اچھے اثرات سے اثرپذیر ہونے کے لئے تیار رکھنا چاہئے۔ ایک صحتمند جسم کی طرح، ایک صحتمند دماغ کو خوشاسلوبی سے کام کرنے کے لئے اچھی خوراک کی ضرورت ہوتی ہے۔ (امثال ۵:۱، ۲) معلومات کی کمی غلط معلومات کی طرح ہی مُہلک ہو سکتی ہے۔ اگرچہ یہ سچ ہے کہ آپکو اپنے دماغ کو گمراہکُن نظریات اور فیلسوفیوں سے بچانے کی ضرورت ہے توبھی کوشش کریں کہ آپ پیش کی جانے والی تمام معلومات کیلئے بدگمان اور کجنظر نظریے کو فروغ نہ دیں۔—۱-یوحنا ۴:۱۔
دیانتدارانہ طریقے سے قائل کرنا پوشیدہ پروپیگنڈا نہیں ہے۔ رسول پولس نے یقینی طور پر نوجوان تیمتھیس کو ”برے اور دھوکا باز آدمی [جو] فریب دیتے اور فریب کھاتے ہوئے بگڑتے چلے جائیں گے،“ سے خبردار رہنے کیلئے آگاہ کِیا تھا۔ تاہم پولس نے اضافہ کِیا: ”مگر تو اُن باتوں پر جو تو نے سیکھی تھیں اور جن کا یقین تجھے دلایا گیا تھا یہ جان کر قائم رہ کہ تو نے اُنہیں کن لوگوں سے سیکھا تھا۔“ (۲-تیمتھیس ۳:۱۳، ۱۴) چونکہ آپ کے ذہن میں جانے والی ہر چیز کسی نہ کسی حد تک آپ کو متاثر کرے گی، لہٰذا کُنجی یہ ہے کہ اُن ’لوگوں کو پہچانیں جن سے آپ سیکھتے‘ ہیں تاکہ اس بات کا یقین کر سکیں کہ آیا وہ لوگ اپنے ذاتی مفادات کی بجائے آپکے مفاد میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
انتخاب آپ کا ہے۔ آپ اس دُنیا کی فیلسوفیوں اور اقدار کو اپنی سوچ پر اثرانداز ہونے کی اجازت دینے سے ”اس جہاں کے ہمشکل“ بننے کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ (رومیوں ۱۲:۲) تاہم یہ دُنیا آپ کے مفادات میں دلچسپی نہیں رکھتی۔ لہٰذا پولس رسول آگاہ کرتا ہے، ”خبردار کوئی شخص تم کو اُس فیلسوفی اور لاحاصل فریب سے شکار نہ کر لے جو انسانوں کی روایت اور دُنیوی ابتدائی باتوں کے موافق ہیں۔“ (کلسیوں ۲:۸) شیطان کے سانچے میں ڈھل جانے یا ’اُسکا شکار ہو جانے کیلئے‘ کوئی دیر نہیں لگتی۔ یہ انفعالی دھوئیں کی مانند ہے۔ آپ محض آلودہ ہوا میں سانس لینے سے متاثر ہو سکتے ہیں۔
اس کے برعکس، آپ اُس ”ہوا“ میں سانس لینے سے گریز کر سکتے ہیں۔ (افسیوں ۲:۲) اِسکی بجائے، پولس کی مشورت پر عمل کریں: ”عقل نئی ہو جانے سے اپنی صورت بدلتے جاؤ تاکہ خدا کی نیک اور پسندیدہ اور کامل مرضی تجربہ سے معلوم کرتے رہو۔“ (رومیوں ۱۲:۲) اس کیلئے کوشش درکار ہے۔ (امثال ۲:۱-۵) یاد رکھیں، یہوواہ چالاکی سے کام نہیں لیتا۔ وہ تمام ضروری معلومات مہیا کرتا ہے، تاہم اس سے مستفید ہونے کیلئے آپکو اس سے سننے اور اسے اپنی سوچ پر اثرانداز ہونے کی اجازت دینی چاہئے۔ (یسعیاہ ۳۰:۲۰، ۲۱؛ ۱-تھسلنیکیوں ۲:۱۳) آپ کو ”پاک نوشتوں“، خدا کے الہامی کلام، بائبل میں پائی جانے والی سچائی کو اپنے ذہن پر اثر کرنے کی اجازت دینی چاہئے۔—۲-تیمتھیس ۳:۱۵-۱۷۔
یہوواہ کے ذریعے ڈھالے جانے کے لئے جوابیعمل دکھائیں
اگر ہم یہوواہ کے ذریعے ڈھالے جانے کے اثر سے مستفید ہونا چاہتے ہیں تو اس کیلئے رضامندی سے فرمانبردارانہ جوابیعمل دکھانے کی ضرورت ہے اس کا پُرزور مظاہرہ اُسوقت کِیا گیا جب یہوواہ نے یرمیاہ نبی کو کمہار کی دُکان پر جانے کا حکم دیا۔ یرمیاہ نے دیکھا کہ کمہار ایک برتن کے بارے میں اپنی رائے بدلتا ہے جب وہ برتن جسے بنایا جا رہا تھا ”اُسکے ہاتھ میں بگڑ گیا۔“ تب یہوواہ نے کہا: ”کیا مَیں اس کمہار کی طرح تم سے سلوک نہیں کر سکتا ہوں؟ . . . دیکھو جس طرح مٹی کمہار کے ہاتھ میں ہے اُسی طرح اَے اؔسرائیل کے گھرانے تم میرے ہاتھ میں ہو۔“ (یرمیاہ ۱۸:۱-۶) کیا اسکا یہ مطلب تھا کہ اسرائیل کی قوم یہوواہ کے ہاتھ میں بےجان مٹی کے لوندے کی طرح تھی کہ وہ اسے ایک یا دوسری طرح کے برتن میں ڈھال دے؟
یہوواہ کبھی بھی اپنی قوت کو لوگوں سے اُنکی مرضی کے خلاف کام کروانے کیلئے استعمال نہیں کرتا؛ نہ ہی وہ ناقص مصنوعات کیلئے ذمہدار ہے جیسےکہ انسانی کمہار کے معاملے میں ہو سکتا ہے۔ (استثنا ۳۲:۴) نقص اُس وقت پیدا ہوتے ہیں جب وہ لوگ جنہیں یہوواہ مثبت طریقے سے ڈھالنا چاہتا ہے اُس کی راہنمائی کی مزاحمت کرتے ہیں۔ یہ آپ میں اور مٹی کے بےجان لوندے میں ایک بڑا فرق ہے۔ آپ آزاد مرضی کے مالک ہیں۔ اسے استعمال کرنے سے آپ یہوواہ کے ڈھالنے والے اثر کیلئے جوابیعمل دکھا سکتے ہیں یا اسے قصداً رد کر سکتے ہیں۔
کیا ہی سنجیدہ سبق! یہ کہنے کی بجائے کہ ”کوئی مجھے نہیں بتا سکتا کہ مجھے کیا کرنا چاہئے!“، یہوواہ کی آواز سننا کتنا بہتر ہے۔ ہم سب کو یہوواہ کے راہنما اثر کی ضرورت ہے۔ (یوحنا ۱۷:۳) زبورنویس داؤد کی طرح بنیں، جس نے دُعا کی: ”اَے خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] . . . اپنے راستے مجھے بتا دے۔“ (زبور ۲۵:۴) یاد رکھیں بادشاہ سلیمان نے کیا کہا: ”دانا آدمی سنکر علم میں ترقی کرے۔“ (امثال ۱:۵) کیا آپ سنیں گے؟ اگر آپ ایسا کرتے ہیں تو پھر ”تمیز تیری نگہبان ہوگی۔ فہم تیری حفاظت کرے گا۔“—امثال ۲:۱۱۔